دنیا
ٹرمپ کا ایران سے جنگ میں کامیابی کا دعویٰ، معاہدہ ہو یا نہ ہو مقاصد حاصل کریں گے
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ کامیاب ہوگا، چاہے یہ کامیابی کسی معاہدے کے ذریعے حاصل ہو یا بغیر معاہدے کے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن یا تو اچھا معاہدہ کرے گا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری جہاز رات کے وقت اس راستے سے گزرتے ہیں کیونکہ ایران انہیں مؤثر طور پر دیکھ نہیں پاتا۔ ان کے مطابق ایرانی ریڈار نظام تباہ کیے جاچکے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال پر بھی سخت تبصرہ کرتے ہوئے وہاں مہنگائی 300 فیصد سے زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم اس اعداد و شمار کی بھی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے ایران کے خلاف جنگ اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت معمول سے نمایاں کم ہے؛ رائٹرز کے مطابق 17 ستمبر کو صرف چار کمرشل جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ 10 روز کی اوسط تقریباً 16 جہاز روزانہ رہی ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
امریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
واشنگٹن، امریکہ نے سعودی عرب کو 48 جدید ایف-35 لائٹننگ ٹو جنگی طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ دفاعی معاہدے کی مالیت 24.3 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ممکنہ فروخت کے پیکیج میں 48 ایف-35 طیاروں کے علاوہ 49 انجن، مواصلاتی اور الیکٹرانک جنگی نظام، اسپیئر پارٹس، تربیتی سازوسامان، سمیولیٹرز اور دیگر معاون آلات شامل ہیں۔ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔
ایف-35 لائٹننگ ٹو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید لڑاکا طیارہ ہے۔ سعودی عرب کئی برس سے ایف-35 طیارے حاصل کرنے میں دلچسپی کا اظہار کرتا رہا ہے اور اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ فروخت سے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور امریکی و اتحادی افواج کے ساتھ باہمی تعاون بہتر ہوگا، جبکہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں بنیادی فوجی توازن تبدیل نہیں ہوگا۔
مجوزہ معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں مزید توسیع کی جانب ایک قدم ہے، تاہم امریکی کانگریس میں اس کی جانچ پڑتال متوقع ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
امریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
نیویارک، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعرات کو بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس کو آئندہ ہفتے عالمی رہنماؤں سے ویڈیو کے ذریعے خطاب کرنے کی اجازت دے دی۔ امریکہ کی جانب سے انہیں نیویارک میں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے دوبارہ ویزا دینے سے انکار کے بعد جنرل اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا۔
قرارداد کے حق میں 152 ووٹ پڑے، جبکہ تین ارکان نے مخالفت کی اور چار نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد کے تحت عباس اور فلسطین کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو بھی آئندہ ایک سال کے دوران اقوام متحدہ کے اجلاسوں اور کانفرنسوں میں دور سے شرکت کی اجازت ہوگی، اگر وہ امریکہ کا سفر کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
یہ ووٹنگ ایسے وقت ہوئی ہے جب واشنگٹن نے فلسطینی عہدیداروں، جن میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اور فلسطینی اتھارٹی کے ارکان بھی شامل ہیں، پر ویزا پابندیوں میں توسیع کردی ہے۔ امریکہ نے گزشتہ سال پہلی بار یہ پابندیاں عائد کی تھیں اور کہا تھا کہ تقریباً 80 فلسطینی ان سے متاثر ہوں گے۔
ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں امریکہ کی نائب سفیر ٹیمی بروس نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’اگر فلسطینی اتھارٹی کو شراکت دار سمجھا جانا ہے تو اسے دہشت گردی کی مالی معاونت بند کرنی ہوگی اور سنجیدہ حکمرانی کے متبادل کے طور پر سفارتی تماشے کا استعمال روکنا ہوگا۔‘‘
فلسطینی رہنماؤں نے امریکی فیصلے کی مذمت کی۔ اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ریاض منصور نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکی اقدام کو مسترد کردیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ وہ فلسطینی عہدیداروں کے خلاف ویزا پابندیوں میں توسیع کر رہا ہے، کیونکہ اس کے مطابق ان کے بعض اقدامات کا مقصد ’’اسرائیل-فلسطین تنازع کو بین الاقوامی سطح پر لے جانا‘‘ ہے، جس میں بین الاقوامی عدالتوں کے سامنے اسرائیل کے خلاف مقدمات کی پیروی بھی شامل ہے۔
فلسطینی حکام کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ محمود عباس کو امریکی ویزا دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔
1947 کے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت امریکہ عام طور پر غیر ملکی سفارت کاروں کو نیویارک میں اقوام متحدہ تک رسائی فراہم کرنے کا پابند ہے۔ تاہم، واشنگٹن کا موقف ہے کہ اسے سلامتی، انتہا پسندی اور خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ویزا مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ٹرمپ انتظامیہ نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے لیے ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کو ویزے دینے کی منظوری دی
واشنگٹن، صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو اگلے ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے دینے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ فیصلہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے جانے کے چھ ماہ سے زیادہ عرصے بعد سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی تھی۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر جاری لڑائی اب رک چکی ہے، تاہم مستقل حل اب بھی دور ہے۔ آبنائے ہرمز بدستور کشیدگی کا اہم مرکز ہے اور امریکہ-ایران مفاہمت نامہ (ایم او یو) کے تحت طے پانے والے اہم معاملات بھی ابھی حل طلب ہیں۔
جوہری مسئلے، پابندیوں اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں۔ جون میں طے پانے والی ایم او یو کا مقصد وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس مفاہمت میں فوجی کارروائیاں ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی دفعات شامل تھیں، تاہم بعد کے اختلافات اور دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث یہ مفاہمت پائیدار حل میں تبدیل نہیں ہوسکی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ اس نے ایران کے ’’بنیادی وفد‘‘ اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے ضروری عملے کو ویزے دینے کی منظوری دی ہے۔ امریکی حکام نے تصدیق کی کہ پزشکیان اور عراقچی بھی وفد میں شامل ہیں۔ حکام نے ویزا سے متعلق رازداری کے قوانین کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔
فی الحال ایسے کوئی واضح اشارے نہیں ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا ایران کے جوہری پروگرام پر بامعنی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے کوئی معاہدہ قریب ہے۔
28 فروری کی جنگ کے بعد سے آبنائے ہرمز دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ جنگ کے دوران ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ سے آمدورفت کو مؤثر طور پر محدود کردیا تھا، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کردی تھی۔ جون کی ایم او یو میں تجارتی آمدورفت بحال کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا، تاہم بحری راستوں، کنٹرول اور سمندری انتظامات سے متعلق اختلافات نے اس مفاہمت کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایرانی رہنماؤں کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دینے کا امریکی فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا، ’’میزبان ملک کی ذمہ داریوں کے مطابق ایرانی حکومت کا بنیادی وفد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں شرکت کرسکے گا۔‘‘
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے امریکی میڈیا نے بتایا کہ صدر پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایرانی وفد اور ضروری عملے کے ویزے منظور کیے گئے ہیں، تاہم وفد کے ارکان کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔
محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ امریکہ نے میزبان ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں اور ایرانی حکام جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کرسکیں گے۔ تاہم ان کا دورہ سفری پابندیوں کے تحت ہوگا اور بعض پابندیاں برقرار رہیں گی۔
دوسری جانب امریکہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کردیا ہے۔
اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو نیویارک میں شروع ہوگا اور 28 ستمبر تک جاری رہے گا۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر6 days agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
جموں و کشمیر6 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا7 days agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
دنیا6 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
-
ہندوستان6 days agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
-
تجزیہ1 week agoکیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
-
دنیا1 week agoروسی حملوں میں یوکرین میں 7 افراد ہلاک، کیف کا آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ: آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے
-
دنیا6 days agoسعودی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد عراق نے متعدد سرحدی گزرگاہیں بند کردیں
