تازہ ترین
لوک سبھا انتخابات 2019کا پہلا مرحلہ پرامن طور اختتام پذیر ،47اُمیدواروں کی سیاسی قسمت الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند
خبراردو:
لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران جمعرات کو بارہمولہ کپوارہ اور جموں اُدھم پور کی دو پارلیمانی نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے جس دوران پولنگ مراکز پر کہی کہی ووٹران کا بھاری رش دیکھا گیا جبکہ بعض مقامات پر دن بھر الو بولتے ہوئے نظر آئے۔ ووٹنگ عمل کی شروعات صبح 7بجے سے شروع ہوکر شام 6بجے تک جاری رہی جس دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے اُمیدواروں اور کارکنوں نے پولنگ مراکز کا رخ کرتے ہوئے نعروں کی گونج کی بیچ ووٹ ڈالے۔اس دوران ووٹنگ کو خوش اسلوبی اور خوشگوار ماحول میں منعقد کرانے کی خاطر پولیس اور سیول انتظامیہ نے سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات عمل میں لائے تھے۔ معلوم ہوا کہ پولیس کی طرف سے پولنگ والے علاقوں میں ایس ایس پی اور آرمڈ کمانڈنٹس کوآپس میں مربوط رہنے اور حالات کا زمینی سطح پر وقفے وقفے سے جائزہ لینے کی خاطر مکلف ٹھہرایا گیا۔ پولیس کی طرف سے پولنگ مراکز کے ارد گرد خصوصی دستوں جن میں پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکار شامل تھے کو تعینات کردیا گیا تھا جبکہ پولنگ مراکز کے ارد گرد تین دائروں والی سیکورٹی کو کسی بھی امکانی چیلنج سے نمٹنے کے لیے خصوصی ہدایت دی گئی تھیں۔ اس دوران صبح 7بجے سے شروع ہوئی ووٹنگ عمل کے دوران کہی ووٹران کا بھاری رش تو کہی ووٹران کی عدم دلچسپی دیکھی گئی تاہم مجموعی طور پر شام دیر گئے ووٹنگ کی شرح میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔
اُوری اور بارہمولہ میں دن بھر رائے دہندگان کی پولنگ مراکز کی جانب پیش قدمی کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہاں ووٹوں کی گنتی میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ کے این ایس نمائندے منظور شیری کے مطابق سہ پہر 3بجے تک اُوڑی میں 50.4، رفیع آباد9.53، سوپور3.2، سنگرامہ9.71، بارہمولہ12.40، گلمرگ25.95اور پٹن حلقہ انتخاب میں 24.43فیصدی ووٹ ڈالے گئے جو کل ملا کر 19.2فیصدی کا پارہ چھو گیا۔نمائندے کے مطابق بارہمولہ کے خانپورہ علاقے میں لوگوں نے ووٹنگ عمل کے تئیں عدم دلچسپی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے پولنگ مرکز سے دوری بنائے رکھی۔ معلوم ہوا کہ خانپورہ میں قائم پولنگ مراکز میں 3000ووٹ تھے جن میں صرف 30ووٹ ہی ڈالے گئے۔ انہوں نے کہا کہ خانپورہ نامی علاقے میں چار پولنگ مراکز92، 93، 94اور 95قائم کئے تھے جہاں پر ووٹنگ کی دھیمی رفتار کا مشاہدہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں قائم پولنگ مرکز نمبر92میں 960ووٹ تھے جن میں صرف 3ووٹ ڈالے گئے، اسی طرح پولنگ مرکز نمبر 93میں 566ووٹ ڈالے جانے تھے تاہم یہاں پر بھی صرف 3ووٹ ڈالے گئے۔ نمائندے کے مطابق پولنگ مرکز نمبر 94میں 698ووٹ ڈالے جانے تھے لیکن یہاں بھی صرف 3ووٹ پڑے جبکہ پولنگ مرکز نمبر95میں 999ووٹوں میں سے 21ووٹ ڈالے گئے۔
انہوں نے کہا کہ خانپورہ علاقے میں حال ہی میں مقامی جنگجو نوجوان شعیب آخون فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جاں بحق ہوئے تھے جس کے بعد یہاں بائیکاٹ کا اثر نمایاں طور پر دیکھنے کو ملا۔اس دوران سوپور کے بارٹھ کلان اور ہندوارہ کے بابا گنڈ علاقوں میں بھی ووٹران نے پولنگ مراکز کا رخ نہ کرتے ہوئے پولنگ عمل کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ معلوم ہوا کہ یہاں دوپہر تک صرف 5ووٹ پڑے جس کے نتیجے میں یہاں قائم پولنگ مراکز پر سرکاری عملہ آپسی گپ شپ میں محو دیکھے گئے۔ یہاں تعینات سرکاری اہلکاروں کا کہنا تھا کہ صبح 7بجے سے بعد دوپہر تک یہاں صرف 5ووٹ ڈالے گئے تاہم براٹھ کلان سوپور میں دوپہر 2:30بجے تک لوگوں کی طرف سے ووٹنگ کا مکمل بائیکاٹ دیکھنے کو ملا جس دوران یہاں صرف 5ووٹ ڈالے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ یہاں قائم پولنگ مرکز پر 830ووٹ ڈالنے جانے تھے تاہم بائیکاٹ کے نتیجے میں یہاں دن بھر الو بولتے ہوئے نظر آئے۔خیال رہے کہ بارہمولہ کپوارہ کی پارلیمانی نشست پر 4اُمیدوار اپنی قسمت آزمائی کررہے ہیں جن میں نیشنل کانفرنس کے محمد اکبر لون، پی ڈی پی کے عبدالقیوم وانی، پیپلز کانفرنس کے راجا اعجاز علی، عوامی اتحاد پارٹی کے انجینئر رشید ، بی جے پی کے ایم ایم وار، آزاد اُمیدوار نجیب نقوی، کانگریس کے فاروق احمد میر، نیشنل پینتھرس پارٹی کے جہانگیر خان، آزاداُ میدوار جاوید احمد قریشی اور عبدالرشید شیخ شامل ہیں جبکہ جموں اُدھم پور پارلیمانی نشست سے جو اُمیدوار میدان میں قسمت آزمائی کے لیے اُترے ہیں اُن میں بہوجن سماج وادی پارٹی کے بدریناتھ، جے کے پیر پنچال عوامی پارٹی کے محمد یونس، نرمان دل کے سوشیل کمار، آل انڈیا فارورڈ بلاک کے جاوید احمد، جے پرکاش جنتا دل نیشنل پارٹی کے نریش کمار، کانگریس کے رمن بھلہ، نوارنگ کانگریس پارٹی کے گرساگر سنگھ، راشٹریہ لوک دل کے طالب حسین، نیشنل پنتھرس پارٹی کے پروفیسر بھیم سنگھ، سوابی مان سنگھٹن پارٹی کے لعل سنگھ ڈوگرہ، سوابی مان سنگٹھن پارٹی کے کانتا اندوھترا، جنتا دل یونائیٹڈ کے وکی کمار ڈوگرہ، شازباد شبنم، پارسین سنگھ، غلام مصطفی چودھری، ستیش پونچھی، تیج رام ڈوگرہ، بہادر، جاوید اقبال ریشی، منیش سہنی، سکندر احمد نورانی، تارسم لعل کھلر، منصور احمد خان، بھلوان سنگھ، کبیر حسین، سید ذی الشان حیدر، انیل سنگھ، سرجیت سنگھ، اجے کمار، سریش کمار، جسویر سنگھ، لامبا رام اور محمد رؤف بطور اُزاد اُمید وار شامل ہیں۔اسی طرح بھاجپا کے جگل کشور، انڈیپنڈنٹ پیپلز پارٹی کے سید عاقب حسین شامل ہیں۔ادھر سرکاری ذرائع کے مطابق سہ پہر تین بجے تک جموں میں 59.0، سانبہ 66.6، راجوری 58.4اور پونچھ 53.4جبکہ کشمیر کے بارہمولہ میں 19.0، کپوارہ 38.7اور بانڈی پورہ میں 26.1ووٹنگ شرح ریکارڈ کی گئی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کی سہ پہر 3بجے تک بارہمولہ اور جموں کی دو پارلیمانی نشستوں پر مجموعی طور پر 46.17فیصدی ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔
Ba
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
