دنیا
سعودی عرب کے کویت، قطر اور مصر کے ساتھ توانائی تعاون کے معاہدے
ریاض، سعودی عرب نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے کویت، قطر اور مصر کے ساتھ تین مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں میں بجلی، تیل و گیس، قابل تجدید توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کویت کے وزیر بجلی، پانی اور قابل تجدید توانائی صبیح عبدالعزیز عبدالمحسن المخیزیم، قطر کے وزیر مملکت برائے توانائی امور سعد بن شریدہ الکعبی اور مصر کے وزیر پٹرولیم و معدنی وسائل کریم بدوی کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے۔
ان معاہدوں کے تحت ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، توانائی کے ذخیرے، سپلائی چین اور مشترکہ منصوبوں کی ترقی میں تعاون کیا جائے گا۔
کویت کے ساتھ مفاہمت نامے میں بجلی کی پیداوار اور برآمد، قابل تجدید توانائی، بجلی کے باہمی رابطوں، توانائی کی کارکردگی، ذخیرہ کرنے کے نظام اور اسمارٹ گرڈ کی ترقی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل تبدیلی، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، اختراع، مقامی صنعتوں کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے والی ٹیکنالوجی میں بھی تعاون کیا جائے گا۔
قطر کے ساتھ معاہدے میں تیل و گیس، ریفائننگ، پیٹروکیمیکل، بجلی، صاف ہائیڈروجن اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک تیل و گیس کی برآمد کے لیے پائپ لائنوں کی تعمیر کے مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا بھی جائزہ لیں گے۔ اس کے علاوہ تعمیرات اور دیگر صنعتوں میں پائیدار پیٹروکیمیکل مصنوعات کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت توانائی کی منتقلی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی امور پر بھی تال میل قائم کیا جائے گا۔ اس میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی اور پیرس معاہدے کے تحت مذاکرات کے علاوہ پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے کی تشکیل کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
مصر کے ساتھ مفاہمت نامہ خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس پر مرکوز ہے، جس میں تجارت، نقل و حمل، ذخیرہ، تقسیم اور رسد کے امور شامل ہیں۔ اس کا مقصد تجارتی بنیادوں پر اور دونوں ممالک کے قوانین کے مطابق توانائی کی منڈیوں کے انضمام کو بہتر بنانا، سپلائی چین کو مضبوط کرنا اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
سعودی عرب مصر میں ایندھن کے اسٹیشنوں کو جدید بنانے اور ان کے انتظام و آپریشن سے متعلق اپنا تجربہ بھی فراہم کرے گا۔ دونوں ممالک مصر میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دینے اور پیٹروکیمیکل صنعت کے ساتھ موجودہ اور منصوبہ بند منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات کا جائزہ بھی لیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک: حقوق انسانی کی تنظیم
خرطوم، سوڈان اور مصر کی متنازع سرحد کے قریب سونے کی ایک کان پر فضائی حملے میں کم از کم 72 کان کن ہلاک ہوگئے۔ سوڈان میں جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے والی تنظیم ‘ایمرجنسی لائرز’ نے یہ اطلاع دیتے ہوئے حملے کا الزام مصری فوج پر عائد کیا ہے۔
خرطوم میں قائم تنظیم نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مصری لڑاکا طیاروں نے سوڈان کے شمالی علاقے وادی میں شہری کان کنوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 72 شہری ہلاک ہوگئے۔
ہفتے کو ہونے والے اس مبینہ حملے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور مصر نے اس پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس سال جبل العقیادات کے پہاڑی سرحدی علاقے میں یہ دوسرا حملہ ہے۔ یہ علاقہ سونے کی کان کنی کے لیے مشہور ہے۔ جون میں بھی اسی مقام پر اسی نوعیت کے حملے میں 23 کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔ ان حملوں کا الزام بھی مبینہ طور پر مصر پر عائد کیا گیا تھا۔
اس وقت مصری فوج نے کہا تھا کہ اس نے اپنی سرحدوں کے اندر غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔
سوڈان اور مصر کے درمیان سرحدی علاقے پر تنازع ہے اور دونوں ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال حلايب مثلث پر دعویٰ کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور مقامی حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے شیئر کی گئی ایسی تصاویر، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، میں ملبے کے درمیان درجنوں لاشیں اور کفن میں لپٹی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔ کان کنوں نے بھی علاقے میں فضائی حملے کی اطلاع دی ہے۔
اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری جنگ میں دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اس بحران نے بڑی تعداد میں لوگوں کو سونے کی خطرناک کان کنی کی جانب دھکیل دیا ہے، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی دونوں متحارب فریقوں کی جنگی سرگرمیوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
معدنی ذخائر سے مالا مال یہ دشوار گزار پہاڑی علاقہ سیکڑوں کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں متنازع حلايب مثلث بھی شامل ہے۔
ایمرجنسی لائرز نے کہا کہ حملہ سوڈانی حدود کے اندر ہوا۔ تنظیم کے مطابق، ”سونے اور معدنی وسائل سے مالا مال سرحدی علاقوں پر بار بار حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مصری حکام سوڈان کے قدرتی وسائل پر اپنا کنٹرول بڑھانا اور مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔”
تاہم، مصری فوج نے جون میں کہا تھا کہ اس کی کارروائی مصری سرزمین کے اندر کی گئی تھی۔ فوج کے مطابق، اس دوران 223 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 136 غیر ملکی شہری شامل تھے۔ اس نے علاقے میں ”غیر قانونی سونے کی کان کنی اور اسلحے کی اسمگلنگ” کے خلاف مہم چلانے کا اعلان بھی کیا تھا۔
سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کی حمایت کرنے کے باوجود مصر اپنی سرحد کے قریب جاری جنگ کو اپنی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ بحیرۂ احمر سے لیبیا تک پھیلی دونوں ممالک کی سرحد تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہے۔
دریائے نیل کے مشرق میں واقع اس سرحدی علاقے کو کئی برسوں سے سونے کی غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مصر ان سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جس میں بڑے پیمانے پر ملک بدری کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حوثی حملوں میں شدت، سعودی عرب کو دفاعی میزائلوں کی قلت کا سامنا
ریاض، یمن کے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان سعودی عرب کو میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے والے دفاعی میزائلوں کی مبینہ قلت کا سامنا ہے، جس سے اہم تنصیبات کے تحفظ اور مزید حملوں کو روکنے کی مملکت کی صلاحیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
‘وال اسٹریٹ جرنل’ کی رپورٹ کے مطابق، دفاعی میزائلوں کی قلت سعودی عرب کی حملوں کو روکنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے اور مملکت کو ستمبر کے وسط سے ہی اس بحران کا سامنا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے فرانس، برطانیہ، مصر اور پاکستان سمیت علاقائی اور مغربی اتحادیوں سے میزائل حملوں کے خلاف دفاع میں مدد طلب کی ہے۔
پیر کو سعودی عرب کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک تازہ حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں باغیوں کے زیر قبضہ ہوائی اڈے پر فضائی حملے کی اطلاع دی تھی۔
دفاعی میزائلوں کی قلت کا مسئلہ صرف سعودی عرب تک محدود نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران امریکہ کے پاس بھی میزائلوں کو روکنے والے دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار دفاعی نظام پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔
مسلسل حملوں نے سعودی فضائی دفاعی نظام کو دباؤ میں ڈال دیا ہے اور شہری تنصیبات و فضائی سفر کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ دفاعی میزائلوں کی مبینہ قلت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مملکت پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان میں 10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملہ بھی شامل ہے، جس میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں، کاروباری اداروں اور مسافروں کو سعودی ہوائی اڈوں پر پروازیں چلانے کے خلاف انتباہ دہرایا اور دعویٰ کیا کہ یہ ہوائی اڈے محفوظ نہیں ہیں۔
سریع نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا، ”ہم دنیا بھر کی تمام بین الاقوامی کمپنیوں، ماہرین، ملازمین، کارکنوں اور مسافروں کو دوبارہ خبردار کرتے ہیں کہ وہ سعودی ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں نہ چلائیں، کیونکہ یہ محفوظ نہیں ہیں۔ البتہ مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے ہوائی اڈے اور فضائی حدود اس سے مستثنیٰ ہیں۔”
حملوں میں تازہ شدت ایسے وقت آئی ہے جب سعودی عرب حوثیوں کے خلاف جنگ میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت بڑھا رہا ہے۔ ریاض نے گزشتہ ہفتے یمنی حکومتی فورسز کی مدد کے لیے بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا، تاہم حوثی باغیوں نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے اور سعودی سرزمین پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
ہوائی اڈے پر حملہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی سرزمین پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں شامل تھا، جس کے بعد مملکت کی قیادت پر جوابی کارروائی کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، سفارتی حل پر زور
ریاض/تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری پر زور دیا ہے۔ ایران نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز کی جانب سے سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
عباس عراقچی نے اتوار کو ٹیلی گرام پر ایک پیغام میں کہا کہ سیاسی حل کو نظرانداز کرکے فوجی طریقہ اختیار کرنے پر اصرار صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران سعودی عرب اور یمن کے درمیان بات چیت شروع کرانے اور سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
ریاض کے ہوائی اڈے پر حالیہ مہلک حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوگئے تھے۔ اس حملے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یمن میں امریکہ کے کردار پر نظرثانی کرنے کا عندیہ دیا اور ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے امکان پر غور کرنے کی بات کہی۔
یہ بیان جمعرات کو دیے گئے ان کے اس بیان سے مختلف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ہی ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے پر غور کرے گا۔
ایران اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اختلافات کے باوجود سفارتی تعلقات برقرار ہیں۔ دونوں ممالک کے سفارت خانے 2023 میں چین کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت دوبارہ کھولے گئے تھے۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان سات سال تک سفارتی تعلقات منقطع رہے تھے، جس کے دوران خطے میں پراکسی تنازعات کو ہوا ملی۔
فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے ریاض اور تہران کے تعلقات میں پھر سے کشیدگی آئی ہے۔ حملوں کے بعد ایران اور اس کے اتحادی گروپوں نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جن میں سعودی عرب کے تیل کے کنویں بھی شامل ہیں۔
مارچ 2026 میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے خبردار کیا تھا کہ سعودی عرب اور پڑوسی خلیجی ممالک پر حملوں کو مزید برداشت کرنے کی گنجائش محدود ہے۔ انہوں نے تہران پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے۔
یواین آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان7 days agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
دنیا5 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
پاکستان7 days agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
