دنیا
آر اے ایف بیس کے قریب مشتبہ منصوبے کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ : امریکہ
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ کے زیر استعمال ایک برطانوی فوجی اڈے کے قریب پیش آنے والے مشکوک واقعے میں “کسی غیر ملکی کردار کا ہاتھ” شامل ہے۔
فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ جنوب مغربی انگلستان کے فیئر فورڈ میں واقع آر اے ایف فیئر فورڈ بیس پر ہونے والا ویک اینڈ کا واقعہ “ایک انتہائی سنگین صورتحال” تھا اور اشارہ دیا کہ مشکوک غیر ملکی مداخلت کے بارے میں مزید معلومات آنے والے دنوں میں سامنے آ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “کچھ باتیں ایسی ہیں جو میں مختلف وجوہات کی بنا پر آن ایئر نہیں کہہ سکتا۔ بس اتنا کہنا کافی ہے کہ جو کچھ ہوا، جو ہونے کے قریب تھا، جو برطانیہ میں ہفتے کے آخر میں ہو سکتا تھا، وہ ایک انتہائی سنگین صورتحال ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں واضح طور پر کسی غیر ملکی کردار کا ہاتھ ہے۔”
یہ تبصرے برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس کی طرف سے اتوار کو گلوسٹر شائر میں آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پانچ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد سامنے آئے۔ ان تمام افراد کا تعلق لندن سے ہے، جن کی عمریں بیس کی دہائی کے اوائل میں ہیں اور وہ برطانوی شہری ہیں۔ انہیں ایک مقامی کسان کی اطلاع پر حراست میں لیا گیا جس نے بیس کی طرف جانے والی تین سفید وینیں دیکھی تھیں۔
پولیس نے پیر کو بتایا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا کسی غیر ملکی ریاست کی طرف سے کام کرنے والے افراد ملوث تھے۔ تفتیش جاری رہنے کے دوران پانچوں مشتبہ افراد کو بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
آر اے ایف فیئر فورڈ کو امریکی فوج استعمال کرتی ہے اور اس میں خطے میں کارروائیوں میں حصہ لینے والے امریکی بمبار طیارے بھی رکھے گئے ہیں۔
روبیو نے تحقیقات کے دوران امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے پر برطانوی حکام کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، “میں مملکت متحدہ کے حکام کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے بہت تعاون کیا اور معاملے پر پوری طرح نظر رکھی،” اور مزید کہا کہ امریکی حکام گرفتاریوں اور بعد میں ضمانت پر رہائی کے حوالے سے برطانوی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
روبیو نے اس واقعے کو بیرون ملک امریکی مفادات کے خلاف خطرات کے وسیع تر تناظر میں بھی دیکھا۔
انہوں نے خاص طور پر ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عناصر نے عالمی سطح پر امریکی مفادات کو کھلے عام دھمکیاں دی ہیں اور امریکہ اس طرح کے خطرات کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم دنیا کے ایسے عناصر سے نمٹ رہے ہیں، اور مثال کے طور پر ایران کے معاملے میں، جنہوں نے عالمی سطح پر امریکی مفادات پر حملہ کرنے کی کھلے عام دھمکی دی ہے۔ ہم ہمیشہ اسے بہت سنجیدگی سے لیں گے۔”
پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ برطانوی پولیس کو ان پانچوں افراد کو ضمانت پر رہا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس کیس کا تعلق “ایران سے ہو سکتا ہے” لیکن تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ اوول آفس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “میں حیران ہوں کہ انہوں نے انہیں رہا کر دیا، میں ایسا نہیں کرتا،” ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ برطانوی حکام نے امریکہ کے ساتھ بہت قریبی کام کیا ہے۔ “ہم ان کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ ہم انہیں رہا نہ کرتے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
نیویارک، ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خبردار کیا ہے کہ عالمی قوانین کے زوال اور دو طرفہ معاہدوں پر بڑھتے زور سے دنیا زیادہ مسابقتی اور ممکنہ طور پر ’’ہابسیائی‘‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بدلتے عالمی حالات میں اپنی شراکت داریوں کو متنوع بنا کر اور اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کرکے آگے بڑھے گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایشیا سوسائٹی سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ بین الاقوامی نظام بنیادی تبدیلی سے گزر رہا ہے اور ممالک اب اپنے قومی مفادات کی واضح ترجیحات کے مطابق نئے معاہدے کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین بالخصوص اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں ایک طویل عرصے سے کمزور ہوئے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے دو طرفہ تجارتی معاہدوں پر بڑھتا زور کثیرالجہتی تجارتی نظام کے سابقہ مفروضوں کو چیلنج کر رہا ہے۔
جے شنکر نے کہا کہ بڑی طاقتوں کے تنازعات کا خمیازہ بعض اوقات ان ممالک کو بھی بھگتنا پڑتا ہے جن کا ان مسائل کو پیدا کرنے میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی نظام زیادہ مسابقتی اور مشکل ضرور ہوگا، تاہم ممالک کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ استحکام برقرار رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان امریکہ، یورپ، جاپان، چین، روس، خلیجی ممالک، آسیان اور عالمی جنوب کے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے اسے ’’پورٹ فولیو مینجمنٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شراکت داریوں میں تنوع عالمی غیر یقینی کے مقابلے میں زیادہ استحکام فراہم کر سکتا ہے۔
ہندوستان۔چین تعلقات میں بہتری
جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے تعلقات چند سال پہلے کے مقابلے میں ’’بہتر‘‘ ہیں اور سرحدی کشیدگی میں کمی کے ساتھ تعلقات معمول کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’سرحد کی صورت حال تعلقات کی صورت حال کا تعین کرتی ہے۔ آپ سرحد پر کشیدگی برقرار رکھتے ہوئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تعلقات معمول کے مطابق ہونے چاہئیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں اور اس سے تیسرے فریق کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
جاپان کے ساتھ تعاون میں توسیع
جے شنکر نے ہندوستان۔جاپان تعلقات میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی کمپنیاں سپلائی چین میں تنوع کے لیے ہندوستان میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں، خصوصاً سیمی کنڈکٹرز اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے دفاعی تعاون میں بھی توسیع ہوئی ہے جبکہ طلبہ اور عوامی روابط میں اضافے کے ساتھ ہندوستان میں جاپانی زبان کی تعلیم کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
ہیگستھ نے 2026 کے انتخابات کو غیر ملکی خطرات سے بچانے کے لیے امریکی دفاعی اداروں کو ہدایات دیں
واشنگٹن، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملک میں 2026 کے انتخابات کو غیر ملکی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی انٹیلی جنس اور سائبر صلاحیتوں کو متحرک کرے۔ اس مقصد کے تحت امریکی سائبر کمانڈ اور دفاعی انٹیلی جنس اداروں کو ممکنہ انتخابی مداخلت کی نشاندہی اور اسے ناکام بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ہیگستھ نے ایک یادداشت میں امریکی سائبر کمانڈ اور محکمے کی جنگی معاونت کرنے والی ایجنسیوں کے سربراہوں کو ہدایت دی کہ ’’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ جنگ کی انٹیلی جنس اور سائبر صلاحیتوں کے استعمال کو ترجیح دی جائے کہ غیر ملکی عناصر ہمارے جمہوری نظام میں مداخلت نہ کر سکیں۔‘‘
ہدایت کے تحت دفاعی انٹیلی جنس اداروں کو انتخابات کے لیے غیر ملکی خطرات سے متعلق انٹیلی جنس جمع کرنے اور اس کا تجزیہ مزید تیز کرنے کا کہا گیا ہے، جبکہ امریکی سائبر کمانڈ کو محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ساتھ رابطہ کرتے ہوئے انتخابی عمل کو نشانہ بنانے والے ممکنہ سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی موجودہ قانونی اختیارات اور صلاحیتیں استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یادداشت میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا تحفظ ایک ’’ناکامی سے پاک مشن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ محکمہ جنگ انتخابی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے حکومت کی وسیع تر مشترکہ کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
ہیگستھ نے یادداشت میں کہا، ’’آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کی ہماری قوم کی صلاحیت ہماری جمہوریت کا ایک مضبوط اصول ہے۔ اس صلاحیت کو یقینی بنانا اور اس کا تحفظ کرنا ناکامی سے پاک مشن ہے اور محکمہ جنگ حکومت کی اس مشترکہ کوشش میں اپنا کردار ادا کرے گا۔‘‘
انہوں نے دفاعی انٹیلی جنس اداروں کو مزید ہدایت دی کہ انتخابی بنیادی ڈھانچے کو غیر ملکی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھنے اور ووٹروں کو ’’غیر ملکی دھمکی، دباؤ یا خوف‘‘ کے بغیر اپنا ووٹ ڈالنے کے قابل بنانے کے لیے ’’ہر مجاز ذریعے، صلاحیت اور شراکت داری کو متحرک‘‘ کیا جائے۔
ہیگستھ نے کہا، ’’امریکہ میں عوام حکمرانی کرتے ہیں اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی آواز خودمختار، محفوظ اور مکمل طور پر غیر متاثر رہے۔‘‘
پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ’’ہماری جمہوریہ کی بنیاد‘‘ ہیں اور محکمہ وفاقی، ریاستی اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غیر ملکی مداخلت سے ووٹنگ کے نظام کے تحفظ کے لیے کام کرے گا۔
پارنیل نے کہا، ’’وفاقی، ریاستی اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے امریکی سائبر کمانڈ اور ہماری دفاعی انٹیلی جنس ٹیمیں امریکہ کے ووٹنگ نظام کی سالمیت کا دفاع کریں گی، غیر ملکی بدنیتی پر مبنی اثر و رسوخ کو بے نقاب کریں گی اور اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ ہمارے جمہوری عمل بیرونی مداخلت سے محفوظ رہیں۔‘‘
امریکی سائبر کمانڈ کے کمانڈر اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل جوشوا ایم رڈ نے کہا کہ دونوں ادارے سائبر خطرات کی نشاندہی اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے قریبی رابطے میں ہیں۔
رڈ نے کہا، ’’امریکی سائبر کمانڈ اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی ہمارے ملک کو درپیش سائبر خطرات کی نشاندہی اور ان کے دفاع کے لیے قریبی شراکت داری میں کام کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دونوں ادارے جمہوری عمل میں مداخلت کی کوشش کرنے والے غیر ملکی نقصان دہ سائبر عناصر کا باقاعدگی سے مقابلہ کرتے ہیں۔
ہدایت میں محکمہ جنگ سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک کے ووٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کی قابلِ اعتماد کارکردگی کو بیرونی مداخلت اور خلل سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی انٹیلی جنس، سائبر اور دیگر مجاز صلاحیتوں کو استعمال کرے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نیپال میں شدید بارشوں کے باعث سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، 21 افراد ہلاک، 1500 سے زائد بے گھر
کھٹمنڈو، نیپال کے مغربی اور جنوب وسطی علاقوں میں مسلسل شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور زیر آب آنے کے واقعات میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور 1500 سے زائد بے گھر ہوگئے ہیں، جبکہ سیکڑوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
ہلاکتیں باگ لونگ، پَلپا، میاگدی اور دھنوشا اضلاع میں رپورٹ ہوئی ہیں۔
گنڈکی صوبہ پولیس دفتر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں بارش سے متعلق واقعات میں 11 افراد ہلاک، چار زخمی اور چار لاپتہ ہیں۔
باگ لونگ، پربت، منانگ، نوال پرسی ایسٹ، چتوان، پَلپا اور دھنوشا سمیت متعدد اضلاع سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور پانی بھر جانے سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق 747 خاندانوں کے کم از کم 1500 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر 179 مکانات مکمل طور پر تباہ اور 26 کو جزوی نقصان پہنچا ہے، جبکہ مزید 270 مکانات کو خطرہ لاحق ہے۔
گنڈکی صوبہ پولیس دفتر کے اطلاعاتی افسر کرشنا پرساد کوئرالا نے کہا، ’’نقصانات کی تفصیلات ابھی جمع کی جا رہی ہیں۔‘‘
قدرتی آفات کے باعث 12 مویشیوں کے باڑے مکمل طور پر تباہ اور ایک کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ چھ پل مکمل طور پر تباہ اور دو کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ کم از کم 44 مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔
تین سرکاری دفاتر مکمل طور پر تباہ، تین کو جزوی نقصان پہنچا اور مزید نو دفاتر کو خطرہ لاحق ہے۔ تین دو پہیہ اور 15 چار پہیہ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ کئی علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑک اور ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہوا ہے۔
دی کٹھمنڈو پوسٹ کے مطابق گنڈکی صوبے میں باگ لونگ سب سے زیادہ جانی نقصان والا ضلع رہا، جہاں 10 افراد ہلاک اور ایک لاپتہ ہے۔ 23 مکانات مکمل طور پر تباہ اور چار کو خطرہ لاحق ہے۔ 23 مویشی ہلاک ہوئے، جبکہ 26 خاندانوں کے 80 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ تین سرکاری دفاتر کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
پربت ضلع میں بڑے پیمانے پر نقصان اور لوگوں کی نقل مکانی ہوئی ہے، خاص طور پر کالی گنڈکی دریا کے کنارے کے علاقوں میں۔
پولیس کے مطابق کالی گنڈکی میں سیلاب سے 106 مکانات مکمل طور پر تباہ اور چار کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ مزید 82 مکانات کو خطرہ لاحق ہے۔ 162 خاندانوں کے 540 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ تین پلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دو سرکاری دفاتر کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ ایک کو خطرہ لاحق ہے۔
کالی گنڈکی دریا نے مڈ ہل ہائی وے پر مال ڈھونگا پل کو بھی نقصان پہنچایا، جو پربت اور باگ لونگ اضلاع کو ملاتا ہے، جس کے نتیجے میں ٹریفک رک گئی ہے۔
پولیس ہیڈکوارٹر کے مطابق جلجلا دیہی میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 8 میں پھارسے کے مقام پر کالی گنڈکی میں سیلاب سے آبادی زیر آب آگئی اور املاک کو نقصان پہنچا۔ تقریباً 80 خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
