تازہ ترین
جموں و کشمیر کے پونچھ میں آگ سے دکانیں اور مکانات جل کر خاکستر
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کی منڈی تحصیل کے لوران علاقے میں لگنے والی ہولناک آگ میں کم از کم تین مکانات اور تین دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں۔
جموں میں سرکاری ذرائع نے منگل کو بتایا کہ آدھی رات کے قریب لوران کے مین چوک کے پاس کھاراپ میں ہولناک آگ لگ گئی، جس کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “آگ میں کم از کم تین دکانیں اور تین مکانات جل کر خاکستر ہو گئے۔” فائر برگیڈ کی گاڑیاں اور پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور آگ پر قابو پا لیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آگ میں گھر کا سامان اور دکانوں کا مال جل کر تباہ ہو گیا۔ تاہم اس واقعے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
دوسروں کی قیمت پر نہیں، سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھتا ہے ہندستان: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو “پاور ٹو ایمپاور” کو ترقی کے تئیں ملک کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندستان دوسروں کی قیمت پر نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے پر یقین رکھتا ہے۔
مسٹر مودی نے یہاں ‘بلومبرگ نیو اکنامی فورم’ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “پاور ٹو ایمپاور” کا مطلب اس طاقت سے ہے جو نہ صرف اپنے لیے ہو، بلکہ جو اپنے ساتھ دوسروں کو بھی بااختیار بناتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات، ادائیگی کے نظام اور ٹیکنالوجی جیسی جن چیزوں نے کبھی دنیا کو جوڑا تھا، آج انہی کا استعمال ہتھیار کے طور پر کیا جا رہا ہے، اور انہیں دباؤ و دبدبے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 21ویں صدی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ہے۔ چاہے کورونا کے وقت ویکسین کی ضرورت ہو، ڈیجیٹل ادائیگی کے مضبوط ماڈل کی یا پھر صلاحیتوں کی، ضرورت کے وقت دنیا نے ہندستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، “جب بھی دنیا کو ایک مستحکم سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، ہندستان اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے۔ ہم دوسروں کی قیمت پر آگے نہیں بڑھتے، ہم دنیا کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔”
وزیر اعظم نے کہا کہ آج دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال اعتماد کا ہے – سپلائی چین جاری رہے گی یا نہیں، شراکت دار ملک ساتھ کھڑا رہے گا یا نہیں – اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ہندستان ایک نئے عزم کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں پہلے بھی کئی عالمی شراکت داریاں قائم کی گئیں جن کا مقصد صرف اپنے اپنے مفادات کا تحفظ تھا۔ دوسری طرف، ہندستان نے انٹرنیشنل سولر الائنس، بگ کیٹ الائنس اور کوئلیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر جیسے پلیٹ فارم دیے ہیں جن میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہندستان جوڑنے اور جڑنے پر زور دیتا ہے۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ اس کے باوجود ہندستان جو کچھ بھی کرتا ہے، اس کا کریڈٹ کبھی نہیں چاہتا۔ شاید پہلی بار کسی وزیر اعظم کی طرف سے “صفر” کے لیے رائلٹی کے ذکر کی مثال قائم کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “ہندستان جو کرتا ہے اس کا کریڈٹ کبھی نہیں چاہتا۔ ہندستان نے ‘صفر’ دیا لیکن کبھی اس کے لیے رائلٹی نہیں مانگتا۔”
ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ملک کی معیشت میں آنے والی مضبوطی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 12-13 سال پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے چار فیصد سے بھی زیادہ تھا۔ اب یہ گھٹ کر 0.61 فیصد رہ گیا ہے۔ ملک کے پاس 700 ارب ڈالر سے زیادہ کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ہیں اور بینکنگ کا نظام کافی مضبوط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ریٹنگ ایجنسیاں ہندستان کی سوورین ریٹنگ اپ گریڈ کر رہی ہیں۔
گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی)، دیوالیہ کوڈ اور لیبر کوڈ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریفارم ایکسپریس آج تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دنیا کے تمام ممالک کو مل کر چلنے، ایک آواز میں بولنے اور مل کر سوچنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
سنیل شرما کا عبداللہ خاندان پر ملک میں ‘سب سے بڑی انتخابی دھاندلی’ کا الزام
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما اور بی جے پی لیڈر سنیل شرما نے پیر کے روز عمر عبداللہ کے خاندان پر انتخابی بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ووٹ چوری کا سب سے بڑا الزام عبداللہ خاندان پر عائد ہوتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سابق ریاست میں 1987 کے متنازعہ اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات پر نیشنل کانفرنس کی قیادت کے موقف پر سوال اٹھایا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابات کی شفافیت اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے کام کاج کی حمایت میں دیے گئے اپنے سابقہ بیانات کی وضاحت کریں۔
مسٹر شرما نے کہا، ”اگر ملک میں انتخابی دھاندلی کا سب سے بڑا الزام کسی پر ہے تو وہ جموں و کشمیر میں 1987 کے انتخابات میں دھاندلی کا معاملہ ہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ اس انتخابی بدعنوانی کے بعد فاروق عبداللہ کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بعد کے انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھانے سے پہلے 1987 کے انتخابات سے متعلق الزامات کا جواب دینا چاہیے۔
مسٹر شرما نے الزام لگایا، ”کانگریس نے یہاں ووٹ چوری کیے ہیں۔ 1987 کے انتخابات انتخابی بدعنوانی کی ایسی مثال ہیں، جسے ملک اور دنیا بھر میں یاد کیا جاتا ہے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات صرف سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں ہوئے۔
انڈیا اتحاد کی ایک اہم جماعت نیشنل کانفرنس مسلسل بی جے پی پر انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کے الزامات لگاتی رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں حلقہ بندی کے عمل پر بھی تنقید کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ عمل بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے انجام دیا گیا تھا۔
جموں و کشمیر میں انتخابات سے متعلق عمر عبداللہ کے سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس کے رہنما نے پہلے ایک انتخاب کو منصفانہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ای وی ایم درست طریقے سے کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”آج اچانک ای وی ایم خراب کیسے ہو گئیں؟ اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا اپنا انتخاب بھی دھاندلی زدہ تھا؟ آپ کو اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ مجھے اس تضاد کی سمجھ نہیں آتی۔”
حزب اختلاف کے رہنما نے سابق ڈپٹی کمشنر خالق کے کردار کا بھی ذکر کیا اور الزام لگایا کہ جموں و کشمیر میں کون رکن اسمبلی بنے گا، اس کا فیصلہ کرنے میں ان کا کردار تھا۔
انڈیا اتحاد کے احتجاجی مظاہروں پر مسٹر شرما نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن انہیں عام لوگوں کے لیے پریشانی پیدا نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ضروری خدمات میں خلل ڈالنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ”آپ 2 سے 3 کروڑ لوگوں کو یرغمال نہیں بنا سکتے۔ لوگوں کو اسکول جانا ہے، مریضوں کو اسپتال پہنچنا ہے اور کاروبار بھی چلنے چاہئیں۔”
انہوں نے کہا کہ احتجاج مقررہ مقامات پر ہونا چاہیے۔ مسٹر شرما نے مشورہ دیا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں ٹریفک اور عوامی زندگی میں خلل ڈالنے کے بجائے اسٹیڈیم یا رام لیلا میدان میں مظاہرے منعقد کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”اگر آپ احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو کسی اسٹیڈیم یا رام لیلا میدان میں جائیں، 5 لاکھ یا 10 لاکھ لوگوں کو جمع کریں اور جتنا چاہیں احتجاج کریں۔”
مسٹر شرما نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے بارے میں بی جے پی کے موقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ اسے پورے ہندوستان میں نافذ کیا جانا چاہیے اور جموں و کشمیر ملک کا اٹوٹ حصہ ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
ہندوستان
انڈیا اتحاد کا ‘ووٹ چوری’ کے خلاف زبردست مارچ، سپریم کورٹ میں عرضی داخل
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے ‘ووٹ چوری’ اور انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کو یہاں بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک زبردست مارچ نکالا اور شام کو عدالت عظمیٰ میں عرضی داخل کی۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد کہا کہ عرضی داخل کر دی گئی ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی وکیلوں کی ٹیم کے ساتھ مارچ میں شامل ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرانے پہنچے۔ ان کے ساتھ انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ اور سینئر رہنما بھی موجود تھے۔
کانگریس کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عرضی داخل کی ہے۔ عرضی میں راہل گاندھی سمیت 11 افراد کے نام شامل ہیں۔ حزب اختلاف کے اتحاد نے الیکشن کمیشن کے ساتھ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو بھی فریق بنایا ہے۔ عرضی میں الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ووٹر فہرست سے متعلق معاملات میں عدالتی مداخلت کرنے کے ساتھ ایس آئی آر سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی فائلیں، اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات اور دیگر دستاویزات عام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عرضی میں درخواست کی گئی ہے کہ کسی بھی ووٹر کا نام نوٹس دیے اور سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر فہرست سے نہ ہٹایا جائے، فہرست سے نکالے گئے ووٹروں کی بوتھ وار فہرست اور نام ہٹانے کی وجوہات شائع کی جائیں، ووٹر فہرست میں کی گئی تبدیلیوں کی آزادانہ جانچ کرائی جائے اور ایس آئی آر کے عمل پر روک لگائی جائے۔ انڈیا اتحاد کے مطالبات میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنا، ووٹر فہرست سے مبینہ طور پر غلط طریقے سے نکالے گئے ناموں کے معاملے میں سپریم کورٹ کی مداخلت اور انتخابی نظام میں شفافیت یقینی بنانا شامل ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ حق رائے دہی کے تحفظ اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ان معاملات میں عدالتی مداخلت ضروری ہے۔
انڈیا اتحاد چیف الیکشن کمشنر پر ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہا ہے۔ پیر کو نکالے گئے مارچ میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، کانگریس رہنما سچن پائلٹ، ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو، ہماچل پردیش حکومت کے وزیر وکرمادتیہ سنگھ، کانگریس رہنما اشوک گہلوت، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے، سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو، شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے ارکان پارلیمنٹ سنجے راوت اور اروند ساونت، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی رہنما مہوا ماجھی اور ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سمیت حزب اختلاف کی کئی جماعتوں کے رہنما شامل ہوئے۔
مارچ کے دوران حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے لگائے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ مارچ میں بڑی تعداد میں شریک مظاہرین نے ‘ووٹ چوروں’ سے اقتدار کی کرسی چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیوں سے اہل ووٹروں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس دوران سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ جمہوریت اسی وقت بچے گی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار سے ہٹایا جائے گا۔ بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما تیجسوی یادو نے کہا کہ ملک کے عوام انہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے حزب اختلاف کی تمام جماعتیں متحد ہوئی ہیں اور اب انہیں سزا دینے کا وقت آ گیا ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی نظام کے خلاف سب سے بڑی تحریک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ چیف الیکشن کمشنر کا استعمال ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حزب اختلاف کی لڑائی ہندوستان کے چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے خلاف نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی جمہوری اقدار اور اصولوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
دنیا6 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
-
جموں و کشمیر6 days agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
ہندوستان7 days agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
