ہندوستان
ہندوستان پر 100 فیصد امریکی برآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے درمیان مودی اور ٹرمپ نے کی ٹیلی فون پر بات چیت
نئی دہلی، روس-ایران پابندیوں کے قانون کے تحت امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر مجوزہ 100 فیصد برآمدی ڈیوٹی کے تعلق سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تبادلۂ خیال کے درمیان وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز بات چیت کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔
اس بات چیت کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
انہوں نے کہا، “صدر ٹرمپ کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی۔ ہم نے تجارت، دفاع، توانائی، اہم ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں اپنے باہمی تعاون کا جائزہ لیا۔ ہم اپنی ‘جامع اسٹریٹجک شراکت داری’ کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر متفق ہوئے۔ ہم نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا، جن میں عالمی امن اور سکیورٹی کو فروغ دینے کے لیے جاری کوششیں بھی شامل ہیں۔”
وزیرِ اعظم کے دفتر نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ہند-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے تئیں اپنے عزم کو دہرایا اور دونوں ممالک کے لوگوں کے فائدے کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے قریب رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ امریکی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور شدہ یہ قانون امریکی صدر کو روس سے خام تیل یا قدرتی گیس خریدنے والے سرفہرست پانچ ممالک پر 100 فیصد تک برآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
بیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ بیلا کلسٹر کچی آبادیوں کے ووٹر لسٹ سے 729 میں سے 728 ووٹروں کا نام ہٹانا ووٹ چوری کا واضح ثبوت ہے، اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ ہندوستانی شہریت کے تمام دستاویزات اور ثبوت ہونے کے باوجود یہ لوگ دفاتر اور عہدیداروں کے ارد گرد چکر لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ نسلوں سے وہاں رہ رہے ہیں، زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں اور ہر الیکشن میں ووٹ دیتے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی شہری سے ووٹ کا حق صرف اس لیے چھین لیا جا سکتا ہے کہ وہ غریب یا بے گھر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین ایک شخص، ایک ووٹ کی ضمانت دیتا ہے اور ایک ووٹ کو بھی حذف کرنا محض ایک فعل نہیں بلکہ ووٹ چوری ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ 728 ووٹوں کے حذف ہونے پر افسوس کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہے اور اسی ڈھٹائی کے ساتھ ملک بھر میں لاکھوں ووٹوں کی چوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایک ووٹ کو بھی حذف نہیں ہونے دیں گے” اور ذمہ داروں کو نتائج کا سامنا کرنے کی تنبیہ کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
ہندوستان
شیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
نئی دہلی، گھریلو شیئر بازاروں میں بدھ کو مسلسل تیسرے دن گراوٹ دیکھی گئی اور بی ایس ای کا سینسیکس تقریباً پورے دن سبز نشان میں رہنے کے بعد آخر میں 49 پوائنٹس نیچے بند ہوا سینسیکس 88 پوائنٹس گر کر 72,441.15 پوائنٹس پر کھلا، لیکن کچھ ہی دیر میں سبز نشان میں پہنچ گیا۔ تاہم آخری گھنٹے میں ہوئی فروخت سے یہ 48.78 پوائنٹس (0.07 فیصد) کے نقصان کے ساتھ 72,480.29 پوائنٹس پر بند ہوا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے نفٹی-50 انڈیکس میں سینسیکس کے مقابلے میں زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ یہ 95.75 پوائنٹس یعنی 0.42 فیصد نیچے 22,620.45 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ دونوں انڈیکس کا اس سال 30 مارچ کے بعد کی نچلی سطح ہے۔
وسیع تر بازار میں ملا جلا رخ رہا۔ نفٹی مڈ کیپ-50 انڈیکس 0.01 فیصد پھسل گیا۔ اسمال کیپ-100 انڈیکس 0.27 فیصد کی برتری میں رہا۔ سیکٹر پر مبنی انڈیکسوں میں نفٹی ہیلتھ 2.57 فیصد، نفٹی فارما 1.84 فیصد اور نفٹی میٹل 1.50 فیصد ٹوٹ گیا۔ پائیدار صارف مصنوعات کے گروپ میں 1.35 فیصد اور ایف ایم سی جی میں 0.63 فیصد کی گراوٹ رہی۔
میڈیا گروپ کا انڈیکس 2.74 فیصد، ریئلٹی گروپ کا 1.62 فیصد اور کیمیکل گروپ کا 1.19 فیصد چڑھا۔ بینکنگ، آئی ٹی اور آئل اینڈ گیس گروپ بھی سبز نشان میں رہے۔
سینسیکس میں ایٹرنل کا شیئر سب سے زیادہ سوا دو فیصد ٹوٹا۔ سن فارما اور ٹائٹن میں دو فیصد سے زیادہ کی گراوٹ رہی۔ اڈانی پورٹس، ٹاٹا اسٹیل، ایچ ڈی ایف سی بینک، بجاج فائنینس، انفوسس اور بھارتی ایئرٹیل کے شیئرز ایک سے دو فیصد تک پھسل گئے۔ ٹرینٹ، بجاج فن سروس، این ٹی پی سی، آئی ٹی سی اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا بھی نقصان میں رہے۔
کوٹک مہندرا بینک کا شیئر پونے تین فیصد اوپر رہا۔ آئی سی آئی سی آئی بینک اور انڈیگو میں بھی دو فیصد سے زیادہ کی تیزی رہی۔ ایکسس بینک اور الٹرا ٹیک سیمنٹ کے شیئرز ایک سے ڈیڑھ فیصد کی برتری میں رہے۔ ٹیک مہندرا، ہندوستان یونیلیور، بی ای ایل، ٹی سی ایس، ماروتی سوزوکی، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز بھی سبز نشان میں رہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
قابلِ تجدید توانائی کے لیے بنے گا خصوصی گرڈ، 1.86 لاکھ کروڑ کی پی ایم دھارا اسکیم منظور
نئی دہلی، حکومت نے شمسی اورہواسے پیداہونےوالی توانائی (ونڈ انرجی) کے منصوبوں کی بجلی کے نکاس اور ٹرانسمیشن لائنوں میں وولٹیج کے اتار چڑھاؤ کے مسئلے کو دیکھتے ہوئے اس کے لیے خصوصی گرڈ بنانے کی 1,86,405 کروڑ روپے کی پی ایم دھارا اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی صدارت میں یہاں بدھ کے روز ہوئی میٹنگ میں اس سے متعلق تجویز کو منظوری دی گئی۔ میٹنگ کے بعد اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ قدرتی طور پر شمسی اورہواسے پیداہونےوای توانائی کے منصوبوں کی لائنوں میں وولٹیج میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے خصوصی قسم کے گرڈ ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے گرین انرجی راہداری کے تیسرے مرحلے کی 1,86,405 کروڑ روپے کی اسکیم منظور کی گئی ہے۔ اس سے راجستھان اور لداخ جیسے اہم قابلِ تجدید توانائی کے پیداواری علاقوں کے منصوبوں سے بجلی کے نکاس کا نظام مضبوط ہوگا۔ ریاستوں کے درمیان ٹرانسمیشن کے نظام کو مضبوط بنایا جائے گا تاکہ ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 135 گیگا واٹ تک کی قابلِ تجدید توانائی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا جا سکے۔
اسکیم میں گرڈ میں لچک برقرار رکھنے کے لیے سبز توانائی جہاں بن رہی ہے اس کے قریب یا کسی دوسرے اہم مقام پر 50 گیگا واٹ آور کا بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) لگانے کا التزام بھی ہے۔ اس سے توانائی کی سپلائی میں اتار چڑھاؤ، پیک آور میں بجلی کی کٹوتی اور جب دھوپ نہیں ہوتی ہے اس وقت کی مانگ پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ اس کی 1.86 لاکھ کروڑ روپے کی کل تخمینہ شدہ لاگت میں بین ریاستی ٹرانسمیشن سسٹم کی ترقی کے لیے 1,36,378 کروڑ روپے اور 50 گیگا واٹ آور کے بی ای ایس ایس کے لیے 50,000 کروڑ روپے شامل ہیں۔
مرکزی حکومت اس اسکیم کے لیے 54,082 کروڑ روپے کی مالی امداد دے گی۔ مرکزی مالی امداد سے بین ریاستی ٹرانسمیشن چارجز کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور اس طرح بجلی کی لاگت کم رہے گی۔
سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اسکیم کے جزو کے تحت تمام نئے منصوبوں کو ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ پرانے منصوبوں کی جدید کاری اور نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے کام ‘کاسٹ پلس بیسس’ کے تحت کیے جائیں گے۔
اسکیم کے لیے ریاستی ٹرانسمیشن یوٹیلیٹیز بنیادی عمل درآمد کرنے والی ایجنسی ہوں گی۔ یہ اسکیم سال 2035 تک 900 گیگا واٹ کی غیررکازی صلاحیت حاصل کرنے کے ہدف کو پورا کرنے میں مدد کرے گی۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا6 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا6 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
