تازہ ترین
جموں وکشمیر کا اڑھائی اضلاع کا مسئلہ ہے تو شاہراہ پر پابندی اور اسمبلی الیکشن میں تاخیر کیوں؟: عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے منگلوار کو شمالی کشمیر کے سمبل علاقے میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا عظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ موصوف کشمیر کے معاملے میں گمراہ کن بیانات کا سہارا لے کر عوام کو اصل صورتحال سے بے خبر رکھ رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ مرکز میں بیٹھے حکمران آج بھی سچ بولنا پسند نہیں کرتے، میں آج اُس وقت حیران ہوا جب میں نے ٹیلی ویژن پر انٹرویو دیتے ہوئے ہندوستان کے وزیر اعظم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جموں وکشمیر میں کوئی مسئلہ ہی نہیں اور یہ اڑھائی اضلاع کا مسئلہ ہے۔ میں نریندر مودی سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ اگر جموں وکشمیر کا مسئلہ صرف اڑھائی اضلاع کا مسئلہ ہے تو پھر ادھمپور سے لیکر اوڑی تک شاہراہ دو دن کیلئے بند کیوں رکھی جاتی ہے؟اگر جموں وکشمیر کا مسئلہ صرف اڑھائی اضلاع کا مسئلہ ہے تو پھر یہاں پر اسمبلی الیکشن کیوں نہیں کرائے جارہے ہیں؟ ہمیں اپنی جمہوری حکومت سے محروم کیوں رکھاجارہا ہے اور ہمیں اُن کے لوگوں کے بلبوتے کیوں رکھا گیا ہے جو جموں میں بیٹھ کر شاہی فرمان جاری کرتے ہیں؟ مسئلہ اڑھائی اضلاع کا ہے تو پھر باقی جگہوں سے افسپا منسوخ کیوں نہیں کیا جارہا ہے؟عمرعبداللہ نے بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ مرکز جموں وکشمیر کے زمین حقائق سے متعلق خود کو اور ملک کے لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں پارلیمنٹ میں ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو وہاں جموں وکشمیر کی آواز بنیں اور یہاں کی زمینی صورتحال اور عوامی اُمنگوں کی ترجمانی کرسکے۔
2014میں ہماری ریاست سے جو نمائندے گئے وہ ہماری نمائندگی نفی برابر نہیں کرسکے اور بارہمولہ سے گئے رکن پارلیمان نے تو اُس وقت حد کی پار کردی جب اُس نے دلی جاکر کہا کہ کشمیری نوجوانوں دو عدد کُرتے پجامے کیلئے بندوق اُٹھاتا ہے اور یہ باتیں پی ڈی پی ممبر پارلیمنٹ نے وزیر اعظم کے سامنے کہیں۔ اب اگر آپ کا نمائندہ ہی آپ کی صحیح ترجمانی نہ کرپا یا تو غیروں سے ہم کیا اُمید رکھ سکتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ آج کے انتخابات میں بھی کچھ لوگ مختلف قسیم کے لبادے اوڑھ کر اور مختلف نشان لیکر آر ایس ایس اور بھاجپا کے خاکوں میں رنگ بھر رہے ہیں، پی ڈی پی اور پی سی ان میں پیش پیش ہے،ہم ایسی جماعتوں اور عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی سیاسی گاڑی جھوٹ کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ آج یہ عناصر ہر بات پر بیان بازی، مذمت، ملامت اور ہمدردی کرتے نظر آرہے ہیں لیکن جب یہ لوگ بھاجپا کیساتھ مخلوط اتحاد میں تھے تب ان لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا، 2016کے بعد جب یہاں کے عوام کو بد سے بدترین مظالم ڈھائے جارہے تھے ، تب یہ لوگ خاموش تھے۔
جب یہاں مسلسل ہلاکتیں ہورہی تھیں تب یہ خاموش تھے۔ جب پیلٹ گنوں سے ہزاروں لوگ زخمی، اپاہج اور نابینا ہورہے تھے ، تب ان لوگوں کے منہ سے آہ تک نہیں نکلی۔ جب یہاں ایک ساتھ 15ہزار نوجوان گرفتار کئے گئے تب ان کی آواز نہیں نکلی۔ بس جونہی کرسی گئی بیان بازیاں، آج ہر بات پر ہمدردیاں، مذمت اور مگرمچھ کے آنسو ۔یہی لوگ آج ریاست کے تشخص کے دفاع کے دم بھر رہے ہیں لیکن جب یہ دونوں جماعتیں بھاجپا کیساتھ مخلوط اتحاد میں تھیں تو ان جماعتوں نے نہ صرف ریاست پر جی ایس ٹی، فوڈ ایکٹ اور سرفیسی ایکٹ جیسے قوانین لاگو کروانے میں بھر پور تعاون دیا۔اس سے بڑی موقعہ پرستی کی اور کیا مثالیں ہوسکیں ہیں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی اور پی سی نے بھاجپا کیساتھ حکومت کی اور یہاں این آئی اے کو تمام سختیاں کرنے کی اجازت دی اور ان کیلئے مقامی پولیس کی خدمات بھی میسر رکھیں، کل ہی ہماری ریاست کے سب سے بڑی مذہبی لیڈر میرواعظ عمر فاروق کو دلی طلب کیا گیا اور 9گھنٹے تک اُن سے پوچھ تاچھ کی گئی اور آج دوبارہ حاضری دینے کیلئے کہا گیا تھا۔ اس سب کی اجازت کس نے دی۔اگر اُس وقت حکومت میں رہ کر ان دونوں جماعتوں نے این کو روکا ہوتا تو آج حالات یہاں تک نہیں پہنچ گئے ہوتے۔
این سی نائب صدر نے کہا کہ پی ڈی پی نے بھاجپا کیساتھ اتحاد کرتے ہوئے یہاں کے لوگوں کو ایجنڈا آف الائنس کے نام پر گمراہ کیا لیکن ایک بھی وعدے کو پورا نہیں کیا گیا، اُلٹا یہاں کے حالات کو بدتر بنادیا گیا اور خصوصی پوزیشن پر حملے کروانے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہماری شناخت، ہماری پہنچان، ہماری خصوصی پوزیشن کو خطرہ لاحق ہے تو ہم غلط نہیں کہتے کیونکہ پی ڈی پی اور پی سی جیسے اندرونی لوگ آر ایس ایس اور بھاجپا کے مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ دفعہ370اور دفعہ35اے صرف ہماری پہچان اور ہماری شناخت کا مسئلہ نہیں بلکہ ان دفعات کیساتھ ہمارا مستقبل جڑا ہو اہے۔ انہوں نے کہا کہ 35اے کے ذریعے ہمارا سٹیٹ سبجیکٹ قانون محفوظ ہے اور سٹیٹ سبجیکٹ قانون کی بدولت ہی شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کا زرعی اصلاحات کا تاریخی اور انقلابی اقدام ممکن ہوپایا اور ساری زمین مقامی باشندوں کو ملی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہوتا تو آج یہاں بھی باقی ریاستوں کی طرح کسان قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوتے اور وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوتے۔ باقی ریاستوں میں ایسے واقعات اس لئے رونما ہورہے ہیں کیونکہ وہاں کے کسان اُس زمین کے مالک نہیں ہوتے ہے جس پر وہ فصل کی کاشت کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے ہم اس دفعہ35اے کی رکھوالی کریں ،یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے ،ہم آخری سانس تک اس کو بچا کے رکھیں گے اور ہم کوئی بھی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
