جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کابینہ میں توسیع کی تقریب کل صبح ساڑھے دس بجے، وزرا کے نام شام تک سامنے آئیں گے: نیشنل کانفرنس
سری نگر، نیشنل کانفرنس نے پیر کے روز کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں نئے وزرا کی حلف برداری کی تقریب منگل کو صبح ساڑھے دس بجے سری نگر کے لوک بھون میں منعقد ہوگی۔ پارٹی نے بتایا کہ نئے وزرا کے ناموں کا اعلان پیر کی شام تک متوقع ہے۔
عمر عبداللہ حکومت کی تشکیل کے دو سال بعد پہلی مرتبہ کابینہ میں توسیع کی جارہی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس تقریب کے لیے دعوت نامے جاری کیے ہیں۔ حلف برداری کی تقریب لوک بھون کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوگی۔
نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان تنویر صادق نے کہا کہ کابینہ میں توسیع یا ردوبدل کا فیصلہ وزیر اعلیٰ کریں گے۔
انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ”کابینہ میں توسیع ہو یا ردوبدل، وزیر اعلیٰ جو چاہیں گے، وہی ہوگا۔” انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ عمر عبداللہ کو ہی کرنا ہے۔
تنویر صادق نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے پہلے اشارہ دیا تھا کہ وزرا کے ناموں کو حتمی شکل دینے سے قبل وہ پارٹی صدر فاروق عبداللہ سے مشورہ کریں گے۔ ان کے مطابق یہ عمل مکمل ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ میں شامل کیے جانے والے افراد کی فہرست پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے پاس ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ ”کسے شامل کیا جائے گا؟ متعلقہ افراد کو فون کال موصول ہوگی۔ اس بارے میں صرف پارٹی قیادت کو معلوم ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ناموں کا اعلان شام تک ہوجانا چاہیے۔
نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان نے بارہمولہ میں حال ہی میں دیے گئے پارٹی صدر فاروق عبداللہ کے بیان کا بھی دفاع کیا۔ انہوں نے بی جے پی کی جانب سے ان پر ملک سے غداری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اس معاملے پر ”چھوٹی سیاست” کررہی ہے۔
فاروق عبداللہ نے ہفتے کے روز پارٹی کی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے سیاسی تنازعہ پیدا کردیا تھا۔ انہوں نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ ہندوستان کا پڑوسی ملک کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر زندہ رکھ کر وادی کے لوگوں کا ”تحفظ” کررہا ہے۔ بی جے پی نے ان کے بیان کو ”ملک سے غداری پر مبنی” قرار دیتے ہوئے ان سے ملک کے عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔
تنقید کا جواب دیتے ہوئے تنویر صادق نے کہا کہ فاروق عبداللہ کے بیان کے کسی ایک حصے پر توجہ دینے کے بجائے ان کی پوری تقریر سنی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ”جن لوگوں نے اس بیان کو غلط رنگ دیا ہے، انہیں پہلے پوری تقریر سننی چاہیے۔”
تنویر صادق نے کہا کہ فاروق عبداللہ نے اپنی تقریر میں قبائلی حملہ آوروں اور پڑوسی ملک کی جانب سے کشمیر میں کیے گئے مظالم کا بھی ذکر کیا تھا۔ ان کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ نے اس بات کا حوالہ بھی دیا تھا کہ نیشنل کانفرنس کا ایک کارکن حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے آگے آیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ ”بی جے پی کی جانب سے کسی بیان کے ایک حصے کو سیاق و سباق سے الگ کرکے ملک میں گھٹیا اور چھوٹی سیاست کے لیے استعمال کرنا غلط ہے۔”
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کا ہندوستان سے الحاق تاریخی ہے، اس کی وحدت اور سالمیت ناقابلِ سمجھوتہ ہیں: بی جے پی صدر
جموں، جموں و کشمیر بی جے پی نے پیر کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر، ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی بھون، تریکوٹہ نگر میں حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ یومِ الحاق (ولے دیوس) منایا۔ اس موقع پر 26 اکتوبر 1947 کو ریاست جموں و کشمیر کے ہندوستانی یونین میں الحاق کا تاریخی فیصلہ کرنے والے مہاراجہ ہری سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر ست شرما نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے، کہا کہ 26 اکتوبر 1947 کو ریاست کے اُس وقت کے ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔
ست شرما نے جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما، رکن پارلیمنٹ جوگل کشور شرما، بی جے پی کی نائب صدر ریکھا مہاجن، جنرل سکریٹری بلدیو سنگھ بلیواریا اور رکن اسمبلی وکرم رندھاوا کے ہمراہ مہاراجہ ہری سنگھ کے مجسمے پر گلہائے عقیدت پیش کیے۔
اس کے بعد ملک کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کرنے والے فوجیوں، سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
ست شرما نے کہا کہ یہ دن ملک اور جموں و کشمیر کے عوام کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 26 اکتوبر محض تقویم کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ ہندوستان کے ساتھ جموں و کشمیر کے آئینی اور جذباتی رشتے کی بنیاد ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے ایک تاریخی فیصلہ کیا، جس نے ہندوستانی یونین کے اندر ریاست کے مستقبل کو محفوظ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کئی برسوں تک اس دن کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا یہ مستحق تھا، لیکن اب ہر شہری کو اسے فخر کے ساتھ یاد کرنا چاہیے۔
ست شرما نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کے ہر خطے اور ہر برادری کے امن، ترقی اور وقار کے لیے پُرعزم ہے۔
سنیل شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ہندوستان سے الحاق مکمل، حتمی اور ناقابلِ تنسیخ تھا۔ انہوں نے کہا، ”ہماری مسلح افواج اور ریاست کے ان لوگوں کی قربانیاں، جنہوں نے ہر چیلنج کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا، ہندوستان کی وحدت کے تحفظ کے ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس کی خاتون افسر اقوام متحدہ کے مشن کے لیے نامزد
جموں، جموں و کشمیر پولیس کی ایک خاتون افسر کو جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن (یو این ایم آئی ایس ایس) کے تحت ایک بین الاقوامی ذمہ داری کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
جموں کے خواتین پولیس تھانے میں اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے طور پر تعینات انسپکٹر سنجیون جیوتی کو جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ایک افسر نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
اقوام متحدہ کا مشن ایک چیلنجنگ ماحول میں کام کرتا ہے اور اس کے مینڈیٹ میں شہریوں کی حفاظت، امن کے قیام میں تعاون اور انسانی حقوق کو فروغ دینا شامل ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
یومِ الحاق پر محبوبہ مفتی کی عوام سے اپیل، جموں و کشمیر سے کیے گئے وعدوں کو یاد کریں
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کے روز ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے وقت کیے گئے وعدوں کو یاد کریں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے درمیان تعلقات اعتماد، سیکولرازم اور آئینی ضمانتوں کی بنیاد پر قائم ہوئے تھے، لیکن ان کے بقول اب ان ضمانتوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
محبوبہ مفتی نے سری نگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ”میں ملک کے تمام لوگوں سے درخواست کرتی ہوں کہ ہم نے ایسے ہندوستان کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا جو گاندھی کا بھارت، نہرو کا بھارت اور امبیڈکر کا بھارت ہے، جس نے ہمیں تمام حقوق دیے تھے۔ آج ان حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ میں ان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ان وعدوں کو یاد رکھیں۔ یہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں ہے۔”
ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب جموں و کشمیر میں یومِ الحاق منایا جا رہا ہے۔ اس دن 26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے دستاویزِ الحاق پر دستخط کیے جانے کی یاد منائی جاتی ہے۔ اس دستاویز کو 27 اکتوبر 1947 کو بھارت کے اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قبول کیا تھا، جس کے ساتھ ہی سابق شاہی ریاست کے بھارت سے الحاق کو باضابطہ شکل دی گئی۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر مسلم اکثریتی خطہ ہونے کے باوجود بھارت کے ساتھ شامل ہوا، کیونکہ یہاں کے لوگوں کو ملک کی سیکولر قیادت پر اعتماد تھا اور انہیں یقین تھا کہ ان کی منفرد شناخت اور حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ دستاویزِ الحاق اور اس کے بعد کیے گئے آئینی انتظامات میں جموں و کشمیر کو دی گئی یقین دہانیوں کی عکاسی ہوتی تھی۔ ان ضمانتوں کا مقصد خطے کی شناخت، زمین اور روزگار کے مواقع کا تحفظ کرنا بھی تھا۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، بی آر امبیڈکر، مولانا ابوالکلام آزاد اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی قیادت پر اعتماد کیا تھا۔ ان کے مطابق، ان رہنماؤں نے بھارت کو ایک ایسے سیکولر ملک کے طور پر دیکھا تھا جہاں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر رہ سکیں۔
الحاق کے وقت کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ 1947 میں پاکستان سے آنے والے قبائلی حملے نے واقعات کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کے دوران جموں و کشمیر کی قیادت نے بھارت سے مدد طلب کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام کو توقع تھی کہ ان کی سیاسی امنگوں اور خدشات کا احترام کیا جائے گا۔
تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یہ تعلقات خراب ہوتے گئے، خاص طور پر 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد، جب سابق ریاست کو تقسیم کرکے دو الگ الگ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کر دیا گیا۔
محبوبہ مفتی نے کہاکہ ”جموں و کشمیر کے لوگ آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں انہیں 1947 میں چھوڑ دیا گیا تھا۔” انہوں نے الزام لگایا کہ خطے کے عوام اب بھی پابندیوں، بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوجوانوں کو اب بھی پولیس کی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ تعلیم، روزگار اور دیگر مواقع کے لیے پاسپورٹ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو بھی دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے خطے میں لوگوں کی مسلسل حراست اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال کے ساتھ احتیاطی حراست سے متعلق قوانین پر بھی سوال اٹھائے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکومت کو جموں و کشمیر پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور جمہوری روابط کو فروغ دینا چاہیے۔
سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے طرزِ فکر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسائل کو انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے اصولوں کے تحت حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر آپ جموں و کشمیر کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو اسے گھسیٹیں نہیں۔ اسے ہتھیاروں کے زور پر اپنے ساتھ نہ گھسیٹیں۔ اس کے بجائے اس کا ہاتھ تھامیں اور اسے اپنے ساتھ چلنا سکھائیں۔”
محبوبہ مفتی نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال کا نوٹس لیں اور خطے کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور بھارت کے تعلقات کی رہنمائی انہی اصولوں اور یقین دہانیوں سے ہونی چاہیے جن کی بنیاد پر یہ رشتہ قائم ہوا تھا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا6 days agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں نرمی کا دفاع کیا، زیلنسکی پر سخت تنقید
-
دنیا1 week agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
دنیا6 days agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
-
دنیا1 week ago“نتن یاہو، جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو جنگ میں دھکیل رہا ہے: عراقچی
-
پاکستان1 week agoحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ثقافتی شعبے کی بحالی کے لیے محبوبہ مفتی کی امیت شاہ سے مداخلت کی اپیل
-
دنیا6 days agoہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
-
دنیا6 days agoجے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا
-
ہندوستان6 days agoبچوں کو موبائل اور آن لائن گیمنگ کی لت سے بچانے کے لیے کھیلوں، ڈرائنگ اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی پہل: پرمجیت…
