ہندوستان
سپریم کورٹ مارچ کے دوران مبینہ دھکا دینے کے معاملے میں حاملہ صحافی کی عرضی پر سپریم کورٹ کا نوٹس، راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر کا مطالبہ
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے منگل کے روز ایک حاملہ صحافی کی جانب سے دائر عرضی پر نوٹس جاری کیا، جس میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف مبینہ طور پر دھکا دینے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ صحافی نے الزام لگایا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب مارچ کے دوران راہل گاندھی نے انہیں دھکا دیا تھا۔
تین ماہ کی حاملہ صحافی رچا پراشر نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے عدالت کے احاطے میں سیاسی مظاہروں سے متعلق ایک معاملے میں فریق بنائے جانے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 12 اکتوبر کو ‘انڈیا بلاک’ کے رہنماؤں کے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کے دوران راہل گاندھی نے انہیں دھکا دیا تھا۔
صحافی نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ کے دروازے کے قریب راہل گاندھی نے انہیں زور سے دھکا دیا، جس کے نتیجے میں وہ گر پڑیں، ان کا فون خراب ہو گیا اور انہیں پیٹ میں درد ہونے لگا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 40 منٹ تک انہیں کوئی مدد نہیں ملی اور بعد میں انہیں عوامی سطح پر تضحیک اور آن لائن بدسلوکی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
راہل گاندھی اور دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کے ساتھ پولیس میں شکایت درج کرانے کے باوجود اب تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ صحافی نے ایف آئی آر درج کرنے، سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے، معاوضہ دینے، معافی مانگنے اور خود اپنے اہل خانہ کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
سینئر وکیل گورو بھاٹیا نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے سامنے اس درخواست کا ذکر کیا، جس کے بعد بنچ نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
رام مندر ٹرسٹ کے چندے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کا کانگریس کا مطالبہ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے منگل کے روز ایودھیا میں رام مندر ٹرسٹ میں مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 2020 میں ایک آڈٹ فرم کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کی گئی تنبیہات کے باوجود اصلاحی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے خاموشی توڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پوچھا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کا ذمہ دار کون ہے اور کیا بااثر افراد کو جانچ کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ملک یہ جاننا چاہتا ہے کہ چندہ چرانے والے کون ہیں اور ان کے ساتھی کون ہیں۔” انہوں نے سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
رمیش نے ایک نجی آڈٹ فرم کی جانب سے نومبر 2020 میں مبینہ طور پر پیش کی گئی داخلی آڈٹ اور رسک مینجمنٹ کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔ یہ رپورٹ اسی سال 5 فروری کو ٹرسٹ کے قیام کے چند ماہ بعد پیش کی گئی تھی۔
کانگریس رہنما کے مطابق، اس رپورٹ میں ٹرسٹ کے کام کاج میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان میں ذمہ داریوں کی غیر واضح تقسیم، چندے کا ریکارڈ درج کرنے کے لیے منظم نظام کی عدم موجودگی، لین دین اور ڈیٹا اندراجات کی ناکافی تصدیق، نیز حساب کتاب اور بینک کھاتوں کے ملاپ کے لیے اہل عملے کی کمی شامل تھی۔
رمیش نے کہا کہ آڈٹ فرم نے مبینہ طور پر اس بات کی بھی نشاندہی کی تھی کہ ہزاروں ملازمین ہونے کے باوجود ٹرسٹ میں انسانی وسائل کا کوئی مخصوص شعبہ موجود نہیں تھا۔ فرم نے ٹرسٹ کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے زیر انتظام ڈیٹا کو محفوظ رکھنے اور اس کی تصدیق کے انتظامات پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ اس نے خبردار کیا تھا کہ غیر پیشہ ورانہ انتظام اور ڈیٹا کو مناسب طریقے سے نہ سنبھالنے کے نتیجے میں غلط معلومات اور گمراہ کن رپورٹیں سامنے آ سکتی ہیں۔
ان کے مطابق، فرم نے مالی لین دین، ڈیٹا مینجمنٹ اور عملے کی ذمہ داریوں کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار وضع کرنے کے ساتھ ساتھ زیورات جیسے قیمتی نذرانوں کے لیے مناسب اسٹاک رجسٹر برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی۔ رمیش نے سوال کیا کہ مبینہ طور پر ان سفارشات پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں سامنے آنے والی خامیاں عقیدت مندوں کی جانب سے دیے جانے والے چندے کے تحفظ کے لیے موجود انتظامات کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔
کانگریس رہنما نے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے منسوب نتائج کا بھی حوالہ دیا۔ ان نتائج میں الزام لگایا گیا ہے کہ گنتی کے کمرے سے 105 مرتبہ نقد رقم نکالی گئی، جبکہ ملازمین سی سی ٹی وی کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی نظر میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آڈٹ کی سابقہ تنبیہات کے باوجود مبینہ طور پر ایسے واقعات کیسے پیش آ سکتے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تفتیش کار اس بات کا تعین کریں کہ آیا ان واقعات میں انفرادی ملازمین ملوث تھے یا یہ نگرانی اور جواب دہی کے نظام کی وسیع تر ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔
جاری یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
دفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
نئی دہلی، وزارت دفاع نے پیر کو تینوں افواج کے لیے تقریباً 2.12 لاکھ کروڑ روپے کی دفاعی خریداری کے منصوبوں کو اصولی منظوری دے دی۔ ان میں جدید توپ خانے کے نظام، ہلکے کثیرمقاصد ہیلی کاپٹر، فضائی دفاعی نظام اور نگرانی و حملے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرون سمیت کئی طرح کے آلات کی خریداری شامل ہے۔
مجوزہ خریداری کی مجموعی مالیت کا تقریباً 82 فیصد حصہ ہندوستانی صنعتوں سے حاصل کیا جائے گا۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقدہ دفاعی خرید کونسل (ڈی اے سی) کی میٹنگ میں ان خریداری منصوبوں کو منظوری دی گئی۔
ان منصوبوں میں فوج کے لیے زیادہ نقل و حرکت کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں، گن شاٹ رسپانس سسٹم، بغیر پائلٹ فضائی نظام کا مقابلہ کرنے والے نظام، طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ڈرون، مربوط نگرانی و حملہ نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے کامیکازی ڈرون نظام کی خریداری بھی شامل ہے۔
زیادہ نقل و حرکت کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیاں دشوار گزار علاقوں میں فوج کی نقل و حرکت اور رسد کے انتظام کو بہتر بنائیں گی۔ خودکار، خود حرکت کرنے والے ٹریک پر مبنی توپ خانے کے نظام سے میکانائزڈ فوجی دستوں کو ان کی ضروریات کے مطابق نقل و حرکت اور مار کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگی۔ گن شاٹ رسپانس سسٹم فوجیوں کو حقیقی وقت میں صورت حال کی معلومات فراہم کرنے میں مدد دے گا۔
ہلکے کثیرالمقاصد ہیلی کاپٹروں کو فوج اور فضائیہ جاسوسی، نگرانی، جنگی کارروائیوں، تلاش و بچاؤ اور انسانی امداد و آفات سے نمٹنے کے کاموں میں استعمال کریں گی۔ انتہائی کم فاصلے تک مار کرنے والا فضائی دفاعی نظام نئی نسل کے چھوٹے فضائی خطرات سے نمٹے گا، جبکہ بغیر پائلٹ فضائی نظاموں کا مقابلہ کرنے والا نظام جدید میدانِ جنگ میں ٹینکوں کی حفاظت کو مضبوط بنائے گا۔ نگرانی اور ڈرون نظاموں سے فوج کی نگرانی اور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
بحریہ کے لیے ایکٹو آف بورڈ ڈیکوائے سسٹم (اے او ڈی ایس) اور دیگر اہم بحری پلیٹ فارموں کی خریداری کو منظوری دی گئی۔ اے او ڈی ایس جہاز شکن میزائلوں کے خلاف میزائل دفاع کو مزید مضبوط بنائے گا۔
مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیے جانے والے اہم بحری پلیٹ فارم جدید جنگ کی ضروریات کے مطابق ہوں گے اور بحریہ کی جنگی صلاحیت میں اضافہ کریں گے۔
فضائیہ کے لیے ہیلی کاپٹروں، فضائی دفاعی نظام، ہتھیاروں اور موبائل ایکس بینڈ ڈوپلر موسمی ریڈار نظام کی خریداری کو منظوری دی گئی۔ خصوصی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر فضائیہ کی اہم فضائی نقل و حمل کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیں گے۔ وہیں، ایکس بینڈ ڈوپلر موسمی ریڈار نظام اگلے محاذ کے علاقوں میں مقامی موسم کی تفصیلی نگرانی فراہم کرے گا۔ ان خریداری منصوبوں کا مقصد دفاعی افواج کے فضائی دفاع اور جنگی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
برکس کے مشترکہ عہد و پیمان کو ٹھوس نتائج میں بدلنے کی ضرورت: اوم برلا
نئی دہلی، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے برکس ممالک سے عالمی جنوب کے ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مضبوط بنانے اور ان کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر برکس کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس لیے اس کے مشترکہ عہد و پیمان کو ٹھوس نتائج میں بدلنے اور پارلیمانوں کو زیادہ مؤثر اور عوام پر مرکوز بنانے کی ضرورت ہے۔
مسٹر برلا نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں واقع سمودھان سدن کے مرکزی ہال میں 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے پارلیمانی وفود کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں ان وفود کی موجودگی اور جمہوری اقدار کے تئیں ان کا مشترکہ عزم خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ برکس کے قیام کے 20 سال مکمل ہونا اس کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برکس ممالک دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور دنیا کے تقریباً ایک تہائی رقبے پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کی توسیع کے ساتھ عالمی حالات اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہونے کی اس کی صلاحیت بھی بڑھ رہی ہے۔
مسٹر برلا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ برکس سربراہ اجلاس میں مشترکہ اعلامیے کو اتفاق رائے سے منظور کیے جانے کو ایک اہم کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اب ان مشترکہ عہد و پیمان کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی تنازعات، اقتصادی عدم استحکام، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجوں کا حل مکالمے، سفارت کاری اور پارلیمانی تعاون کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستان کو مادرِ جمہوریت قرار دیتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی مکالمے، نظریاتی تنوع اور اتفاق و اختلاف کے درمیان باہمی احترام میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس کی اصل طاقت تنوع کو مشترکہ مقصد میں تبدیل کرنے میں ہے اور رکن ممالک کو مشترکہ امنگوں کو ٹھوس پالیسیوں اور عملی تعاون میں بدلنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘عوام پر مرکوز ترقی کے لیے پارلیمانوں کو مضبوط بنانا’ کے موضوع پر منعقدہ اس دو روزہ کانفرنس میں لچک، اختراع، تعاون اور پائیدار ترقی کے معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔ مسٹر برلا نے کہا کہ پارلیمانوں کو اختراع، شفافیت، جواب دہی اور عوامی شراکت داری کے ذریعے زیادہ مؤثر بنایا جانا چاہیے، تاکہ وہ لوگوں کی ضروریات اور امنگوں کو بہتر طریقے سے پورا کر سکیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی امنگوں کو ترجیح دینے، ان کی صلاحیتوں کو ملک کی تعمیر سے جوڑنے اور ترقی و ماحولیات کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ برکس ممالک کے درمیان پارلیمانی تعاون سے امن، خوش حالی اور پائیدار ترقی کو فروغ ملے گا۔
برکس پارلیمانی فورم کی یہ کانفرنس 26 اور 27 اکتوبر کو یہاں منعقد کی جا رہی ہے۔ اس میں برکس کے 11 رکن ممالک اور 10 شراکت دار ممالک کے پارلیمانی وفود شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں مختلف اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے، انسان مرکوز اختراع کو فروغ دینے اور زیادہ نمائندہ عالمی نظامِ حکمرانی کو یقینی بنانے میں پارلیمانوں کے کردار پر تبادلۂ خیال ہو رہا ہے۔ اخلاقی مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، عالمی نظامِ حکمرانی میں اصلاحات اور پائیدار ترقی جیسے موضوعات پر بھی ماہرین کے ساتھ غور و خوض کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس کے دوران برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کی پارلیمانوں کی بین الاقوامی امور کی کمیٹیوں کے سربراہان کا خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، مختلف اجلاسوں میں ماہرین اپنے خیالات پیش کریں گے اور رکن ممالک کے نمائندوں کے درمیان دو طرفہ بات چیت بھی ہوگی۔
یواین آئی۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
-
دنیا7 days agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں نرمی کا دفاع کیا، زیلنسکی پر سخت تنقید
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ثقافتی شعبے کی بحالی کے لیے محبوبہ مفتی کی امیت شاہ سے مداخلت کی اپیل
-
دنیا1 week agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
دنیا7 days agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
دنیا1 week agoہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
-
دنیا1 week ago“نتن یاہو، جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو جنگ میں دھکیل رہا ہے: عراقچی
-
پاکستان1 week agoحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
-
دنیا7 days agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
