تازہ ترین
مسئلہ کشمیر اور دہشت گردی بھارت کے لیے بڑے چیلنجز: ارون جیٹلی
خبراردو:
مرکزی وزیر برائے مالیات ارون جیٹلی نے سماجی بلاگ پراظہار خیال کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جموں وکشمیر اور دہشت گردی جیسے مسائل بھارت کے لیے بڑے چلینجز ہیں۔ارون جیٹلی نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندرمودی کی قیادت والی مرکزی سرکار نے گزشتہ چند مہینوں سے علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدام اْٹھاکر انہیں واضح پیغام دیا کہ ملک دشمن سرگرمیوں کو کسی بھی صورتحال میں برداشت نہیں کیا جائیگا۔مرکزی وزیرنے بتایا کہ ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث دہشت گرد بڑی تعداد میں فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جاچکے ہیں، ان کے نیٹ ورک کو زمینی سطح پر نیست و نابود کیا گیا اور یوں ریاست جموں وکشمیر میں زمینی سطح پر قانون کی عملداری نافذ العمل ہے۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو یقینی بنانے اور فورسز کی زندگیوں کی سلامتی کے حوالے سے کئی اہم اور ٹھوس اقدامات اْٹھائے جن میں علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں پر نکیل کسنا بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرحد پار قائم دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو منصوبہ بند اور ٹھوس کارروائی کے تحت نشانہ بناتے ہوئے انہیں تباہ کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت ملک کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج یہ ہے کہ ریاست جموں وکشمیر اور دہشت گردی جیسے معاملات کو کون بہترڈھنگ سے سنبھال سکے گا۔ارون جیٹلی نے کانگریس کا نام لئے بغیر کہا کہ لازمی بات ہے کہ کشمیر اور دہشت گردی جیسے معاملات کو وہ لوگ قطعی طور پر سنبھال نہیں پائیں گے جنہوں نے کشمیر مسئلے کو پیدا کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اور دہشت گردی جیسے معاملات کو وہ لوگ حل نہیں کرپائیں گے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ووٹ بنک کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام مرکزی سرکار کی مرکزی پالیسی میں اہم عنصر کے طور پر شامل ہیں۔ ریاست جموں وکشمیر کے عوام بھارت کے ساتھ خاص تعلق کا استحقاق رکھتے ہیں، وہ بہترین مواقع، امن و سلامتی اور دہشت گردی سے چھٹکارے کا حق رکھتے ہیں۔بھاجپا لیڈر نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ مخملی دستانوں اور خوش کرنے سے نہیں لڑی جاسکتی ہے۔ انہوں نے علاقائی مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں بشمول نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کا نام لیے بغیر کہا کہ دونوں پارٹیوں نے موجودہ حالات میں مایوس کن رول ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ این سی اور پی ڈی پی ریاست کی علیحدگی سے متعلق سخت گیر پالیسی پر گامزن ہے۔ اگر مرکزی سرکار نے ریاست جموں وکشمیر سے متعلق کوئی ٹھوس اقدام اْٹھایا تو اس حوالے سے این سی اور پی ڈی پی غیر معمولی فیصلہ لے سکتی ہے جو کہ انتہائی مایوس کن بات ہے۔ہم نے نرم پالیسی بھی اختیار کی تاہم اس سے آج تک کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔حزب اختلاف کی قیادت کے پاس بھی اس حوالے سے کئی روڑ میپ نہیں ہے سوائے ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو زک پہنچانے کے۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ چیلنج کوبغیر مصلحت والے اپروچ سے حل کیا جاسکتا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیر مسئلے کو صرف ایک مضبوط قائد اور مضبوط سرکار کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے جس کے لیے ناگزیر ہے کہ ملکی عوام تاریخی غلطیوں کو مزید دہرانے سے پرہیز کریں۔ جموں وکشمیر اور دہشت گردی جیسے معاملات ملکی سالمیت کے لیے بڑے چیلنجز ہوں گے کیوں کہ ان کا تعلق حاکمیت، سالمیت اور سیکورٹی سے متعلق ہے۔
ارون جیٹلی کا کہنا تھا کہ دفعہ 370کو وفاق کیساتھ آئینی طور پر منسلک کرنے کے لیے منصوبہ بند پروگرام کے تحت تشکیل دیا جاچکا ہے۔ دفعہ 35Aکو سال 1954میں متعارف کیا گیا جو ریاست جموں وکشمیر کے اندر علیحدگی پسند نظریے اور افتراق و انتشار کو جواز بخشتاہے۔مسئلہ کشمیر کے لیے کانگریس پارٹی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ارون جیٹیلی نے بتایا کہ جب پڑوسی ملک پاکستان کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ ماننے سے انکار کررہا ہے تو کانگریس پارٹی ایسے میں مسئلے سے اپنا پلو جھاڑنے میں ہی عافیت سمجھتی ہے۔مسئلہ کشمیر کو کھڑا کرنا ایک تاریخی غلطی تھی جس کی پاداش میں بھارت نے اپنی ریاست کا تین فیصدی حصہ گنوادیا۔ بجائے ریاست کے سبھی خطوں کی یکجہتی پر سوچا اور کام کیا جاتا، کانگریس پارٹی آئینی رشتوں کو مزید کمزور کرنے کیلئے کمر بستہ دکھائی دے رہی ہیں
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
