ہندوستان
کھرگے نے گیانیش کے استعفیٰ، ایس آئی آر کی منسوخی، بیلٹ پیپر سے انتخابات کا مطالبہ دہرایا
نئی دہلی، کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ کانگریس کے تین مطالبات لازمی طور پر پورے کیے جانا ضروری ہیں، جن میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ، ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کی منسوخی اور بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانا شامل ہیں۔
مسٹر کھرگے نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ ملک بھر میں کانگریس کے کارکنان اور اپوزیشن جماعتوں کے ‘انڈیا’ اتحاد کے لوگ ان تینوں معاملے پر سڑکوں پر ہیں۔ ان معاملات پر ملک میں جگہ جگہ جدوجہد کرنے والے سول سوسائٹی کے اراکین اور نوجوان تنظیموں کے ساتھ کانگریس کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دہلی میں خاتون صحافیوں کو ہراساں کیا، جو کہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، “تانا شاہ بہت گھبرایا ہوا ہے، توجہ ہٹانے کے لیے ایک اور باب کے لیے تیار رہیے۔”
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
سی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
نئی دہلی، سپریم کورٹ پیر کے روز اس درخواست پر سماعت کے لیے رضامند ہو گئی، جس میں دہلی پولیس کو قومی دارالحکومت کے جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کرنے کی اجازت دینے کی ہدایت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ مطالبہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان کیا گیا ہے۔ درخواست کا ذکر چیف جسٹس سوریا کاَنت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے کیا گیا۔ درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا کہ دہلی پولیس شہر میں پرامن مظاہروں کی اجازت نہیں دے رہی ہے، جن میں طلباء، شہریوں، رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مظاہرے شامل ہیں۔
سی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے درمیان دائر اس درخواست میں دہلی پولیس کو پرامن مظاہروں کی اجازت دینے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس سوریا کاَنت نے وکیل سے یہ واضح کرنے کو کہا کہ وہ کیا راحت مانگ رہے ہیں اور کیا یہ ایک مفاد عامہ کی عرضی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت یہ دیکھے گی کہ آیا ایسی ہی دیگر درخواستیں زیرِ التوا ہیں یا نہیں، اور معاملے کو سماعت کے لیے فہرست بند کرنے پر اتفاق ظاہر کیا۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
راہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کو خط لکھ کر زمرہ-2 اور زمرہ-3 اساتذہ کی بھرتی میں آسامیوں کی تعداد بڑھانے اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ جلد شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے 29 ستمبر کو مسٹر یادو کو تحریر کردہ خط پیر کو جاری کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ اندور میں ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام کے دوران اساتذہ کے امیدواروں نے زمرہ-2 اور زمرہ-3 کی بھرتی میں آسامیوں میں اضافے کا معاملہ اٹھایا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ مدھیہ پردیش کے سرکاری اسکولوں میں پہلے ہی ایک لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں، جس کا براہ راست اثر بچوں کی تعلیم پر پڑ رہا ہے۔ اس کے باوجود اساتذہ کی بھرتی-2025 میں زمرہ-3 کی صرف 13089 اور زمرہ-2 کی صرف 10800 آسامیوں پر بھرتی نکالی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوان امیدواروں کا مطالبہ ہے کہ اساتذہ کی بھرتی میں آسامیوں کی تعداد بڑھائی جائے، تاکہ بچوں کو بہتر تعلیم حاصل ہوسکے اور ہزاروں نوجوانوں کو مستقل ملازمت مل سکے۔ کئی امیدواروں نے امتحان میں اچھے نمبر حاصل کیے ہیں اور کئی مہمان اساتذہ کے طور پر پڑھا رہے ہیں، لیکن محدود آسامیوں کی وجہ سے وہ مستقل ملازمت سے محروم ہیں اور انتظار کرتے کرتے کئی امیدوار عمر کی حد کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنی بات حکومت تک پہنچانے کے لیے اساتذہ کے امیدوار احتجاج اور بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں، لیکن ان کی بات سننے کے بجائے حکومت انہیں نوٹس بھیج کر ڈرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سے درخواست کی کہ احتجاج کرنے والے امیدواروں کو بھیجے گئے نوٹس فوری طور پر واپس لیے جائیں اور ان کے نمائندوں سے ملاقات کرکے ان کی بات سنی جائے۔ انہوں نے زمرہ-2 اور زمرہ-3 اساتذہ کی بھرتی میں آسامیوں میں اضافہ کرنے اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ جلد شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
مودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت ’غیر قانونی‘ انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، اس لیے اسے برطرف کرکے ملک میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
مسٹر کھڑگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے جمہوریت کو برباد کر دیا ہے۔ ملک میں انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور تمام انتخابات غیر قانونی ہیں، لہٰذا ایسے انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی حکومتیں اور ان کے وزرا بھی غیر قانونی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ملک میں ’غیر قانونی انتخابات‘ ہو رہے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی ’غیر قانونی وزیر اعظم‘ اور امیت شاہ ’غیر قانونی وزیر داخلہ‘ ہیں۔ حکومتوں کو برطرف کیا جانا چاہیے اور انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جانے چاہئیں۔‘‘
کانگریس صدر نے کہا کہ ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی وجہ سے پورا انتخابی عمل برباد ہو گیا ہے۔ جمہوریت میں جاری اس غیر قانونی عمل کے پیش نظر ہی انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ بلائی گئی تھی، جس میں 20 جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ قانونی ماہر کپل سبل کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں سبھی نے تسلیم کیا کہ ایس آئی آر غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے غریب، پسماندہ اور خاص طور پر اقلیتی طبقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ ووٹ کاٹنے کا کام بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ کر رہے ہیں۔ ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کو غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایک ایک بوتھ سے 500-500 افراد کے نام بھی حذف کر دیے جائیں تو اس سے بہت بڑا فرق پڑتا ہے۔ اب ان ناموں کو دوبارہ شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ اپنے لوگوں کے نام ووٹر فہرست میں برقرار رکھ رہے ہیں، جبکہ غریبوں کو اپنے نام شامل کرانے کے لیے وقت اور پیسہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت غیر قانونی انتخابات کرانے پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے انتخابی عمل پر قبضہ کرنے کے لیے وزیر اعظم ایسا قانون لائے ہیں جو ملک کی جمہوریت کو برباد کرنے والا ہے۔ اس قانون کو لانے سے پہلے الیکشن کمیشن کی تقرری کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی۔ اس عمل میں وزیر اعظم، اپوزیشن کے رہنما اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوتے تھے اور وہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے عمل میں شریک رہتے تھے۔ مودی حکومت نے اس طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے کمیٹی سے چیف جسٹس کو ہٹا کر ایک وزیر کو شامل کر دیا ہے۔ مودی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے لیے نیا طریقہ کار وضع کیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر غلط کام بھی کرتے ہیں تو انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور جب تک وہ زندہ ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس انتظام کی وجہ سے من مانی ہو رہی ہے اور دو دیگر الیکشن کمشنروں کی جانب سے اعتراض درج کرائے جانے کے باوجود ان کی بات نہیں سنی جا رہی ہے۔ ایک اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد کانگریس نے اس معاملے کو اٹھایا، جس کے بعد ماحول بنا اور اب پورے ملک میں احتجاجی تحریکیں چل رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا7 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا6 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoمودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا6 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
دنیا7 days agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
دنیا6 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
دنیا1 week agoپزشکیان کا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے پر آمادگی کا اعلان
