دنیا
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
تہران، لاکھوں ایرانیوں نے جمعہ کو حکومت کے زیرِ اہتمام مظاہرے میں شرکت کی، جو مہینوں کی جنگ کے بعد اس نوعیت کا عظیم ترین اجتماع تھا، انہوں نے ہتھیار اٹھانے کی آمادگی کا عندیہ دیا ۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کے فروری میں ایران پر حملے کے بعد سب سے بڑی ریلی تھی۔
حکومت ِ ایران نے، امریکی بحری محاصرے اور واشنگٹن کی نئی پابندیوں کے تحت مزید بگڑ نے والی معیشت کہ جن کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا ہے، کے باوجود عوام کو ایک جگہ جمع کرنے اور قومی یکجہتی پر زور دینے کی کوشش کی ہے۔
محدود فوجی تربیت لینے اور “جان فدائے ایران”کے نام سے جانی جانے والی ایک مہم کے تحت ملک کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہونے والے رضا کاروں کی تعداد کا قطعی تعین نہیں ہو سکا۔
رضاکار وسطی تہران سے جنگی وردیوں میں مارچ کرتے ہوئے اور پرچم اٹھائے نظر آئے، جبکہ تماشائیوں نے تالیوں اور نعرہ بازی سے ان کے حوصلے بلند کیے ۔
سرکاری میڈیا کئی دنوں سے ایرانیوں کو اس مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہا تھا اور اعلان کیا تھا کہ رائفل چلانے کی تربیت جلد شروع ہو گی۔ یہ رضاکار پاسدارانِ انقلاب اسلامی اور اس کی رضاکارانہ بسیج فورس کے ساتھ مل کر ملکی تحفظ کے ایک اضافی یونٹ کو تشکیل دیں گے۔
تہران کے آئی آر جی سی کے سربراہ جنرل حسن حسن زادہ نے سرکاری ٹیلی ویژن سے کہا کہ شرکت کے لیے چھے لاکھ سے زائد افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے اور توقع ہے کہ ایک ملین سے زائد لوگ تربیت حاصل کریں گے۔ جمعہ کی صبح سرکاری ٹی وی نے اندازہ لگایا کہ تین لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر ہیں۔
بسیج کے نئے سربراہ حسین طائب نے کہا کہ یہ رضاکار ‘مکمل دفاع’ کے لیے تیار ہوں گے اور مشابہ اجتماعات عنقریب دوسرے شہروں میں بھی منعقد کیے جائیں گے۔
طائب نے کہا کہ تربیت یافتہ افراد ایران کے دشمنوں کے لیے ایک “ڈراونا خواب بن جائیں گے” جب کہ صدر مسعود پزشکیان، فوجی کمانڈرز اور دیگر سینیئر حکام نے اس مارچ پاسٹ کا معائنہ کیا۔
کچھ شرکاء نے امریکی اور اسرائیلی پرچموں کو زمین تلے مسلا، جبکہ دیگر نے” امریکہ مردہ باد” اور “اسرائیل مردہ باد”کے نعرے لگائے۔
اپنے شوہر اور ننھے بچے کے ساتھ مظاہرے میں شریک 24 سالہ مرزیہ آفاقی نے کہا کہ”میں یہاں ٹرمپ کو بتانے آئی ہوں کہ ہم ایرانی اپنی دھرتی کے خلاف ان کے دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔
تاریخ میں کسی نے ایران پر حملہ کر کے وہاں مستقل قیام نہیں کیا۔یہ ریلی ایران کو فوجی سازوسامان کی نمائش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی رہی۔ ہوائی فائرنگ بیٹریاں نمائش کے لیے رکھی گئیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کے وومن ونگ کی اراکین ٹرکوں پر نصب مشین گنز کے پاس بیٹھی دکھائی دیں۔
آئی آر جی سی نے ایسے ڈرونز بھی دکھائے جو آبنائے ہرمز میں جہازوں کے خلاف وسیع پیمانے پر استعمال کیے گئے ہیں اور جن کے باعث خلیجی تیل اور قدرتی گیس کی عالمی منڈیوں تک رسد شدید متاثر ہوئی۔
جمعے کے واقعات نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران کی قیادت کے اندر سخت رویّہ رکھنے والے عناصر مستقبل میں حکومت کے خلاف مظاہروں کو دبانے کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکتے ہیں۔
جنوری میں، جنگ سے کچھ وقت قبل، ایران نے اپنی تاریخ کے کچھ بڑے ملک گیر مظاہروں کا مشاہدہ کیا۔ یہ مظاہرے ابتدا میں کمزور معیشت کے خلاف شروع ہوئے لیکن بعد میں وسیع تر شکایات کا دائرہ اختیار کر گئے۔
کارکنوں نے کہا کہ بعد کے کریک ڈاؤن میں سات ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ لاکھوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔
حکومتی عہدیداروں نے مئی میں کہا تھا کہ ایران کی کل آبادی جسے تقریباً 90 ملین مانا جاتا ہے، اس میں سے 30 ملین سے زائد افراد نے آن لائن فارم یا عوامی اجتماعات کے ذریعے اس مہم میں رضاکارانہ شمولیت کی درخواست دی تھی۔ اس اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ’مستقل‘ سکیورٹی معاہدہ، گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھے گی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت حکمت عملی کے لحاظ سے اہم آرکٹک خطے میں امریکہ کو ’’مستقل سکیورٹی کنٹرول‘‘ حاصل ہوگا، وہاں اس کی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جائے گا اور غیر نیٹو ممالک کو گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم کرنے یا فوجی تعینات کرنے سے روکا جائے گا۔
مسٹر ٹرمپ نے جمعہ کو معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ’’انفینٹ لائف‘‘ انتظام قرار دیا اور کہا کہ اس سے گرین لینڈ کے حوالے سے امریکہ کے دیرینہ قومی سلامتی کے خدشات دور ہوں گے۔
مسٹر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’امریکہ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جو گرین لینڈ میں سکیورٹی اور دیگر تمام ضروریات کے حوالے سے امریکہ کو مستقل کنٹرول دیتا ہے اور ہماری تمام اہم امریکی تشویشوں کا مکمل حل کرتا ہے۔ اس پر امریکہ کو کوئی خرچ نہیں آئے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت امریکہ کے حریف ممالک کو بھی واشنگٹن کی منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم کرنے، فوجی موجودگی برقرار رکھنے یا حساس سرمایہ کاری کرنے سے روکا جائے گا۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا، ’’اب سے کوئی بھی امریکی حریف گرین لینڈ میں کبھی اڈہ قائم نہیں کر سکتا، فوجی موجودگی نہیں رکھ سکتا یا ہماری واضح تحریری منظوری کے بغیر حساس سرمایہ کاری نہیں کر سکتا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ امریکہ ’’فوری طور پر‘‘ گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی سمت میں کام شروع کرے گا اور نیم خودمختار ڈنمارک کے علاقے کے عوام کے ساتھ مل کر وہاں ترقیاتی اور تعمیراتی کام کرے گا۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا، ’’ہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کے شاندار عوام کے ساتھ اس بڑے اور انتہائی تزویراتی خطے کے حوالے سے شاندار مستقبل کی جانب کام کرنے کے منتظر ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہم اس کی مکمل حفاظت کریں گے۔‘‘
ڈنمارک کے وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتیں آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس میں سکیورٹی مضبوط کرنے سے متعلق معاہدے پر باضابطہ طور پر دستخط کر سکتی ہیں۔
معاہدے کے نافذ ہونے سے قبل متعلقہ پارلیمانی کارروائیاں مکمل کرنا ہوں گی۔ معاہدے کا مکمل متن ابھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس میں سکیورٹی مضبوط ہوگی، جبکہ ڈنمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کے حق خود ارادیت کو برقرار رکھا جائے گا۔
محترمہ فریڈرکسن نے کہا، ’’مجھے خوشی ہے کہ ہم گرین لینڈ، مملکت ڈنمارک اور امریکہ کے لیے ایک اہم معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ معاہدے سے خطے میں مشترکہ سکیورٹی مضبوط ہوگی اور یہ ’’نیٹو اور یورپ کے لیے بھی اچھا‘‘ ہوگا۔
انہوں نے خاص طور پر کہا کہ معاہدہ ’’مملکت ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور گرین لینڈ کے عوام کی حق خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔‘‘
گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے بھی مجوزہ معاہدے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ حوصلہ افزا ہے کہ ہم ایسا معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، جو گرین لینڈ، مملکت ڈنمارک، امریکہ اور مغربی اتحاد کی سکیورٹی کو یقینی اور مضبوط کرے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ معاہدہ ’’گرین لینڈ کے مفادات اور بین الاقوامی تعاون میں ہماری جگہ‘‘ کو تسلیم کرتا ہے اور ’’ہم سب کے مفاد میں‘‘ ہے۔ معاہدے کے تحت امریکہ کو گرین لینڈ میں مستقل رسائی، فوجی اڈے قائم کرنے اور فضائی حدود کے استعمال کے حقوق حاصل ہوں گے، جبکہ غیر نیٹو ممالک کو جزیرے پر فوجی موجودگی قائم کرنے سے روکا جائے گا۔
معاہدے کے تحت کوئی بھی غیر نیٹو ملک گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم نہیں کر سکے گا اور نہ ہی وہاں فوجی موجودگی رکھ سکے گا۔ امریکی حکام کے مطابق معاہدہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ گرین لینڈ شمالی امریکہ کے تزویراتی دفاعی خطے کا حصہ بنا رہے۔
مسٹر ٹرمپ نے معاہدے کو گرین لینڈ کی سکیورٹی پر امریکہ کو ’’مستقل کنٹرول‘‘ دینے والا قرار دیا ہے، تاہم مجوزہ معاہدے کے تحت خطے کی خودمختاری امریکہ کو منتقل نہیں ہوگی۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ مملکت ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور گرین لینڈ کے عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے یوکرین جنگ پر روس کے خلاف وسیع پابندیوں کے قانون پر دستخط کر دیے
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین میں جاری جنگ کے سلسلے میں روس کو ہدف بنانے والے وسیع پابندیوں کے پیکیج پر دستخط کرکے اسے قانون کی شکل دے دی ہے۔ کانگریس کی جانب سے نادر دو طرفہ حمایت کے ساتھ بل وائٹ ہاؤس بھیجے جانے کے چند روز بعد جمعہ کو صدر نے اس پر دستخط کیے۔
یہ قانون، جسے لنڈسی او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026 کا نام دیا گیا ہے، آنجہانی ریپبلکن سینیٹر لنڈسی گراہم کے نام سے منسوب ہے، جنہوں نے جولائی میں اچانک انتقال سے قبل ایک سال سے زیادہ عرصے تک اس قانون پر مذاکرات کیے تھے۔ اس قانون کو ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے بھی مشترکہ طور پر تیار کیا تھا۔
قانون کے تحت روسی صدر ولادیمیر پوتن، اعلیٰ حکام اور ارب پتی کاروباری شخصیات کے علاوہ روسی بینکوں اور مالیاتی اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس میں روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں کے ساتھ ساتھ نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ میں شامل ان ٹینکروں کو بھی ہدف بنایا گیا ہے جو مغربی پابندیوں سے بچتے ہوئے روسی تیل کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
قانون کی ایک اہم شق کے تحت ٹرمپ کو روسی تیل اور گیس کے پانچ بڑے خریدار ممالک کی درآمدات پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس اقدام کا سب سے زیادہ اثر روسی خام تیل کے دو بڑے درآمد کنندگان چین اور بھارت پر پڑ سکتا ہے۔
قانون میں ایران کے توانائی اور ہتھیاروں کے شعبوں پر عائد پابندیوں میں بھی توسیع کی گئی ہے۔
یہ بل گزشتہ ماہ سینیٹ اور بدھ کو ایوان نمائندگان سے منظور ہوا تھا، جہاں 58 ڈیموکریٹک ارکان نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر اس کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ دو سال سے زائد عرصے میں یوکرین سے متعلق کانگریس سے منظور ہونے والا پہلا بڑا قانون ہے۔
حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد روسی حکومت کو جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے درکار مالی وسائل سے محروم کرنا اور صدر ولادیمیر پوتن کو مذاکرات کی طرف لانا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی، جنہوں نے ووٹنگ سے قبل ارکانِ کانگریس سے قانون کی حمایت کے لیے رابطہ کیا تھا، نے اسے ’’انتہائی طاقتور ہتھیار‘‘ قرار دیا۔
ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ اس قانون کے ذریعے ان کے بقول ’’روسی جنگی مشین‘‘ پر ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ ڈالا گیا ہے، جبکہ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے امید ظاہر کی کہ اس سے ماسکو کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے پوتن سے مخاطب ہوکر کہا، ’’ہم آپ کو جانتے ہیں۔‘‘
تاہم تمام ڈیموکریٹس نے قانون کی حمایت نہیں کی۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ محصولات عائد کرنے کے اختیارات سے امریکی خاندانوں کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے پابندیوں کی شقوں میں ’’بہت سے رخنے‘‘ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔
روس کے ’شیڈو فلیٹ‘ میں شامل ایک تیل بردار جہاز کو 15 جون 2026 کو انگلش چینل میں برطانوی فورسز کی جانب سے روکے جانے کی تصویر بھی جاری کی گئی ہے۔
نئی محصولات کی دھمکی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہندوستان نے اس ہفتے کہا کہ وہ اپنے 1.4 ارب عوام کی توانائی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تقریباً ایک ہفتے بعد وہ چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کرنے والے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے رپورٹرز وائٹ ہاؤس میں داخل نہیں ہو سکیں گے: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ انہوں نے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے رپورٹرز پر وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے اور تینوں میڈیا اداروں کو ’’جعلی‘‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر ہے کہ فوری طور پر جعلی خبریں پھیلانے والے سی این این، ایم ایس ناؤ (جس نے حال ہی میں کم ناظرین اور ساکھ کی کمی کے باعث اپنا نام ایم ایس این بی سی سے تبدیل کیا ہے!) اور پولیٹیکو (جسے ’زندہ‘ رکھنے کے لیے کرپٹ جو بائیڈن کے دور حکومت میں امریکی حکومت کی جانب سے غیر قانونی اور مضحکہ خیز 8 ملین ڈالر کی سبسکرپشن دی گئی، جو اب تک کا ریکارڈ ہے، ایسا لگتا ہے کہ یہ میرے نزدیک بدعنوانی ہے!) کے رپورٹرز پر وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی عائد کر رہا ہوں، کیونکہ وہ مسلسل جعلی خبریں ’رپورٹ‘ کرتے ہیں۔‘‘
بعد ازاں اسی روز صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دیگر میڈیا اداروں پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ممکن ہے کہ کچھ اور بھی ان میں شامل ہو جائیں… یہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مسلسل شائع ہونے والی خبروں کا مجموعی نتیجہ ہے۔ آپ اس سے تنگ آ جاتے ہیں۔‘‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ میڈیا ادارے ریپبلکنز کو کمزور کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
-
دنیا7 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
ہندوستان7 days agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
دنیا1 week agoروسی حملوں میں یوکرین میں 7 افراد ہلاک، کیف کا آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملہ
-
دنیا7 days agoسعودی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد عراق نے متعدد سرحدی گزرگاہیں بند کردیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے پاس چین کے خلاف اے آئی تحفظات ہیں: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoپوتن نئی دہلی پہنچے؛ وزیراعظم مودی کے ساتھ ہوگی بات چیت
