دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
واشنگٹن، امریکی بحریہ کے مطابق گزشتہ سال شروع ہونے والی کئی ماہ طویل تعیناتی کے دوران یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں رپورٹ ہوئیں۔
قائم مقام نیوی سیکریٹری ہنگ کاؤ نے ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ کے سوالات کے جواب میں بتایا کہ ان واقعات میں طیارہ بردار جہاز، اس کے ایئر ونگ اور حفاظتی بیڑے میں شامل ڈسٹرائرز کے اہلکار شامل ہیں۔ تاہم جہاز پر خودکشی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
ایک سینئر دفاعی عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ان میں سے دو کوششیں اس وقت ہوئیں جب اسٹرائیک گروپ ایران کے ساتھ فعال جنگی کارروائیوں میں مصروف تھا۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ہزاروں اہلکار نو ماہ سے زیادہ عرصے تک تعینات رہے، جن میں رواں سال مسلسل 250 سے زائد دن سمندر میں گزارے گئے۔ اس دوران اسٹرائیک گروپ نے مغربی ایشیا میں ایران کے خلاف امریکی جنگ میں معاونت کی۔
طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر خوراک اور رسد کی قلت، پانی کی نکاسی کے نظام میں خرابی اور اہلکاروں کی بگڑتی ذہنی صحت سے متعلق شکایات سامنے آئیں۔ امریکی محکمہ دفاع نے تاہم کہا ہے کہ خودکشی کی کوششوں میں اضافہ نہیں ہوا اور اہلکاروں کو مشیران، مذہبی معاونین اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں۔
نیوی کے اعلیٰ سول عہدیدار ہنگ کاؤ نے ایک ویڈیو میں کہا، ’’ہمیں خدکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا براہِ راست مقابلہ کرنا ہوگا۔‘‘
یو ایس ایس ابراہم لنکن گزشتہ ماہ کے آخر میں مغربی ایشیا سے روانہ ہوا، ستمبر کے اوائل میں تھائی لینڈ پہنچا اور رواں ہفتے گوام پہنچا۔ بحریہ کے مطابق اسے مغربی ایشیا میں ذمہ داریوں سے فارغ کردیا گیا ہے اور وہ اپنے آبائی اڈے سان ڈیاگو کی جانب رواں دواں ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں ہندوستان کا دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس اور قابل پیش گوئی موسمیاتی مالیات پر زور
نیویارک، ہندوستان نے جمعرات کو اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے سلسلے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور موسمیاتی مالیات سے متعلق اپنی ترجیحات پر زور دیا۔ وزارت خارجہ میں سکریٹری (اقتصادی تعلقات) سدھاکر دلیلا نے دہشت گردی کے حوالے سے نئی دہلی کے زیرو ٹالرنس کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے موسمیاتی خطرات کا سامنا کرنے والے ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ اور قابل پیش گوئی مالی تعاون کا مطالبہ کیا۔
وزارت خارجہ نے ایکس پر متعدد پوسٹس میں بتایا کہ دلیلا نے دہشت گردی کے متاثرین کے گروپ آف فرینڈز کے ساتویں وزارتی اجلاس میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے سرحد پار دہشت گردی سے ہندوستان کو ہونے والے تباہ کن نقصانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی انسداد دہشت گردی ایجنڈے میں متاثرین کو مرکز میں رکھا جانا چاہیے۔
دلیلا نے اقوام متحدہ کے موسمیاتی کارروائی اور منصفانہ منتقلی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں موسمیاتی موافقت اور مالیات پر ہونے والی بات چیت میں بھی شرکت کی۔
وزارت کے مطابق، ’’فنانسنگ ایڈاپٹیشن‘‘ سے متعلق سولیوشنز ڈائیلاگ میں دلیلا نے ہندوستان کے ابتدائی انتباہی نظام اور قومی و ریاستی سطح کی منصوبہ بندی میں موسمیاتی موافقت کے اقدامات کو شامل کرنے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ملک کی قیادت میں موسمیاتی موافقت کے لیے قابل پیش گوئی مالی تعاون کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ اس طرح کی مالی مدد کمزور ممالک اور برادریوں کو قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کیے بغیر تحفظ فراہم کرے۔
موسمیاتی مالیات سے متعلق ایک الگ سولیوشنز ڈائیلاگ میں دلیلا نے ہندوستان کی قومی سطح پر طے شدہ شراکت (این ڈی سی) کے اہداف کی جانب پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں غیر فوسل ایندھن کے ذرائع کا حصہ اب 54 فیصد سے زیادہ ہوگیا ہے۔
انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے قابل رسائی موسمیاتی مالیات اور ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی کا مطالبہ کیا۔ وزارت کے مطابق انہوں نے کہا کہ موسمیاتی مالیات سے متعلق وعدے ’’نئے اور اضافی‘‘ ہونے چاہئیں اور انہیں موجودہ ترقیاتی مالیات کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
ان تینوں اجلاسوں میں دلیلا نے ہندوستان کے انسداد دہشت گردی سے متعلق خدشات کو اس کی موسمیاتی سفارت کاری سے جوڑتے ہوئے دہشت گردی کے متاثرین کے لیے مضبوط بین الاقوامی حمایت کے ساتھ ساتھ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کے لیے قابل رسائی اور پائیدار مالیاتی نظام کا مطالبہ کیا۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کی مداخلتیں عالمی انسداد دہشت گردی نظام کو مضبوط بنانے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے منصفانہ اور قابل پیش گوئی موسمیاتی مالیات کو آگے بڑھانے پر اس کی دوہری توجہ کی عکاسی کرتی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
لندن، عالمی تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو تقریباً 3 فیصد کا اچھال آیا اور بین الاقوامی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت 3 فیصد بڑھ کر 106.24 ڈالر فی بیرل ہوگئی، تاہم بعد میں معمولی کمی آئی۔ ایران جنگ کے ساتویں ماہ میں تنازع کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی برقرار رہنے کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں کمی آرہی تھی، کیونکہ یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ کسی معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے تیل اور گیس کی ترسیل بحال ہوسکتی ہے۔ اسی دوران دنیا بھر کے رہنما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیویارک میں جمع ہوئے تھے۔ تاہم بدھ کو ہونے والی ملاقاتوں سے تنازع ختم کرنے کی سمت کسی قابل ذکر پیش رفت کے اشارے نہ ملنے کے بعد یہ امیدیں دم توڑ گئیں۔ جنگ نے مغربی ایشیا میں ٹینکروں کی آمدورفت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
امریکی معیار خام تیل کی قیمت جمعرات کی صبح تقریباً 2 فیصد بڑھ کر 94 ڈالر فی بیرل سے کچھ کم ہوگئی، جبکہ امریکی منڈیوں کے کھلنے سے قبل برینٹ کی قیمت 2 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی۔
برینٹ خام تیل کی قیمت اب بھی تقریباً 72 ڈالر فی بیرل کی اس سطح سے کافی زیادہ ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ جنگ شروع کیے جانے سے قبل ریکارڈ کی گئی تھی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات اس ہفتے دوبارہ شروع ہوئے ہیں، تاہم اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ ایران کی اس وارننگ کے بعد بھی ہوا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دوبارہ حملوں کی صورت میں ایران توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحیرہ احمر میں بحری جہاز رانی کے خلاف وسیع تر ردعمل دے سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر بحر ہند تک بھی پھیل سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس ہفتے ایران کے ٹھکانوں پر دوبارہ حملے کرنے کی بارہا دھمکی دی ہے، جس سے تنازع کی سمت اور عالمی توانائی کی رسد پر اس کے سنگین ممکنہ اثرات کے حوالے سے پہلے سے موجود غیر یقینی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پاکستانی فضائی حملوں میں چار افراد کی ہلاکت کے بعد افغانستان کا جوابی کارروائی کا عزم
کابل، پاکستانی فضائی حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے، افغان طالبان حکومت کے ترجمان نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان ’’مناسب جواب‘‘ دے گا۔
پاکستان نے جمعرات کو کہا کہ اس نے افغانستان میں ڈرونز کو ذخیرہ کرنے اور انہیں لانچ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے 10 مقامات پر فضائی حملے کیے، جن میں سے بعض ڈرونز پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں میں استعمال کیے گئے تھے۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ فضائی حملے قندھار، پکتیا اور خوست صوبوں میں کیے گئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قندھار شہر کے ایک رہائشی نے بتایا کہ جنوبی افغانستان کے شہر میں فضائی حملہ ہوا۔ رہائشی کے مطابق انہوں نے پہلے ایک جنگی طیارے کی آواز سنی، اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا اور پھر قندھار شہر کے وسط میں آگ بھڑک اٹھی۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ فضائی حملے ’’جان بوجھ کر، درست، متوازن اور متناسب‘‘ تھے اور انہیں صرف ان نشاندہی شدہ فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جو براہ راست پاکستان کے خلاف کیے جانے والے حملوں سے منسلک تھے۔
انہوں نے بدھ کو پاکستان میں ڈرونز کے ذریعے ہونے والی ’’جان بوجھ کر اور غیر قانونی دراندازی‘‘ کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا، ’’یہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور جارحیت کا ایک سنگین اور ناقابل قبول اقدام ہے۔‘‘
طالبان حکام نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی حکومت نے بدھ کو پاکستان کے خلاف ڈرون حملے کیے تھے۔
جمعرات کے فضائی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان میں مسلح گروہوں کے حملوں پر سابق اتحادی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں فروری میں دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں کی بدترین لڑائی شروع ہوئی تھی۔
اسلام آباد کا الزام ہے کہ کابل ایسے جنگجوؤں کو پناہ دے رہا ہے جو سرحد پار حملے کرتے ہیں، تاہم افغان طالبان حکومت پاکستان مخالف مسلح گروہوں کو پناہ دینے کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستان کا داخلی مسئلہ ہیں۔
گزشتہ ہفتے شمال مغربی پاکستان میں ایک پولیس مرکز پر حملے میں کم از کم 21 افراد کی ہلاکت کے بعد تقریباً تین ماہ کی نسبتاً کشیدہ خاموشی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے نے دھماکے اور اس کے بعد ہونے والی فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
پیر کو شمال مشرقی افغانستان میں تین مقامات کو نشانہ بنا کر کیے گئے فضائی حملوں میں کنڑ صوبے کے نرگل ضلع میں تین شہری ہلاک ہوئے تھے، افغان حکام نے بتایا تھا۔ اسلام آباد نے کہا تھا کہ اس کارروائی میں 28 ’’دہشت گرد‘‘ مارے گئے۔
اس تازہ کشیدگی سے چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب کی جانب سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان دیرپا امن کے لیے جاری ثالثی کی کوششوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
فروری میں ہونے والی لڑائی کے بعد سے، جو کئی برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان بدترین لڑائی تھی، سابق اتحادیوں کے تعلقات مسلسل کشیدہ ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر5 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر5 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا6 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا7 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا6 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
جموں و کشمیر6 days agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
