دنیا
حوثیوں سے بڑھتی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے فوجی مدد اور متبادل برآمداتی راستوں کی تلاش شروع کردی
ریاض، ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے بڑھتے دباؤ کا سامنا کر رہے سعودی عرب نے فوجی مدد حاصل کرنے اور خام تیل کی برآمد کے لیے محفوظ متبادل راستہ تلاش کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں، تاہم فی الحال دونوں مسائل کا کوئی واضح حل سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے ایک حملے کے بعد سعودی عرب کی ایک اہم تیل پائپ لائن مبینہ طور پر کئی ہفتوں سے بند ہے۔ حوثی جنگجو سعودی عرب کے اندر بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر میں اس کے جہاز رانی کے مفادات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، جہاں انہوں نے باب المندب آبنائے کے اطراف کئی جزائر پر قبضہ کر لیا ہے۔ ادھر ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ تیل کی قیمتیں 100 امریکی ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔
خطے کے ایک عہدیدار کے مطابق ریاض اس وقت ’’انتہائی مشکل صورتحال‘‘ میں ہے اور اسے نہ صرف اپنے فوجی اڈوں اور اہم سرکاری تنصیبات بلکہ تیل کی تنصیبات کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔
ایک دوسرے عہدیدار نے کہا کہ ریاض حوثیوں کے حملوں کے خلاف اجتماعی ردعمل کے لیے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کو متحد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم فی الحال ’’فیصلہ یہ ہے کہ سفارت کاری کو موقع دیا جائے‘‘۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ عمان اور مصر یمن میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک نیو امریکہ کے فیلو ایڈم بارون نے ٹائمز آف اسرائیل کے حوالے سے کہا، ’’یہ محض حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ معاملہ بین الاقوامی جہاز رانی کے وسیع تر راستوں اور نظام کو یقینی بنانے کے لیے کوئی طریقہ تلاش کرنے کا ہے۔
مذاکرات سے واقف 2 افراد، جن میں ایک حوثی عہدیدار بھی شامل ہے، کے مطابق عمان نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں امریکی اور حوثی نمائندوں کے درمیان علاقائی کشیدگی پر بات چیت کے لیے ایک اجلاس کی میزبانی کی۔ دونوں افراد نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان ٹام ویلز نے منگل کو کہا کہ لندن کے سعودی عرب کے ساتھ ’’قریبی دفاعی شراکت داری‘‘ ہے۔ انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ آیا ریاض نے فوجی مدد طلب کی ہے یا اس وقت برطانوی فوجی سعودی عرب میں تعینات ہیں۔
وسیع تر فوجی مدد کا امکان میزائل انٹرسیپٹرز کی موجودہ قلت کے باعث بھی پیچیدہ ہے۔ امریکہ اور نیٹو کے عہدیدار اس سے قبل یورپ میں انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید قلت کا اعتراف کر چکے ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یورپی ممالک سعودی عرب کو کتنی اضافی فضائی دفاعی معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔
ترکی کی حکومت کے ایک نامعلوم عہدیدار کے مطابق انقرہ علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوشش میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
تازہ حملے ایسے وقت میں بھی ہوئے ہیں جب ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے حال ہی میں مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور یہ معاہدہ اپنے پہلے بڑے ممکنہ امتحان سے گزر رہا ہے۔ تاہم اب تک ترکی اور پاکستان کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو حوثیوں کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے سلسلے میں سعودی عرب کی جانب سے فوجی مدد کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا ایران سے جنگ میں کامیابی کا دعویٰ، معاہدہ ہو یا نہ ہو مقاصد حاصل کریں گے
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ کامیاب ہوگا، چاہے یہ کامیابی کسی معاہدے کے ذریعے حاصل ہو یا بغیر معاہدے کے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن یا تو اچھا معاہدہ کرے گا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری جہاز رات کے وقت اس راستے سے گزرتے ہیں کیونکہ ایران انہیں مؤثر طور پر دیکھ نہیں پاتا۔ ان کے مطابق ایرانی ریڈار نظام تباہ کیے جاچکے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال پر بھی سخت تبصرہ کرتے ہوئے وہاں مہنگائی 300 فیصد سے زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم اس اعداد و شمار کی بھی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے ایران کے خلاف جنگ اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت معمول سے نمایاں کم ہے؛ رائٹرز کے مطابق 17 ستمبر کو صرف چار کمرشل جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ 10 روز کی اوسط تقریباً 16 جہاز روزانہ رہی ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
امریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
واشنگٹن، امریکہ نے سعودی عرب کو 48 جدید ایف-35 لائٹننگ ٹو جنگی طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ دفاعی معاہدے کی مالیت 24.3 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ممکنہ فروخت کے پیکیج میں 48 ایف-35 طیاروں کے علاوہ 49 انجن، مواصلاتی اور الیکٹرانک جنگی نظام، اسپیئر پارٹس، تربیتی سازوسامان، سمیولیٹرز اور دیگر معاون آلات شامل ہیں۔ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔
ایف-35 لائٹننگ ٹو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید لڑاکا طیارہ ہے۔ سعودی عرب کئی برس سے ایف-35 طیارے حاصل کرنے میں دلچسپی کا اظہار کرتا رہا ہے اور اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ فروخت سے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور امریکی و اتحادی افواج کے ساتھ باہمی تعاون بہتر ہوگا، جبکہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں بنیادی فوجی توازن تبدیل نہیں ہوگا۔
مجوزہ معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں مزید توسیع کی جانب ایک قدم ہے، تاہم امریکی کانگریس میں اس کی جانچ پڑتال متوقع ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
امریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
نیویارک، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعرات کو بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس کو آئندہ ہفتے عالمی رہنماؤں سے ویڈیو کے ذریعے خطاب کرنے کی اجازت دے دی۔ امریکہ کی جانب سے انہیں نیویارک میں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے دوبارہ ویزا دینے سے انکار کے بعد جنرل اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا۔
قرارداد کے حق میں 152 ووٹ پڑے، جبکہ تین ارکان نے مخالفت کی اور چار نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد کے تحت عباس اور فلسطین کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو بھی آئندہ ایک سال کے دوران اقوام متحدہ کے اجلاسوں اور کانفرنسوں میں دور سے شرکت کی اجازت ہوگی، اگر وہ امریکہ کا سفر کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
یہ ووٹنگ ایسے وقت ہوئی ہے جب واشنگٹن نے فلسطینی عہدیداروں، جن میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اور فلسطینی اتھارٹی کے ارکان بھی شامل ہیں، پر ویزا پابندیوں میں توسیع کردی ہے۔ امریکہ نے گزشتہ سال پہلی بار یہ پابندیاں عائد کی تھیں اور کہا تھا کہ تقریباً 80 فلسطینی ان سے متاثر ہوں گے۔
ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں امریکہ کی نائب سفیر ٹیمی بروس نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’اگر فلسطینی اتھارٹی کو شراکت دار سمجھا جانا ہے تو اسے دہشت گردی کی مالی معاونت بند کرنی ہوگی اور سنجیدہ حکمرانی کے متبادل کے طور پر سفارتی تماشے کا استعمال روکنا ہوگا۔‘‘
فلسطینی رہنماؤں نے امریکی فیصلے کی مذمت کی۔ اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ریاض منصور نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکی اقدام کو مسترد کردیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ وہ فلسطینی عہدیداروں کے خلاف ویزا پابندیوں میں توسیع کر رہا ہے، کیونکہ اس کے مطابق ان کے بعض اقدامات کا مقصد ’’اسرائیل-فلسطین تنازع کو بین الاقوامی سطح پر لے جانا‘‘ ہے، جس میں بین الاقوامی عدالتوں کے سامنے اسرائیل کے خلاف مقدمات کی پیروی بھی شامل ہے۔
فلسطینی حکام کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ محمود عباس کو امریکی ویزا دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔
1947 کے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت امریکہ عام طور پر غیر ملکی سفارت کاروں کو نیویارک میں اقوام متحدہ تک رسائی فراہم کرنے کا پابند ہے۔ تاہم، واشنگٹن کا موقف ہے کہ اسے سلامتی، انتہا پسندی اور خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ویزا مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر6 days agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
جموں و کشمیر6 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا7 days agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
دنیا6 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
-
ہندوستان6 days agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
-
تجزیہ1 week agoکیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
-
دنیا1 week agoروسی حملوں میں یوکرین میں 7 افراد ہلاک، کیف کا آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ: آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے
-
دنیا6 days agoسعودی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد عراق نے متعدد سرحدی گزرگاہیں بند کردیں
