جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: پونچھ میں دہشت گردوں کا ٹھکانہ تباہ، اے کے 47 اور دستی بم برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے سوجیاں سیکٹر میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے منگل کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پتہ لگاکر وہاں سے اے کے 47 رائفل، گولہ بارود اور دستی بم برآمد کیے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر فوج، نیم فوجی دستوں اور جموں و کشمیر پولیس نے ایک قدرتی غار میں قائم دہشت گردوں کے ٹھکانے کا پتہ لگایا۔
ذرائع کے مطابق، منڈی کے سوجیاں سیکٹر میں ستاربن ڈھوک کے مچپتری علاقے میں تلاشی کے دوران سکیورٹی فورسز نے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
برآمد شدہ سامان میں ایک اے کے 47 رائفل، ایک میگزین، گولہ بارود کے 30 کارتوس اور چھ دستی بم شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ علاقے میں تلاشی مہم جاری ہے۔ بعد ازاں بم ناکارہ بنانے والی ٹیم نے دستی بموں کو اسی مقام پر دھماکے سے تباہ کردیا۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
وقف بورڈ کی جانب سے جمعہ کے خطبات کے لیے مشترکہ موضوعات کی تجویز پر این سی، پی ڈی پی اور ایم ایم یو کی تنقید
سری نگر، جموں و کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی مساجد اور زیارت گاہوں میں جمعہ کے خطبات کے لیے مشترکہ موضوعات متعین کرنے کی تجویز پر متحدہ مجلس علما (ایم ایم یو)، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے مذہبی خطابات کے موضوعات طے کرنے کے وقف بورڈ کے اختیار پر سوال اٹھائے ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے ریاستی ترجمان عمران ڈار نے کہا کہ اس اقدام سے بی جے پی کو کشمیر میں جمعہ کے خطبات کے مواد پر اثر انداز ہونے کا موقع ملے گا۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر وقف بورڈ کی سربراہی بی جے پی رہنما درخشاں اندرابی کر رہی ہیں۔
ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ”اب بی جے پی کشمیر کی مساجد میں جمعہ کے خطبات کا مسودہ تیار کرے گی۔ وہ طے کرے گی کہ ہمارے خطیب کن موضوعات پر بات کریں گے، انہیں کس انداز میں پیش کریں گے اور کن معاملات کو قالین کے نیچے چھپا دیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہاکہ ”مواد ان کا ہوگا، الفاظ ان کے ہوں گے اور مقصد بھی انہی کا ہوگا۔” ڈار نے کہا کہ وہ کوئی بنیاد پرست نہیں ہیں، لیکن اس اقدام کو قبول نہیں کرسکتے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ کشمیر کے میر واعظ عمر فاروق سمیت مذہبی رہنما اس فیصلے کی پوری قوت سے مخالفت کریں گے۔
پی ڈی پی کے رہنما اور رکن اسمبلی منتظر مہدی نے بھی اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ کی ذمہ داری مذہبی اداروں کا انتظام سنبھالنا ہے، نہ کہ مذہبی رہنماؤں کو یہ بتانا کہ انہیں کیا وعظ کرنا چاہیے۔
مہدی نے کہاکہ ”وقف کا کام انتظام و انصرام ہے، خطبات کے موضوعات مسلط کرنا نہیں۔ ائمہ اور خطیبوں کو اپنی برادریوں کی رہنمائی کے لیے کسی طے شدہ ایجنڈے کی ضرورت نہیں ہے۔”
جمعہ کے خطبات کے ذریعے ایک مخصوص بیانیہ مسلط کرنے کی مبینہ کوشش کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مہدی نے وقف بورڈ پر زور دیا کہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر توجہ دے اور مذہبی علما اور متحدہ مجلس علما کے کردار کا احترام کرے۔
انہوں نے کہا، ”اداروں کا انتظام سنبھالیے، مذہبی مباحثے اور خطابات کو کنٹرول نہ کیجیے۔”
جموں و کشمیر کی ممتاز مذہبی اور سماجی و مذہبی تنظیموں کی مشترکہ تنظیم متحدہ مجلس علما نے بھی اس تجویز پر سخت اعتراض کیا۔ تنظیم نے کہا کہ کوئی قانونی طور پر قائم ادارہ اس بات کا تعین یا ضابطہ بندی نہیں کرسکتا کہ مسجد کے منبر سے کیا وعظ کیا جائے۔
ایم ایم یو نے ایک بیان میں کہاکہ ”منبر ایک امانت ہے اور مذہبی رہنمائی علما، ائمہ اور تسلیم شدہ مذہبی اداروں کا دائرۂ کار ہے۔ اس کی بنیاد اسلامی علوم اور مختلف مکاتب فکر کی روایات پر قائم ہے۔”
تنظیم نے کہا کہ ریاست یا حکومت نماز کے دوران دیے جانے والے خطابات کے لیے موضوعات مقرر کرکے یا ان کا مسودہ تیار کرکے مذہبی مباحثے پر اختیار نہیں جتا سکتی۔
ایم ایم یو نے اس معاملے میں دو صورتوں کے درمیان فرق واضح کیا۔ ایک صورت یہ ہے کہ مذہبی علما سماجی مسائل پر توجہ دینے کے لیے رضاکارانہ طور پر مشترکہ خطبات پر اتفاق کریں، جبکہ دوسری صورت میں ریاست سے وابستہ کوئی انتظامی ادارہ مذہبی خطابات کے موضوعات یا ان کے لیے ہدایات مقرر کرے۔
تنظیم کے مطابق، دوسری صورت ”مذہبی دائرے میں ریاست کی جبری مداخلت” کے مترادف ہے اور مذہبی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے۔
ایم ایم یو نے وقف بورڈ پر زور دیا کہ وہ غیر ضروری تنازع پیدا کرنے کے بجائے وقف املاک کے انتظام، دیکھ بھال اور تحفظ تک اپنی سرگرمیاں محدود رکھے۔
واضح رہے کہ ایم ایم یو نے گزشتہ ہفتے الگ سے اعلان کیا تھا کہ سماجی مسائل پر توجہ دینے کے لیے اسی جمعہ سے مربوط خطبات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
ہفتے کے روز وقف بورڈ نے فیصلہ کیا تھا کہ ائمہ اور اسلامی علما پر مشتمل ایک بنیادی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو جمعہ اور دیگر مذہبی مواقع پر مساجد اور زیارت گاہوں میں دیے جانے والے خطبات کے لیے مشترکہ موضوعات کو حتمی شکل دے گی۔
وقف بورڈ کے مطابق، یہ فیصلہ ائمہ اور اسلامی علما کی تجاویز کے بعد منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور مصر سمیت کئی مسلم اکثریتی ممالک میں مرکزی سطح پر جمعہ کے خطبات کا نظام رائج ہے۔ ان ممالک میں مرکزی مذہبی حکام خطبات کے موضوعات یا مقررہ متن فراہم کرتے ہیں۔ عموماً اس کا مقصد مذہبی خطابات کو منظم کرنا اور سماجی و عوامی مسائل سے متعلق پیغامات کو فروغ دینا ہوتا ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
تازہ ترین
جموں و کشمیر کے پونچھ میں آگ سے دکانیں اور مکانات جل کر خاکستر
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کی منڈی تحصیل کے لوران علاقے میں لگنے والی ہولناک آگ میں کم از کم تین مکانات اور تین دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں۔
جموں میں سرکاری ذرائع نے منگل کو بتایا کہ آدھی رات کے قریب لوران کے مین چوک کے پاس کھاراپ میں ہولناک آگ لگ گئی، جس کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “آگ میں کم از کم تین دکانیں اور تین مکانات جل کر خاکستر ہو گئے۔” فائر برگیڈ کی گاڑیاں اور پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور آگ پر قابو پا لیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آگ میں گھر کا سامان اور دکانوں کا مال جل کر تباہ ہو گیا۔ تاہم اس واقعے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
سنیل شرما کا عبداللہ خاندان پر ملک میں ‘سب سے بڑی انتخابی دھاندلی’ کا الزام
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما اور بی جے پی لیڈر سنیل شرما نے پیر کے روز عمر عبداللہ کے خاندان پر انتخابی بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ووٹ چوری کا سب سے بڑا الزام عبداللہ خاندان پر عائد ہوتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سابق ریاست میں 1987 کے متنازعہ اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات پر نیشنل کانفرنس کی قیادت کے موقف پر سوال اٹھایا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابات کی شفافیت اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے کام کاج کی حمایت میں دیے گئے اپنے سابقہ بیانات کی وضاحت کریں۔
مسٹر شرما نے کہا، ”اگر ملک میں انتخابی دھاندلی کا سب سے بڑا الزام کسی پر ہے تو وہ جموں و کشمیر میں 1987 کے انتخابات میں دھاندلی کا معاملہ ہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ اس انتخابی بدعنوانی کے بعد فاروق عبداللہ کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بعد کے انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھانے سے پہلے 1987 کے انتخابات سے متعلق الزامات کا جواب دینا چاہیے۔
مسٹر شرما نے الزام لگایا، ”کانگریس نے یہاں ووٹ چوری کیے ہیں۔ 1987 کے انتخابات انتخابی بدعنوانی کی ایسی مثال ہیں، جسے ملک اور دنیا بھر میں یاد کیا جاتا ہے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات صرف سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں ہوئے۔
انڈیا اتحاد کی ایک اہم جماعت نیشنل کانفرنس مسلسل بی جے پی پر انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کے الزامات لگاتی رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں حلقہ بندی کے عمل پر بھی تنقید کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ عمل بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے انجام دیا گیا تھا۔
جموں و کشمیر میں انتخابات سے متعلق عمر عبداللہ کے سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس کے رہنما نے پہلے ایک انتخاب کو منصفانہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ای وی ایم درست طریقے سے کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”آج اچانک ای وی ایم خراب کیسے ہو گئیں؟ اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا اپنا انتخاب بھی دھاندلی زدہ تھا؟ آپ کو اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ مجھے اس تضاد کی سمجھ نہیں آتی۔”
حزب اختلاف کے رہنما نے سابق ڈپٹی کمشنر خالق کے کردار کا بھی ذکر کیا اور الزام لگایا کہ جموں و کشمیر میں کون رکن اسمبلی بنے گا، اس کا فیصلہ کرنے میں ان کا کردار تھا۔
انڈیا اتحاد کے احتجاجی مظاہروں پر مسٹر شرما نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن انہیں عام لوگوں کے لیے پریشانی پیدا نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ضروری خدمات میں خلل ڈالنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ”آپ 2 سے 3 کروڑ لوگوں کو یرغمال نہیں بنا سکتے۔ لوگوں کو اسکول جانا ہے، مریضوں کو اسپتال پہنچنا ہے اور کاروبار بھی چلنے چاہئیں۔”
انہوں نے کہا کہ احتجاج مقررہ مقامات پر ہونا چاہیے۔ مسٹر شرما نے مشورہ دیا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں ٹریفک اور عوامی زندگی میں خلل ڈالنے کے بجائے اسٹیڈیم یا رام لیلا میدان میں مظاہرے منعقد کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”اگر آپ احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو کسی اسٹیڈیم یا رام لیلا میدان میں جائیں، 5 لاکھ یا 10 لاکھ لوگوں کو جمع کریں اور جتنا چاہیں احتجاج کریں۔”
مسٹر شرما نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے بارے میں بی جے پی کے موقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ اسے پورے ہندوستان میں نافذ کیا جانا چاہیے اور جموں و کشمیر ملک کا اٹوٹ حصہ ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
-
جموں و کشمیر6 days agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
