دنیا
ایران کی برطانوی الزامات کی تردید، آر اے ایف فیئر فورڈ واقعے پر ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ
لندن، ایران نے منگل کو برطانیہ کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ امریکی فوج کے زیر استعمال برطانوی فضائی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ میں پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے پیچھے تہران کا ہاتھ تھا۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اس واقعے کے ایران میں منظم کیے جانے کا ”بہت زیادہ امکان” ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ہدایت تقریباً یقینی طور پر ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دی تھی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے برطانیہ کے الزامات کو ”بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”بہت زیادہ امکان” اور ”تقریباً یقینی” جیسی اصطلاحات مبہم ہیں اور ان کے حق میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، تہران نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرے۔
برنہم نے پیر کو ایوانِ نمائندگان میں کہا تھا کہ برطانیہ کے پاس 27 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ”مضبوط اشارے” موجود ہیں۔ اس واقعے کے بعد جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع فضائی اڈے پر سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا تھا اور امریکی بی ون بمبار طیاروں کو وہاں سے ہٹا لیا گیا تھا۔
برنہم نے کہا، ”ہماری جانچ کے مطابق اس واقعے کو ایران میں منظم کیے جانے کا بہت زیادہ امکان ہے اور تقریباً یقینی طور پر اس کی ہدایت ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دی تھی۔ ہم اپنی سرزمین پر ایسے خطرات برداشت نہیں کریں گے۔”
برطانوی حکومت نے اس واقعے پر ایران کے سفیر علی موسوی کو طلب کیا، جبکہ وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دو ایرانی شہریوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا۔ ان پر تہران کی جانب سے مخالفانہ سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
ملی بینڈ کے مطابق، پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندی اور کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہونے سے نااہل قرار دینا شامل ہے۔
برطانیہ نے جن دو افراد کے نام ظاہر کیے ہیں، ان میں روح اللہ بازغندی شامل ہیں، جنہیں برطانوی حکام نے آئی آر جی سی میں انسدادِ جاسوسی کارروائیوں کا سربراہ بتایا ہے۔ دوسرے شخص شہرام علی رضا تمرزادہ زکی ہیں، جن پر زندشتی جرائم پیشہ نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
برنہم نے کہا کہ برطانیہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور ان کی مالی معاونت کے ذرائع کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے گی۔
27 ستمبر کو آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پانچ برطانوی شہریوں کو دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں سخت شرائط کے تحت ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جبکہ چند روز بعد ایک اور گرفتاری عمل میں آئی۔
پولیس نے بتایا تھا کہ وہ کسی غیر ملکی ریاست کے ملوث ہونے کے امکان کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ اس سے قبل ایک مقامی کسان نے فضائی اڈے کے قریب چند افراد اور کئی سفید وینوں کی مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، تفتیش کاروں کو گاڑیوں میں پیٹرول سمیت آتش گیر مادے ملے تھے، تاہم دھماکہ خیز مواد سے متعلق مبینہ منصوبے کی حقیقت اور اس کی عملی حیثیت ابھی واضح نہیں تھی۔
اس واقعے کے بعد امریکی بی ون بمبار طیاروں کو آر اے ایف فیئر فورڈ سے ہٹا لیا گیا، جبکہ بی 52 بمبار طیارے فضائی اڈے پر موجود رہے۔
دریں اثنا، 29 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے ایران پر ان کے اور ان کے شراکت داروں کے خلاف پُرتشدد حملوں، مبینہ مہلک سازشوں، آتش زنی، تخریب کاری اور سائبر حملوں سمیت دیگر مخالفانہ سرگرمیوں کی مذمت کی۔ بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اسپین اور آئرلینڈ شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا اصرار، روس اور یوکرین کے درمیان توانائی سے متعلق جنگ بندی برقرار، کیف کا روسی حملوں کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں سے ”مضحکہ خیز جنگ” ختم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان پیر کو ایسے وقت سامنے آیا جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے اتوار کو جنگ بندی کا اعلان کیے جانے کے بعد سے روسی افواج نے یوکرین کی توانائی کی کم از کم چھ تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور زیلنسکی کے حوالے سے کہا، ”انہوں نے اتفاق کیا ہے۔ کیونکہ میں نے کہا تھا، ‘آپ اتفاق کرتے ہیں۔’ اسی لیے انہوں نے اتفاق کیا، کیونکہ میں نے کہا کہ وہ متفق ہیں۔”
روسی حملوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ”مجھے اس کا جائزہ لینا ہوگا اور دیکھنا ہوگا، کیونکہ دونوں جانب سے خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔”
امریکی صدر نے فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے سے شروع ہونے والی جنگ کو ”تباہ کن” قرار دیا۔ انہوں نے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے دعویٰ کیا کہ صرف رواں ماہ میں کم از کم 32 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا، ”میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ زیلنسکی اور پوتن کو مل کر اس مضحکہ خیز جنگ کو ختم کرنا ہوگا۔”
ٹرمپ نے اتوار کو توانائی سے متعلق جنگ بندی کا اعلان کرکے یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں کو اچانک حیران کر دیا تھا۔ یہ اعلان روسی ڈیزل پر امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی کے دو دن بعد سامنے آیا، جس پر یورپ اور یوکرین میں شدید ناراضی ظاہر کی گئی تھی۔
زیلنسکی نے کہا تھا کہ اس اقدام سے روسی معیشت کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مغربی ممالک کی برسوں کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا اور پوتن کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ارکانِ کانگریس نے بھی کہا ہے کہ روسی ڈیزل سے متعلق فیصلہ امریکی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔ متعدد ریپبلکن ارکان نے اعتراض کیا کہ یہ اقدام اس قانون کو کمزور کرتا ہے جس پر خود ٹرمپ نے دستخط کیے تھے اور جس کا مقصد ماسکو پر پابندیاں سخت کرنا تھا۔
زیلنسکی نے پیر کو کہا کہ یوکرین توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کی جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے اور اس نے رات کے دوران روسی آئل ریفائنریوں پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق، کیف اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ”ضمانتوں پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہے کہ ان پر بھروسا کیا جا سکے”۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ بات ”روز بروز واضح ہوتی جا رہی ہے” کہ ماسکو اس معاہدے کی پابندی نہیں کرے گا۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر لکھا، ”صرف آج روسیوں نے یوکرین میں توانائی کی چھ تنصیبات پر حملے کیے۔ ملک بھر میں 33 افراد زخمی ہوئے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب روس کو اپنی جنگی مشین کے لیے زیادہ آمدنی حاصل ہونے کے امکانات نظر آتے ہیں۔”
دوسری جانب، روس نے لڑائی روکنے کے کسی بھی اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے فوجی کارروائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
زیلنسکی کے بارے میں بات کرتے ہوئے لاوروف نے کہا، ”میرے خیال میں وہ کسی مہلت کے مستحق نہیں ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم دوبارہ یقین دہانیوں اور وعدوں پر بھروسا کریں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ روس یوکرین میں اپنی نام نہاد ”خصوصی فوجی کارروائی” کے مقاصد کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
دنیا
سعودی عرب کو میزائل حملوں کا نیا خطرہ، ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں توسیع
ریاض، سعودی عرب نے پیر کو کہا کہ یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کیے جانے کے بعد اس کی افواج مملکت کو نشانہ بنانے والے ممکنہ ڈرون اور کروز میزائل حملوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، ایک مہلک حملے میں پاکستانی شہری کی ہلاکت کے بعد ریاض کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی گئی ہے۔
ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری بنیادی ڈھانچے، بالخصوص ہوائی اڈوں کی سلامتی سے متعلق تشویش بڑھا دی ہے۔ میزائل اور ڈرون حملوں کے مسلسل خطرے سے سعودی فضائی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور خطے میں کشیدگی مزید پھیلنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے بتایا کہ اس نے سعودی عرب کی جانب آنے والے ڈرون اور کروز میزائلوں کے خطرات کا پتہ لگایا ہے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے پیر کی صبح ملک کے جنوب مغربی علاقے خمیس مشیط کی جانب یمن کی حوثی ملیشیا کے داغے گئے بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔
سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے بھی جنوب مغربی علاقے عسیر کے دارالحکومت ابہا پر ممکنہ حملے کے حوالے سے الرٹ جاری کیا، تاہم بعد میں اعلان کیا گیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
یہ واقعات سعودی سرزمین پر حوثیوں کے حملوں کے سلسلے کے دوران پیش آئے ہیں، جن میں اہم فضائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس صورت حال نے پڑوسی ملک یمن میں جاری تنازع کے درمیان سعودی عرب کے اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
سعودی عرب کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے پیر کو بتایا کہ ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی گئی ہے، تاکہ ہوائی اڈے کی تنصیبات کی حفاظتی جانچ مکمل کی جا سکے۔
ہوائی اڈہ ہفتے کے روز ایک مہلک واقعے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ شہری ہوا بازی کی جنرل اتھارٹی نے اتوار کو بتایا تھا کہ ایک نامعلوم پروازی شے ٹرمینل 4 سے ٹکرائی، جس سے آگ لگ گئی۔ اس واقعے میں ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 دیگر افراد زخمی ہو گئے تھے۔
زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ حکام نے نقصان کا جائزہ لینے اور متاثرہ تنصیبات کا معائنہ کرنے کا کام شروع کر دیا۔
پانچ دن کے اندر ریاض ہوائی اڈے پر حملے کا یہ چوتھا رپورٹ شدہ واقعہ تھا۔ اتحاد کی افواج نے ہوائی اڈے کے قریب ایک کروز میزائل کو روک کر تباہ کرنے کی اطلاع بھی دی، جس سے مملکت کے اہم فضائی مراکز کو لاحق مسلسل خطرے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ یمنی حوثی ملیشیا نے ہفتے کے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں دمام کے کنگ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو کی دو تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔
سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے تصدیق کی کہ اتوار کی شام دمام کے ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اتھارٹی کے مطابق، نقصان کا جائزہ لینے اور حفاظتی معائنے کا عمل جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ دوبارہ شروع ہونے پر 20 کھرب ڈالر کے امریکی ٹیکنالوجی اثاثے نشانہ بن سکتے ہیں: ایران
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کی تو مغربی ایشیا میں 20 کھرب ڈالر سے زیادہ مالیت کے امریکی روابط رکھنے والے ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے ہفتے کو پریس ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ تہران نے گزشتہ لڑائی کے دوران اپنی بعض فوجی صلاحیتوں کو استعمال نہیں کیا تھا اور جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں وہ نئی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا، ”اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض دنیا کے ہمارے اس حصے سے ہو کر گزرتی ہے۔”
رضائی نے امریکی روابط رکھنے والے علاقائی ٹیکنالوجی نیٹ ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے، لیکن اگر جنگ چھڑتی ہے تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر مقامات تباہ کر دیے جائیں گے۔”
رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں امریکہ کو بار بار ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور فوجی مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد واشنگٹن نے اقتصادی دباؤ کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق، اس محاذ آرائی کا خاتمہ کب ہوگا، اس کا فیصلہ امریکہ نہیں بلکہ ایران کرے گا۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 3 کروڑ سے زیادہ ایرانیوں نے امریکی جارحیت کی صورت میں ہتھیار اٹھانے کے لیے ”جاں فدا” (ایران کے لیے قربانی) مہم میں اپنا اندراج کرایا ہے۔
سفارتی کوششوں کے حوالے سے رضائی نے کہا کہ تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اپنے سابقہ طریقۂ کار پر واپس نہیں آئے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نے ایران پر حملے شروع کرنے سے پہلے مذاکرات کے تین دور ترک کر دیے تھے۔
انہوں نے کہا، ”یقیناً، ہم نے کبھی سفارت کاری ترک نہیں کی اور نہ ہی کبھی کریں گے، لیکن ہم نے اپنا طریقۂ کار تبدیل کر لیا ہے۔”
رضائی کے مطابق، ایران نے پاکستان، قطر اور عراق کے توسط سے امریکہ کو سات شرائط پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ان تجاویز کا جواب دیا ہے، لیکن تہران اسے ناکافی سمجھتا ہے اور بعض معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔
انہوں نے کہا، ”ہم امریکیوں کو جواب دینے کے مرحلے میں نہیں ہیں۔ انہوں نے ہمیں جواب دیا ہے، لیکن ہم اسے ناکافی سمجھتے ہیں۔” ان کے مطابق، مزید اقدامات سے پہلے واشنگٹن کو اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر رضائی نے کہا کہ ایران اس آبی گزرگاہ کے انتظام پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا اور اسے ایک اہم ”قومی اثاثہ” قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ”اب سے ہم آبنائے ہرمز کے انتظام پر اپنا کنٹرول برقرار رکھیں گے۔ خطے میں امن اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے یہ ہمارے انتظام میں رہے گی۔ ہم اس معاملے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
رضائی نے امریکہ کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں بحری آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں بہت کم ہے اور بعض جہاز اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے ذریعے سفر کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران ایرانی افواج عام طور پر ہر رات ایسی کارروائیوں میں ملوث پانچ یا چھ جہازوں کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
رضائی نے کہا کہ بحری آمدورفت پر پابندیوں سے تیل، گیس، ہیلیم اور کھادوں کی نقل و حمل متاثر ہوئی ہے، جس سے توانائی کی لاگت اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، ایران کے مجوزہ انتظامی نظام کے تحت سلامتی، بیمہ اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں اقتصادی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں اضافی فوجی صلاحیتیں استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ تہران نے 12 روزہ جنگ کے دوران جان بوجھ کر اپنی بعض صلاحیتیں استعمال نہیں کیں، جبکہ بعد میں ہونے والی اس کارروائی کے دوران زیادہ صلاحیتیں بروئے کار لایا گیا جسے انہوں نے 40 روزہ جارحیت قرار دیا۔
رضائی نے کہا، ”آج ہم جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں نئی صلاحیتیں متعارف کرانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔”
انہوں نے امریکی دباؤ کے سامنے ایران کے جھکنے کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محاذ آرائی کا نتیجہ ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے۔
انہوں نے کہا، ”ایرانی عوام ہتھیار نہیں ڈالتے۔ وہ دوسروں کو اپنے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرتے ہیں، لیکن خود کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔”
رضائی نے زور دیا کہ ایران اپنے مطالبات پورے ہونے اور حقوق تسلیم کیے جانے تک مزاحمت جاری رکھے گا۔ ان کے بقول، ”اس جنگ کا خاتمہ ایرانی قوم کے ہاتھ میں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جب تک واشنگٹن ایران کے حقوق تسلیم نہیں کرتا، ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور دفاع سے دست بردار نہیں ہوں گے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
دنیا5 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
دنیا6 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
-
جموں و کشمیر6 days agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
