تازہ ترین
کولگام معرکے میں جنگجو فرار، فورسز کارروائی میں 80 کے قریب مظاہرین زخمی
خبراردو:
جنوبی کشمیرمیں فوج و فورسز نے جنگجو مخالف آپریشنز میں تیزی لاتے ہوئے منگلوار شام دیر گئے مہمند پورہ کولگام میں جنگجوﺅں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد یہاں سخت محاصرہ عمل میں لایا۔ معلوم ہوا کہ فوج کی 9آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے جنگجوﺅں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد ضلع کے مہمند پورہ گاﺅں کا چاروں اطراف سے کڑا محاصرہ عمل میں لایا۔ اس دوران فورسز نے رات کے 11بجے سے ہی علاقے میں تلاشی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں کو ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کی۔ادھر پولیس ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں کسی بھی جنگجوﺅں کو نہ پانے کے بعد فورسز نے گاﺅں سے آپریشن کو منسوخ کردیا۔
ایس پی کولگام گرندر پال سنگھ کا کہنا تھا کہ علاقے میں جیش نامی تنظیم کے 3جنگجو چھپے بیٹھے تھے جو ابتدائی فائرنگ کےساتھ ہی علاقے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے بدھوار کی دوپہر کو جائے جھڑپ کی باریک بینی سے تلاشی لی تاہم یہاں ہم نے کسی بھی جنگجو کی لاش کو برآمد نہیں کیا جس کے بعد گاﺅں سے جنگجو مخالف آپریشن کو منسوخ کیا گیا۔اس دوران انہوں نے ان خبروں کو مسترد کردیا کہ مقامی لوگوں نے جائے جھڑپ سے تین جنگجوﺅں کو نکالنے میں مدد کی۔ادھر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں رات بھر وقفے وقفے سے گولیوں کی آوازیں سنی گئیں تاہم صبح ہونے کے ساتھ ہی یہاں گولی باری میں شدت آنے لگی۔ لوگوں کے مطابق فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لیا تھا جس دوران گاﺅں کی تمام اندرون و بیرون سڑکوں پر فورسز نے اضافی دستوں کو تعینات کردیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے گاﺅں میں منگلوار کی شام دیر گئے داخل ہوکر قریباً11بجے سے ہی تلاشی مہم شروع کردی۔ ادھر معلوم ہوا کہ بدھوار کی دوپہر کو یہاں اُس وقت فورسز نے آپریشن کو منسوخ کردیا جب یہاں عوامی احتجاج میں انتہائی شدت آگئی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ علاقے میں جنگجو مخالف آپریشن شروع ہونے کے ساتھ ہی علاقے میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کے خلاف جم کر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اس دوران اسلام، آزادی اور جنگجوﺅں کے حق میں زور دار نعرے لگانے کےساتھ ساتھ یہاں تعینات فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی۔ انہوں نے بتایا کہ بدھوار کی صبح سے ہی علاقے میں مظاہرین نے فورسز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی شروع کرنے کی کوشش کی۔ مظاہرین نے اس دوران فورسز پر چہار سو پتھراﺅ کیا جس کے جواب میں فورسز نے پیلٹ فائرنگ، آنسو گیس کے گولوں کےساتھ ساتھ گولیوں کا استعمال کیا۔ اس دوران معلوم ہوا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں 55کے قریب افراد پیلٹ، شل اور گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری علاج و معالجے کی خاطر ضلع بھر کے مختلف طبی مراکز میں منتقل کردیا گیا۔ چیف میڈیکل افسر کولگام ڈاکٹر فاضل کوچک نے میڈیا کو بتایا کہ بدھوار کے روز قریباً 50زخمیوں کوپبلک ہیلتھ سنٹر مہمند پورہ منتقل کیا گیا جن میں سے 44کو معمولی زخم آئے تھے تاہم ان کا علاج یہاں پر جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے 6افراد کو ڈسٹرکٹ ہسپتال کولگام منتقل کیا گیا جن کی شناخت ندیم احمد(پیلٹ متاثر بائیں آنکھ)، نواز احمد (پیلٹ متاثر دائیں آنکھ)، عدنان احمد (پیلٹ متاثر بائیں آنکھ)، محسن احمد (پیلٹ متاثر)، باسط احمد (پیلٹ متاثر) جبکہ یاور احمد شامل ہیں جن کے پیٹ میں گولی پیوست ہوئی ہیں۔ڈاکٹر کوچک کے بقول 6افراد میں سے 4کو مزید علاج و معالجے کی خاطر سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ جن زخمیوں کو سرینگر منتقل کیا گیا اُن میں ندیم احمد، نوا زاحمد، عدنان احمد اور یاور احمد شامل ہیں۔اس دوران انتظامیہ نے علاقے میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کےلئے ضلع بھر میں معمول کے مطابق موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا ہے۔ معلوم ہوا کہ انتظامیہ نے جنگجو مخالف آپریشن شروع ہونے کےساتھ ہی ضلع بھر میں بے لگام افواہ باری پر بریک لگانے کی خاطر ضلع کے حدود میں آنے والے علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو بند کرنے کا فیصلہ لیا ۔ادھر مہمند پورہ نامی گاﺅں میں جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی مضافاتی علاقوں میں معمول کی سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ سڑکوں پر سے گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ادھر پہاڑی ضلع شوپیان کے پنجورہ نامی گاﺅں میں بدھوار کی سہ پہر اُس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب یہاں فورسز کی مشترکہ پارٹی پر مظاہرین نے سنگ باری شروع کردی۔
دنیا
روس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
واشنگٹن، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں روسی توانائی کمپنی لوکوئل سے متعلق اربوں ڈالر کے ممکنہ تیل معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دو سینئر مذاکرات کاروں سے وابستہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ تجویز 5 ستمبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ملاقات میں پیش کی گئی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت لوکوئل روس سے باہر تیل کے شعبے کے اثاثے، جن میں تیل کے کنویں، ریفائنریاں اور پٹرول پمپس شامل ہیں، خرید سکتی ہے۔ ان میں نیو جرسی کے پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ سودے میں مشرق وسطیٰ کے دو کاروباری گروپ اور امریکی سرمایہ کار و ٹرمپ کے عطیہ دہندہ ٹوڈ بوہلی بھی شامل ہیں۔ ان گروپوں کے ماضی میں وٹکوف اور کشنر کے ساتھ کاروباری روابط رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ وٹکوف یا کشنر کو ذاتی طور پر اس سودے سے مالی فائدہ ہوگا، تاہم مذاکرات میں شامل فریقوں سے ان کے کاروباری روابط نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
وٹکوف امریکی خصوصی ایلچی ہیں، جبکہ کشنر ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر وائٹ ہاؤس مشیر ہیں۔ دونوں نے روس اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجوزہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات بحال ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے اس بڑے سودے کو شامل کرنا مستقبل میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے وسیع اقتصادی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
جموں، بی جے پی کے قومی دفتر انچارج، راجیہ سبھا رکن اور گجرات کے انچارج ترون چگ نے ہفتہ کو عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ریاستی حیثیت کے مسئلے کو اپنے خودمختاری کے ایجنڈے کے پردے کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور بنیادی حکمرانی میں اپنی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
چگ، جو اس سے قبل جموں و کشمیر بی جے پی کے انچارج بھی رہ چکے ہیں، نے یہاں کہا کہ ریاستی حیثیت سے متعلق مجوزہ قرارداد ایک سیاسی چال ہے، کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ کے ایوان میں پہلے ہی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ این سی حکومت اپنی ناکام حکمرانی اور انتخابات کے دوران کیے گئے نامکمل وعدوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس مسئلے کا استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’عمر عبداللہ کو غیر متعلقہ مسائل پر بات کرنا بند کرکے اپنی حکومت کا رپورٹ کارڈ پیش کرنا چاہیے۔ عوام روزگار، ترقی اور ان سے کیے گئے وعدوں کے بارے میں جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر میں قوم پرستی کے تحفظ اور ترقی کو تیز کرنے کے لیے مسلسل خود کو مضبوط کر رہی ہے اور نئے لوگ مسلسل پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس، انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے ایک یک طرفہ ایجنڈا اختیار کر لیا ہے اور ترقی و عوام کے تئیں اپنی بنیادی ذمہ داری سے دور ہو گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں، ریلوے اور بنیادی ڈھانچے میں نظر آنے والی پیش رفت وزیر اعظم مودی کے وژن اور مودی حکومت کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
مودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت ’غیر قانونی‘ انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، اس لیے اسے برطرف کرکے ملک میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
مسٹر کھڑگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے جمہوریت کو برباد کر دیا ہے۔ ملک میں انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور تمام انتخابات غیر قانونی ہیں، لہٰذا ایسے انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی حکومتیں اور ان کے وزرا بھی غیر قانونی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ملک میں ’غیر قانونی انتخابات‘ ہو رہے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی ’غیر قانونی وزیر اعظم‘ اور امیت شاہ ’غیر قانونی وزیر داخلہ‘ ہیں۔ حکومتوں کو برطرف کیا جانا چاہیے اور انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جانے چاہئیں۔‘‘
کانگریس صدر نے کہا کہ ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی وجہ سے پورا انتخابی عمل برباد ہو گیا ہے۔ جمہوریت میں جاری اس غیر قانونی عمل کے پیش نظر ہی انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ بلائی گئی تھی، جس میں 20 جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ قانونی ماہر کپل سبل کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں سبھی نے تسلیم کیا کہ ایس آئی آر غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے غریب، پسماندہ اور خاص طور پر اقلیتی طبقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ ووٹ کاٹنے کا کام بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ کر رہے ہیں۔ ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کو غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایک ایک بوتھ سے 500-500 افراد کے نام بھی حذف کر دیے جائیں تو اس سے بہت بڑا فرق پڑتا ہے۔ اب ان ناموں کو دوبارہ شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ اپنے لوگوں کے نام ووٹر فہرست میں برقرار رکھ رہے ہیں، جبکہ غریبوں کو اپنے نام شامل کرانے کے لیے وقت اور پیسہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت غیر قانونی انتخابات کرانے پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے انتخابی عمل پر قبضہ کرنے کے لیے وزیر اعظم ایسا قانون لائے ہیں جو ملک کی جمہوریت کو برباد کرنے والا ہے۔ اس قانون کو لانے سے پہلے الیکشن کمیشن کی تقرری کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی۔ اس عمل میں وزیر اعظم، اپوزیشن کے رہنما اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوتے تھے اور وہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے عمل میں شریک رہتے تھے۔ مودی حکومت نے اس طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے کمیٹی سے چیف جسٹس کو ہٹا کر ایک وزیر کو شامل کر دیا ہے۔ مودی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے لیے نیا طریقہ کار وضع کیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر غلط کام بھی کرتے ہیں تو انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور جب تک وہ زندہ ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس انتظام کی وجہ سے من مانی ہو رہی ہے اور دو دیگر الیکشن کمشنروں کی جانب سے اعتراض درج کرائے جانے کے باوجود ان کی بات نہیں سنی جا رہی ہے۔ ایک اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد کانگریس نے اس معاملے کو اٹھایا، جس کے بعد ماحول بنا اور اب پورے ملک میں احتجاجی تحریکیں چل رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
-
دنیا6 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
ہندوستان1 week agoڈاکٹر منموہن سنگھ کے یوم پیدائش پر کھرگے اور پرینکا کا خراج عقیدت
-
ہندوستان1 week agoسونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoمودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
-
دنیا1 week agoعراقچی نے ایرانیوں کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کو چھپانے پر امریکہ اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا
-
دنیا5 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا1 week agoایران جنگ میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 861 ہوگئی
-
دنیا6 days agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان- خلیجی کونسل تجارتی بات چیت آگے بڑھی، تجارت اور توانائی کے تعاون کو مضبوط کرنے پر زور
