تازہ ترین
اسمبلی انتخابات میں حکومت ملی تو پبلک سیفٹی ایکٹ کا خاتمہ کروں گا : عمر عبداللہ
خبراردو:
سابق وزیر اعلی و نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبد اللہ نے پھر ایک بار عوام کے ساتھ وعدہ کیا ہے اگر اسمبلی انتخابات میں انکی حکومت آئی تو وہ متنازع پبلک سیفٹی ایکٹ کا خاتمہ کریں گے۔اس دوران سابق وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں سابق وزیر اعلیٰ نے کہا میری پارٹی کی حکومت میںکسی ماں کو اپنے بچے سے ملنے کیلئے جیلوں کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے تاہم اس کیلئے موجودہ پارلیمانی الیکشن ایک سیمی فائنل کی حیثیت رکھتے ہیںوہ جنوبی کشمیر کے پہاڑین ضلع شوپیان میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے ۔عمر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا عام طور پر الیکشن ترقی کیلئے لڑے جاتے ہیں لیکن ہمارے یہاں آج کے الیکشن دفعہ370اور دفعہ35اے کی حفاظت کیلئے لڑے جارہے ہیںعمر عبد اللہ نے کہا کہ اگر ریاست کی خصوصی پوزیشن چھینی گئی تو یہاں رہنے والوں کی زمینیں اور نوکریاں چلی جائیں گی ۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ہماری کوشش یہی ہے کہ 23مئی کے بعد ہندوستان میں ایک نئی حکومت آئے اورہم اُس حکومت کیساتھ نئے سرے سے بات کر پائیں تاکہ جماعت اسلامی پر پابندی ہٹانے، سیاسی بات چیت کی نئی پہل کرنے اور دیگر معاملات میں پیش رفت ہوسکے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے جنوبی کشمیر کیلئے نیشنل کانفرنس کے نامزد اُمیدوار جسٹس حسنین مسعودی کے حق میں جاری چناﺅی مہم کے دورا ن شوپیان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نریندر مودی اور اُن کے ساجھیدار پی ڈی پی والوں نے ریاست کے حالات کو خراب کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی ۔ ”2014میں ہم نے کن حالات میں ریاست کو نریندر مودی کے حوالے کیا اور آج ریاست میں کیا حالات ہیں اس سے کوئی بے خبر نہیں ۔ 2014میں کتنے لوگوں نے الیکشن میں حصہ لیا اور 2019میں کتنی کمی آئی ہے یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔
2014میں ملی ٹنسی کی کیا حالت تھی اور آج ملی ٹنسی کو کس طرح نئی شروعات دی گئی ہے، اس کا خلاصہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔“انہوں نے کہا کہ ”اعداد و شمار اور حقائق بولتے ہیں آپ دیکھئے میری حکومت کے دوران کتنے نوجوان ملی ٹنٹ بنے اور پی ڈی پی بھاجپا حکومت میں کتنے نوجوانوں نے بندوق اُٹھائی،آپ کو خود بہ خود پتہ چل جائیگا کہ مودی جی کے 5سال اس ریاست کیلئے کتنے بھاری اور کتنے مہنگے ثابت ہوئے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے مودی صاحب کو ایک اچھے ماحول میں ریاست سونپی لیکن انہوں نے اس ماحول کو تہس نہس کر کے رکھ دیا، یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ مودی صاحب آج یہاں اسمبلی کا الیکشن نہیں کر پارہے ہیں۔ 1996کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ ریاست کے اسمبلی الیکشن وقت پر نہیں ہو پارہے ہیں۔ اس کیلئے قصوروار کوئی اور نہیں بلکہ مودی صاحب اور اُن کے حکومت کے ساجھیدار پی ڈی پی والے ہیں ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ”اپنا ووٹ ڈالنے سے پہلے بہترین اُمیدوار کا چناﺅ کرنا جتنا ضروری ہے اور اُتنا ہی ضروری ہے کہ ہم پچھلے 5سال پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ جن لوگوں کو ہم نے 2014میں چُنا اور منڈیٹ دیا اُن لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ ۔
انہوں نے بتایا کہ جو لوگ آج مگرمچھ کے آنسو بہا کر خود کو عوام کا ہمدردجتلانے کی کوشش کرتے ہیں، پھر چاہئے وہ قلم دوات نشان والے ہوں یا سیب کے نشان والے، اُن سے پوچھا جانا چاہئے کہ پچھلے 5سال میںاُن کی ہمدردی کہاں تھی؟جب معصوم بچیوں کی آنکھوں کی بینائی پیلٹ گن کے ذریعے چھینی جارہی تھی،جب ہمارے بچوں کو بے تحاشہ گرفتار کیا جارہا تھا،جب ہمارے نئی نسل کو گولیوں کا نشانہ بنایا جارہا تھا،تب یہ ہمدردیاں کہاں تھیں۔تب تو آپ لوگوں کو ڈرا ، دھمکا اور دبا نے کی ہر مذموم کوشش کرتے تھے۔تب یہ ہمدردی کیوں نہیں۔ محبوبہ مفتی نے گذشتہ دنوں پہلگام میں آنسو بہائے، وزیر اعلیٰ کی کرسی پر یہ آنسو کیوںنہیں بہے “ ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جب گوجر بکروالوں کے جنگلات کے حقوق چھینے جارہے تھے تب محبوبہ مفتی کی ہمدردیاں کہاں تھیں؟ جب پہاڑی اور دیگر پسماندہ طبقات کے حقوق سلب کئے جارہے تھے تب محبوبہ مفتی کا احساس کہاں تھا؟ پی ڈی پی کی حکومت نے ظلم و تشدد کے علاوہ کچھ کیا تو وہ عوام کو ٹیکسوں اور قرضوں کے بوجھ تلے دبانا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ ”پی ڈی پی حکومت نے خود کو زمینی حقائق سے دور رکھا اور گرفتاریوں کی بنیاد پر حکومت چلائی۔ نوجوانوں پر پی ایس اے کے اطلاق کے ریکارڈ قائم کئے۔ میں نے پہلے بھی یہ وعدہ کیا ہے اور میں شوپیان میں یہ بات دہرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ انشاءنیشنل کانفرنس کی حکومت آئیگی تو ہم PSAقانون کی کتاب سے مٹا دیں گے،تاکہ کوئی نوجوان پی ایس اے کے تحت گرفتار نہ ہو۔“ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مہربانی کرکے بائیکاٹ کی طرف مت جایئے، بائیکاٹ سے اس ریاست کو نقصان ہوگا۔بائیکاٹ سے ہمارے دشمن ہم پر حاوی ہوجائیں گے ۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
