تازہ ترین
با برکت ماہ رمضان المبارک کیسے گزاریں؟
الطاف جمیل ندوی 
آمد رمضان کے ساتھ ہی لوگ یا تو خوشی و مسرت محسوس کررہے ہیں یا پھر اداس ہو رہے ہیں ،کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اس وجہ سے خوش ہورہے ہیں کہ رمضان کی سعادت نصیب ہوگی اور ہم رب کے حضور اپنا تعلق مزید مستحکم کرکے دارین کی سعادت حاصل کرنے کی سعی کریں گئے اسی طرح کتنے ایسے بھی برائی کے خوگر لوگ ہیں جو اس وجہ سے غمزدہ ہونا شروع ہوچکے ہیں کہ بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرنی پڑے گی اور مختلف طریقے اختیار کرکے اس سعادت سے فرار اختیار کرنے پر اپنی صلاحیت استعمال کرتے ہیں .
بعض لوگ اس طرح کے کام اختیار کرتے ہیں کہ اس میں روزہ رکھنا دشوار ہوتا ہے اور وہ دل ہی دل میں جھوم جاتے ہیں
پر کتنے ایسے بھی بدنصیب ملیں گے جو اس وجہ سے خوشی منارہے ہیں کہ انہیں روزہ داروں کے سامنے کھانے کو ملے گا اور وہ روزہ داروں کو چڑھاتے ہیں کہ کیا فائدہ تمہاری بھوک پیاس کا دیکھ لیں ہم کیسے زندگی کو مختلف لذیذ کھانے سےسنوار رہے ہیں
سوچنے کی بات ہے کہ ہم میں سے ہر کسی کو جائزہ لینا ہے کہ مذکورہ بالا کس قسم میں ہمارا شمار ہورہا ہے .
اگر ہم پہلی قسم سے تعلق رکھتے ہیں تو قابل مبارک باد ہیں ، دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو رمضان المبارک کی ہرسعادت اور ہرخیر و برکت سے نوازے اور ہمیں بھی ان لوگوں میں سے بنائے جن کے منہ سے نکل رہی بو رب الکریم کو بہت پسندیدہ ہے
دوسری قسم کے لوگوں کے لئے صرف اور صرف محرومی ہے ، دنیا میں بربادی ہے اور آخرت میں رسواکن عذاب ہے یہ مسلم معاشرے میں رہ کر بھی رب الکریم کی رحمتوں سے محروم رہ جاتے ہیں ایسے لوگ از خود رب الکریم کے غضب کو دعوت دیتے ہیں
اس لئے ایسے لوگوں کو اللہ تعالی سے سچی توبہ کرنی چاہئے اور رب الکریم
کے حکموں پہ چلنا چاہئے تاکہ ان کی دنیا و آخرت سنور جائے
تیسری قسم کے لوگوں کو چاہئے کہ ایسا پیشہ اختیار کریں جس سے روزہ پر اثر نہ پڑے، یا کم از کم رمضان میں اپنے اس عمل سے رک جائیں جس سے روزہ پر اثر پڑتا ہو اور اللہ سے امید وابستہ رکھنی چاہئے ، کہ وہی روزی دینے والا ہے اور ممکن ہے کہ رب آپ کی تلاش حق کی راہ میں ایسی دستگیری فرمائے کہ آپ بے نیاز ہوجائیں اس رزق کی تلاش سے یہ سب اسی رب کے ہاتھ میں ہے
چوتھی قسم کے لوگ پرلے درجے کے بدنصیب ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو کفار کی روش اختیار کرتے ہیں اور ان کی تقلید میں اہل ایمان کو کوستے اور ان کی استہزاء کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنی گھناؤنی حرکتوں سے باز آنا چاہئے اور قہر الہی سے پناہ مانگنی چاہئے رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں کا کیا کہنا جن کے آنے پے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم اپنی عبادات میں لذت و چاشنی کے شوق میں اضافہ کرتے اور شوق محبت میں رب کے حضور اپنا تعلق بناتے رب کی بارگاہ میں راز و نیاز کی باتیں کرتے رحمتوں کو سمیٹنے کے لئے اپنے مبارک ہاتھ بلند کرتے سحر ہو کہ افطار رب سے فریاد کرتے ہیں.
ارشاد باری تعالی ہے کہ مومنوں پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے سابقہ امتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی شعار بن جاؤ
سوچنے کی بات ہے کہ رمضان المبارک اس سے پہلی امتوں پر بھی فرض ہی تھا اب جو ہم پر فرض کیا گیا تسلی بھی دی گئی کہ یہ صرف آپ کا امتحان نہیں ہورہا ہے بلکہ ایسا سابقہ امتوں سے بھی معاملہ کیا گیا تاکہ کھرے کھوٹے کو پرکھا جائے کہ تم میں سے رب سے کس کا کیا تعلق ہے کتنا مستحکم ہے اس میں کتنی اللہ کی محبت و اطاعت موجود ہے دنیا کی مختلف اقوام ایسا کرتے ہیں کہ مختلف دن مقرر کر کے دن میں کھانے پینے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں پر ان کے اس عمل پر ان کے لئے کوئی پابندی نہیں کہ یہ کس طرح کی بھوک پیاس کی شدت کو سہہ لیتے ہیں پر مومنین پر قوانین نافذ ہیں کہ ایسا کرے ایسا نہ کریں یہ روزہ میں بہتر کام ہے پر اس کام سے روزے برباد ہوجاتے ہیں مطلب یہ کوئی اچانک والا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ الہی حکم ہے اور اس کے کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں جسے اب رب کی رضا مطلوب ہے وہ بڑا حساس بن کر پورے دن اپنے جسم کے اعضاء کی رکھوالے بھی کریں کہ کہیں کوئی حصہ یا عضو کسی غلطی کا ارتکاب نہ کر بھیٹے اور میری دن کی مشقت برباد ہو جاۓ یہ اخلاقیات کی تعلیم بھی دیتا ہے تو وہیں درس مساوات بھی یہ اتحاد و اتفاق کی ترغیب بھی دیتا ہے تو وہیں محبت و خلوص کا درس بھی انسان دوستی کا سبق بھی دیتا ہے.
کچھ کام کی باتیں
۱۔۔۔ روزہ دار کو افطار کرانا چاہئے ایک کجھور ہو کہ پانی کا ایک گھونٹ
اس سے آپسی میں محبت و اخوت کا تعلق بنے گا اصل یہی ہے ورنہ ایک گھونٹ پانی سے کیا ہوتا بس اسلام چاہتا ہے کہ امت مسلمہ آپس میں بھائی چارے کی مثالیں قائم کریں اور اسے فروغ دینے کا سنہری موقعہ رمضان المبارک کے مبارک ایام ہیں
۲۔۔ گالی گلوچ سے پرہیز
یہ بھی ایک ایسا کام ہے جس کو اب ہم مذاق مذاق میں مختلف بہانے بنا کر صحیح بنانے کی تک و دو میں رہتے ہیں پر ہے یہ ایک غلیظ عادت جس سے پرہیز کی تعلیم دی گئی ہے پر رمضان المبارک میں آسانی سے اپنی زبان کو بدی کی باتوں سے روکا جا سکتا ہے
۳۔۔ صبر کرنے کا کام یہ بھی ہے کہ بھوک پیاس کی شدت کا شکوہ بہ کریں کسی بھی سے کیونکہ یہ بھوک پیاس جس محبت و عقیدت کے لئے آپ سہہ رہے ہیں اس کی تا قیامت بدر میں اصحاب نبوی علیہ السلام نے مثال پیش کی انہوں نے کسی سے اپنی بے بسی بیان نہ کی سوائے رب الکریم کے .
۴۔۔۔ ذکر الہی
گر چہ پورے سال کرنے کا کام ہے پر رمضان المبارک میں اس کی لذت و چاشنی کا الگ ہی لطف ہے کہ آپ بھوک محسوس کر رہے ہیں اپنی بھوک کی شدت سے بچنے کے لئے آپ قرآن مجید اٹھا کر اس کی تلاوت شروع کرکے خود کو رب سے جوڑ رہے ہیں تو رب بھی آپ کو راندہ درگاہ نہ کرے گا بلکہ آپ کی بھوک جنت کے باغیچوں میں مٹانے کا وعدہ دے کر نوید فلاح سنائے گا پورے سال گر چہ کم قلیل تلاوت ہوتی رہتی ہے اب پر رمضان المبارک میں اس کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے کی کوشش کریں بیشک قرآن مجید آپ کے دلوں کو منور کرے گا
۵۔۔ آپسی رنجش یا حسد بغض سے حتی الامکان بچیں نفرت و کدورت بھرے قلب کی صدائیں ضائع ہوا کرتی ہیں
۶۔۔ مساجد میں شور غل مچانے سے احتیاط کرنی لازم ہے فضول کے مسائل اٹھا کر ضد نہ کریں کہ یہ صحیح پے یہ غلط ہے بلکہ اپنے معاملات اللہ تعالی و رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کریں نہ کہ اپنی ضد اور انا کو بچانے کے لئے جگڑا کریں اعتدال کی راہ کا انتخاب سب سے بہتر طریقہ ہے اصلاح کا
آئے میرے عزیزان گرامی یہ چند گزارشات آپ کے لئے لکھ دی ہیں امید ہے کہ یہ رمضان ہمارے لئے رحمت ربی کا پیغام بن کر ہماری زندگیوں کو منور کریں شعبان کے آخری ہفتہ میں کیسا بہترین پیغام ہمارے لئے کتب احادیث میں موجود ہے آئے اس کا مطالعہ بھی کریں کہ ہم کیسے اس ماہ میں اپنے اوقات کو صرف کریں کیسے اپنی ایمانی لذت و چاشنی میں مزید اضافہ کرائیں کتب احادیث بتاتی ہیں کہ شعبان کا آخری دن ہوتا تو آپﷺ مسجد نبوی میں صحابہ کرام کو جمع فرما کر خطبہ ارشاد فرماتے جس میں رمضان المبارک کے فضائل و وظائف اور اہمیت کو اجاگر فرماتے تاکہ اس کے شب و روز سے خوب فائدہ اٹھایا جائے اور اس میں غفلت ہرگز نہ برتی جائے، اس کے ایک ایک لمحہ کو غنیمت جانا جائے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے فرمودہ خطبہ کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم کو شعبان کے آخری دن خطبہ دیا، فرمایا: اے لوگو! ایک بہت ہی مبارک ماہ تم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض اور رات کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔
جو شخص کسی نیکی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف قرب چاہے اس کو اس قدر ثواب ہوتا ہے گویا اس نے دوسرے ماہ میں فرض ادا کیا۔
جس نے رمضان میں فرض ادا کیا اس کا ثواب اس قدر ہے گویا اس نے رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں ستر فرض ادا کئے۔
وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے،وہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کا مہینہ ہے۔
اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔
جو اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جاتی ہے اور اس کو بھی اسی قدر ثواب ملتا ہے اس سے روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی نہیں آتی۔ اس پر صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیک و سلم ! ہم میں سے ہر ایک میں یہ طاقت کہاں کہ روزہ دار کو سیر کر کے کھلائے۔ اس پر آپ نے فرمایا: یہ ثواب تو اللہ اسے بھی عطا فرمائے گا جو ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ پلا دے. جس نے کسی روزہ دار کو افطاری کے وقت پانی پلایا اللہ تعالیٰ (روزِ قیامت) میرے حوضِ کوثر سے اسے وہ پانی پلائے گا جس کے بعد دخولِ جنت تک پیاس نہیں لگے گی۔
یہ ایسا مہینہ ہے جس کا اول رحمت ہے، اس کے درمیان میں بخشش ہے اور اس کے آخر میں آگ سے آزادی ہے۔ جو شخص اس میں اپنے غلام کا بوجھ ہلکا کرے اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے اور آگ سے آزاد کر دیتا ہے .
یہ وہ تعلیمات نبوی علیہ السلام ہیں جنہیں گر ہم رمضان المبارک کے مبارک ایام میں عمل میں لائیں تو یقینا رب الکریم کی رحمتیں ہمارے لئے وا ہوں گئیں آئے امت مسلمہ کے عظیم کارواں کے ساتھیو آو مل کر اپنی زندگیوں کے ان مبارک اوقات کو اپنے لئے رحمتوں کا سایہ تلاش کریں میں صرف کریں اور بقاء امت کے لئے اپنی دعاؤں میں امت کے کرب کا رب سے خاموشی سے اظہار کریں.
دنیا
معاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
واشنگٹن، یکم اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اطمینان بخش معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ دیرپا امن کے امکان پر بھی سوال اٹھایا۔
ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کردی کیونکہ اس کی شرائط ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھیں۔ ان کے بقول ایران نے آبنائے کے صرف ’’کچھ حصوں‘‘ کو کھولنے کی پیشکش کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے کہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز سات روز میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ امریکہ کو پیش کیا ہے۔ بعد میں ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے بتایا کہ واشنگٹن نے جوابی تجویز دی ہے جس پر تہران غور کررہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی حالیہ ہفتوں میں بڑی حد تک رک گئی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد نئے حملوں کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’’یہ ممکن ہے‘‘، اور امریکہ کے پاس ’’بہت سے ہتھیار‘‘ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں توقع تھی کہ جنگ چھ سے آٹھ ہفتے جاری رہے گی، لیکن ایران کی جوہری صلاحیتوں کی تباہی کے بعد انہوں نے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ تہران اپنی صلاحیتیں کسی اور شکل میں دوبارہ بحال نہ کرسکے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، باوجود اس کے کہ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران پر تین حملے کیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے۔‘‘
پیزشکیان نے کہا کہ ایران اقتصادی مسائل حل کرنے اور پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شامل ہے۔ 2025 میں روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں، جو عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ عالمی ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد تجارت بھی آبنائے سے ہوتی ہے، جس میں قطر کا نمایاں حصہ ہے۔
ایران کے شمال میں واقع آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں اور یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ آبنائے توانائی کے علاوہ ایل این جی، کھاد، خوراک، ادویات اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ عالمی کھاد تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ معمول کے حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
تہران، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوران ایران پر تین حملوں کے باوجود تہران واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی کوشش جاری رکھے گا۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق کاروباری شخصیات سے ملاقات میں پیزشکیان نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے، اگرچہ امریکہ نے ہمارے ملک کو تین بار نشانہ بنایا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری شعبے کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کررہی ہے اور ایرانی قیادت معاشی مشکلات سے نمٹنے کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کررہی ہے۔
پیزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کے پیش نظر ایران پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان سمیت پڑوسی ممالک کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں جاری رکاوٹوں پر عالمی سطح پر توانائی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل اور آبنائے ہرمز ٹاسک فورس کے سربراہ جارج موریرا دا سلوا نے یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا کہ بحران عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کو متاثر کررہا ہے، جبکہ خلیج سے کھاد کی درآمد پر انحصار کرنے والے ترقی پذیر ممالک خاص طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے سوڈان، صومالیہ، موزمبیق اور تنزانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی کھاد کی 50 سے 60 فیصد ضروریات خلیجی خطے سے پوری ہوتی ہیں۔
دا سلوا کے مطابق بحران کے باعث کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور اس کے استعمال میں کمی آئی ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہونے اور غذائی عدم تحفظ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے ایک مجوزہ طریقہ کار تیار کیا ہے۔ اس کے تحت شپنگ ایجنٹس کھاد کی ترسیل کے لیے درخواستیں رجسٹر کریں گے اور منظوری کے بعد اقوام متحدہ متعلقہ فریقوں اور ریاستوں کے ساتھ رابطہ کرکے بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
ہندوستان
ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام میں زیادہ سے زیادہ انضمام، ڈیجیٹل کاری اور شفافیت پر زور دیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے جمعرات کے روز یہاں ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کی 279ویں سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوج، بحریہ اور فضائیہ کے مالیاتی نظام کو زیادہ سے زیادہ مربوط کرنے نیز مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے اعداد و شمار کو حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے کہا کہ روایت سے ہٹ کر بجٹ کا ‘سالانہ جائزہ’ لینے کے بجائے کسی بھی وقت جائزہ لینے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کو ملک کی دفاعی تیاریوں کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس کے تقریباً تین صدیوں کے تعاون کی ستائش کی۔
وزیرِ دفاع نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے ڈیجیٹل نیز مربوط اکاؤنٹنگ اور ادائیگی کے نظام ‘سکشم’ کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اسے ہندوستانی فوج کے مالیاتی معلومات کے نظام سے جوڑنے سے بجٹ، منظوری اور بلوں سے متعلق معلومات کا ڈیجیٹل تبادلہ ممکن ہوا ہے اور بلوں کا عمل مکمل طور پر بغیر کاغذ ہو گیا ہے۔
انہوں نے سال 26-2025 میں بجٹ کے 100 فیصد اخراجات پر شعبے اور تینوں افواج کی مشترکہ کوششوں کی ستائش کی۔ پنشن سے متعلق شکایتوں کے ازالے کے لیے بات چیت پر مبنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نظام تیار کرنے کی تجویز دیتے ہوئے انہوں نے شکایتوں اور عدالتی معاملات کے جلد تصفیے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع میں زندگی وقف کرنے والوں کے جائز بقایا جات اور سروس حقوق کے معاملات میں نظام مضبوط، غیر جانبدار، حساس اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے مکمل طور پر خودکار محصولات کی خریداری کے نظام ‘سمپورن’ کو جلد نافذ کرنے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر انہوں نے دفاعی مالیاتی معلومات کے نظاموں کے انضمام، دفاعی اخراجات کی نگرانی اور وزارتِ دفاع میں فنڈز کے سنگل اکاؤنٹ کے نظام سے جڑی تین اہم پہل قدمیوں کا بھی آغاز کیا۔
ان میں ‘سکشم’ کو ہندوستانی فوج کے مالیاتی معلومات کے نظام سے جوڑنا، وزارتِ دفاع میں فنڈز کے سنگل اکاؤنٹ کا نظام اور دفاع کے لیے نیا قومی کمپائلیشن سسٹم شامل ہیں۔ نئے کمپائلیشن سسٹم سے بجٹ اور اخراجات کی مزید دقیق نگرانی نیز وزارتِ مالیات، وزارتِ دفاع اور متعلقہ حکام کے لیے تفصیلی رپورٹنگ میں مدد ملے گی۔
تقریب میں ڈیفنس منسٹرز ایکسیلنس ایوارڈز-2026) بھی دیے گئے۔ یہ ایوارڈز دفاعی مالیاتی انتظام میں سدھار، جدت، اہلیت اور شفافیت کے لیے دیے گئے۔ انہوں نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کی تین مطبوعات کا بھی اجراکیا۔ ان میں دفاعی اخراجات پر جامع اعداد و شمار کے کتابچہ-2026، رکشا لیکھا بھارتی اور مارکیٹ انٹیلی جنس رپورٹ 25-2026 شامل ہیں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا6 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
ہندوستان6 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
