پاکستان
پاکستان کے خیبر پختونخوا صوبے میں دھماکے سے 16 افراد ہلاک، 50 زخمی
پشاور، پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے کوہاٹ ضلع میں ایک مسجد کے قریب دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی میں دھماکے اور اس کے بعد دہشت گردوں کے احاطے میں داخل ہو کر پولیس تنصیبات پر حملے کے واقعے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 16 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے۔
خیبر پختونخوا کے پولیس انسپکٹر جنرل (آئی جی پی) ذوالفقار حامد نے جیو نیوز کو بتایا کہ دھماکے سے پہلے دھماکہ خیز مواد سے لدی ایک گاڑی اولڈ پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرا گئی۔ انہوں نے کہا، ’’گاڑی گیٹ سے ٹکرائی اور پھر اس میں دھماکہ ہو گیا اور فائرنگ بھی ہوئی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران پولیس کی خصوصی شاخ کی عمارت میں ایک اور خودکش دھماکہ ہوا۔
آئی جی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دھماکہ کوہاٹ پولیس لائنز کی ایک مسجد میں ہوا۔ اس میں کہا گیا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے لدی گاڑی کو عمارت سے ٹکرایا گیا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ خصوصی شاخ کی عمارت کے قریب ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’فتنہ الخوارج‘ کے دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔ انہوں نے کہا، ’’فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک کارروائی جاری رہے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پولیس کا حوصلہ بلند ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ’فتنتہ الخوارج‘ اس اصطلاح کا حصہ ہے جسے پاکستان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ تقریباً 3:30 بجے تک تلاشی اور حفاظتی کارروائی آخری مرحلے میں تھی۔ بیان میں بتایا گیا کہ دھماکے کے بعد 7 دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’اب تک ایک خودکش حملہ آور سمیت 6 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔‘‘ 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
پولیس اور انسداد دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی) نے حملہ آوروں کے ساتھ مڈبھیڑ کی اور ان میں سے 6 کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک خودکش حملہ آور اور ایک سنائپر بھی شامل تھا۔ خیبر پختونخوا پولیس نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت 11 عام شہریوں اور 5 پولیس اہلکاروں کے طور پر کی ہے۔
صوبے کے پولیس سربراہ ذوالفقار حامد نے کہا کہ خودکش بم دھماکے میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کوہاٹ ضلع اسپتال کے سینئر افسر طاہر علی شاہ نے کہا کہ 15 لاشیں اور 50 سے زیادہ زخمی افراد کو اسپتال لایا گیا ہے۔ دھماکے سے پولیس احاطے کے اندر مسجد کے باہر ایک گڑھا بن گیا۔
اتحاد المجاہدین پاکستان نامی ایک تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ گروپ حافظ گل بہادر گروپ، حرکت انقلاب اسلامی پاکستان اور لشکر اسلام کا اتحاد ہے، جسے اپریل 2025 میں تشکیل دیا گیا تھا۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔ وہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کی مذمت کی اور حکام کو متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور اس کے اسباب کے بارے میں رپورٹ بھی طلب کی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اس معاملے میں پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کی اس کارروائی کو ’بہت افسوسناک اور ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م ا لف
پاکستان
پاکستان کے کوہاٹ پولیس ہیڈکوارٹر پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہوگئی
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے کوہاٹ میں پولیس ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خودکش دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 31 ہوگئی ہے۔
پاکستان پولیس نے ہفتے کو یہ اطلاع دی۔ پولیس کے مطابق مرنے والوں میں 16 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ حملے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
جمعہ کی دوپہر دہشت گردوں نے تقریباً 2.2 لاکھ آبادی والے کوہاٹ شہر کے ’اولڈ پولیس لائنز‘ احاطے میں خودکش دھماکہ کیا تھا۔ اس احاطے میں انسداد دہشت گردی محکمہ، اسپیشل برانچ سمیت پولیس کی کئی اہم یونٹس کے دفاتر موجود ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ مقامی گروپ ’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے خیبر پختونخوا میں پولیس مرکز کے قریب کار بم دھماکہ، 15 سے زائد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک مسجد میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 15 سے زائد افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔
طلوع نیوز کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ذوالفقار حامد نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی مسجد کی دیوار سے ٹکرانے کے بعد پھٹ گئی۔انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
دھماکے سے مسجد کے باہر گہرا گڑھا بن گیا، عمارت کا بیرونی حصہ متاثر ہوا اور ایک دیوار منہدم ہوگئی۔
پولیس کے مطابق حملہ آور نے گاڑی کو احاطے کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دیا۔ اس وقت پولیس اہلکار، ان کے اہل خانہ اور دیگر شہری پولیس دفاتر سے متصل مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
پاکستان
یمن تنازع سعودی عرب تک پھیلا تو مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو جائے گا: خواجہ آصف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں جاری تنازع اگر سعودی عرب کی سرزمین تک پھیلتا ہے تو سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ پاکستان کا سہ فریقی مکہ دفاعی اتحاد فعال ہو سکتا ہے۔
ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب یمن کے حوثی باغیوں نے منگل کے روز سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کیے، جن میں 73 افراد زخمی ہوئے۔
7 اگست کو طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت اور اجتماعی بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
حوثیوں کے حملوں کے بعد یہ پوچھے جانے پر کہ آیا دفاعی معاہدہ فعال کیا جا سکتا ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ معاہدے کی شرائط میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے۔ یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی بلااشتعال جارحیت یا سعودی عرب تک کسی بھی قسم کی توسیع کی صورت میں یقیناً یہ معاہدہ فعال ہو جائے گا، اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا، ’’ہم اس معاہدے کی شرائط و ضوابط کے پابند ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہم ان کی پاسداری کریں گے۔‘‘
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کوئی رابطہ ہوا ہے، وزیر دفاع نے کہا کہ وہ اس حوالے سے کسی رابطے سے واقف نہیں ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان ردعمل دے گا کیونکہ معاہدے کے تحت جارحیت کی صورت میں مشترکہ دفاع اور اجتماعی معاونت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ’’جارحانہ نوعیت کا نہیں‘‘ ہے۔ ان کے بقول، ’’اگر کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو تینوں رکن ممالک مل کر اس کا جواب دیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ سہ فریقی معاہدہ ہے، لیکن اگر یہ دو طرفہ بھی ہوتا تب بھی ہم جواب دیتے۔‘‘
تاہم، خواجہ آصف نے امید ظاہر کی کہ صورتحال بالآخر ’’قابو میں آ جائے گی اور ختم ہو جائے گی۔‘‘
انہوں نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے داخلی تنازع کو سعودی عرب تک پھیلانے کے نتائج پر غور کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’انہیں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے حوثیوں کو ’’غیر ریاستی عناصر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن کی حکومت نے ان کے حملوں کا جواب دیا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا، ’’مسلم دنیا میں ایران کے لیے ہمدردی موجود ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن غیر ریاستی عناصر کی جانب سے دو طرفہ تنازع سے فائدہ اٹھانا، میرے خیال میں، وہ اپنے لیے خطرہ مول لے رہے ہیں۔‘‘
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک مؤثر بازدار قوت کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تینوں ممالک کے لیے ضروری نہیں کہ وہ جارحیت کا جواب لازماً جارحیت سے دیں، تاہم تینوں ممالک نے اپنی مشترکہ طاقت کا مظاہرہ ضرور کیا ہے۔
خواجہ آصف نے یاد دلایا کہ یمن میں جنگ 2014 سے جاری ہے اور وہ اسی سال وزیر دفاع کی حیثیت سے یمن کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اس وقت بھی ہم نے سعودی عرب کی مدد کی تھی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات اور سعودی سرزمین کی ’’حرمت‘‘ کے پیش نظر اسلام آباد مشکل وقت میں مملکت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے خیال میں سفارتی ذرائع ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’میں یہ امید نہیں چھوڑوں گا کہ عمل ختم ہو گیا ہے یا تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔ تعطل ضرور ہے، لیکن میں کہوں گا کہ صورتحال اس سے بہتر ہے۔‘‘
انہوں نے جسے ’’بالواسطہ رابطہ‘‘ قرار دیا، اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد جنگ کے دونوں فریقوں کے ساتھ اپنے ’’برادرانہ تعلقات‘‘ کے باعث ایک نازک توازن برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔
حوثیوں نے منگل کے روز دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کے چار شہروں کو نشانہ بنایا، جس میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور تیل کی تنصیبات میں آگ لگ گئی۔
گروپ نے کہا کہ اس نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغے، جن میں ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کنگ خالد ایئر بیس اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بعد ازاں ریاض نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تعز اور مأرب صوبوں کے بعض علاقوں اور صنعا کے مشرق میں واقع جوبہ ضلع پر فضائی حملے کیے۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ’’تمام ضروری اقدامات‘‘ کرے گی۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے لیے پاکستان کی ’’غیر متزلزل یکجہتی‘‘ کا یقین دلایا۔
انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’’اس طرح کے بزدلانہ حملے بے گناہ لوگوں کی جانوں کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ ہم مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی ثابت قدم حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘‘
پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’قابل مذمت‘‘ قرار دیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
-
ہندوستان7 days agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
-
دنیا7 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
دنیا1 week agoروسی حملوں میں یوکرین میں 7 افراد ہلاک، کیف کا آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
-
دنیا7 days agoسعودی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد عراق نے متعدد سرحدی گزرگاہیں بند کردیں
-
دنیا1 week agoامریکہ کے پاس چین کے خلاف اے آئی تحفظات ہیں: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoپوتن نئی دہلی پہنچے؛ وزیراعظم مودی کے ساتھ ہوگی بات چیت
