ہندوستان
گروپ ‘سی’ کے ریلوے ملازمین اب ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے تحت غیر کیڈر عہدوں پر نہیں لے سکیں گے ڈپوٹیشن
نئی دہلی، ریلوے کے تحت کام کرنے والے گروپ ‘سی’ کے ملازمین اب ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے تحت غیر کیڈر عہدوں پر ڈپوٹیشن نہیں لے سکیں گے۔
ریلوے بورڈ کے ڈائریکٹر فائنانس (اسٹیبلشمنٹ) منیش سہراوت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اس بات کی اطلاع متعلقہ یونٹوں کو دی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ریلوے بورڈ نے گروپ ‘سی’ کے ملازمین کے ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے تحت غیر کیڈر عہدوں پر ڈپوٹیشن لینے پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ پابندی ان کے پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (پی ایس یو)، خودمختار اداروں، آئینی اداروں، یونیورسٹیوں اور مقامی اداروں پر بھی لاگو ہوگی۔ 16 اکتوبر کو جاری کردہ آر بی ای نمبر 85/2026 کے ذریعے تمام زونل ریلوے اور پروڈکشن یونٹوں کو اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سرکلر میں کہا گیا ہے، “بورڈ (سی آر بی اور سی ای او) نے فیصلہ کیا ہے کہ گروپ ‘سی’ کے ریلوے ملازمین کو ریاستی حکومت یا مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی انتظامیہ کے تحت غیر کیڈر عہدوں پر ڈپوٹیشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس میں متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی انتظامیہ کے تحت پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز، خودمختار ادارے، آئینی ادارے، یونیورسٹیاں اور مقامی ادارے بھی شامل ہیں۔”
ریلوے بورڈ نے بتایا کہ یہ فیصلہ ڈیپارٹمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ کے 24 ستمبر 2024 کو جاری کردہ آفس میمورنڈم کے بعد کیا گیا ہے۔ اس میمورنڈم میں ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے تحت غیر کیڈر عہدوں پر گروپ ‘سی’ کے ریلوے ملازمین کی ڈپوٹیشن سے متعلق موضوع پر غور کیا گیا تھا۔
سرکلر میں ڈی او پی ٹی کی جانب سے 17 جون 2010 کو جاری کردہ ڈپوٹیشن سے متعلق جامع رہنما خطوط کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ریلوے بورڈ نے ان رہنما خطوط کو 28 جولائی 2010 کو اپنایا تھا، جن میں وقتا فوقتاً ترمیم کی گئی ہے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے، “تمام ریلوے یونٹ ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔” یہ پابندی خاص طور پر ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ اور ان کے تحت آنے والی مخصوص تنظیموں میں غیر کیڈر عہدوں پر ڈپوٹیشن پر لاگو ہوگی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سپریم کورٹ نے انٹرنیٹ تک رسائی کو بچوں سمیت سب کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے سی- سم کو ایڈریس کرنے کے لیے ڈیٹا بیس بنانے…
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے انٹرنیٹ تک رسائی اور اس کے استعمال کو بچوں سمیت ہر ایک کا بنیادی حق قرار دیا اور مرکزی حکومت کو ڈیجیٹل پلیٹ فارموٰں پر بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے مواد (سی- سم) کی شناخت اور اسے ہٹانے کے لیے ایک قومی ڈیٹا بیس بنانے کی ہدایت کی۔ جسٹس جے بی پارڈی والا اور کے ونود چندرن کی بنچ نے والدین کی رضامندی، رہنمائی اور نگرانی پر سخت زور دیتے ہوئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے “چائلڈ موڈ” متعارف کرانے کا مشورہ بھی دیا۔
عدالت نے کہا، “ہمیں یہ ماننے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ انٹرنیٹ تک رسائی اور استعمال کا حق آئین کے آرٹیکل 21 اور آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ ہمارے بچے چاہے ان کی عمر کچھ بھی ہو، ان کا بھی یہی حق ہے۔ انہیں اس حق سے مکمل طور پر انکار کرنا اتنا ہی غیر منطقی ہو گا جتنا کہ یہ کہنا کہ بچوں کو اس سے کم عمر کے بچوں کا تحفظ نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور ان کی آزادی ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہے۔”
عدالت نے یہ مشاہدات جسٹ رائٹس فار چلڈرن الائنس (جے آر سی اے) اور دیگر بمقابلہ ایس ہریش اور دیگر کی سماعت کے دوران کہے۔ جسٹ رائٹس فار چلڈرن، بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی سول سوسائٹی کی تنظیموں کا ہندوستان کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ جے آر سی اے بچوں کے جنسی استحصال، بچوں کی اسمگلنگ اور بچوں کی شادی سے نمٹنے کے لیے 300 سے زیادہ تنظیموں کے ساتھ کام کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ انٹرنیٹ ابھی تک بچوں کے لیے محفوظ جگہ نہیں ہے۔ تاہم، عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم چلانے والی کمپنیاں جو نقصان دہ مواد کی شناخت اور اسے ہٹانے میں ناکام رہتی ہیں، بچوں کو انٹرنیٹ سے دور رکھ کر سزا نہیں دی جا سکتی۔ ایسا کرنا اس مسئلے کا شکار کو مورد الزام ٹھہرانے کے مترادف ہوگا۔
عدالت نے سی سمز کی شناخت اور ہٹانے کے لیے قومی ہیش اور یو آر ایل انڈیکس ڈیٹا بیس کے قیام کی ہدایت کی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ڈیٹا بیس میں شامل کیے جانے سے پہلے کسی بھی مواد کو متعدد تصدیقات سے گزرنا چاہیے۔ حتمی تصدیق کم از کم تین تربیت یافتہ ماہرین کے ذریعہ کی جانی چاہئے جو آزادانہ طور پر اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا مواد C-SIM کے زمرے میں آتا ہے۔ ڈیٹا بیس میں ہر اندراج کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم آپریٹرز اپنی ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز پر موجود مواد سے مماثلت اور کسی بھی مماثل مواد کو ہٹانے کے لیے استعمال کریں گے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ڈیٹا بیس میں درج مواد سے مماثل دیگر مواد کی شناخت، تلاش اور ہٹانے کے لیے بھی اسی عمل کا استعمال کریں گے۔
اگر کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو ایسا مواد ملتا ہے جو ڈیٹا بیس میں کسی اندراج سے مماثل ہوتا ہے، یعنی C-SIM مواد جس کا ماخذ پہلے سے معلوم ہے، تو اسے فوری طور پر اسے غیر فعال کر دینا چاہیے اور مزید تصدیق کا انتظار کیے بغیر اسے ہٹا دینا چاہیے۔ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت ان رہنما خطوط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار میں وقتاً فوقتاً ترمیم کرے گی۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس مقصد کے لیے رہنما خطوط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار وضع کرے اور ساتھ ہی قانون میں ضروری ترامیم کرے۔
سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے “چائلڈ موڈ” متعارف کرانے کی تجویز کے بارے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ اس سے بچوں کے اکاؤنٹس کو بطور ڈیفالٹ پرائیویٹ رکھا جا سکتا ہے۔ نامعلوم بالغوں سے رابطے اور پیغام رسانی پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ مزید برآں، بچوں کو دکھائے جانے والے اشتہارات اور دیگر مواد کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے اقدامات چھوٹے بچوں کے لیے لاگو کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر نوعمروں سے پہلے، اور والدین کی رضامندی کی تصدیق کے لیے مناسب طریقے اختیار کیے جانے چاہیے۔
عدالت نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں، قومی اور ریاستی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال، اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ بچوں کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے طریقوں کی تعلیم دینے کے لیے اقدامات کریں۔ بچوں کو ان کی ذاتی معلومات اور رازداری کی آن لائن حفاظت کرنا سکھائی جانی چاہیے، اور انھیں استحصال کے لیے لالچ دینے، جنسی استحصال کے لیے بلیک میل کیے جانے، اور اس طرح کے دیگر استحصالی اور مکروہ طریقوں سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
سینئر وکیل ایچ ایس پھولکا نے اس کیس میں درخواست گزار کی نمائندگی کرتے ہوئےکہا کہ حکومت کے تعاون سے ہندوستان اب بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے دنیا کے مضبوط ترین فریم ورکس میں سے ایک بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “سپریم کورٹ نے ایک واضح اور عملی روڈ میپ فراہم کیا ہے۔ اس میں مواد کو فوری طور پر ہٹانا، دو گھنٹے کے اندر اس کی اطلاع پولیس کو دینا، شکایات کے لیے وقف افسران کی تقرری، اور شکایات درج کرنے کے لیے یکساں نظام کا نفاذ شامل ہے۔”
سپریم کورٹ کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایڈوکیٹ رچنا تیاگی نے جسٹ رائٹس فار چلڈرن الائنس کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا، “سپریم کورٹ نے اپنے 2024 کے فیصلے کو واضح الفاظ میں دہرایا ہے۔ کوئی بھی پلیٹ فارم چاہے کتنا ہی بڑا یا طاقتور ہو، جب بچوں کی حفاظت کی بات آتی ہے تو قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ صرف بچوں کے جنسی استحصال کی رپورٹ کے مواد کو ہٹانا پی ایس او ایکٹ کے تحت پولیس کے لیے کافی نہیں ہے۔ قانونی تحفظ کو خاموش رہنے کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔”
یو این آئی ایف اے۔ م الف
ہندوستان
سی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
نئی دہلی، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے کو ہفتے کی شام خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے کچھ شرائط پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
انہیں یہاں کناٹ پلیس میں منعقدہ ‘لہرا دو ترنگا’ مارچ کی کال کے دوران جمعہ کے روز انسدادی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس مارچ سے پہلے حراست میں لیے گئے مسٹر دپکے کے خلاف بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 126/170 کے تحت کارروائی شروع کی گئی تھی۔
مسٹر دپکے کے علاوہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نیہا بورا کو بھی ہفتے کے روزعلی الصبح رہا کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق محترمہ بورا کو دہلی پولیس ایکٹ کی دفعہ 65 کے تحت ضابطے کی کارروائی کے بعد رہا کیا گیا۔
اس سے قبل جمعہ کو سی جے پی نے دعویٰ کیا تھا کہ مسٹر دپکے کو کسی نامعلوم مقام پر لے جایا گیا تھا۔
تنظیم کے قومی آرگنائزنگ انچارج اجنکیہ شندے نے جمعہ کی دیر رات کہا تھا کہ انہیں حراست میں لیے جانے کے آٹھ گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی ان کے جائے وقوع کا علم نہیں تھا اور انہیں وکیل یا پارٹی ٹیم سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔
پولیس نے بتایا کہ امن و امان برقرار رکھنے اور ٹریفک کی ہموار نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے جمعہ کے روز تقریباً 150 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔
سی جے پی کے شریک-کنوینر سوربھ داس اور آشوتوش رانکا پہلے ہی سے پانچ دن کی عدالتی تحویل میں ہیں۔
مسٹر داس، مسٹر رانکا اور 12 دیگر افراد کو منگل (13 اکتوبر) کی صبح جنتر منتر کے بند گیٹ پر چڑھ کر احاطے میں داخل ہونے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ جنتر منتر کو حال ہی میں احتجاج کے لیے نامزد مقامات کی فہرست سے باہر کر دیا گیا تھا۔ بعد میں سی جے پی کے اجنکیہ شندے اور 11 دیگر افراد کو رہا کر دیا گیا تھا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مردم شماری کے شمار کنندگان کے دائرے میں توسیع آر ایس ایس والوں کے لیے روزگار کا پٹارہ کھولنا ہے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ مردم شماری 2027 کے درمیان شمار کنندگان کی اہلیت میں توسیع، بیلگام میں آر ایس ایس کا مردم شماری سے متعلق تربیتی کیمپ اور ڈیموگرافک یاآبادیاتی تبدیلیوں پر مرکزی حکومت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سرگرمیاں کئی سوالات کھڑے کرتی ہیں۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ آر ایس ایس نے بیلگام میں 10 سے 12 جولائی تک مردم شماری 2027 کےتعلق سے ایک تربیتی کیمپ منعقد کیا تھا۔ اس کے بعد مرکزی حکومت نے شمار کنندگان کے لیے اہلیت کا دائرہ بڑھایا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان واقعات کو الگ الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا اور الزام لگایا کہ اہلیت میں یہ توسیع آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستہ ہزاروں کارکنوں کے لیے روزگار کی فراہمی کی ایک مشق ہو سکتی ہے۔
مسٹر رمیش نے 26 مئی کو تشکیل دی گئی آبادیاتی تبدیلیوں پر اعلیٰ سطحی کمیٹی اور 14 اکتوبر کو اس کی جانب سے تجاویز طلب کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ان پیش رفت کا اثر مردم شماری کی غیر جانبدارانہ شفافیت پر پڑ سکتا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoسوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
-
دنیا1 week agoہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
-
جموں و کشمیر1 week agoسی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
-
ہندوستان1 week agoجنتر منتر پر احتجاج سے پہلے کیجریوال ، سنجے سنگھ سمیت کئی ‘عآپ’ رہنما حراست میں
-
جموں و کشمیر1 week agoدہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
-
دنیا6 days agoایران نے اپنی شرائط پر امریکہ کے ردعمل کو ‘ناکافی’ قرار دیا
-
ہندوستان1 week agoاتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
-
دنیا6 days ago‘توانائی جنگ بندی’: روسی تیل کے معاملے پر ٹرمپ کی متضاد پالیسی کے پیچھے کیا ہے
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کو ہٹانے اور ایس آئی آر واپس لینے کے مطالبے پر ‘انڈیا’ اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ
-
ہندوستان1 week agoمودی نے جمہوریت کو آمریت میں بدل دیا ہے: پرینکا
-
ہندوستان6 days agoہریانہ، دہلی اور پنجاب میں طوفان کی وارننگ، پہاڑی علاقوں میں بارش کے آثار
