ہندوستان
لداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے لداخ میں گزشتہ سال پولیس فائرنگ میں مارے گئے چار نوجوانوں کو انصاف دلانے اور لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول کی سہولیات دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے علاقے کے لوگوں سے کیے گئے آئینی تحفظ کے وعدے ابھی تک پورے نہیں کیے ہیں۔
کانگریس کے جموں و کشمیر اور لداخ انچارج سید نصیر حسین نے جمعرات کے روز یہاں ایک بیان میں کہا کہ پانچ اگست 2019 کو دفعہ 370 ختم کرنے اور لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کے وقت لوگوں کو جو یقین دہانی کرائی گئی تھی، وہ ابھی تک پوری نہیں ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو اپنی مقامی روایتوں اور انتظامیہ سے جڑے معاملات میں آئینی خودمختاری دینے والے چھٹے شیڈول کو سات سال بعد بھی نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں مکمل جمہوری ادارے، خاص طور پر اپنی اسمبلی بحال نہیں ہوئی ہے اور زمین، روزگار، ماحول نیز ثقافتی شناخت کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا گیا ہے۔
کانگریس نے لیہہ میں گزشتہ سال پولیس فائرنگ میں مارے گئے تسیوانگ تھارچن، جگمیٹ دورجے، ستانجن نامگیال اور رنچن دادل کی موت کی عدالتی تحقیقات کی صورت حال اور نتائج کو عام کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کی پارٹی لداخ کو چھٹے شیڈول کا تحفظ دینے نیز لوگوں کی منتخب اور ان کے تئیں جوابدہ اسمبلی سمیت مکمل جمہوری ادارے قائم کرنے کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کی توسیع جمہوری عدم مرکزیت کا متبادل نہیں ہو سکتی اور دفعہ 371 کی محدود دفعات بھی چھٹے شیڈول کا متبادل نہیں ہیں۔ پارٹی نے مرکز سے لداخ کے نمائندوں کے ساتھ ایمانداری سے بات چیت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لداخ کے لوگ سات سال سے انتظار کر رہے ہیں اور کانگریس ان کے انصاف نیز جمہوری حقوق کی پرامن لڑائی کی حمایت کرتی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
نئی دہلی، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعرات کے روز کہا کہ اگر 48 گھنٹے کے اندر مسٹر کمار نے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیا تو پارٹی ملک گیر تحریک شروع کرے گی اور ان کے استعفے کے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گی۔
سی جے پی کے بانی صدر ابھجیت دپکے نے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسٹر کمار کے الیکشن کمشنر بننے کے بعد مہاراشٹر اور اتر پردیش میں دو کروڑ ووٹروں کے نام ہٹائے گئے، جبکہ مغربی بنگال میں 97 لاکھ لوگوں کو ووٹنگ سے محروم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں اب تک 13 کروڑ ووٹ ہٹائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں جیتنے والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) اور ہارنے والے انڈیا الائنس کے درمیان صرف تین فیصد کا فرق تھا۔ اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ہٹایا جانا انتخابی نتائج پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔
مسٹر دپکے نے الزام لگایا کہ انتخابی نشانات سے جڑے معاملات میں بھی الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا، “نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور شیو سینا کے انتخابی نشانات چھین کر بی جے پی کی ‘شیل’ پارٹیوں کو دے دیے گئے۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔” انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کو الیکشن کمشنر کے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں ہے اور انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
سی جے پی کے بانی رکن اور جوائنٹ کنوینر آشوتوش رانکا نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جمہوریہ بننے کے بعد سے ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں زیادہ تر ووٹر غریب تھے، تب بھی بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور پنڈت جواہر لال نہرو نے ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق دیا تھا، لیکن اب 13 کروڑ ووٹروں کو خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے ذریعے ووٹر فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ پیش رفت سے اشارہ ملتا ہے کہ ووٹروں کو ووٹنگ سے روکنے کا عمل آگے بھی جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے گوا، مغربی بنگال اور بہار میں مبینہ طور پر ووٹر شناخت کو فلاحی اسکیموں سے جوڑنے کے معاملات کا بھی ذکر کیا۔
مسٹر رانکا نے کہا، “گوا میں راشن جیسی اسکیموں کو بھی ووٹنگ کے حق سے جوڑ دیا گیا۔ مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت نے کہا ہے کہ عوامی فلاحی اسکیموں کا فائدہ انہی کو ملے گا جو ووٹر ہیں۔ بہار میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ جن 13 کروڑ لوگوں کو ووٹر فہرست سے ہٹایا گیا ہے، انہیں آہستہ آہستہ فلاحی اسکیموں سے الگ کر دیا جائے گا۔ اس کے ذریعے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کہنا چاہتی ہے کہ اگر آپ اسے ووٹ نہیں کریں گے تو نہ صرف آپ سے ووٹنگ کا حق چھینا جائے گا، بلکہ فلاحی اسکیمیں بھی آپ سے دور رکھی جائیں گی۔”
اس دوران، سی جے پی کے چیف ترجمان سورَو داس نے الزام لگایا کہ ملک میں ووٹروں کے حقوق کی اہمیت کم کی جا رہی ہے اور نوجوانوں کو ووٹر فہرست میں شامل ہونے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے تحت فارم-6 میں نئے ووٹروں سے ان کے والدین کے پچھلے ایس آئی آر میں شامل ہونے سے متعلق سوال پوچھا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھلے ہی اسے اختیاری بتایا جا رہا ہو، لیکن سافٹ ویئر اسے لازمی مان رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی نوجوان ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہو پا رہے ہیں۔
مسٹر داس نے دعویٰ کیا کہ ایک الیکشن کمشنر نے اس نظام کو غیر مجاز اور نئے ووٹروں کو ہراساں کرنے والا طریقہ بتایا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نوجوان ووٹروں، بالخصوص جین زی ووٹروں کو فہرست میں شامل کرنے کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مغربی بنگال میں 60 لاکھ لوگوں کو “منطقی تضاد” کی بنیاد پر ہٹائے جانے اور بعد میں 33 لاکھ لوگوں کو فہرست میں شامل کیے جانے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس کے خلاف عدالت میں اپیل بھی دائر کی تھی، حالانکہ دو الیکشن کمشنروں نے اس پر اعتراض بھی درج کرایا تھا۔
مسٹر داس نے مطالبہ کیا کہ گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے اور ان کے خلاف مجرمانہ کارروائی شروع کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ یہ واضح کیا جائے کہ انہیں ہدایات کون دے رہا ہے۔ انہوں نے آنے والے تمام انتخابات کو ملتوی کرنے اور ایس آئی آر کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے ایس آئی آر سے متعلق فائلوں کو ضبط کر کے اپنی نگرانی میں لینے کا مطالبہ بھی کیا، تاکہ ریکارڈ کے ساتھ کسی قسم کی چھید چھاڑ کا خدشہ نہ رہے۔
مسٹر داس نے الیکشن کمیشن سے متعلق 2023 کے قانون کو منسوخ کرنے اور ایسا نیا قانون بنانے کا مطالبہ کیا جس سے لوگوں کا الیکشن کمیشن اور انتخابی عمل میں اعتماد قائم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ دینے کا حق کسی سیاسی پارٹی کا نہیں بلکہ ہر شہری کا آئینی حق ہے اور نوجوانوں نیز سماجی تنظیموں کو اس معاملے پر آگے آنا چاہیے۔
مسٹر دپکے نے کہا کہ ملک “بہت حساس وقت” سے گزر رہا ہے اور لوگوں کے ووٹ دینے کے حق سے جڑے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپنے جمہوری حقوق کے لیے آگے آنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، “اگر آپ جانتے ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی کی جا رہی ہے تو آپ کو سخت ہونا پڑے گا۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپ کے لیے کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔” انہوں نے کہا کہ یہ کسی سیاسی پارٹی کا نہیں بلکہ ملک کے عوام کے حق کا سوال ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان اور بحرالکاہل کے جزائری ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور، قابل تجدید توانائی اور موسمیاتی مسائل پر بات چیت
نئی دہلی، ہندوستان-بحرالکاہل جزائر تعاون فورم کی میٹنگ میں دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ دونوں فریقوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان بدھ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر بات چیت ہوئی۔ میٹنگ میں قابل تجدید توانائی، موسمیاتی اقدامات، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور صلاحیت سازی جیسے شعبوں میں مزید تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کی صدارت وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کی۔ یہ اس تنظیم کے وزرائے خارجہ کی دوسری میٹنگ تھی۔
میٹنگ میں بحرالکاہل کے جزائری ممالک کی اعلیٰ سطحی شرکت رہی۔ اس میں سموا کے نائب وزیر اعظم و وزیر خزانہ، فجی، مارشل آئی لینڈز، پلاؤ، پاپوا نیو گنی، سولومن آئی لینڈز اور تووالو کے وزرائے خارجہ شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ ٹونگا کے وزیر خزانہ، مائکرونیشیا کی وفاقی ریاستوں کے محکمہ انصاف کے سکریٹری و اٹارنی جنرل، وانواتو کے وزیر صحت، ناؤرو کے نائب وزیر خارجہ اور پیسیفک آئی لینڈز فورم کے سکریٹری جنرل نے بھی میٹنگ میں حصہ لیا۔ میٹنگ میں سربراہ اجلاسوں کے نتائج کا جائزہ لیا گیا اور 2023 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے اعلان کردہ 12 نکاتی ایکشن پلان کے تحت ہندوستان-بحرالکاہل جزائری ممالک کے تعاون میں ہونے والی پیشرفت کا خیرمقدم کیا گیا۔
میٹنگ میں شراکت داری کو مضبوط بنانے اور علاقائی و کثیر جہتی پلیٹ فارمز پر تعاون بڑھانے کے عزم کو دہرایا گیا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
یمنا ایکسپریس وے : بس میں آگ لگنے سے 9 افراد زندہ جلے
گریٹر نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا میں ایک دل دہلا دینے والے حادثے میں بدھ کی دیر رات یمنا ایکسپریس وے پر جیور ہوائی اڈے کے قریب چلتی ہوئی نجی بس میں اچانک آگ لگنے سے 9 افراد زندہ جل گئے۔
حادثے میں کئی دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق حادثہ نصف شب کے قریب پیش آیا۔ بس نوئیڈا سے تقریباً 34 کلومیٹر کا سفر طے کرچکی تھی کہ اس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے مسافروں میں افراتفری مچ گئی۔ آگ لگنے کا پتہ چلتے ہی کچھ مسافر اپنی جان بچانے کے لیے چلتی بس سے کود گئے۔ تھوڑی ہی دیر میں آگ نے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کئی مسافر اندر پھنس گئے۔
حادثے کا شکار بس میں 35 مسافر سوار تھے۔ کئی مسافروں نے کھڑکیاں توڑ کر اور بس سے کود کر اپنی جان بچائی۔
بس نوئیڈا سے مہوبا جارہی تھی۔ یہ راج کلپنا ٹریولس کی بس تھی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی 5 گاڑیاں موقع پر پہنچیں۔ تقریباً 45 منٹ میں آگ پر قابو پالیا گیا، لیکن اس وقت تک بس پوری طرح جل چکی تھی۔
حادثے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں بس کو آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔ اطلاع ملنے پر جیور کوتوالی پولیس کے اہلکار موقع پر پہنچے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی۔
دریں اثنا، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گریٹر نوئیڈا میں پیش آئے سڑک حادثے کا نوٹس لیا۔
وزیر اعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے افسران کو زخمیوں کے مناسب علاج کا انتظام کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے بات کی اور افسران کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
یو این آئی ۔ ایم جے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر5 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر5 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا6 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
ہندوستان1 week agoصرف انعام کا اعلان نہیں، مسعود اظہر کو گرفتار کرے پاکستان: ہندوستان
-
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا6 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
