ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے پولیس یادگاری دن پر فرض کی ادائیگی کے دوران جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانیں قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہریوں کی حفاظت اور عوامی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے پولیس اہلکاروں کی لگن پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے ملک کی خدمت میں اپنی جان قربان کرنے والے اہلکاروں کی بہادری اور قربانی کو یاد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں مودی نے کہا کہ پولیس یادگاری دن ان اہلکاروں کے عزم اور فرض شناسی کو تسلیم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امن و قانون برقرار رکھنے، جرائم پر قابو پانے، ہنگامی حالات سے نمٹنے اور شہریوں کی حفاظت کرنے میں پولیس کا کردار بے حد اہم ہے۔
وزیر اعظم نے کہا، ”پولیس یادگاری دن ہمارے پولیس اہلکاروں کے تئیں گہرے تشکر کے اظہار کا موقع ہے، جو انتہائی مشکل حالات میں بھی غیر معمولی لگن کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔”
ڈیوٹی کے دوران جان گنوانے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ان کی بہادری، غیر متزلزل لگن اور قربانی ہمیشہ ملک کی یادوں میں محفوظ رہے گی۔
انہوں نے کہا، ”ہم ان بہادر پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جنہوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانیں قربان کردیں۔ ان کی بہادری، غیر متزلزل لگن اور عظیم قربانی ہمیشہ ہماری قومی یادوں میں محفوظ رہے گی۔”
پولیس یادگاری دن ہر سال 21 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن ملک کی خدمت کے دوران جانیں قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں کو یاد کیا جاتا ہے۔ یہ دن 21 اکتوبر 1959 کو لداخ کے ہاٹ اسپرنگس علاقے میں ہندوستان اور چین کی سرحد کے ساتھ گشت کے دوران چینی فوجیوں کے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں شہید ہونے والے مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 10 اہلکاروں کی قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
یہ دن پولیس اہلکاروں اور حفاظتی دستوں کو اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے درپیش خطرات کی یاد دلاتا ہے۔
چاہے عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہو، جرائم کا مقابلہ کرنا ہو یا شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہو، یہ اہلکار ہر حال میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
ملک بھر میں پولیس یادگاروں پر خصوصی تقریبات منعقد کرکے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر خدمات انجام دینے والے پولیس افسران بھی اپنے فرائض، عوامی خدمت اور ملک کی حفاظت کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
ہندوستان
نوجوان فنکاروں کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملنے چاہئیں: مرمو
نئی دہلی، صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا ہے کہ نوجوان اور ابھرتے ہوئے فنکاروں کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے، فن کے نئے طریقوں کو آزمانے اور تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملنے چاہئیں۔
صدرِ جمہوریہ نے بدھ کے روز یہاں 65 ویں قومی آرٹ نمائش کے منتخب فنکاروں کو ‘للت کلا اکادمی ایوارڈز’ سے نوازنے کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس تقریب کے دوران انہوں نے آرٹ نمائش کے ‘پرنٹ بیئنالے انڈیا-2026’ کے اہم ایوارڈ یافتگان اوراسپیشل مینشن حاصل کرنے والے فنکاروں کو بھی اعزاز سے نوازا۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ آرٹ صرف تصاوير، مجسموں یا دیگر ذرائع سے بنائی گئی تخلیقات تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری ثقافت، موجودہ تجربات اور مستقبل کی امنگوں کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔ آرٹ معاشرے اور اپنے دور کو ایک نئے زاویۂ نگاہ سے سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں میں کام کرنے والے روایتی فنکاروں کو جدید ٹیکنالوجی اور جدید آرٹ کی صنفوں کی تربیت دی جانی چاہئے، تاکہ وہ اپنے فن کو وسیع پیمانے پر پیش کر سکیں اور مقابلوں میں حصہ لے سکیں۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ آج کے فنکاروں کو تخلیقی مواقع کے ساتھ ساتھ مالی مدد، بڑی مارکیٹ تک رسائی اور آرٹ کلیکٹرز سے جڑنے کے مواقع بھی درکار ہیں۔ انہوں نے للت کلا اکادمی اور وزارتِ ثقافت کی جانب سے شہ پاروں کی فروخت کو فروغ دینے کی کوششوں پر مسرت کا اظہار کیا۔
صدرِ جمہوریہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فن کو صرف آرٹ گیلریوں تک محدود نہیں رکھا جانا چاہئے۔ اسے اسکولوں، یونیورسٹیوں، عوامی مقامات اور معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچانا انتہائی ضروری ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
دسمبر 2029 تک ملک کو نشے کی لعنت سے پاک کرنے کا ہدف: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ آنے والی نسلوں کو نشے کی لت سے محفوظ رکھنے اور ملک دشمن سرگرمیوں پر لگام لگانے کے لیے حکومت نے 31 دسمبر 2029 تک ملک کو نشے کی لعنت سے مکمل طور پر آزاد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے سال 2026 کے بقیہ ایام اور سال 2027، 2028 نیز 2029 کے دوران ملک بھر کی پولیس فورسز کو باہم مل کر منشیات کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنی ہوگی۔ مسٹر شاہ نے بدھ کے روز یہاں ‘پولیس یادگاری دن ‘ کے موقع پر قومی پولیس یادگار پر شہید پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد یہ باتیں کہیں۔ اس موقع پر انہوں نے نشے کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لیے ملک گیر موٹر سائیکل ریلی کو بھی ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ نشے کی لعنت آنے والی نسلوں کو کھوکھلا اور کمزور کرتی ہے، معیشت پر بوجھ بنتی ہے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں کو مالی امداد بھی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے ملک بھر کی پولیس فورسز سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں تیار کردہ ‘نشہ مکت بھارت’ کی اسکیم کو زمینی سطح پر نافذ کرنے اور نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی اپیل کی۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سال 2026 ہندوستانی پولیس کے لیے انتہائی اہم اور تاریخی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 31 مارچ 2026 کو ملک کو کئی دہائیوں پرانی نکسل ازم کی لعنت سے نجات مل گئی۔ سال 1981 سے مارچ 2026 کے درمیان نکسل ازم کی پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے 3,600 سے زائد جوان شہید ہوئے اور تقریباً 13,700 بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک اگر ترقی کی راہ پر گامزن ہے، تو اس کی بنیادوں میں شہید جوانوں کی عظیم قربانیاں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر، شمال مشرق اور نکسل سے متاثرہ علاقوں میں اب امن اور ترقی کا خوشگوار ماحول قائم ہو چکا ہے۔ کشمیر میں دہشت گردی پر قابو پانے میں بڑی کامیابی ملی ہے، جبکہ مختلف معاہدوں کے بعد شمال مشرق میں بھی پائیدار امن کا راستہ کھلا ہے۔ نکسل ازم کے خاتمے میں پولیس اور مرکزی نیم فوجی دستوں (سی اے پی ایف) کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے بالخصوص سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، کوبرا بٹالین اور چھتیس گڑھ پولیس کی بے مثال بہادری کا خصوصی ذکر کیا۔
مسٹر شاہ نے پولیس اہلکاروں کی قربانیوں اور فرض شناسی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی خدمت ملک کی مشکل ترین خدمات میں سے ایک ہے۔ جب عام شہری اپنے اہل خانہ کے ساتھ رکھشا بندھن، ہولی، دیوالی اور عید جیسے تہوار منا رہے ہوتے ہیں، تب پولیس اہلکار داخلی سلامتی، ٹریفک اور عوام کے تحفظ کی ڈیوٹی میں مصروف رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندرونی امن و امان اور سلامتی میں پولیس کا کردار سب سے اہم ہے۔
پولیس یادگاری دن کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ 21 اکتوبر 1959 کو لداخ کے ‘ہاٹ اسپرنگس’ کے علاقے میں چینی فوج کے حملے کا جرأت مندانہ مقابلہ کرتے ہوئے سی آر پی ایف کے 10 جوان شہید ہوئے تھے۔ انہی بہادر جوانوں کی یاد میں ہر سال 21 اکتوبر کو پولیس یادگاری دن منایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2018 میں وزیرِ اعظم مودی نے قومی پولیس یادگار کا افتتاح کیا تھا، تاکہ پولیس کی آنے والی نسلیں شہداء کی زندگی سے تحریک حاصل کریں۔ اس یادگار پر فرض کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔
نشے کے خلاف بیداری پھیلانے والی اس موٹر سائیکل ریلی میں مختلف ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، مرکزی مسلح پولیس فورسز اور مرکزی پولیس تنظیموں کے تقریباً 90 سوار حصہ لے رہے ہیں۔ ‘نشے کے خلاف جنگ’ کے پیغام کے ساتھ نکالی جا رہی یہ ریلی ملک گیر مہم کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس میں شامل سوار گجرات کے ایکتا نگر پہنچ کر ‘ایکتا پریڈ-2026’ میں حصہ لیں گے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم۔ دکش یوجنا میں بھی ‘ دکشتا’ نہیں دکھا سکی مودی حکومت: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے ‘پی ایم-دکش’ یوجنا کے نافذ نہ ہونے اور مختص بجٹ خرچ نہ کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پسماندہ طبقات کو ہنر کی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی اس اسکیم کو مودی حکومت نے محض کاغذوں تک محدود کر دیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بدھ کے روز کہا کہ دو سال سے پی ایم-دکش یوجنا کے نافذ نہ ہونے اور گزشتہ برسوں کے لیے مختص بجٹ خرچ نہ کیے جانے سے مودی حکومت کی ایک اور ناکامی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ حکومت کا کام اب صرف بڑے بڑے اشتہار دینا، سرخیوں میں رہنا اور عملی سطح پر نتائج دینے میں ناکام رہنا رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس اسکیم کا مقصد پسماندہ طبقات کو ہنر مند بنانا، ٹریننگ دینا اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا، اسے حکومت نے کاغذی کارروائی تک سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا، “جو حکومت وزیرِ اعظم کے نام والی ‘دکش’ اسکیم کو بھی صلاحیت اور کارکردگی کے ساتھ نافذ نہیں کر سکتی، اس حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔” انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کونشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کی نظروں میں ان کی حکومت کا اعتماد ختم ہو چکا ہے اور اس حکومت کی “ایکسپائری ڈیٹ قریب آ چکی ہے۔”
مسٹر رمیش نے سوال کیا کہ مودی حکومت کب تک جین زی کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرتی رہے گی۔
انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا حکومت درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، معاشی طور پر پسماندہ طبقات (ای ڈبلیو ایس) اور خانہ بدوش نیز نیم خانہ بدوش قبائل سے سال 2024 کے عام انتخابات میں 240 نشستوں پر سمٹ جانے کا بدلہ لے رہی ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا7 days agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان7 days agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان7 days agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
