ہندوستان
انڈیا اتحاد کا ‘ووٹ چوری’ کے خلاف زبردست مارچ، سپریم کورٹ میں عرضی داخل
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے ‘ووٹ چوری’ اور انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کو یہاں بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک زبردست مارچ نکالا اور شام کو عدالت عظمیٰ میں عرضی داخل کی۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد کہا کہ عرضی داخل کر دی گئی ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی وکیلوں کی ٹیم کے ساتھ مارچ میں شامل ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرانے پہنچے۔ ان کے ساتھ انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ اور سینئر رہنما بھی موجود تھے۔
کانگریس کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عرضی داخل کی ہے۔ عرضی میں راہل گاندھی سمیت 11 افراد کے نام شامل ہیں۔ حزب اختلاف کے اتحاد نے الیکشن کمیشن کے ساتھ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو بھی فریق بنایا ہے۔ عرضی میں الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ووٹر فہرست سے متعلق معاملات میں عدالتی مداخلت کرنے کے ساتھ ایس آئی آر سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی فائلیں، اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات اور دیگر دستاویزات عام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عرضی میں درخواست کی گئی ہے کہ کسی بھی ووٹر کا نام نوٹس دیے اور سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر فہرست سے نہ ہٹایا جائے، فہرست سے نکالے گئے ووٹروں کی بوتھ وار فہرست اور نام ہٹانے کی وجوہات شائع کی جائیں، ووٹر فہرست میں کی گئی تبدیلیوں کی آزادانہ جانچ کرائی جائے اور ایس آئی آر کے عمل پر روک لگائی جائے۔ انڈیا اتحاد کے مطالبات میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنا، ووٹر فہرست سے مبینہ طور پر غلط طریقے سے نکالے گئے ناموں کے معاملے میں سپریم کورٹ کی مداخلت اور انتخابی نظام میں شفافیت یقینی بنانا شامل ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ حق رائے دہی کے تحفظ اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ان معاملات میں عدالتی مداخلت ضروری ہے۔
انڈیا اتحاد چیف الیکشن کمشنر پر ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہا ہے۔ پیر کو نکالے گئے مارچ میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، کانگریس رہنما سچن پائلٹ، ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو، ہماچل پردیش حکومت کے وزیر وکرمادتیہ سنگھ، کانگریس رہنما اشوک گہلوت، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے، سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو، شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے ارکان پارلیمنٹ سنجے راوت اور اروند ساونت، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی رہنما مہوا ماجھی اور ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سمیت حزب اختلاف کی کئی جماعتوں کے رہنما شامل ہوئے۔
مارچ کے دوران حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے لگائے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ مارچ میں بڑی تعداد میں شریک مظاہرین نے ‘ووٹ چوروں’ سے اقتدار کی کرسی چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیوں سے اہل ووٹروں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس دوران سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ جمہوریت اسی وقت بچے گی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار سے ہٹایا جائے گا۔ بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما تیجسوی یادو نے کہا کہ ملک کے عوام انہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے حزب اختلاف کی تمام جماعتیں متحد ہوئی ہیں اور اب انہیں سزا دینے کا وقت آ گیا ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی نظام کے خلاف سب سے بڑی تحریک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ چیف الیکشن کمشنر کا استعمال ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حزب اختلاف کی لڑائی ہندوستان کے چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے خلاف نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی جمہوری اقدار اور اصولوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
ہندوستان
دہلی میں اب جنتر منتر پر نہیں ہوں گے دھرنے اور مظاہرے، تین نئے مقامات طے
نئی دہلی، 12 اکتوبر (یو این آئی) قومی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہروں کے لیے طویل عرصے سے استعمال ہونے والا جنتر منتر اب دھرنے اور مظاہروں کے لیے مقررہ مقام نہیں رہے گا۔
مرکزی وزارتِ داخلہ کی ایک کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر دہلی میں مظاہرین کے لیے تین نئے مقامات رام لیلا میدان، براڑی میدان اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی گراؤنڈ نشان زد کیے گئے ہیں۔
دہلی کے پولیس کمشنر انوراگ کمار کی جانب سے جاری کردہ مستقل حکم کے مطابق، جنتر منتر کو مظاہرے کے مقام کے طور پر اب ڈی-نوٹیفائی (منسوخ) کر دیا گیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ نے شہریوں کے احتجاج کے حق کے لیے موجودہ “مخصوص مقام” کی جگہ مناسب متبادل جگہ تلاش کرنے کی غرض سے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر رام لیلا میدان، براڑی گراؤنڈ اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی گراؤنڈ کو مظاہرے کا نیا مقام قرار دیا گیا ہے۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ان تینوں مقامات پر مظاہرے منعقد کرنے کے لیے تفصیلی اور ترمیم شدہ معیاری طریقہ کار الگ سے جاری کیا جائے گا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
گیانیش کو ہٹانے اور ایس آئی آر واپس لینے کے مطالبے پر ‘انڈیا’ اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ
نئی دہلی، ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں اور اراکینِ پارلیمنٹ نے ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی، ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) پر روک لگانے اور ‘ووٹ چوری’ کے الزامات کی تحقیقات کے مطالبات کے حق میں پیر کے روز یہاں بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک مارچ نکالا، جس میں بڑی تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی۔
اپوزیشن اتحاد ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست سے مبینہ طور پر غلط طریقے سے ہٹائے گئے ناموں کے معاملے میں مداخلت کرنے اور انتخابی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ حقِ رائے دہی کے تحفظ اور انتخابی عمل میں عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ان مسائل پر عدالتی مداخلت ضروری ہے۔
‘انڈیا’ اتحاد کے اس مارچ میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ اور کانگریس رہنما ڈی کے شیو کمار، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، کانگریس رہنما سچن پائلٹ، ہماچل پردیش حکومت کے وزیر وکرمادتیہ سنگھ، راشٹریہ جنتا دل کے تیجسوی یادو، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شراد پوار) کی سپریا سولے، کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو، شیو سینا (اودھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے اراکینِ پارلیمنٹ سنجے راؤت اور اروند ساونت، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی رہنما مہوا مانجھی نیز ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سمیت متعدد اپوزیشن رہنما شامل ہوئے۔
مارچ کے دوران اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے بازی کی اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے رہے۔ مظاہرین نے ‘ووٹ چوروں’ سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے اہل ووٹروں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی نظام کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی تحریک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ چیف الیکشن کمشنر کا استعمال ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کی لڑائی ہندوستان کے چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے خلاف نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر، وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی جمہوری اقدار اور اصولوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
حلقہ بندی تنازع پر کانگریس کا مودی حکومت پر پارلیمنٹ کے التوا میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام، کل جماعتی بات چیت کا مطالبہ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے پیر کے روز نریندر مودی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی مجوزہ حلقہ بندی قانون سازی کے لیے ضروری حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد پارلیمنٹ کے سیشن کو باقاعدہ طور پرملتوی کرنے میں تاخیر کر رہی ہے، جبکہ مان سون سیشن 13 اگست کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد سے 60 دنوں سے معطل نہیں کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں رمیش نے کہا کہ پارلیمانی اجلاس کے ملتوی ہونے اور اس کے باقاعدہ التوا کے درمیان کا وقفہ “بہت پہلے ہی تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے”، جو 2015 کے مان سون سیشن کے بعد کے 28 دن کے سابقہ ریکارڈ سے بھی آگے نکل گیا ہے۔
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ حکومت اپنے مجوزہ حلقہ بندی بلوں کے لیے لوک سبھا میں ضروری دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، نیز قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے کئی اتحادیوں کے تحفظات نے اس کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ اتحادی اب مجوزہ قانون سازی کی مخالفت میں زیادہ کھل کر بولنے لگے ہیں۔
رمیش نے اس پارلیمانی تعطل کو “گیانیش گیٹ” سے جوڑا، جو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم اور الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے کام کاج سے متعلق اس کے الزامات کا حوالہ ہے۔
رمیش نے کہا، “وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے ناپاک ارادے اپوزیشن کے اتحاد اور یکجہتی کی وجہ سے 17 اپریل کو لوک سبھا میں بری طرح ناکام ہو گئے تھے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کی سخت مزاحمت کی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اپوزیشن کی کچھ رکن جماعتوں کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے باوجود ان کا اتحاد برقرار رہا۔
کانگریس رہنما نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کوملتوی کرے اورحلقہ بندی پر ایک بامعنی کل جماعتی بات چیت کا آغاز کرے، جس میں انتخابی حلقوں کی ازسرنو حد بندی شامل ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ سیاسی نمائندگی پر دور رس اثرات مرتب کرنے والے اس عمل کو وسیع تر مشاورت اور جامع سیاسی تفہیم کے بغیر آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
حلقہ بندی تنازع حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک اہم تنازع بن کر ابھرا ہے، جس میں مجوزہ قانونی ڈھانچے، پارلیمانی نمائندگی کی تقسیم اور حلقوں کی حد بندی کے اثرات سے متعلق سوالات شامل ہیں۔ اس عمل کے لیے ضروری آئینی ترمیمات کو پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا ہوگی، جس کی وجہ سے سیاسی اتفاقِ رائے اور حکومت کی حمایت حاصل کرنے کی صلاحیت اس کے قانون سازی کے منصوبوں کے لیے انتہائی اہم ہو گئی ہے۔
تاہم، رمیش نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو پہلے الیکشن کمیشن اور انتخابی عمل کی ساکھ کے حوالے سے اپوزیشن کے خدشات کو دور کرنا چاہیے۔ کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ، ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو ملتوی کرنے اور انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
انتخابی نظام کو “بہت بری طرح متاثر” کرنے کا الزام لگاتے ہوئے، رمیش نے سوال اٹھایا کہ جن پر اپوزیشن کی جانب سے اسے کمزور کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، کیا ان سے خود اصلاحی کارروائی کی امید کی جا سکتی ہے۔ کانگریس نے الیکشن کمیشن کے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی اور متعلقہ فیصلوں پر بار بار تشویش ظاہر کی ہے، اور یہ دلیل دی ہے کہ عدم شفافیت اور مناسب تحفظات کی کمی کی وجہ سے اہل ووٹروں کو فہرستوں سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف الیکشن کمیشن اور حکومت کا موقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی آئینی عمل کا حصہ ہے جس کا مقصد درست ووٹر فہرستوں کو یقینی بنانا ہے۔ اپوزیشن نے اس عمل میں زیادہ شفافیت، تحفظ اور جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے۔
رمیش نے کانگریس کے اس موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا، “بالآخر آئین ہی غالب آئے گا اور عوام کا عزم فتح یاب ہوگا،” کہ حکومت کو مناسب مشاورت کے بغیر آگے بڑھنے کے بجائے اپوزیشن کے خدشات کا جواب دینا چاہیے۔
اس تازہ ترین بیان نے پارلیمانی طریقہ کار، حلقہ بندی اور انتخابی ساکھ کے مسائل کو ایک مشترکہ سیاسی تصادم میں بدل دیا ہے۔ جہاں کانگریس حلقوں کی ازسرنو حد بندی پر کل جماعتی بات چیت کا دباؤ ڈال رہی ہے، وہیں اس نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق اس کے مطالبات حکومت کے خلاف اس کی وسیع تر مہم کا مرکزی حصہ ہیں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
جموں و کشمیر1 week agoماضی کی حصولیابیوں سے استفادہ کرتے ہوئے پائیدار زراعت کے لیے اختراع کریں: لیفٹیننٹ گورنر کی نوجوانوں سے اپیل
-
دنیا1 week ago۔کیریبین سمندر میں امریکی فوج کا کشتی پر حملہ، منشیات اسمگلنگ کے 4 مبینہ ملزم ہلاک: کمانڈ
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان4 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
دنیا5 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
