تازہ ترین
جماعت پر پابندی کے بعد 300اسکول، 10ہزار اساتذہ اور 1لاکھ سے زائد طلاب کا مستقل دائو پر
خبراردو:
مرکزی حکومت کی طرف غیر قانونی قرار دی گئی جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم لاکھوں طلبا و طالبات کے والد ین سخت پریشانیوں میں مبتلا ہوئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ریاست کے کونے کونے میں پھیلے فلاح عام ٹرسٹ کے نیٹ ورک کے تحت چل رہے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے تئیں انتہائی فکر مند ہے ۔
مرکزی حکومت کی طرف سے جاری آرڈر کے بعد لوگوں کے دلوں میں یہ خدشات زور پکڑتا جارہا ہے کہ جماعت سے وابستہ دیگر شعبہ جات کو بھی ریاستی سرکار اپنی تحویل میں لے گی۔ اس سلسلے میں فلاح عام ٹرسٹ چیرمین محمد مقبول نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ اگر چہ مرکزی حکومت نے جماعت کو جمعرات کی شام دیر گئے غیر قانونی قرار دے کر 5سال کے لیے اس پر پابندی عائد کی تاہم فلاح عام ٹرسٹ معمول کے مطابق اپنا کام کاج سنبھالے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فلاح عام ٹرسٹ کا جماعت کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ محمد مقبول کا کہنا تھا کہ جماعت دینی و سیاسی تنظیم ہے اور فلاح عام کے سامنے تعلیمی پروگرام زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت فلاح عام ٹرسٹ کے تحت مجموعی طور پر 300اسکول چل رہے ہیں جن میں صرف 18اسکول براہ راست فلاح عام ٹرسٹ کے ساتھ وابستہ ہے جبکہ بقیہ اسکول متعلقہ علاقوں میں مقامی انتظامیہ ہی چلارہی ہے اور فلاح عام کا ان پر صرف تین معاملات پر تعلق ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر چلائے جارہے اسکولوں کے ساتھ فلاح عام کا صرف اتنا تعلق ہے کہ ہم وہاں امتحانات کو منعقد کرانے، نصاب و اساتذہ کی فراہمی کو ممکن بنانے میں اپنا رول ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1990میں جب جماعت اسلامی پر حکومت نے پابندی عائد کی تو اُس وقت کی سرکار نے فلاح عام ٹرسٹ پر بھی ہاتھ ڈال کر تعلیمی اداروں کے کام کاج کو معطل کیا تاہم ہم نے اُس وقت سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاجس کے بعد حکومت فیٹ کے خلاف عائد الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہی ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فلاح عام ٹرسٹ کو اُ سوقت اپنے تعلیمی اداروں میں کام کاج کوبحال کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد حالات معمول پر آگئے۔
فیٹ چیرمین کا کہنا تھا کہ ہمارے اسکول ریاست کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں جہاں پر 10ہزاور سے زائد اساتذہ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ ان تعلیمی اداروں میں ایک لاکھ سے زائد طلبا و طالبات تعلیم کے نور سے منور ہورہے ہیں جن میں بلالحاظ رنگ، نسل اور مذہب طلباوطالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فعٹ کے تحت چلنے والے اداروں میں غریب، مفلس اور یتیم طلبا و طالبات کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے اور اگر حکومت نے جلد بازی سے کوئی بھی قدم اُٹھایا تو ایسے میں سماج کا کمزور اور مفلوک الحال طبقہ تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فعٹ کے تحت چلنے والے اداروں کے خلاف اگر حکومت نے کوئی غلط قدم اُٹھایا تو اس سے سماج میں عدم توازن واقع ہوجائیگا کیوں کہ فیٹ سراسر تعلیمی میدان میں سرگرم ہے اور اس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔
وادی کے کئی علاقوں سے فعٹ سے وابستہ اسکولوں کو پولیس کی طرف سے نوٹس اجرا ہونے پر انہوں نے بتایا کہ ہم حالات پر گہرائی سے نظر بنائے ہوئے ہیں اور اگر اس طرح کی مزید نوٹسیں اجرا ہوئی تو ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
