دنیا
روسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے بات چیت کی، جس میں واشنگٹن اور کیف کے درمیان کشیدگی اور روس کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اتوار کو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہنے والی یہ گفتگو روسی ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کے ٹرمپ کے فیصلے کے بعد زیلنسکی اور اعلیٰ امریکی حکام کے درمیان پہلی بات چیت تھی۔ یہ فیصلہ تقریباً 10 روز قبل کیا گیا تھا، جس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔
زیلنسکی نے بتایا کہ بات چیت میں آئندہ چند دنوں کے دوران بالمشافہ ملاقات کے امکان پر بھی غور کیا گیا۔
ٹرمپ نے پابندیوں سے متعلق استثنا دینے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماسکو کے ساتھ مذاکرات کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ یہ پابندیاں مرحوم ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی حمایت سے نافذ کی گئی تھیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں امن کے لیے مذاکرات کر رہا ہوں اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتا جس سے نادانستہ طور پر روس مذاکرات کی میز سے دور چلا جائے۔”
امریکی صدر نے زیلنسکی پر روسی ڈیزل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے اور جنگ ختم کرنے کے لیے تیار نہ ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ تازہ سفارتی رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرینی فوج کے زیر استعمال اسٹارلنک اور اسٹارشیلڈ سیٹلائٹ خدمات پر پابندیوں کے معاملے پر بھی تنازع جاری ہے۔
زیلنسکی نے الزام لگایا ہے کہ ان پابندیوں کے پیچھے امریکی انتظامیہ کا ہاتھ ہے، جس سے یوکرین کی فوجی کارروائیاں متاثر ہوئیں۔
زیلنسکی نے اتوار کو امریکی ٹیلی ویژن چینل این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اس فیصلے میں وائٹ ہاؤس اور اسٹارلنک چلانے والی کمپنی اسپیس ایکس، دونوں کا کردار تھا۔ انہوں نے کہا، ”اگر صدر ٹرمپ کل، یا اس سے بھی بہتر آج، ذاتی طور پر اس فیصلے کو واپس لینے کا فیصلہ کرلیں تو خدمات فوری طور پر پہلے کی طرح کام کرنے لگیں گی۔”
زیلنسکی نے مزید کہا کہ یوکرینی حکام کا خیال ہے کہ یہ پابندیاں امریکی حکومت کی جانب سے بھیجے گئے ایک پیغام کے بعد عائد کی گئیں، تاہم انہیں معلوم نہیں کہ یہ پیغام کس نے جاری کیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ واشنگٹن کا اسٹارلنک پر عائد پابندیوں سے کوئی تعلق نہیں اور سروس بحال کردی گئی ہے، تاہم یوکرینی حکام نے اس دعوے سے اختلاف کیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج پرتشدد، میکرون کی پُرامن رہنے کی اپیل
پیرس، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بڑھتے ہوئے اخراجات، تعلیمی شعبے کے لیے فنڈز کی کمی اور عوامی خدمات کی ابتر ہوتی صورت حال کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے دوران ہنگامہ آرائی، لوٹ مار اور پرتشدد واقعات کے بعد عوام سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ایلیسی پیلس سے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے میکرون نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ صورت حال کو مزید خراب نہ کریں۔ انہوں نے کہا، ”ہم سب غصے اور شرمندگی کا احساس کرتے ہیں۔” صدر نے اس بات پر زور دیا کہ مظاہرین کے جائز مطالبات اور توڑ پھوڑ و لوٹ مار میں ملوث افراد کے درمیان فرق کیا جانا چاہیے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، ہفتے کے روز فرانس بھر میں 5 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد سڑکوں پر نکلے۔
بیشتر مقامات پر مظاہرے پُرامن رہے، تاہم رات ہوتے ہی کئی شہروں میں تشدد پھوٹ پڑا۔ اطلاعات کے مطابق، ہفتے کے آخر میں پولیس نے 2 ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا، جبکہ وزارت داخلہ کے حوالے سے گرفتاریوں کی تعداد تقریباً 2,400 بتائی گئی ہے۔
نقاب پوش گروہوں نے پیرس، مارسی، لیون اور لیموج میں دکانوں میں توڑ پھوڑ کی، گاڑیوں کو آگ لگائی اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ لیموج میں آتش زدگی کے نتیجے میں 143 سال پرانے سٹی ہال کا مینار منہدم ہو گیا۔ اتوار کو پیرس کے بعض علاقوں میں جھڑپوں کے دوران پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
میکرون نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ”کوئی بھی چیز” اس طرح کی تباہی کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ صدر نے عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ٹھوس اقدامات پر غور کرنے کی غرض سے رواں ہفتے اجلاس منعقد کرنے کا بھی وعدہ کیا۔
ان مظاہروں کا آغاز ستمبر میں پیرس کے مضافاتی علاقوں میں طلبہ اور اساتذہ کی ہڑتالوں سے ہوا تھا۔ مظاہرین اسکولوں میں عملے کی تعداد بڑھانے اور بہتر وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بعد ازاں، گنجائش سے زیادہ طلبہ والی جماعتوں، عملے کی کمی، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات سے متعلق خدشات کے باعث یہ تحریک ملک گیر شکل اختیار کر گئی۔
ایک ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد غصے میں مزید اضافہ ہوا، جس میں ایک پولیس اہلکار کو ایک لڑکی کی گردن پر ممنوعہ انداز میں گرفت بناتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس واقعے کے بعد پولیس کے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے الزامات سامنے آئے اور مظاہروں میں مزید افراد شریک ہو گئے۔
ان پرتشدد واقعات کے باعث میکرون حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا حکام مظاہروں کے پیمانے اور شدت کا بروقت اندازہ لگانے میں کامیاب رہے تھے۔ وزیر اعظم سیباستیاں لیکورنو سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے پیر کو کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلائیں گے۔
سیاسی رہنماؤں نے صورت حال پر مختلف ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لے پین نے بائیں بازو کی انتہا پسند قوتوں پر عوامی غصے سے فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا، جبکہ بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلانشوں نے طلبہ کے احتجاج کے حق کا دفاع کیا۔ مارسی کے حکام نے بھی مزید بدامنی کے خدشے کے پیش نظر اجتماعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ احتجاج پورے یورپ میں بڑھتے ہوئے اخراجات، رہائش کی قلت اور عوامی خدمات کے مسائل پر پائی جانے والی وسیع تر بے چینی کے درمیان ہو رہے ہیں۔ بیلجیم، پرتگال، اٹلی اور البانیہ میں بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں، جہاں معاشی اور سیاسی شکایات نے عوامی بے اطمینانی کو ہوا دی ہے۔
موجودہ صورت حال نے اس بارے میں تشویش پیدا کر دی ہے کہ آیا فرانسیسی حکومت مظاہروں کے پیچھے کارفرما بنیادی معاشی اور سماجی مسائل کا حل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں امن و امان بحال کرنے میں کامیاب ہو سکے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو معطل کیے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا۔ ان کا یہ بیان یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے روسی میزائل حملوں سے دفاع میں مدد دینے والی اہم انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی دوبارہ شروع کردی ہے۔
روبیو نے پیر کو ازبکستان کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”اس میں کوئی وقفہ نہیں آیا۔” انہوں نے کہا کہ زیلنسکی اور امریکہ کو اس بات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ جنگ کو کیسے ختم کیا جائے۔
یوکرین روس کی جانب سے اپنے شہروں پر داغے جانے والے تیز رفتار بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگانے کے لیے امریکی انٹیلی جنس معلومات پر انحصار کرتا رہا ہے، جو اسے اسٹارلنک سیٹلائٹ سروس کے فوجی مقاصد کے لیے تیار کردہ نظام اسٹارشیلڈ کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔
جب روبیو سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان چار سال سے زیادہ عرصے سے جاری یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے ممکنہ ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایسی ملاقات کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے، لیکن انہیں معلوم نہیں کہ اسے حتمی شکل دی گئی ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ واضح کرچکے ہیں کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
روبیو کے اس بیان سے قبل یوکرینی عہدیداروں نے کہا تھا کہ روس کے بعض حملے پیشگی انتباہ کے بغیر ہوئے۔ زیلنسکی نے اتوار کو امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک این بی سی کے پروگرام ”میٹ دی پریس” میں کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ متاثر ہوا تھا، لیکن بعد میں اس کی بحالی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کردی گئیں۔
انہوں نے کہا، ”ہم اس کے لیے بہت شکر گزار ہیں۔ اب یہ نظام کام کر رہا ہے۔”
زیلنسکی نے کہا کہ امریکہ کے دیگر اقدامات، جن میں روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے معاہدے پر دستخط اور روس پر ان پابندیوں میں نرمی شامل ہے جن کے اسی ہفتے نافذ ہونے کی توقع تھی، یوکرین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
انہوں نے کہا، ”اگر امریکہ باضابطہ طور پر روس کا ساتھ دینے لگے، اور اگر یہ دونوں ممالک ایک ساتھ ہوجائیں، تو ظاہر ہے کہ ہم کامیاب نہیں ہوسکیں گے اور اپنے موقف پر قائم رہنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہوگا۔”
ٹرمپ نے اتوار کو روس پر بعض پابندیوں میں نرمی کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے زیلنسکی پر جنگ ختم کرنے میں عدم دلچسپی کا الزام لگایا تھا۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ روس سے متعلق ان کا فیصلہ سادہ ہے۔ وہ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کر رہے ہیں اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے جس سے روس غیر دانشمندانہ طور پر مذاکرات کی میز سے دور ہوجائے۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں نرمی کا دفاع کیا، زیلنسکی پر سخت تنقید
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں چھوٹ دینے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ماسکو کو مذاکرات کی میز پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر یہ تبصرہ روس پر متعدد پابندیوں کے نفاذ کو روکنے کے اپنے فیصلے پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کیا۔ یہ پابندیاں نافذ ہونے سے محض چند روز قبل روکی گئی تھیں۔
ٹرمپ نے کہا، ”روس کے بارے میں میرا فیصلہ بالکل سادہ ہے۔ میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہا ہوں اور ایسی کوئی حماقت نہیں کرنا چاہتا جس سے روس مذاکرات کی میز سے دور ہو جائے۔”
اس فیصلے کے بعد گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے درمیان سفارتی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
زیلنسکی نے اتوار کو امریکی ٹیلی ویژن چینل این بی سی کے پروگرام ‘میٹ دی پریس’ میں کہا کہ روس پر پابندیوں میں نرمی یوکرین کو نقصان پہنچائے گی اور اس سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جنگی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا، ”میرا اور پوتن کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ جارح ہے۔ اس نے ہمارے علاقوں پر قبضہ کیا، اس کے فوجیوں نے بالغوں اور بچوں کو ہلاک کیا۔ وہ دہشت گرد ہے، اسی لیے مجھے امید ہے کہ صدر ٹرمپ اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کریں گے۔”
ٹرمپ نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ زیلنسکی اپنے ملک میں جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ کیف حکومت روس میں ڈیزل صاف کرنے والی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنا رہی ہے، حالانکہ اسے معلوم ہے کہ اس سے عالمی ڈیزل مارکیٹ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ٹرمپ نے لکھا، ”زیلنسکی کو کوئی پروا نہیں ہے۔ یورپ کی جانب سے انہیں جو بھاری مالی امداد دی جا رہی ہے، اس کے باوجود وہ یہ جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے اور غالباً وہ کبھی ایسا چاہتے بھی نہیں تھے۔”
ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو روس سے 3 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ڈیزل امریکی اور عالمی منڈیوں کو فراہم کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا، تاکہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پایا جا سکے۔ فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر دیا، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی مجموعی توانائی برآمدات کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔
روس کی توانائی کی برآمدات کو فروغ دینے کے ٹرمپ کے اقدام پر نہ صرف کیف بلکہ یورپی اتحادیوں اور متعدد امریکی حکام نے بھی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ماسکو کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ وہ یوکرین کے خلاف ساڑھے چار سال سے جاری جنگ میں مصروف ہے۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے بات چیت کی ہے۔ ان کے مطابق، دونوں ملکوں کی ٹیموں کے درمیان سفارتی کوششوں کے اگلے مراحل پر تقریباً مسلسل رابطہ جاری ہے۔
زیلنسکی نے لکھا، ”ہم اس عمل کو کامیاب بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ کا مؤقف مضبوط ہو اور امن کے قیام میں مدد ملے۔ ایسا امن جس کا گزشتہ ساڑھے چار برس سے روس کے سوا ہر کوئی منتظر ہے۔”
زیلنسکی کی وٹکوف اور کشنر سے بات چیت ایسے وقت ہوئی ہے جب روس اور یوکرین ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ روسی حملوں کے باعث ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہو گئے، جبکہ یوکرین نے جنگ شروع ہونے کے بعد روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ پر اپنا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایران نے اپنی شرائط پر امریکہ کے ردعمل کو ‘ناکافی’ قرار دیا
-
دنیا1 week ago‘توانائی جنگ بندی’: روسی تیل کے معاملے پر ٹرمپ کی متضاد پالیسی کے پیچھے کیا ہے
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، دہلی اور پنجاب میں طوفان کی وارننگ، پہاڑی علاقوں میں بارش کے آثار
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کو ہٹانے اور ایس آئی آر واپس لینے کے مطالبے پر ‘انڈیا’ اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ
-
ہندوستان1 week agoمودی نے راج ماتا سندھیا کو خراج عقیدت پیش کیا، ان کے ورثے کو وکست بھارت کے نقطہ نظر سے جوڑا
-
ہندوستان5 days agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا غزہ پر بننے والی ایوارڈ یافتہ فلم ‘نازا’ کے ذرائع کی تحقیقات کا مطالبہ
-
تجزیہ1 week agoال نینو اور سمندری حدت: تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو بڑھتا ہوا خطرہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا جموں میں انتقال
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، سفارتی حل پر زور
-
دنیا5 days agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان5 days agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
