ہندوستان
اسرو کی کامیابی پر جے رام رمیش نے دی مبارکباد، کہا- ملک کی اسٹریٹجک صلاحیتوں میں ہوگا اضافہ
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے سری ہری کوٹا سے جی ایس ایل وی-ایف 17 راکٹ سے ای او ایس-05 سیٹلائٹ کی کامیاب لانچنگ اور اسے مدار میں قائم کیے جانے پر انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے اسے ملک کے لیے ایک اور تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ہندوستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو مزید مضبوطی ملے گی۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ 2367 کلوگرام وزنی ای او ایس-05 سیٹلائٹ کی کامیاب لانچنگ اسرو کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں اسرو کو کئی اطراف سے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایسے میں یہ کامیابی اس کی غیر معمولی استقامت اور مشکلات سے ابھرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کو اسرو کی کامیابیوں اور اس کی صلاحیت کو سلام کرنا چاہیے نیز تنظیم کی آنے والی تمام مہمات کی کامیابی کی تمنا کرنی چاہیے۔
مسٹر رمیش نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں، جب وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کی ہدایت پر اسرو کے کردار میں بنیادی تبدیلی کی جا رہی ہے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ تبدیلیاں اس باعث تحریک عوامی ادارے کے بنیادی کردار کو متاثر کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرو نے دہائیوں تک تمام تر مشکلات کے باوجود ملک کو فخر کا احساس دلایا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
چین کے معاملے پر مودی ملک اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے چین کی سرحد پر کشیدگی اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر گمراہ کرنے کے بجائے انہیں پارلیمنٹ اور ملک کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو کہا کہ اروناچل پردیش میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان مسلسل آمنے سامنے کی صورتِ حال برقرار رہنے کی خبریں ہیں، جو انتہائی تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد ایک اور سنگین تصادم کی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ اگست میں توانگ علاقے کے قریب تاکسنگ میں چینی دراندازی کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم کی صورتِ حال کیوں برقرار ہے؟ اروناچل پردیش کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہونے کی خبریں ہیں اور حکومت کو اس معاملے میں صورتِ حال واضح کرنی چاہیے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی قربانی کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے ہندوستان کی درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن بھی یہ تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت چینی سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی کر رہی ہے اور چین سے وابستہ اہل کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’ کا مطلب ‘چین سے درآمدات’ رہ گیا ہے؟
مسٹر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتوں اور بات چیت، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت والے خصوصی نمائندوں کے 25 ادوار اور ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ ان ملاقاتوں اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس سربراہ اجلاسوں میں شرکت سے ہندوستان کو کیا ٹھوس نتائج حاصل ہوئے ہیں؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا مئی 2020 سے پہلے ہندوستانی فوج کی گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟
کانگریس صدر نے کہا کہ ملک کو مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسٹر مودی کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنی چاہیے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
نہرو-گاندھی خاندان نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پر لوٹ مار، سماج میں تقسیم اور ہندوستانی مذہب و ثقافت کے تئیں نفرت رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس خاندان (گاندھی خاندان) نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اپنے اقتدار کی عمارت کھڑی کی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے جمعہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اقتدار سے باہر رہنے پر پانی سے باہر مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہے اور کسی بھی طرح اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، ایسی سوچ رکھنے والی کانگریس کی باگ ڈور راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بدقسمتی ملک سے زیادہ کانگریس کے لیے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کا حق نہ دے کر اپنی سیاسی طاقت قائم کی اور ایک بھی ووٹ نہ ملنے کے باوجود وزیر اعظم بن گئے۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک نے تقسیم کا درد دیکھا، جو انسانی تاریخ کے خونریز ترین ابواب میں سے ایک تھا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ پنڈت نہرو 15 اگست 1947 کو نہیں، بلکہ 2 ستمبر 1946 کو عبوری حکومت کے وزیر اعظم بنے تھے اور ان کے دور میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد محترمہ اندرا گاندھی نے اپنی پارٹی کو تقسیم کرنے کے بعد اپنی طاقت مضبوط کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محترمہ گاندھی نے مسٹر نیلم سنجیو ریڈی سے متعلق صدارتی انتخاب کے دوران اپنے ارکانِ پارلیمنٹ سے کانگریس کے سرکاری موقف کے خلاف ووٹ دینے کو کہا، جس کے نتیجے میں پارٹی تقسیم ہو گئی۔ محترمہ گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں دہلی میں سکھوں کے قتلِ عام کے دوران مسٹر راجیو گاندھی اقتدار میں آئے۔ سکھ مخالف تشدد یکم نومبر 1984 کو شروع ہوا تھا۔ بی جے پی ترجمان نے کہا، ”کانگریس اب اسی تاریخ کو دہلی میں مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ شہر کو 1984 میں دیکھی گئی افراتفری کی یاد دلانا چاہتی ہے۔”
مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق چمپا (ویتنام کا قدیم نام) میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ ملک اور کانگریس، دونوں کے لیے ایک معمہ بن گئے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ریکارڈ شاندار اور کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے، جبکہ مسٹر گاندھی کا ریکارڈ کانگریس کے لیے مسائل سے بھرا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کے اندر کئی طرح کے تجربات کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یوتھ کانگریس کے انتخابات کو جمہوری بنایا جائے گا، لیکن اس کے بعد پورے ملک نے دیکھا کہ یوتھ کانگریس میں بھیڑ کی حکمرانی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سربراہ اجلاس میں برہنہ مظاہرے کے علاوہ کوئی جمہوری عمل نظر نہیں آیا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ براک اوباما نے اپنی کتاب ‘اے پرامسڈ لینڈ’ میں 2010 میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد باب 24 میں لکھا تھا، ”راہل گاندھی میں گھبراہٹ اور ناپختگی جھلکتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے نصاب تو مکمل کر لیا ہو اور اساتذہ کو متاثر کرنے کے لیے بے چین ہو، لیکن اس میں نہ تو اس موضوع پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی اس کے لیے جذبہ۔”
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو کمزور کرنے اور اسے اپنی 140 سالہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک پر پہنچانے کے بعد اب مسٹر گاندھی ملک کے اداروں اور نظام کو کمزور کرکے خود کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ ناکام پروڈکٹ کو بار بار لانچ کرنے کے لیے کانگریس نے آج صرف اپنی پارٹی ہی نہیں، بلکہ ملک کے آئینی نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ مسٹر گاندھی کس طرح ناکام پروڈکٹ ہیں، وہ اسے حقائق کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جب دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ان کا داخلہ ہوا تھا تو وہ قومی سطح کے نشانے باز کھلاڑی کے طور پر داخل ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد ان کا نشانہ ایسا چُوکا کہ وہ ہر نشانہ چُوکتے چلے گئے۔ یہ ان کی پہلی ناکامی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندانی رواج کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ کا رخ کیا۔ پھر 1996 سے 1999 کے درمیان انہوں نے ایک برطانوی کمپنی میں ملازمت کی، جو بند ہو گئی۔ یعنی آپ سوچئے کہ وہ کتنے اہم پروڈکٹ ہیں کہ جہاں جہاں راہل کے قدم پڑے، وہاں وہاں تباہی مچ گئی۔”
اس کے بعد کانگریس کے بڑے رہنماؤں نے 2014 میں انہیں اپنا غیر اعلانیہ رہنما بنایا اور کانگریس لوک سبھا میں اپنی تاریخ کی اب تک کی سب سے کم نشستوں پر پہنچ گئی۔
مسٹر ترویدی نے کہا، ”مسٹر گاندھی نے پھر ایک اور تجربہ کیا اور کہا کہ ہم خاندانی سیاست ختم کریں گے، لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ کانگریس کی تاریخ میں نہرو-گاندھی خاندان کے تینوں افراد (ماں، بیٹا اور بیٹی) پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔”
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
