جموں و کشمیر
یومِ الحاق پر محبوبہ مفتی کی عوام سے اپیل، جموں و کشمیر سے کیے گئے وعدوں کو یاد کریں
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کے روز ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے وقت کیے گئے وعدوں کو یاد کریں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے درمیان تعلقات اعتماد، سیکولرازم اور آئینی ضمانتوں کی بنیاد پر قائم ہوئے تھے، لیکن ان کے بقول اب ان ضمانتوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
محبوبہ مفتی نے سری نگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ”میں ملک کے تمام لوگوں سے درخواست کرتی ہوں کہ ہم نے ایسے ہندوستان کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا جو گاندھی کا بھارت، نہرو کا بھارت اور امبیڈکر کا بھارت ہے، جس نے ہمیں تمام حقوق دیے تھے۔ آج ان حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ میں ان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ان وعدوں کو یاد رکھیں۔ یہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں ہے۔”
ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب جموں و کشمیر میں یومِ الحاق منایا جا رہا ہے۔ اس دن 26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے دستاویزِ الحاق پر دستخط کیے جانے کی یاد منائی جاتی ہے۔ اس دستاویز کو 27 اکتوبر 1947 کو بھارت کے اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قبول کیا تھا، جس کے ساتھ ہی سابق شاہی ریاست کے بھارت سے الحاق کو باضابطہ شکل دی گئی۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر مسلم اکثریتی خطہ ہونے کے باوجود بھارت کے ساتھ شامل ہوا، کیونکہ یہاں کے لوگوں کو ملک کی سیکولر قیادت پر اعتماد تھا اور انہیں یقین تھا کہ ان کی منفرد شناخت اور حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ دستاویزِ الحاق اور اس کے بعد کیے گئے آئینی انتظامات میں جموں و کشمیر کو دی گئی یقین دہانیوں کی عکاسی ہوتی تھی۔ ان ضمانتوں کا مقصد خطے کی شناخت، زمین اور روزگار کے مواقع کا تحفظ کرنا بھی تھا۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، بی آر امبیڈکر، مولانا ابوالکلام آزاد اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی قیادت پر اعتماد کیا تھا۔ ان کے مطابق، ان رہنماؤں نے بھارت کو ایک ایسے سیکولر ملک کے طور پر دیکھا تھا جہاں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر رہ سکیں۔
الحاق کے وقت کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ 1947 میں پاکستان سے آنے والے قبائلی حملے نے واقعات کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کے دوران جموں و کشمیر کی قیادت نے بھارت سے مدد طلب کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام کو توقع تھی کہ ان کی سیاسی امنگوں اور خدشات کا احترام کیا جائے گا۔
تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یہ تعلقات خراب ہوتے گئے، خاص طور پر 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد، جب سابق ریاست کو تقسیم کرکے دو الگ الگ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کر دیا گیا۔
محبوبہ مفتی نے کہاکہ ”جموں و کشمیر کے لوگ آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں انہیں 1947 میں چھوڑ دیا گیا تھا۔” انہوں نے الزام لگایا کہ خطے کے عوام اب بھی پابندیوں، بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوجوانوں کو اب بھی پولیس کی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ تعلیم، روزگار اور دیگر مواقع کے لیے پاسپورٹ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو بھی دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے خطے میں لوگوں کی مسلسل حراست اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال کے ساتھ احتیاطی حراست سے متعلق قوانین پر بھی سوال اٹھائے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکومت کو جموں و کشمیر پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور جمہوری روابط کو فروغ دینا چاہیے۔
سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے طرزِ فکر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسائل کو انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے اصولوں کے تحت حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر آپ جموں و کشمیر کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو اسے گھسیٹیں نہیں۔ اسے ہتھیاروں کے زور پر اپنے ساتھ نہ گھسیٹیں۔ اس کے بجائے اس کا ہاتھ تھامیں اور اسے اپنے ساتھ چلنا سکھائیں۔”
محبوبہ مفتی نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال کا نوٹس لیں اور خطے کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور بھارت کے تعلقات کی رہنمائی انہی اصولوں اور یقین دہانیوں سے ہونی چاہیے جن کی بنیاد پر یہ رشتہ قائم ہوا تھا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں توی ریلوے اسٹیشن کے باہر آگ لگنے سے تقریباً 35 دکانیں جل کر خاکستر
جموں، جموں توی ریلوے اسٹیشن کے باہر واقع شیو مارکیٹ میں اتوار کی دیر رات لگی بھیانک آگ میں تقریباً 35 دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں۔
افسران نے بتایا کہ اتوار کی دیر رات بازار میں آگ لگ گئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی وقت میں تقریباً 30 سے 35 دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
افسران کے مطابق، ہوشیار دکانداروں نے آگ لگنے کی اطلاع دی اور فوراً فائر بریگیڈ اور ہنگامی خدمات کے محکمے کو فون کیا۔ اس کے بعد 12 سے زیادہ فائر بریگیڈ گاڑیوں اور بڑی تعداد میں فائر فائٹرز کو جائے حادثہ پر بھیجا گیا۔
افسران نے کہا، ”آگ بہت بھیانک تھی اور اس پر قابو پانا انتہائی مشکل تھا۔” انہوں نے بتایا کہ فائر فائٹرز نے کئی گھنٹوں تک آگ بجھانے کی کوشش کی اور صبح تک اس پر قابو پا لیا۔ اس بازار میں بنیادی طور پر کپڑوں، خشک میووں اور دست کاری کی دکانیں ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں مقامی ڈھابے اور کھانے پینے کی دکانیں بھی ہیں۔ متاثرہ دکانداروں کا اندازہ ہے کہ آگ میں کروڑوں روپے کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا ہے۔
آگ لگنے کی صحیح وجہ کی جانچ کے لیے فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہیں۔ افسران نے بتایا کہ حادثے میں کسی کے زخمی ہونے یا جان گنوانے کی اطلاع نہیں ہے۔ آگ پوری طرح بجھانے کو ترجیح دیے جانے کے باعث فی الحال مالی نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا نے اتوار کی دیر رات جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیو مارکیٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک اہم تجارتی مرکز ہے۔
مسٹر رندھاوا نے کہا، ”جب تک فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جائے حادثہ پر پہنچیں، تب تک پورا بازار آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔” انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ تقریباً 35 سے 40 دکانیں پوری طرح جل گئی ہیں۔ انہوں نے دکانداروں کو یقین دلایا کہ آگ پوری طرح بجھنے کے بعد نقصان کا مناسب اندازہ لگایا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ”ہم بعد میں انتظامیہ کے ساتھ معاوضے کے معاملے پر بات کریں گے۔ نقصان یقیناً بہت زیادہ ہوا ہے۔”
جموں کے ڈپٹی کمشنر منگا شیرپا، پولیس سپرنٹنڈنٹ (جنوبی) ورون جندیال اور شہری و پولیس انتظامیہ کے کئی دیگر سینئر افسران بھی جائے حادثہ پر پہنچے اور راحت رسانی اور آگ بجھانے کے کاموں کی نگرانی کی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے انٹرنیٹ تک رسائی کو بچوں سمیت سب کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے سی- سم کو ایڈریس کرنے کے لیے ڈیٹا بیس بنانے…
-
ہندوستان6 days agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
دنیا6 days agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
-
دنیا6 days agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
پاکستان1 week agoحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں نرمی کا دفاع کیا، زیلنسکی پر سخت تنقید
