ہندوستان
ٹی ایم سی کے انتخابی نشان کو منجمد کرنے کے فیصلے کے خلاف ممتا بنرجی کی عرضی پر سپریم کورٹ میں فوری سماعت کی اپیل
نئی دہلی، سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے پیر کو سپریم کورٹ سے آل انڈیا ترنمول کانگریس (اے آئی ٹی ایم سی) کے نام اور اس کے مخصوص ‘پھول اور گھاس’ کے نشان کو منجمد کرنے کے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ممتا بنرجی کی عرضی پر فوری سماعت کی اپیل کی۔ سبل نے انتخابی نوٹیفکیشن کے درمیان پارٹی کے نام اور نشان کو منجمد کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے اس معاملے کو جلد فہرست بند کرنے کی مانگ کی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ دونوں فریقوں کے پاس اپنے دلائل ہوں گے اور یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو اسی ہفتے سماعت کے لیے فہرست بند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ محترمہ ممتا بنرجی کی عرضی میں الیکشن کمیشن کے 18 ستمبر (17 ستمبر کو جاری کردہ عبوری حکم) کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت الیکشن سمبلز آرڈر، 1968 کے تحت حتمی فیصلہ آنے تک دونوں دھڑوں کے ‘آل انڈیا ترنمول کانگریس’ کے نام اور ‘پھول اور گھاس’ کا نشان استعمال کرنے پر روک لگا دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے آنے والے 6 اکتوبر کے اسمبلی ضمنی انتخابات کے لیے دونوں دھڑوں کو متبادل نام اور نشان الاٹ کیے ہیں۔ محترمہ ممتا بنرجی کی قیادت والے دھڑے کو ‘ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس’ نام اور ‘فٹ بال کھلاڑی’ کا نشان الاٹ کیا گیا ہے، جبکہ رتبرت بنرجی کی قیادت والے حریف دھڑے کو ‘ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس’ اور ‘لفافہ’ کا نشان ملا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
راہل نے لڑکیوں کے تحفظ سے متعلق بہار حکومت سے جواب مانگا
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بہار کے جموئی میں دسویں کلاس کی طالبہ کے ساتھ ہوئی بدسلوکی کے واقعے پر بہار حکومت سے لڑکیوں کے تحفظ پر جواب مانگا ہے۔
مسٹر گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ جموئی میں اس لڑکی کے ساتھ ہوئی بدسلوکی کی ویڈیو انتہائی تکلیف دہ ہے، جس میں دسویں کلاس کے طالب علم اور طالبہ کو سڑک پر روک کر ہراساں اور ذلیل کیا گیا نیز طالبہ کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ طالبہ ہاتھ جوڑ کر چھوڑنے کی التجا کرتی رہی لیکن اس کے ساتھ غلط سلوک کرتے ہوئے اسے گھسیٹ کر لے جانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے ہر شخص کی شناخت کر کے پاکسو کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے اور جلد انصاف ملنا چاہیے۔ مسٹر گاندھی نے سوال کیا کہ اگر واقعہ 19 ستمبر کا ہے تو ملزمان اب تک گرفتار کیوں نہیں کیے گئے اور بہار میں شام کے وقت بھی لڑکیاں محفوظ کیوں نہیں ہیں؟
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ووٹرز کو فہرست سے باہر کرنے کی وجہ بتائے حکومت : کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے تعلق سے حکومت اور انتخابی کمیشن سے پوچھا ہے کہ ووٹرز کو فہرست سے باہر کرنے کے بعد اب ’خصوصی‘ اور عام ووٹرز کو الگ الگ زمروں میں کیوں بانٹا جا رہا ہے۔
مسٹر کھرگے نے پیر کو سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ بہار سے شروع ہوا ایس آئی آر اب دہلی پہنچ چکا ہے اور کانگریس اسے پہلے دن سے ہی خامیوں سے بھرپور عمل بتا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی، وزیر خارجہ، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر، راجیہ سبھا ایم پی، سابق مرکزی وزیر اور سابق وزیراعلیٰ سمیت کئی لوگوں کو نوٹس دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس شروع سے ہی اسے خامیوں سے بھرپور نظام بتا رہی ہے اور اب اس کی خرابیاں کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے، اب تک جن معاملات میں فیصلہ ہوا ہے ان میں 93 فیصد لوگوں نے اپیل میں کامیابی حاصل کی ہے اور 1,13,943 لوگوں کو پھر سے ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کس بنیاد پر ان لوگوں کا حقِ رائے دہی چھینا گیا۔
کانگریس صدر نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ’وی آئی پی نشان زد ووٹرز‘ کے تعلق سے کہا کہ کیا ملک میں ہمہ گیر بالغ حقِ رائے دہی میں اب خصوصی اور عام ووٹرز کا الگ الگ زمرہ ہے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا یہ آئین کے ’ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر‘ کے اصول کی خلاف ورزی نہیں ہے اور کیا وی آئی پی کا ووٹ اب زیادہ قیمتی ہو گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا کہ ایس آئی آر کے پہلے تین مرحلوں میں 31 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 13.8 کروڑ ووٹرز فہرست سے باہر ہوئے، جو 94.78 کروڑ ووٹرز کا تقریباً 14.61 فیصد ہے۔ ان کروڑوں عام ووٹرز کے معاملے میں کون اور کس کے اشارے پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے؟
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اب وی آئی پی کے لیے پریس ریلیز اور کروڑوں عام ووٹرز کے معاملے میں خاموش ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
حکومت نے ڈیجیٹل کمیونیکیشنز کمیشن کو فوری اثر سے تحلیل کر دیا
نئی دہلی، مرکز نے ڈیجیٹل کمیونیکیشنز کمیشن (ڈی سی سی) کو تحلیل کر دیا ہے، جو ہندوستان کے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کے مختلف پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے تین دہائی سے بھی پہلے قائم کیے گئے ٹیلی کام کمیشن سے ترقی پا کر اعلیٰ ترین ادارہ بنا تھا۔
وزارتِ مواصلات کے محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن نے 19 ستمبر 2026 کے ایک قرار داد کے ذریعے اس فیصلے کی اطلاع دی، جو آج گزٹ آف انڈیا، ایکسٹرا آرڈنری میں شائع ہوئی۔ قرار داد میں کہا گیا کہ ڈی سی سی اپنی اشاعت کی تاریخ سے تحلیل شدہ سمجھا جائے گا۔
یہ ادارہ اصل میں 11 اپریل 1989 کو ایک سرکاری قرار داد کے ذریعے ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے کے مختلف پہلوؤں کو حل کرنے کے لیے ٹیلی کام کمیشن کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
تقریباً تین دہائیوں بعد، نوٹیفکیشن کے مطابق، 22 اکتوبر 2018 کو ٹیلی کام کمیشن کو ڈیجیٹل کمیونیکیشنز کمیشن کا نیا نام دیا گیا تھا۔
اس میں کہا گیا ہے، ”حکومتِ ہند نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل کمیونیکیشنز کمیشن کو تحلیل کر دیا جائے۔“
یہ نوٹیفکیشن محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کے جوائنٹ سکریٹری دیویندر کمار رائے نے جاری کیا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
ہندوستان1 week agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
دنیا6 days agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
دنیا1 week agoایران جنگ سے دبئی کی سیاحت متاثر، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 44 فیصد کمی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت، یمنی فورسز طائز میں پیش قدمی کر رہی ہیں
-
دنیا1 week agoبنگلہ دیش میں خسرہ سے مزید سات اموات، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1019 ہوگئی
-
دنیا6 days agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
ہندوستان1 week agoبرکس میں مودی کا خطاب : سلامتی کونسل سمیت عالمی اداروں میں ہو اصلاحات اور جہاز رانوں کے لیے سکیورٹی نیٹ ورک بنایا جائے
-
دنیا1 week agoایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
-
ہندوستان4 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران، عمان نے خلیجی اجلاس ملتوی کردیا
