ہندوستان
کاس گنج سڑک حادثہ میں چھ عقیدتمندوں کی موت، 20 زخمی
کاس گنج، اتر پردیش میں کاس گنج ضلع کے کوتوالی علاقے میں پیر کی صبح ہونے والے سڑک حادثے میں کم از کم چھ عقیدتمندوں کی موت ہو گئی جبکہ 20 دیگر شدید طور پر زخمی ہو گئے۔
پولیس نے بتایا کہ حادثہ کوتوالی نگر علاقے کے موہن پورہ میں ہاتھرس ضلع کی سرحد کے قریب صبح تقریباً پونے چار بجے پیش آیا۔ میکس پک اپ گاڑی میں سوارعقیدتمند راجستھان کے کرولی ضلع سے اپنے آبا و اجداد اور اہل خانہ کی استھیاں بہانے کے لیے سورونجی تيرتھ استھل جا رہے تھے۔ اسی دوران پک اپ کی 22 پہیوں والے ٹرک سے زبردست ٹکر ہو گئی۔ حادثے میں تین افراد کی موقع پر ہی موت ہو گئی جبکہ شدید طور پر زخمی چھ افراد میں سے تین نے علی گڑھ میڈیکل کالج میں دم توڑ دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایس پی اوم پرکاش سنگھ نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ حادثے میں 23 زخمی مسافروں کو مقامی لوگوں اور پولیس کی مدد سے ضلع اسپتال کاس گنج پہنچایا گیا۔ ان میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک ہونے پر انہیں بہتر علاج کے لیے علی گڑھ میڈیکل کالج ریفر کیا گیا تھا جہاں تین افراد کی موت کی اطلاع ہے۔
ایس پی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کے اہل خانہ کو حادثے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ پولیس نے حادثے کی وجوہات کی جانچ شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق کاس گنج کوتوالی علاقے کے موہن پورہ میں ہوئے حادثے میں موقع پر جن تین افراد کی موت ہوئی، ان کی شناخت امیش (26) ولد ببلو ساکن گاؤں ریوئی، تھانہ مہوا، ضلع دؤسا، راجستھان؛ نہرو (25) ولد رام کھلاڑی ساکن گاؤں نتھولی کا پورا، تھانہ سوروٹھ، ضلع کرولی، راجستھان اور پریم زوجہ تیج رام ساکن گاؤں نتھولی کا پورا، تھانہ سوروٹھ، ضلع کرولی، راجستھان کے طور پر ہوئی ہے۔
حادثے میں زخمی آٹھ افراد کو ضلع اسپتال کاس گنج سے علی گڑھ میڈیکل کالج ریفر کیا گیا تھا۔ ان میں سے دورانِ علاج رینا زوجہ کرم ویر ساکن سلیم پور کلاں، ضلع بھرت پور، راجستھان؛ رنجیت (33) ولد تیج رام ساکن نتھولی کا پورا، تھانہ سوروٹھ، ضلع کرولی اور انجلی زوجہ منیش ساکن ریوئی، تھانہ مہوا، ضلع دؤسا کی موت ہو گئی۔
اس طرح حادثے میں اب تک کل چھ افراد کی موت ہو چکی ہے۔ حادثے میں 20 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے پانچ کا علاج علی گڑھ میڈیکل کالج اور 15 کا کاس گنج ضلع اسپتال میں جاری ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے امدادی و بچاؤ کام جاری ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
آفات کے بندوبست میں ‘راحت اور بچاؤ’ سے ‘روک تھام’ تک پہنچا ہندوستان، اب ‘زیرو کیژولٹی’ ہدف: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ ملک کا ڈزاسٹر مینجمنٹ راحت اور بحالی پر مرکوز نظام سے آگے بڑھ کر خطرے کو کم کرنے، پیشگی اطلاع اور ‘زیرو کیژولٹی’ (صفر جانی نقصان) کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے جمعرات کے روز کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور نئی ٹیکنالوجیز کے باعث مستقبل میں آفتوں کے بڑھنے اور نئی شکلیں سامنے آنے کا اندیشہ ہے، ایسے میں تحقیق، پیشگی تیاری اور ‘ہول آف گورنمنٹ’ نقطہ نظر کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ امت شاہ نے یہاں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈزاسٹر مینجمنٹ (این آئی ڈی ایم) کے انسٹی ٹیوٹ باڈی کی تیسری میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ہر آفت کے بعد نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، این آئی ڈی ایم، نیشنل ڈزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور اسٹیٹ ڈزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی مشترکہ ٹیم سے نقصان کی وجوہات کا مطالعہ کرنے اور تفصیلی رپورٹ تیار کرانے کی ہدایت دی۔
انہوں نے این ڈی ایم اے اور این آئی ڈی ایم سے ملک بھر کے لیے ایسا واضح رہنما ہدایت نامہ (گائیڈ لائنز) تیار کرنے کو کہا، جس میں ہر آفت کے دوران کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا ہے اور کس طرح کارروائی کرنی ہے، اس کی معلومات ہو۔ این آئی ڈی ایم تربیت نیز این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور دیگر ایجنسیوں کے زمینی نفاذ پر توجہ دیں گی۔
وزیر داخلہ نے تمام متعلقہ شعبوں میں ڈزاسٹر مینجمنٹ کے ایجنڈے کے نفاذ کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے اور محکمہ جات کے سربراہان کے ذریعے کم از کم ہر تین ماہ میں جائزہ لینے کو کہا۔ انہوں نے بیرونِ ملک ہو رہی ڈزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق تحقیق اور بہترین اقدامات کو ہندوستانی حالات کے مطابق اپنانے پر بھی زور دیا۔ محکمہ زراعت کو پاکستان کی طرف سے آنے والے ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے مستقل تیاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔
امت شاہ نے کہا کہ آفت کی روک تھام کا سب سے موثر ذریعہ ماحولیاتی تحفظ ہے۔ ‘مشن لائف’، ‘پرو پلینٹ پیپل’ اور انٹرنیشنل سولر الائنس جیسے اقدامات کو انہوں نے آفت کے خطرے کو کم کرنے کی جامع حکمتِ عملی سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ‘زیرو کیژولٹی’ کا مطلب صرف آفت کے دوران جان بچانا نہیں، بلکہ آفت کے اندیشے کو پہلے ہی کم کرنا اور اسے روکنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 11 سالوں میں ڈزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تقریباً 2.5 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ اسٹیٹ ڈزاسٹر ریسپانس فنڈ میں تقریباً چار گنا اور نیشنل ڈزاسٹر ریسپانس فنڈ میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ ڈزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ میں دو دہائیوں بعد ترمیم، شہری ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام، قومی و ریاستی سطح پر ڈیجیٹل ڈزاسٹر ڈیٹا بیس کا آغاز اور نیشنل کرائسز مینجمنٹ کمیٹی کو قانونی درجہ دینے کو انہوں نے نظام میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کے طور پر گنایا۔ اس مدت کے لیے 16ویں فنانس کمیشن نے بھی تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے کا التزام کیا ہے۔
امت شاہ نے کہا کہ این آئی ڈی ایم کو تحقیق، جدت طرازی، تربیت، پالیسی معاونت اور محکماتی تعاون کا قومی مرکز بناتے ہوئے اسے عالمی سطح کا ادارہ بنانا ہے۔ اس کے لیے حکومت نے حال ہی میں چار ایکڑ زمین بھی مختص کی ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی تعاون ضروری ہے، لیکن ترجیح ملک کے پانچ لاکھ دیہاتوں اور شہروں کو آفت سے محفوظ بنانا ہونی چاہیے۔ انہوں نے این آئی ڈی ایم کی کم از کم سال میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ لازمی طور پر منعقد کرنے کی ہدایت دی، تاکہ فیصلوں کا موثر نفاذ یقینی ہو۔ انہوں نے کہا کہ این آئی ڈی ایم کے ذریعے علم کو صلاحیت میں، صلاحیت کو تیاری میں اور تیاری کو نتائج میں بدل کر ‘زیرو کیژولٹی’ کے ہدف کی طرف بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نابالغوں کی سکیورٹی کے لیے دائر درخواست پر مرکز کو نوٹس جاری کیا
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے 18 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے جڑے آن لائن استحصال اور دیگر خطرات سے بچانے کے لیے فائر وال جیسے سکیورٹی اقدامات کرنے کا مطالبہ کرنے والی ایک مفادِ عامہ کی درخواست (پی آئی ایل) پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی جسٹس جوائے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بینچ نے جمعرات کے روز ایک غیر سرکاری تنظیم ‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن الائنس’ کی دائر کردہ درخواست پر یہ نوٹس جاری کیا۔ اس درخواست میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ انڈین کنٹریکٹ ایکٹ، 1872 کی دفعہ 11 کے تحت نابالغوں کے معاہدہ (کنٹریکٹ) کرنے کا اہل نہ ہونے کے باوجود انہیں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر آزادانہ طور پر اکاؤنٹ بنانے اور چلانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ صارفین کی عمر اور ان کی جانب سے کسی قانونی طور پر جائز معاہدے میں داخل ہونے کے حق کی تصدیق کرنے والے موثر اور یکساں نظام کے عدم موجودگی میں بچے آن لائن گرومنگ، جنسی استحصال، ڈیجیٹل ٹریفکنگ، سیکس ٹارشن، بیہیویئرل پروفائلنگ، ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال، سائبر ہراسانی اور عمر کے مطابق نہ ہونے والے بالغ مواد کے نمائش جیسے سنگین خطرات کی زد میں آ رہے ہیں۔
درخواست میں انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز-2021 میں ایک خصوصی شق شامل کرنے یا مناسب رہنما خطوط تیار کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ والدین یا قانونی سرپرست کی رضامندی کے بغیرنابالغ ایسا کوئی معاہدہ نہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی والدین یا سرپرست کی شناخت اور ان کے اختیار کی تصدیق الیکٹرانک کے وائی سی یا قانوناً جائز کسی دوسرے نظام کے ذریعے کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ جہاں نابالغوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی کی اجازت ہے، وہاں والدین یا سرپرست کی شرکت یقینی بنانے کے لیے ایڈوائزری جاری کی جائے اور متعلقہ ڈیجیٹل سروس کی نوعیت نیز اس سے جڑے خطرے کے مطابق سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جائیں۔ اس میں حکومت کی جانب سے مناسب نظام تیار کیے جانے تک عبوری رہنما خطوط جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
چھتیس گڑھ میں سوائن فلو کے مریض 344 ہوئے، رائے پور میں سب سے زیادہ 146
رائے پور، چھتیس گڑھ میں سوائن فلو کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ محکمہ صحت کی 9 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ریاست میں اب تک 344 مریضوں میں ایچ ون این ون انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں سب سے زیادہ 146 کیسز رائے پور میں ہیں۔ 8 ستمبر تک ریاست میں 298 اور رائے پور میں 127 مریض تھے۔
9 ستمبر کو ریاست میں 39 نئے مریض سامنے آئے، جن میں رائے پور کے 19، مہاسمند کے 10، بلاس پور کے 3، کوربا کے 2 جبکہ درگ، رائے گڑھ، منگیلی، راج ناندگاؤں اور سرگوجا کے ایک ایک مریض شامل ہیں۔ ریاست میں فعال مریضوں کی تعداد بھی 113 سے بڑھ کر 122 ہوگئی ہے، جن میں 90 اسپتال میں زیر علاج اور 32 قرنطینہ میں ہیں۔
رائے پور کے بعد درگ اور بلاس پور میں 41-41 مریض ہیں۔ کوربا میں 21، مہاسمند میں 17 اور رائے گڑھ میں 13 کیسز ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق اب تک ایچ ون این ون سے کسی مریض کی موت نہیں ہوئی ہے اور متاثرہ افراد کی نگرانی و علاج جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق سوائن فلو میں بخار، کھانسی، گلے میں خراش، جسم میں درد اور کمزوری جیسی علامات ہوسکتی ہیں۔ مسلسل کھانسی، سانس لینے میں دشواری یا شدید کمزوری کی صورت میں خود سے دوا لینے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ یہ انفیکشن متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک کی بوندوں اور قریبی رابطے سے پھیل سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م ع
-
جموں و کشمیر5 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا1 week agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر5 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر5 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
ہندوستان1 week agoجے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoنمبر پلیٹ ماسکنگ کے خلاف کشمیر پولیس کی کارروائی، 10 دن میں 150 سے زائد گاڑیاں ضبط
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی
-
دنیا1 week agoتہران کی گوتریس کے بیان پر تنقید، سپر پاورز کے مظالم پر پردہ ڈالنے کا الزام
