تازہ ترین
بھاجپا لیڈر کا بیان ائرسٹرائیک سے بھاجپا زیادہ سیٹیں حاصل کرے گی: اپنوں نے کی تنقید
خبراردو:
https://www.facebook.com/ShockingVidss/videos/337553927105144/
ہندوستانی فضائیہ کی ’ائیر اسٹرائیک‘ سے متعلق کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی ریاستی صدر بی ایس یدی یورپّا نے جو سیاسی تبصرہ کیا اس کے بعد وہ اپنوں کے بھی نشانے پر آ گئے ہیں۔ مودی کابینہ میں وزیر وی کے سنگھ نے انھیں سختی کے ساتھ نصیحت دی ہے کہ وہ ایسے کشیدہ ماحول میں سیاست نہ کریں۔
.@BSYBJP ji, I beg to differ. We stand as one nation, action taken by our government is to safeguard our nation & ensure safety of our citizens, not to win a few extra seats. https://t.co/V06LBMAJH3
This speech by Atal ji highlights our position:https://t.co/UyhobIpAny
— Vijay Kumar Singh (@Gen_VKSingh) February 28, 2019
اس تعلق سے جنرل وی کے سنگھ نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’بی ایس یدی یورپّا جی، میں آپ سے متفق نہیں ہوں۔ ہم ایک ملک کی شکل میں کھڑے ہیں۔ ہماری حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم ملک کی سیکورٹی اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ہیں نہ کہ کچھ اضافی سیٹ جیتنے کے لیے۔‘‘
دراصل بی ایس یدی یورپّا نے 27 فروری کو کرناٹک کے چتردرگ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں پر ہندوستانی ’ائیر اسٹرائیک‘ سے پی ایم نریندر مودی کے حق میں لہر پیدا ہو گئی ہے۔ اس سے بی جے پی کو لوک سبھا انتخاب 2019 میں کرناٹک میں فائدہ ہوگا اور 28 میں سے 22 سیٹیں جیتنے میں مدد ملے گی۔‘‘ یدی یورپّا کے اس بیان کے بعد سے ہی انھیں کئی سیاسی لیڈروں اور میڈیا پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اب ان کے ’اپنے‘ وی کے سنگھ نے بھی تقریباً ڈانٹ لگاتے ہوئے کہہ دیا کہ ’’ہماری حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم ملک کی سیکورٹی اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ہیں نہ کہ کچھ اضافی سیٹ جیتنے کے لیے۔‘‘
BJP leader #Yeddyurappa statement claiming party will get 22 seats in Karnataka as a consequence of #BalakotAirStrike is revolting and an absolute insult to #WingCommanderAbhiNandan and the 40 CRPF soldiers martyred in Pulwama. UGH.
— barkha dutt (@BDUTT) February 28, 2019
یدی یورپّا کے بیان کے بعد جن لوگوں نے ان کے بیان کی پرزور مذمت کی ان میں معروف صحافی برکھا دَت بھی شامل ہیں۔ ایک ٹوئٹ میں انھوں نے بی جے پی لیڈر کے بیان کو فوج اور جانباز فوجیوں کی بے عزتی قرار دیا ہے۔ انھوں نے واضح لفظوں میں لکھا ہے کہ ’’ یدی یورپّا کے ذریعہ بالاکوٹ ائیر اسٹرائیک کی وجہ سے کرناٹک میں پارٹی کے 22 لوک سبھا سیٹ حاصل کرنے کا بیان وِنگ کمانڈر ابھینندن اور پلوامہ میں شہید 40 سی آر پی ایف جوانوں کی بے عزتی ہے۔‘‘
Dear Modiji/ Jaitleyji,
Any more questions on politicisation?
Regards,
132 Crore Indians.https://t.co/RlbCNyRUY5— Randeep Singh Surjewala (@rssurjewala) February 28, 2019
کانگریس لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا نے یدی یورپّا کے مذکورہ بیان کو سامنے رکھ کر پی ایم مودی اور مرکزی وزیر ارون جیٹلی کے سامنے سوال داغ دیا ہے۔ انھوں نے نیوز18 کی ایک خبر کا لنک شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے اور سوال پوچھا ہے کہ حکومت جنگ اور ماحول میں کشیدگی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے پیدا کر رہی ہے۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی نے بھی یدی یورپّا کے بیان کے لیے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے لیے جوانوں کی شہادت کا استعمال کرنے کو شرمناک قرار دیا ہے۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
