دنیا
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
غزہ، غزہ پٹی میں اسرائیلی زمینی اور فضائی حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔
طبی ذرائع اور امدادی کارکنوں کے مطابق، جنوبی غزہ کے خان یونس میں بے گھر افراد کے ایک کیمپ پر پیر کو اسرائیلی فضائی حملے میں ایک کمسن بچی سمیت چار فلسطینی ہلاک ہو گئے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق، پیر کو غزہ شہر کے مغربی علاقے ریمال میں اسرائیلی ڈرون حملے میں بھی ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ الشفا اسپتال نے بتایا کہ ڈرون نے خیمے میں مقیم بے گھر افراد کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا، جس میں ایک شخص کی موت ہو گئی۔
فلسطینی شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے پیر کو اس سے قبل بتایا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں اسرائیلی فائرنگ اور فضائی حملوں میں مجموعی طور پر 11 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے ہیں۔
بسال نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ”خان یونس کے مغرب میں المواصی کے علاقے میں بے گھر افراد کے ایک کیمپ کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ہم نے ایک بچے سمیت تین شہدا کی لاشیں منتقل کیں۔”
جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے ناصر اسپتال نے تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ بعد ازاں غزہ کی ایمرجنسی سروسز کے ایک ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم چار ہو گئی ہے۔
اسپتال کے مطابق، ”اسرائیلی میزائل کے ٹکڑے براہ راست لگنے سے ان کے جسم بری طرح متاثر ہوئے۔” اسپتال نے مزید بتایا کہ متعدد زخمیوں کو بھی علاج کے لیے لایا گیا، جن میں ایک بچہ اور ایک خاتون شامل ہیں۔
غزہ کی وزارت تعلیم کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں 21 سالہ حسام الزملی، 24 سالہ تامر ابو سنیمہ اور محض سات سالہ جوری الصوفی شامل ہیں۔
دریں اثنا، اسرائیلی فوج نے اتوار کی شب شجاعیہ جنکشن کے قریب بے گھر افراد کے ایک کیمپ کو آگ لگا دی، جس کے باعث 200 سے زائد خاندان، یعنی 800 سے زیادہ افراد، وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ متاثرین میں زیادہ تر خواتین، بچے، بزرگ اور مریض شامل تھے۔
غزہ کی وزارت تعمیرات عامہ و رہائش کے مطابق، اسرائیلی کواڈکاپٹر ڈرونز نے رات تقریباً آٹھ بجے کیمپ کو آگ لگا دی۔ خیمے اور لوگوں کا سامان کئی گھنٹوں تک جلتا رہا اور آگ آدھی رات کے بعد تک جاری رہی۔
وزارت نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بے گھر خاندانوں کو پناہ اور ضروری سامان فراہم کرنے کے لیے فوری بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے۔
غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 74,555 ہو گئی
غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، پیر تک غزہ پر اسرائیلی جنگ میں کم از کم 74,555 فلسطینی ہلاک اور 175,727 زخمی ہو چکے ہیں۔
طبی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ سال 11 اکتوبر کو امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک 1,559 افراد ہلاک اور 5,608 زخمی ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، بڑی تعداد میں متاثرین اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ ایمبولینس اور امدادی ٹیمیں ان تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل، 12500 سے زیادہ فلسطینی عورتوں کو قتل کر چُکا ہے
غزہ، اسرائیل اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی پر جاری حملوں میں 12 ہزار 500 سے زائد عورتوں کو قتل کر چُکا ہے۔قتل کی گئی ان عورتوں میں 9 ہزار سے زیادہ عورتیں مائیں تھیں۔
فلسطین وزارتِ امورِ خواتین اور فلسطین محکمہ شماریات نے فلسطین میں ہر سال 26 اکتوبر کو منائے جانے والے قومی یومِ خواتین کے موقع پر ایک مشترکہ تحریری بیان جاری کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں 12 ہزار 500 سے زائد عورتیں اپنی جانیں گنوا چکی ہیں۔ قتل کی گئی ان عورتوں میں سے 9 ہزار سے زیادہ مائیں اور 42 صحافی عورتیں بھی شامل ہیں۔
بیان کے مطابق اسی عرصے کے دوران غزہ پر اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے ایک لاکھ 75 ہزار افراد میں سے 14 فیصد خواتین ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں 28 ہزار 560 خواتین اپنے شوہروں سے محروم ہو چکی ہیں۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس وقت غزہ میں 50 ہزار حاملہ عورتیں موجود ہیں جو انتہائی نامساعد حالات میں اپنا حمل جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ اکتوبر 2023 سے اب تک خواتین میں اسقاطِ حمل کے 12 ہزار واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
بیان کے مطابق غزہ پر حملوں کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج اور فلسطینی اراضی پر قبضہ کرنے والے اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں جاں بحق ہونے والے 1,216 افراد میں 28 عورتیں بھی شامل ہیں۔
اسرائیل، اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی پرجاری حملوں میں کُل 74 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل ، ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد کو زخمی اور علاقے کے تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر چکا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر امریکہ نے بیرون ملک تعینات اہلکاروں کے لیے سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا
واشنگٹن، امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سرکاری ملازمین کی سلامتی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان کچھ سفارتی مشنوں سے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلانا شروع کر دیا ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹس میں ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کا امکان بھی بڑھ رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئے فوجی آپریشن کا اشارہ دیا ہے، جبکہ ایران نے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کا انتباہ دیا ہے۔ 23 اکتوبر کی ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، ایران نے بیرون ملک امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی سازشیں تیز کر دی ہیں۔ دریں اثنا، ایرانی فوج نے جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس کے اوپر امریکہ میں تیار کردہ ایک ڈرون کو مار گرایا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر سعودی عرب سے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کو نکلنے کا حکم دیا ہے۔ لبنان، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن میں بھی امریکی مشنوں کے عملے کی تعداد میں کمی کا منصوبہ ہے، جس سے سفارت کاروں کے اہل خانہ کو منتقلی کی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ ‘یو ایس ایس جارج واشنگٹن’ طیارہ بردار جہاز کے اسٹرائیک گروپ کو بھی تیار کیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیل ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علاقائی سلامتی کو کمزور کرنے کا الزام غیر ملکی افواج پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے امن لانے میں ناکام رہے ہیں۔ سفارتی اہلکاروں کی منتقلی اور فوجی تیاریوں کے درمیان مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑے تصادم کا خطرہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
یو این آئی ۔ م ع
دنیا
نیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
تل ابیب، اسرائیلی اپوزیشن لیڈر ایویگاڈور لیبرمین نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے خلاف غداری کے شبہ میں مجرمانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ منگل کے عام انتخابات میں شکست سے بچنے کے لیے اسرائیل کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر ‘کان’ کی رپورٹ کے مطابق، دائیں بازو کی جماعت ‘یسرائیل بیتینو’ کے رہنما لیبرمین نے اٹارنی جنرل گالی بہارو میارا کو ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی ہے۔
اپنے خط میں لیبرمین نے کہا کہ نیتن یاہو گزشتہ ایک ماہ سے سیکیورٹی کے اعلیٰ حکام پر ایسے اقدامات کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو ایران کے ساتھ فوجی تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔
لیبرمین نے لکھا کہ “گزشتہ ایک ماہ کے دوران، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سربراہان پر ایسے اقدامات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو ایران کے ساتھ کسی غلط فہمی یا غلط اندازے کا باعث بن سکتے ہیں۔”
انہوں نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ انتخابات میں ہارنے کے خوف سے اسرائیل کو ایک اور جنگ میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “انتخابات کے موقع پر ریاستِ اسرائیل کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش، اور محض انتخابی شکست کے خوف سے آئی ڈی ایف کے سپاہیوں کو قربان کرنے کی آمادگی، ریاست، اس کی سیکیورٹی اور آئی ڈی ایف کے جوانوں کے ساتھ غداری کے زمرے میں آتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ میں غداری کے شبہ میں نیتن یاہو کے خلاف فوری طور پر مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔”
اسرائیلی اخبار ‘معاریو’ کے مطابق، اس سے قبل پیر کو لیبرمین نے اسرائیلی ریڈیو اسٹیشن 103FM کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران بھی اسی طرح کے الزامات لگائے تھے۔
لیبرمین نے نیتن یاہو پر انتخابی شکست کے خوف سے فوجیوں کی جانیں قربان کرنے پر آمادگی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ “نیتن یاہو واضح طور پر ریاست کے ساتھ غداری کر رہے ہیں اور وہ ہمیں جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان اب تک کی بے مثال کشیدگی کا دعویٰ بھی کیا۔انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار ایران کے ساتھ تصادم کو ہوا دینے کی نیتن یاہو کی کوششوں کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ “فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان اس طرح کے کشیدہ تعلقات پہلے کبھی نہیں رہے جیسے آج ہیں۔
لیبرمین نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا فوجی اقدام جو ممکنہ طور پر جنگ یا بڑے پیمانے پر تصادم کا باعث بن سکتا ہو، اسرائیلی قانون کے تحت حکومتی غور و خوض اور منظوری کا تقاضا کرتا ہے۔
انہوں نے نیتن یاہو پر سینٹرل الیکشن کمیٹی اور انتخابی نتائج کے جواز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام بھی لگایا، اور خبردار کیا کہ ایسی کوششیں شدید اندرونی تصادم کو جنم دے سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، “ہم بیک وقت نیتن یاہو کی جانب سے سینٹرل الیکشن کمیٹی اور انتخابی نتائج کو غیر قانونی قرار دینے کی تیز تر کوششیں دیکھ رہے ہیں، چاہے اس کی قیمت شدید اندرونی تصادم، خانہ جنگی اور ریاست کی تباہی کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔”
لیبرمین نے مزید دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو انتخابات ہارنے کے امکان سے واقف ہیں اور اسی لیے وہ ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، “نیتن یاہو بھی جانتے ہیں کہ وہ ہارنے والے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی یہ تمام تر گھبراہٹ اور ہمیں جنگ میں دھکیلنے کی کوشش ہے۔
لیبرمین کے الزامات پر نیتن یاہو کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان7 days agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں نرمی کا دفاع کیا، زیلنسکی پر سخت تنقید
-
دنیا1 week agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
دنیا6 days agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
-
دنیا6 days agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week ago“نتن یاہو، جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو جنگ میں دھکیل رہا ہے: عراقچی
-
پاکستان1 week agoحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
-
دنیا6 days agoہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
-
دنیا6 days agoجے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ثقافتی شعبے کی بحالی کے لیے محبوبہ مفتی کی امیت شاہ سے مداخلت کی اپیل
-
دنیا6 days agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
