جموں و کشمیر
عمر عبداللہ نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا وظیفہ بڑھا کر 25 ہزار روپے کردیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا ماہانہ وظیفہ 12,300 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ سرکاری ذرائع نے یہ اطلاع دی۔
ذرائع کے مطابق، محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے اس سلسلے میں باضابطہ حکم بدھ کو جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جموں و کشمیر بھر میں میڈیکل انٹرنز نے منگل کو دوبارہ احتجاج شروع کردیا۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت نے 30 دن کے اندر وظیفے میں اضافے سے متعلق اپنی تحریری یقین دہانی پوری نہیں کی۔
انٹرنز نے گزشتہ ماہ ماہانہ وظیفہ 12,300 روپے سے بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کے مطالبے پر احتجاج کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے ایک ماہ کے اندر مطالبہ پورا کرنے کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے 9 ستمبر کو احتجاج ختم کردیا تھا۔
تاہم، حکومت کی جانب سے یقین دہانی پوری نہ کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے انٹرنز نے دوبارہ احتجاج شروع کردیا۔ انہوں نے محکمہ صحت و طبی تعلیم پر اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا۔
احتجاج کرنے والے ایک انٹرن نے کہاکہ ”ہم نے جموں و کشمیر کے وزیر صحت کی جانب سے دی گئی تحریری یقین دہانی پر بھروسہ کیا تھا اور سمجھا تھا کہ اس کی اہمیت ہوگی۔ ہم نے وزیر اور عہدیداروں کا احترام کیا، لیکن اب ہم دوبارہ اسی مقام پر کھڑے ہیں، جہاں ہمارا وظیفہ اب بھی 12,300 روپے ہے۔”
طلبہ نے بتایا کہ پیر کو عہدیداروں سے ملاقات کرنے والے وفد کو مزید دو دن انتظار کرنے کے لیے کہا گیا۔
اس وفد میں وہ افسر بھی شامل تھے جنہوں نے تحریری یقین دہانی پر دستخط کیے تھے، نیز محکمہ مالیات کے ڈائریکٹر جنرل بھی موجود تھے۔
بار بار مہلت دیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے انٹرنز نے کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 30 دن کی مدت کا پہلے ہی انتظار کرچکے ہیں اور اب مزید تاخیر برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
انہوں نے آئندہ دربار موو پر بھی تشویش ظاہر کی، جس کے تحت سرکاری دفاتر سرینگر سے جموں منتقل کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منتقلی سے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے مختلف میڈیکل کالجوں کے طلبہ کے لیے متعلقہ حکام تک پہنچ کر اپنے مطالبات پیش کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
طویل عرصے سے جاری غیر یقینی صورت حال نے میڈیکل انٹرنز کو مایوس کردیا ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کا الزام ہے کہ اسپتالوں میں ان کے کام کے بوجھ اور ذمہ داریوں کے لحاظ سے موجودہ وظیفہ ناکافی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا
سرینگر، لداخ کے لیہ میں قائم ہونے والا پہلا میڈیکل کالج تعلیمی سال 2027-28 سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر لداخ ونے کمار سکسینہ نے بتایا کہ مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود نے اس سلسلے میں منظوری دے دی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وزارت نے تدریسی اور معاون عملے کی بھرتی شروع کرنے سے پہلے بنیادی ڈھانچے کی 80 فیصد تکمیل کی شرط میں ایک مرتبہ کے لیے رعایت دی ہے۔
انہوں نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کی درخواست پر توجہ دیتے ہوئے اس رعایت کو منظوری دی۔ اس سے انتظامیہ کو 103 منظور شدہ مستقل آسامیوں کے لیے ابتدائی بھرتی کا عمل شروع کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ کالج کے لیے مخصوص تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جاری رہے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ ”اس منظوری سے لداخ کے عوام کی ایک دیرینہ خواہش پوری ہوگی۔”
عہدیداروں نے بتایا کہ عبوری انتظام کے طور پر دو نئی تعمیر شدہ عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جنہیں تدریسی بلاک اور طلبہ کے ہاسٹل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ موجودہ 200 بستروں والے ایس این ایم اسپتال میں تقریباً 60 تجربہ کار ڈاکٹروں کی خدمات دستیاب ہیں، جہاں ایم بی بی ایس کے پہلے بیچ کے طلبہ کو درکار طبی تربیت فراہم کی جاسکتی ہے۔
عہدیداروں نے کہاکہ ”محکمہ اخراجات کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کے مطابق، مخصوص بنیادی ڈھانچے کی تعمیر مکمل ہونے تک ان عبوری سہولتوں کو عارضی طور پر استعمال کیا جائے گا۔”
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ میڈیکل کالج کے قیام سے مقامی نوجوانوں کو اپنے گھر کے قریب طبی تعلیم حاصل کرنے کے زیادہ مواقع ملیں گے اور طویل مدت میں خطے کے صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ میڈیکل طلبہ کے پہلے بیچ کے استقبال کے لیے تمام ضروری انتظامات کو یقینی بنائے گی۔
مجوزہ میڈیکل کالج کو لداخ میں طبی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی ترقی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ اب تک اس خطے کے طلبہ کو ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے عموماً باہر کے علاقوں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔
تعمیراتی بنیادی ڈھانچے کی مقررہ تکمیل کی حد پوری ہونے سے پہلے ابتدائی بھرتی کی اجازت دینے کے فیصلے سے توقع ہے کہ 2027-28 کے تعلیمی سال سے قبل ادارے کو فعال بنانے کے عمل میں تیزی آئے گی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں دربار موو، دفاتر 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے
سرینگر، جموں و کشمیر حکومت نے موسم سرما کے لیے نامزد سرکاری دفاتر کو سرینگر سے جموں منتقل کرنے کے سالانہ عمل ‘دربار موو’ کا حکم جاری کردیا ہے۔ اس کے تحت سرینگر میں دفاتر 30 اور 31 اکتوبر کو بند ہوں گے، جبکہ 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے۔
اس انتظام کے تحت کئی محکموں کو مکمل طور پر منتقل کیا جائے گا، جبکہ دیگر محکمے محدود عملے کے ساتھ کام کریں گے۔
محکمہ عمومی انتظامیہ کی جانب سے جاری حکم کے مطابق، ہفتے میں پانچ دن کام کرنے والے دفاتر 30 اکتوبر کو اور چھ دن کام کرنے والے دفاتر 31 اکتوبر کو دفتری اوقات ختم ہونے کے بعد سرینگر میں بند ہوجائیں گے۔
حکومت نے ہدایت دی ہے کہ نامزد دفاتر کو مکمل عملے کے ساتھ جموں منتقل کیا جائے، جبکہ دیگر دفاتر کیمپ انتظام کے تحت محدود عملے کے ساتھ کام کریں گے۔
حکم کے مطابق، کیمپ انتظام کے تحت منتقل ہونے والے دفاتر میں عام طور پر کل عملے کا 33 فیصد یا 10 ملازمین، ان میں سے جو تعداد کم ہو، منتقل ہوں گے، الا یہ کہ کسی دفتر کے لیے الگ ہدایت جاری کی گئی ہو۔
سول سکریٹریٹ، وزیر اعلیٰ کا سکریٹریٹ اور کئی محکمے و ڈائریکٹوریٹس ان دفاتر میں شامل ہیں جنہیں مکمل طور پر منتقل کیا جائے گا۔ کیمپ انتظام کے تحت منتقل ہونے والے محکموں اور اداروں میں محکمہ ریاستی ٹیکس، جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ، نیشنل ہیلتھ مشن اور کئی دیگر ادارے شامل ہیں۔
حکومت نے دربار موو میں حصہ لینے والے ہر ملازم کے لیے 25,000 روپے خصوصی سفری الاؤنس مقرر کیا ہے۔ مقررہ مدت کے اندر منتقل نہ ہونے والے ملازمین اس الاؤنس کے اہل نہیں ہوں گے۔
حکم میں نان گزٹیڈ ملازمین کو درخواست دینے پر پیشگی تنخواہ کی ادائیگی کا بھی انتظام کیا گیا ہے، جس کی رقم متعلقہ قواعد کے تحت قسطوں میں وصول کی جائے گی۔ منتقل ہونے والے دفاتر کے ملازمین کی اکتوبر کی تنخواہیں 29 اکتوبر کو جاری کی جائیں گی۔
جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (جے کے آر ٹی سی) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ملازمین کی منتقلی کے لیے 31 اکتوبر اور یکم نومبر کو اچھی حالت میں کافی تعداد میں بسوں کا انتظام کرے۔ پیشگی ٹکٹوں کی بکنگ 27 اکتوبر سے سول سکریٹریٹ اور جے کے آر ٹی سی کے مرکزی بکنگ کاؤنٹروں پر شروع ہوگی۔
سفر کو آسان اور محفوظ بنانے کے لیے ہر قافلے کے ساتھ ایک کرین، دو خالی بسیں اور موبائل ورکشاپ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ پولیس قافلوں کو ان کی منزل تک لے جانے کے لیے حفاظتی انتظامات کرے گی اور بانہال۔قاضی گنڈ اور ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی سرنگوں سے ترجیحی بنیاد پر گزرنے کو یقینی بنائے گی۔
سفر کے راستے میں قاضی گنڈ، بانہال، رامسو، رام بن، چنینی، ادھم پور اور جھجر کوٹلی میں طبی امداد کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
حکومت نے سرینگر کے سول سکریٹریٹ میں سرمائی سکریٹریٹ قائم کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ محکموں کو مجاز اتھارٹی کی منظوری سے وہاں تعیناتی کے لیے ایک گزٹیڈ افسر اور چار نان گزٹیڈ ملازمین کی نشاندہی کرنے کو کہا گیا ہے۔ جہاں ممکن ہو، خواتین ملازمین اور سنگین طبی مسائل سے دوچار ملازمین کو ترجیح دی جائے گی۔
‘دربار موو’ ایک دیرینہ انتظامی روایت ہے، جس کے تحت نامزد سرکاری دفاتر موسم گرما اور سرما کے دوران سرینگر اور جموں کے درمیان منتقل کیے جاتے ہیں۔ اس 150 سالہ روایت کا آغاز 1872 میں مہاراجہ رنبیر سنگھ نے موسمی شدت سے بچنے کے لیے کیا تھا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جون 2021 میں اس روایت کو روک دیا تھا، تاہم گزشتہ سال سال میں دو مرتبہ ہونے والی دربار موو کی روایت باضابطہ طور پر دوبارہ شروع کردی گئی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
سجاد لون کی اسمارٹ میٹرنگ پر جموں و کشمیر حکومت پر تنقید، کیبل پالیسی کو عوام کے لیے ‘حیران کن تحفہ’ قرار دیا
سرینگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ کے رکن اسمبلی سجاد لون نے منگل کو جموں و کشمیر میں اسمارٹ میٹرنگ مہم پر عمر عبداللہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کیبل پالیسی کو عوام، خصوصاً معاشرے کے غریب طبقات کے لیے ایک ‘حیران کن تحفہ’ قرار دیا۔
سجاد لون نے کہا کہ اسمارٹ میٹر لگانے کا عمل جاری ہے اور متعلقہ کمپنی ہر گھر کو زیادہ سے زیادہ چار میٹر کیبل فراہم کرتی ہے، جس میں دو میٹر بجلی کی فراہمی کے لیے اور دو میٹر بجلی کی ترسیل کے لیے ہوتے ہیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ ”چار میٹر سے زیادہ کیبل کی ضرورت ہونے پر اس کا خرچ گھر والوں کو خود برداشت کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، انہیں بجلی کا کنکشن نہیں ملے گا اور انہیں بجلی کے گرڈ سے منقطع کردیا جائے گا۔”
اس کے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے لون نے کہا کہ مکان بجلی کے کھمبے سے جتنا دور ہوگا، اتنی ہی زیادہ کیبل درکار ہوگی۔ ان کے مطابق، غریب گھرانوں کو اسمارٹ میٹر لگوانے کے لیے 4,000 سے 5,000 روپے تک ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
اس معاملے کے سیاسی پہلو پر بات کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ حکومت نے 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کرکے ووٹوں کی صورت میں بڑا فائدہ حاصل کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ”دو سال گزر چکے ہیں، لیکن ایک یونٹ بجلی بھی مفت نہیں دی گئی۔”
انہوں نے یاد دلایا کہ انتخابی مہم کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اسمارٹ میٹرنگ کا مذاق اڑاتے تھے اور اس پر طنز کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہی لوگ، جو وزیر اعلیٰ کو ووٹ دینے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوئے تھے، اسمارٹ میٹر لگوانے کے لیے رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
سجاد لون نے کہاکہ ”یہ دراصل ایک بڑا مذاق ہے، اور ایک بار پھر اس مذاق کا نشانہ وہی لوگ بنے ہیں جنہوں نے وزیر اعلیٰ صاحب کو ووٹ دیا تھا۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoایران نے اپنی شرائط پر امریکہ کے ردعمل کو ‘ناکافی’ قرار دیا
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، دہلی اور پنجاب میں طوفان کی وارننگ، پہاڑی علاقوں میں بارش کے آثار
-
دنیا1 week ago‘توانائی جنگ بندی’: روسی تیل کے معاملے پر ٹرمپ کی متضاد پالیسی کے پیچھے کیا ہے
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کو ہٹانے اور ایس آئی آر واپس لینے کے مطالبے پر ‘انڈیا’ اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ
-
ہندوستان1 week agoمودی نے راج ماتا سندھیا کو خراج عقیدت پیش کیا، ان کے ورثے کو وکست بھارت کے نقطہ نظر سے جوڑا
-
ہندوستان6 days agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا غزہ پر بننے والی ایوارڈ یافتہ فلم ‘نازا’ کے ذرائع کی تحقیقات کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
تجزیہ1 week agoال نینو اور سمندری حدت: تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو بڑھتا ہوا خطرہ
-
دنیا6 days agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، سفارتی حل پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا جموں میں انتقال
