تازہ ترین
ترال میں فورسز کے ہاتھوں مردو زن پر مارپیٹ کا الزام
خبراردو: ترال کے پنگلش علاقے نوجوانوںکی جانب سے مساجد میںلووڈ اسپیکر وںپرترانے چلانے کا نزلہ عام لوگوں پر گرایاگیا ہے جس کے نتیجے میں فورسز کی مارپیٹ سے چار خواتین سمیت کئی افراد زخمی ہوئے جن کو فوری طور اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں سے انہیں مرہم پٹی اور علاج معالجہ کر نے کے بعدا سپتال سے رخصت کیا گیا ۔
ترال قصبہ سے چند میٹر دور پنگلش علاقے میںسنیچر کے صبح کچھ نوجوانوں کی جانب سے مساجد میں ترانے چلاکر خود مسجد سے نکل گئے اس دوران علاقے سے گزر رہی فورسز کی ایک پارٹی نے ترانہ سن آگ بھگولہ ہوئے اور مسجد کے نذدیک کئی افراد جن میں چار خواتین بھی شامل ہے کی دنڈوں سے مارپیٹ کیا جس کے نتیجے میںچار خواتین جن میں عاشہ،رفیقہ،تبسم اور بسما جان کو شدید چوٹیں آئی جنہیں بعد میںترال اسپتال منتقل کیا گیا۔اس دوران چاروں کو اسپتال میں علاج معالجہ اور مرہم پٹی کر کے اسپتال سے رخصت کیا گیا ہے بتایا جاتا ہے علاقے میںایک آٹو کی توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے ۔
زخمیوں میں شامل ایک خاتوں نے ترال اسپتال سے کے این ایس کو فون پر بتایاکہ مسجد شریف میں کچھ نوجوانوں نے لاوڑ اسپیکر پر ترانے لگا کے رکھے تھے جس دوران اچانک یہاں فورسز کی ایک پارٹی گاﺅں میں داخل ہوئے جنہوں ہمارے گھر کے باہر ایک خاتون کی مارپیٹ کی ہے انہوں نے بتایا ابھی گھر سے ہی باہر آ رہے تھے تو فورسز پارٹی میں شامل ایک افسر نے ہم پر اند ھا ھندہمیں مارنا اورمارپیٹنا شروع کیا ہے جس کے نتیجے میں4خواتین زخمی ہوئیں جن میں ایک لڑکی کے بازوں میںشدید چوٹ آنے کے نتیجے میںایک بازوں میں فیکچر ہوا۔
انہوں نے بتایا اس دوران مارپیٹ میں ایک قیمتی موبائیل فون بھی ٹوٹ گیا ہے ۔خیال رہے جنوبی کشمیر کے ڈاڈسرہ علاقے میںفورسز اور جنگجوﺅں کے درمیان مسلح تصادم میںکمانڈر ذاکر موسی ٰ کی ہلاکت کے بعد ترال سمیت وادی اکثر مساجد میں نوجوانوں نے لوڑ اسپیکروں پر ترانے چلانے شروع کئے ہیں جس کا سلسلہ ابھی جاری ہے اس حوالے سے اگر علاقے میں تعینات ایس ایس پی سے بات کرنے کی کوشش کی تاہم ان کے ساتھ رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ۔ تاہم پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ وہ لگائے گئے الزمات کے بارے میں معلوم کریں گے ۔
دنیا
حوثی باغیوں کا ریاض اور ابہا کے ہوائی اڈوں اور سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے کا دعویٰ
صنعاء، یمن کے انصار اللہ تحرک (جسے حوثی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) نے سعودی عرب کے ریاض اور جنوبی شہر ابہا کے ہوائی اڈے کے ساتھ ساتھ جدہ میں سعودی آرامکو کی سرکاری تیل اور گیس کمپنی کی تیل ریفائنری پر حملہ کیا ہے۔ حوثی ملٹری ترجمان یحییٰ سریع نے پیر کے روز یہ معلومات فراہم کیں۔
سریع نے ایک بیان میں کہا، “یمنی افواج نے بڑی تعداد میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے تین اہم فوجی کارروائیاں کی ہیں۔ ان میں سے پہلی کارروائی ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنا کر کی گئی… دوسری کارروائی رابغ میں آرامکو ریفائنری کو نشانہ بنا کر کی گئی… تیسری کارروائی میں ابہا ایئرپورٹ، خمیس مشیط ایئر بیس، عسیر میں عقیفہ کیمپ اور نجران و جازان میں دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔”
سریع نے مزید کہا کہ حوثیوں نے مکہ اور مدینہ کے اوپر کی فضائی حدود کو چھوڑ کر سعودی عرب کی تمام فضائی حدود کو فوجی کارروائی کے لیے ایک زون قرار دے دیا ہے۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
ہندوستان
مین پوری میں سڑک حادثہ میں ایک ہی خاندان کے تین افراد کی موت، ایک شدید زخمی
مین پوری، اتر پردیش میں مین پوری ضلع کے بیور تھانہ علاقے میں جی ٹی روڈ پر منگل کو علی الصبح ہوئے ایک دردناک سڑک حادثے میں ماں اور اس کی دو معصوم بچیوں کی موت ہو گئی، جبکہ والد شدید طور پر زخمی ہو گئے۔
پولیس نے بتایا کہ کچھپورا کے رہنے والے کلکٹریٹ کے ٹھیکیدار ملازم بوبی (32) منگل کی صبح بیوی سمن (30)، چار سالہ بیٹی پریانشی اور ایک سالہ بچی کے ساتھ سسرال بیور سے مین پوری لوٹ رہے تھے۔ اسی دوران پیچھے سے آنے والے ایک تیز رفتار کنٹینر نے ان کی بائیک کو ٹکر مار دی۔ ٹکر کے بعد بائیک کنٹینر میں پھنس گئی اور ڈرائیور اسے تقریباً تین کلومیٹر تک گھسیٹتا ہوا لے گیا۔
رگڑ کے باعث نکلنے والی چنگاریوں سے بائیک اور کنٹینر میں آگ لگ گئی۔ حادثے میں سمن اور دونوں بچیوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ کنٹینر میں لدے اسپورٹس شوز کا سامان بھی جل کر راکھ ہو گیا۔ اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچی پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیم نے آگ پر قابو پایا۔ زخمی بوبی کو علاج کے لیے ضلع اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے تینوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج کر کنٹینر ڈرائیور کو حراست میں لے لیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا7 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا7 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا7 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا6 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
دنیا7 days agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
