دنیا
امریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
شکاگو، امریکہ کی ریاست الینوائے میں شکاگو کے مضافاتی علاقے میں پولیس نے ایک بڑے ہندو مندر کو نشانہ بنا کر اجتماعی فائرنگ کرنے کی سنگین سازش ناکام بنا دی ہے۔ اس سلسلے میں خود کو سفید فام نسل پرست بتانے والے 19 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کی رائفل عین وقت پر جام ہو جانے کے باعث ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔
یہ واقعہ اتوار کا ہے، جس کا انکشاف امریکی حکام نے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی دوپہر تقریباً 1 بج کر 54 منٹ پر کیا۔ ہندوستانی وقت کے مطابق یہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریباً 12 بج کر 24 منٹ کا وقت تھا۔
پالٹائن اور ماؤنٹ پراسپیکٹ پولیس محکموں نے ملزم الیگزینڈروس پاپوراکیس کو اتوار کے روز گرفتار کیا تھا۔ ملزم الینوائے کے پالٹائن علاقے میں واقع مشہور فاسٹ فوڈ چین ٹاکو بیل کے ایک آؤٹ لیٹ میں کام کرتا ہے۔
اس معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب ملزم کے ساتھیوں نے پولیس کو اس کی جانب سے بھیجے گئے مشتبہ پیغامات اور تصاویر کے بارے میں اطلاع دی۔ ملزم نے اپنے ساتھیوں کو آٹھ صفحات پر مشتمل ایک دستاویز بھیجی تھی، جس میں اس نے ہندوستانیوں، یہودیوں اور افریقی نژاد امریکیوں کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرنے کی سازش کا ذکر کیا تھا۔
کک کاؤنٹی کے اسٹیٹ اٹارنی کے دفتر کے مطابق، ملزم اپنے کام کی جگہ پر خود کو سفید فام نسل پرست بتاتا تھا اور ہندوستانیوں کو قتل کرنے کی باتیں کرتا تھا۔ اتوار کے روز اس نے اپنے ایک ساتھی کو فون کرکے بتایا کہ جائے وقوعہ پر اس کی رائفل جام ہوگئی تھی، جس کے باعث اسے وہاں سے فوری طور پر فرار ہونا پڑا۔
پولیس نے ملزم کے گھر کی تلاشی کے دوران بغیر سیریل نمبر والی اے آر طرز کی رائفل، گولیوں سے بھری میگزینیں، گیس کے کین اور نازی علامتوں سے متعلق اشیا برآمد کی ہیں۔ ملزم کے خلاف دہشت گردانہ دھمکیاں دینے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
تہران، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ‘زنگزور راہداری’ کے نام سے بھی معروف بین الاقوامی امن و خوشحالی کے لیے ٹرمپ روٹ (ٹی آر آئی پی پی) کے بارے میں کہا کہ ‘ہمیں اپنے خطے اور اردگرد میں کسی بھی امریکی موجودگی کے بارے میں تشویش لا حق ہے۔’
ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی خبر کے مطابق عباس عراقچی نے ‘ٹرمپ روٹ’ کے بارے میں ایک بیان دیا۔
عراقچی نے کہا، ‘ہم خطے اور اردگرد میں امریکی کسی بھی موجودگی کے بارے میں فکرمند ہیں اور اس معاملے میں حساس ہیں۔’
عراقچی نے کہا کہ اس معاملے پر وہ آرمینیا کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ آرمینیا ایران کی سکیورٹی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔
آذربائیجان کے صدر الہام علی یف اور آرمینیا کے وزیرِ اعظم پاشینیان کے درمیان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں 8 اگست کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والے سہہ فریقی سربراہی اجلاس میں ٹی آر آئی پی پی نافذ کیے جانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ جو آذربائیجان کے مرکزی علاقے اورناہچیوان خود مختار جمہوریہ کے درمیان بلا رکاوٹ رابطہ قائم کرتا ہے۔
زنگزور راہداری کے نام سے بھی موسوم اس منصوبے کے تحت ریلوے، سڑک، توانائی اور مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا ہدف بنایا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے پاس پیٹریاٹ میزائل ختم، ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
کیف/واشنگٹن، یوکرین کے پاس امریکہ کے تیار کردہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے، جس سے ملک روس کے بیلسٹک میزائل حملوں کے مقابلے میں مزید غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ یہ صورت حال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ صورت حال سے واقف ایک ذریعے نے یہ اطلاع دی۔
سی این این نے مذکورہ ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ میزائلوں کی قلت بدھ کی رات روس کے حملے کے دوران خاص طور پر نمایاں ہوئی، جب ضروری انٹرسیپٹر میزائل دستیاب نہ ہونے کے باعث روس کے داغے گئے بیشتر بیلسٹک میزائلوں کو روکا نہیں جا سکا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے کہا، ”گزشتہ حملے میں داغے گئے تقریباً تمام بیلسٹک میزائلوں کو انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کے باعث روکا نہیں جا سکا۔”
روسی حملوں میں کیف کے تین بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ خارکیف کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں چار افراد ہلاک اور کم از کم 25 زخمی ہو گئے۔ موسم سرما کی آمد کے پیش نظر ان حملوں نے یوکرین کے فضائی دفاع کو درپیش چیلنجوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
پیٹریاٹ دفاعی نظام ان چند ہتھیاروں میں شامل ہے جو روس کے بیلسٹک میزائلوں، بشمول اسکندر-ایم، کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، انٹرسیپٹر میزائل مہنگے ہیں اور عالمی سطح پر ان کی فراہمی محدود ہے، جس کے باعث کیف کے لیے اپنے ذخائر کو فوری طور پر دوبارہ بھرنا مشکل ہو رہا ہے۔
ان میزائلوں کی امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن تیار کرتی ہے۔ کمپنی نے جولائی میں کم لاگت والے پی اے سی-3 اے سی ای میزائل کا نیا ورژن متعارف کرایا تھا، جس کی ابتدائی پیداوار اگلے 36 ماہ کے اندر شروع ہونے کی توقع ہے۔ موجودہ پی اے سی-3 انٹرسیپٹر میزائلوں کی قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر فی میزائل ہے، جس سے روس کے مسلسل حملوں کے دوران فضائی دفاعی کارروائیوں کو برقرار رکھنے کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔
زیلنسکی مغربی اتحادیوں سے اضافی فضائی دفاعی نظام اور گولہ بارود فراہم کرنے کی بارہا اپیل کر چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما سے قبل یوکرین کے شہروں اور اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے زیادہ مضبوط دفاعی انتظامات ضروری ہیں۔
جمعہ کو ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کے ساتھ ملاقات کے دوران زیلنسکی نے روسی حملوں کے خلاف یوکرین کے دفاع کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، ”فضائی دفاع ہماری اولین ترجیح ہے، خصوصاً بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاع اور ان تمام وسائل کی فراہمی جو جیٹ انجن سے چلنے والے شاہد ڈرونوں کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔” روس ان ایرانی ساختہ حملہ آور ڈرونوں کا استعمال کرتا ہے۔
میزائلوں کی قلت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین کی فوجی حکمت عملی اور جنگ کے خاتمے کے امکانات کے معاملے پر ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کو نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے زیلنسکی کو ایسا شخص قرار دیا جس کے ساتھ امریکہ کے لیے معاملات طے کرنا مناسب نہیں اور کہا کہ انہیں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مقابلے میں یوکرینی صدر کے ساتھ مذاکرات کرنا زیادہ مشکل لگتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ”میرے خیال میں زیلنسکی کے ساتھ معاملات طے کرنا پوتن کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے۔”
ٹرمپ نے ماسکو کے ساتھ سمجھوتے کے لیے زیلنسکی کی آمادگی پر سوال اٹھائے ہیں اور کیف پر زور دیا ہے کہ وہ روسی تیل کی ریفائنریوں پر حملے روک دے۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حوثی حملوں کی مذمت پر سعودی عرب کا سلامتی کونسل سے اظہارِ تشکر
ریاض، سعودی عرب نے مملکت کے خلاف حوثی باغیوں کے حملوں، جن میں شہری تنصیبات، ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا اور بحیرۂ احمر و آبنائے باب المندب میں بحری جہازوں کو دھمکیاں دینا شامل ہے، کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے مذمت کا خیرمقدم کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ حوثیوں کو ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تعاون کی سلامتی کونسل کی اپیل کا خیرمقدم کرتی ہے۔
وزارت نے کہا، ”ہم شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کا مقابلہ کرنے میں سلامتی کونسل کی یکجہتی کو سراہتے ہیں۔”
سلامتی کونسل کے ارکان نے جمعرات کو سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی ”سخت ترین الفاظ میں” مذمت کی اور مملکت کے ”فطری حقِ دفاع” کی توثیق کی۔
کونسل کے صدارتی بیان میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 10 اور 11 اکتوبر کو ہونے والے مہلک حملوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا، جن میں بیان کے مطابق 14 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو بتایا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی یکم اکتوبر سے اب تک ہوائی اڈے پر 20 حملے کر چکے ہیں۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے مملکت کے دیگر ہوائی اڈوں اور سعودی آرامکو کی تنصیبات پر متعدد حملوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں شہری ہوابازی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔
سلامتی کونسل کا یہ بیان بڑھتے ہوئے بحران پر اس کے پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ صدارتی بیانات کے لیے کونسل کے تمام 15 ارکان کا اتفاقِ رائے ضروری ہوتا ہے اور انہیں عوامی اجلاس میں باضابطہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
سلامتی کونسل کے تازہ بیان میں 7 اگست اور 18 ستمبر کو جاری کیے گئے سابقہ بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں حوثیوں سے فوجی کشیدگی اور شہریوں و شہری تنصیبات پر حملے فوری طور پر روکنے کی اپیل کی گئی تھی۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
دنیا1 week agoروس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
-
دنیا1 week agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
ہندوستان6 days agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoفورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ڈوڈہ کے شخص کی لاش نیوزی لینڈ سے واپس لانے کی کوششیں جاری: جتیندرسنگھ
-
فن و ادب1 week agoنانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
-
جموں و کشمیر6 days agoسوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
-
دنیا1 week agoہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
-
دنیا1 week agoامریکی تجاویز پر غور کر رہے ہیں:ایران
