دنیا
ہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
تل ابیب، 8اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں ایران پر ممکنہ نئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “ہمارے پاس ایک ایسا کام ہے جسے ہمیں ختم کرنا ہے۔”
نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے اکاؤنٹ سے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ فون پر ہونے والی بات چیت کی ایک ویڈیو شیئر کی۔
اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں اپنی حمایت کرنے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، نیتن یاہو نے ایران پر ممکنہ نئے حملوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ “ڈونلڈ ایک کام ہے جو ہمیں ختم کرنا ہے، آپ نے بھی یہ بات کہی تھی اور ہم مل کر اسے ختم کریں گے کیونکہ یہ کام کوئی اور نہیں کرے گا۔”
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے ساتھ مل کر اقدامات کرنے کے نتیجے میں مزید ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے والے ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آپ ان کے لیے سب سے بڑے خطرے یعنی ایک جوہری ایران کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف ٹرمپ نے یہ بتاتے ہوئے کہ انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کے لیے جاری کردہ متن انہوں نے خود تحریر کیا تھا کہا کہ آپ ایک جنگجو ہیں، آپ کے ساتھ آپ کے اپنے ملک اور شاید کچھ دوسرے ممالک کی طرف سے ناانصافی کی گئی ہے لیکن آپ ایک عظیم جنگجو ہیں اور ہم یہ ثابت کر کے رہیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
ایران کو مخاطب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر انہوں نے تیزی سے اپنا راستہ نہ بدلاتو ہم جلد ہی یہ کام ختم کر دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر اسرائیل نیتن یاہو کے علاوہ کسی اور لیڈر کا انتخاب کرتا ہے تو امریکہ کو یہ کام خود کرنا پڑے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
پیرس، فرانس میں مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہفتے کے آخر میں ہونے والے مظاہروں کے پرتشدد رخ اختیار کرنے کے بعد حکام مزید علاقوں میں کرفیو نافذ کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم سباستیاں لیکورنو نے منگل کو یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی میں شدت سے سیاسی اختلافات اور اقتصادی غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنے والی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
لیکورنو نے کہا کہ مخصوص علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے سے رات کے وقت حالات معمول پر لانے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر منگل کی شام سے مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، اس سلسلے میں فیصلے مقامی پریفیکٹس میئرز کے ساتھ تال میل سے کریں گے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں یہ بات کہی۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ اگلے ہفتے کے آخر میں مزید مظاہروں کا پروگرام ہے، جبکہ مزدور یونینیں نومبر میں سڑکوں پر احتجاج کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ اگلے موسم بہار میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل عوامی بے اطمینانی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میرین لے پین آگے بتائی جا رہی ہیں۔
دریں اثنا ‘یلو ویسٹ’ رابطہ گروپ نے ہفتے کو ایک اور احتجاجی مظاہرے کی اپیل کی ہے۔
پیرس اور لیون کے بعض حصوں میں رات کے اوقات میں جزوی کرفیو نافذ ہے۔ مظاہروں کے دوران لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور جھڑپوں کے واقعات کے بعد دیگر علاقوں میں بھی پابندیوں کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔ پولیس اور جنڈرمیری کے ذرائع نے بتایا کہ رات مجموعی طور پر پُرسکون رہی، تاہم مارٹینیک میں احتجاج کے دوران کچھ واقعات پیش آئے۔
وزیر انصاف جیرالڈ درماناں نے بتایا کہ ہفتے کے آخر میں ہونے والی بدامنی کے بعد 2,513 افراد کو حراست میں لیا گیا، 67 افراد کو جیل بھیجا گیا اور کئی درجن عدالتی تحقیقات شروع کی گئیں۔ انہوں نے ہنگامی حالت نافذ کرنے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکام عام شہریوں کی آزادیوں کو محدود کیے بغیر سخت پولیس کارروائی کے ذریعے امن و امان بحال کر سکتے ہیں۔
قومی اسمبلی کی صدر یائل براؤن پیویٹ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان شکایات کو نظرانداز نہ کرے جن کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ لاکھوں افراد نے پُرامن مظاہروں میں شرکت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان سے متعلق خدشات کو بجٹ پر بحث اور مظاہرین کے مطالبات پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔
دوسری جانب کاروباری رہنماؤں نے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات کو روکنے میں ناکامی پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کاروباری تنظیم میڈیف کے صدر پیٹرک مارٹن نے کہا کہ حکومت کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق کم از کم 3,000 کاروباری ادارے متاثر
۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر ریکارڈ کم ترین سطح 31 فیصد پر آگئی ہے۔
پیر کو جاری رائٹرز/اِپسوس کے سروے کے مطابق، نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اب صرف دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔
سروے میں شامل 66 فیصد افراد نے ٹرمپ کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا، جبکہ ان کی مقبولیت گزشتہ سروے کے مقابلے میں ایک فیصد پوائنٹ کم ہوئی ہے، جو دو ہفتے پہلے کیا گیا تھا۔ یہ شرح ٹرمپ کی دونوں صدارتی مدتوں کے دوران ریکارڈ کی گئی سب سے کم سطح ہے۔
معاشی معاملات پر عدم اطمینان خاص طور پر نمایاں رہا۔ سروے میں 68 فیصد افراد نے معیشت سے متعلق ٹرمپ کی کارکردگی کو ناپسند کیا، جن میں خود کو ریپبلکن قرار دینے والے 37 فیصد افراد بھی شامل ہیں۔
اتوار کو جاری واشنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز اور اِپسوس کے ایک الگ سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت 33 فیصد درج کی گئی، جو جولائی کے مقابلے میں چار فیصد پوائنٹ کم اور ان کی پہلی صدارتی مدت کے دوران ریکارڈ کی گئی کسی بھی سطح سے نیچے ہے۔
رائٹرز/اِپسوس کے سروے میں ایوانِ نمائندگان کے انتخابات کے لیے بھی ڈیموکریٹک پارٹی کو ریپبلکن پارٹی پر 12 فیصد پوائنٹ کی برتری حاصل رہی۔ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 47 فیصد نے ڈیموکریٹک امیدواروں جبکہ 35 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کی۔ موجودہ انتخابی دور میں اس سروے کے دوران ڈیموکریٹس کی یہ سب سے بڑی برتری ہے۔ دو ہفتے پہلے کانگریس کا کنٹرول کس جماعت کے پاس ہونا چاہیے، اس سوال پر ڈیموکریٹس کو 44 فیصد اور ریپبلکنز کو 37 فیصد حمایت حاصل تھی۔
یہ نتائج 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد عوامی بے اطمینانی میں اضافے کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے ملک بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو عملاً بند کیے جانے سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن حالیہ ہفتوں میں معمولی کمی کے باوجود پٹرول پمپوں پر قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (اے اے اے) کے مطابق، منگل کو امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت 4.28 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال اسی وقت کے مقابلے میں تقریباً 1.30 ڈالر زیادہ ہے۔
ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں اپنا کنٹرول کھونے کا خدشہ ہے۔ اس صورت حال میں ٹرمپ نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ”یہ فرض کریں کہ میں بھی انتخابی میدان میں ہوں”۔ انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر دیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے پیر کو ریاست کنساس میں ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کی انتخابی مہم کے دوران کسانوں کو فصل کی کٹائی کے موسم میں ڈیزل کے اخراجات سے راحت دینے کے لیے آٹھ ارب ڈالر کے فنڈ کا اعلان بھی کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے خواہاں پوتن
ماسکو، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر تنقید میں شدت اور جنگ زدہ ملک میں انتخابات کرانے کے مطالبے کے درمیان، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین جنگ کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کے لیے اگلے ماہ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کی تجویز پیش کی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے بات چیت سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مجوزہ ملاقات 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شینزین میں ہونے والی ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) سربراہ کانفرنس کے موقع پر ہوسکتی ہے۔تاہم، ٹرمپ نے ابھی تک اس تجویز کو منظوری نہیں دی ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ممکنہ ملاقات کے بارے میں بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فارمیٹ اور ایجنڈے پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
پیسکوف کے حوالے سے کہا گیا، ”ابھی ملاقات اور اس کے ممکنہ ایجنڈے کے بارے میں کوئی واضح سمجھ بوجھ نہیں ہے، تاہم تینوں فریق اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایسی ملاقات ہوسکتی ہے۔”
رپورٹ کے مطابق، پوتن نے 9 اکتوبر کو ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران یہ تجویز پیش کی تھی۔ اس گفتگو کے نتیجے میں امریکہ کو روسی ڈیزل کی فراہمی سے متعلق ایک معاہدہ بھی طے پایا، جس کے بعد ٹرمپ نے ماسکو پر عائد اہم پابندیوں میں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا۔
یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جنگ اپنے پانچویں تقویمی سال میں داخل ہوچکی ہے، سفارتی کوششیں دوبارہ تیز ہورہی ہیں اور لڑائی ختم کرنے کے طریقۂ کار پر واشنگٹن اور کیف کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی اور ڈیزل معاہدے کی کوششوں پر زیلنسکی نے تنقید کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات پوتن کی پوزیشن مضبوط کرسکتے ہیں اور جنگ کو طول دے سکتے ہیں۔
ٹرمپ یوکرینی صدر پر تنقید کرنے کے ساتھ یوکرین میں انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں، جس سے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے دوران کیف پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
یو این آئی۔ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، دہلی اور پنجاب میں طوفان کی وارننگ، پہاڑی علاقوں میں بارش کے آثار
-
دنیا1 week agoایران نے اپنی شرائط پر امریکہ کے ردعمل کو ‘ناکافی’ قرار دیا
-
دنیا1 week ago‘توانائی جنگ بندی’: روسی تیل کے معاملے پر ٹرمپ کی متضاد پالیسی کے پیچھے کیا ہے
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کو ہٹانے اور ایس آئی آر واپس لینے کے مطالبے پر ‘انڈیا’ اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ
-
ہندوستان1 week agoمودی نے راج ماتا سندھیا کو خراج عقیدت پیش کیا، ان کے ورثے کو وکست بھارت کے نقطہ نظر سے جوڑا
-
ہندوستان6 days agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا غزہ پر بننے والی ایوارڈ یافتہ فلم ‘نازا’ کے ذرائع کی تحقیقات کا مطالبہ
-
تجزیہ1 week agoال نینو اور سمندری حدت: تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو بڑھتا ہوا خطرہ
-
دنیا6 days agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا6 days agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، سفارتی حل پر زور
-
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں : جسٹس سوریہ کانت
