تازہ ترین
دوسری مرتبہ وزیراعظم کے عہدہ کا آج حلف لیں گے نریندرمودی
خبراردو: نامزد وزیراعظم نریندرمودی دوسری مرتبہ وزیراعظم کےعہدہ کا آج حلف لیں گے ۔
وزیراعظم نے آج حلف لینے سے پہلے راج گھاٹ پہنچ کرمہاتما گاندھی کی سمادھی پر گلہائے عقیدت پیش کی اور پھر سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی سمادھی پر بھی خراج عقیدت پیش کیا۔
حلف برداری تقریب کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور سب سے پہلے مہمان کے طورپر بنگلہ دیش کے صدر محمد عبدالحمید بدھ کی شام دہلی پہنچ گئے۔ سختی حفاظتی انتظامات کے درمیان راشٹرپتی بھون کے احاطہ میں آج شام کو سات بجے حلف برداری کی تقریب شروع ہوگی۔
جس میں نریندر مودی کے ساتھ 50سے زائد وزرا کے حلف لینے کا امکان ہے۔ صدر رام ناتھ کووند وزیراعظم اور کابینہ کے اراکین کو حلف دلائیں گے۔حلف برداری کی تقریب میں مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں، وزرائے اعلی، گورنروں کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں کی اہم ہستیوں اور کئی غیرملکی مہمانوں کو دعوت نامہ بھیجا گیا ہے۔ مغربی بنگال میں سیاسی تشدد کے شکار بنے لوگوں کے اہل خانہ کوبھی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے۔
وزیرا عظم نریندر مودی کی حلف برداری تقریب میں کئی عالمی رہنما، بمسٹیک ملکوں کے سربراہان اور علاقائی لیڈران حصہ لیں گے۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی حالانکہ پہلے اس آئینی تقریب میں شامل ہونے والی تھیں لیکن انہوں نے آنے سے منع کردیا۔ سنہ 2014 میں بھی ممتا بنرجی نے سیاسی مخالفت کی وجہ سے حلف برداری کی تقریب میں آنے سے منع کردیاتھا۔
نریندرمودی نے خلیج بنگال کے سرحدی یا ساحلی ممالک کے عالمی تکنیکی اور معاشی تعاون کی تنظیم بمسٹیک کے رکن ممالک ہندوستان،بنگلہ دیش ، میانمار، سری لنکا، تھائی لینڈ بھوٹان اور نیپال کے رہنماؤں کو تقریب میں مدعو کیا ہے ۔ پاکستان کو اس تنظیم سے باہر رکھا گیاہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد عبدالحمید، سری لنکا کے صدر میتری پال سری سینا، میانمار کے صدر یو وِن منت، بھوٹان کے وزیر اعظم لوتے شیرنگ، نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی، ماریشس کے وزیراعظم پروند کمار جگناتھ اور تھائی لینڈ کے خصوصی ایلچی گریساڈا بون راچ مودی کی تقریبِ حلف برداری میں شریک ہوں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے موجودہ صدر کِرگیج جمہوریہ کے صدر سورون جین بیکو بھی نئی دہلی آرہے ہیں۔
بی جے پی کے صدر امت شاہ اور وزیر اعظم مودی کے ساتھ تین گھنٹے کی طویل میٹنگ ہوئی جس میں دونوں نے کابینہ کی تشکیل کے سلسلے میں شدید غوروخوض کیا۔ امت شاہ نے آج ہی جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) کے لیڈر اور بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے گفتگو کی۔ نتیش کمار کی پارٹی رخصت پذیر حکومت میں شامل نہیں تھی۔ نئی لوک سبھا میں 303 اراکین بی جے پی کے ہیں اور دیگر 50 رکن دوسرے اتحادی پارٹیوں کے ہیں۔ لوک جن شکتی پارٹی(ایل جے پی) کی جانب سے رام ولاس پاسوان ہی کابینہ میں شامل ہوں گے۔ بی جے پی کے صف اول کے رہنماؤں میں سے ایک ارون جیٹلی نے خرابی صحت کی وجہ سے وزیربننے سے انکار کر دیا ہے۔امت شاہ اورسشما سوراج کے نئی کابینہ میں شامل ہونےکے سلسلے میں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں چل رہی ہیں۔ امید ہے کہ مغربی بنگال سے بی جے پی کے فاتح 18 امیدواروں میں سے کئی ایک کو 2021 کے اسمبلی انتخابات کاخیال کرتے ہوئے وزیربنایا جاسکتاہے۔
سونیا گاندھی، منموہن سنگھ ، راہل گاندھی بھی کرینگے شرکت
یو پی اے کی سربراہ سونیا گاندھی، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کے صدر راہل گاندھی آج وزیراعظم نریندرمودی کی حلف برداری تقریب میں شریک ہوں گے۔کانگریس کے ذرائع کے مطاابق سونیا گاندھی، ڈاکٹرمنموہن سنگھ اور راہل گاندھی راشٹرپتی بھون میں منعقدہ حلف برداری تقریب میں شرکت کریں گے۔ سونیا گاندھی اورڈاکٹر سنگھ پچھلی بار بھی نریندرمودی کے وزیراعظم کے عہدہ کی حلف برداری تقریب میں شامل ہوئے تھے۔ اس وقت سونیا گاندھی کانگریس کی صدر تھیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد بھی تقریب میں شامل ہوں گے۔
راہل گاندھی پہلی بار اہم اپوزیشن پارٹی کی صدر کے طورپر وزیراعظم عہدہ کے لئے منعقدہ حلف برداری تقریب میں شرکت کریں گے۔ راہل گاندھی نے گزشتہ برس کانگریس کی کمان سنبھالی تھی لیکن پچھلے ہفتہ منعقدہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں پارٹی کی شکست کی ذمہ دای لیتے ہوئے انہوں نے صدر کے عہدہ سے استعفی دینے کی پیش کش کی تھی۔
دنیا
روس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
واشنگٹن، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں روسی توانائی کمپنی لوکوئل سے متعلق اربوں ڈالر کے ممکنہ تیل معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دو سینئر مذاکرات کاروں سے وابستہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ تجویز 5 ستمبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ملاقات میں پیش کی گئی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت لوکوئل روس سے باہر تیل کے شعبے کے اثاثے، جن میں تیل کے کنویں، ریفائنریاں اور پٹرول پمپس شامل ہیں، خرید سکتی ہے۔ ان میں نیو جرسی کے پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ سودے میں مشرق وسطیٰ کے دو کاروباری گروپ اور امریکی سرمایہ کار و ٹرمپ کے عطیہ دہندہ ٹوڈ بوہلی بھی شامل ہیں۔ ان گروپوں کے ماضی میں وٹکوف اور کشنر کے ساتھ کاروباری روابط رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ وٹکوف یا کشنر کو ذاتی طور پر اس سودے سے مالی فائدہ ہوگا، تاہم مذاکرات میں شامل فریقوں سے ان کے کاروباری روابط نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
وٹکوف امریکی خصوصی ایلچی ہیں، جبکہ کشنر ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر وائٹ ہاؤس مشیر ہیں۔ دونوں نے روس اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجوزہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات بحال ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے اس بڑے سودے کو شامل کرنا مستقبل میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے وسیع اقتصادی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
جموں، بی جے پی کے قومی دفتر انچارج، راجیہ سبھا رکن اور گجرات کے انچارج ترون چگ نے ہفتہ کو عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ریاستی حیثیت کے مسئلے کو اپنے خودمختاری کے ایجنڈے کے پردے کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور بنیادی حکمرانی میں اپنی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
چگ، جو اس سے قبل جموں و کشمیر بی جے پی کے انچارج بھی رہ چکے ہیں، نے یہاں کہا کہ ریاستی حیثیت سے متعلق مجوزہ قرارداد ایک سیاسی چال ہے، کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ کے ایوان میں پہلے ہی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ این سی حکومت اپنی ناکام حکمرانی اور انتخابات کے دوران کیے گئے نامکمل وعدوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس مسئلے کا استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’عمر عبداللہ کو غیر متعلقہ مسائل پر بات کرنا بند کرکے اپنی حکومت کا رپورٹ کارڈ پیش کرنا چاہیے۔ عوام روزگار، ترقی اور ان سے کیے گئے وعدوں کے بارے میں جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر میں قوم پرستی کے تحفظ اور ترقی کو تیز کرنے کے لیے مسلسل خود کو مضبوط کر رہی ہے اور نئے لوگ مسلسل پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس، انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے ایک یک طرفہ ایجنڈا اختیار کر لیا ہے اور ترقی و عوام کے تئیں اپنی بنیادی ذمہ داری سے دور ہو گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں، ریلوے اور بنیادی ڈھانچے میں نظر آنے والی پیش رفت وزیر اعظم مودی کے وژن اور مودی حکومت کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
مودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت ’غیر قانونی‘ انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، اس لیے اسے برطرف کرکے ملک میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
مسٹر کھڑگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے جمہوریت کو برباد کر دیا ہے۔ ملک میں انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور تمام انتخابات غیر قانونی ہیں، لہٰذا ایسے انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی حکومتیں اور ان کے وزرا بھی غیر قانونی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ملک میں ’غیر قانونی انتخابات‘ ہو رہے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی ’غیر قانونی وزیر اعظم‘ اور امیت شاہ ’غیر قانونی وزیر داخلہ‘ ہیں۔ حکومتوں کو برطرف کیا جانا چاہیے اور انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جانے چاہئیں۔‘‘
کانگریس صدر نے کہا کہ ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی وجہ سے پورا انتخابی عمل برباد ہو گیا ہے۔ جمہوریت میں جاری اس غیر قانونی عمل کے پیش نظر ہی انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ بلائی گئی تھی، جس میں 20 جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ قانونی ماہر کپل سبل کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں سبھی نے تسلیم کیا کہ ایس آئی آر غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے غریب، پسماندہ اور خاص طور پر اقلیتی طبقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ ووٹ کاٹنے کا کام بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ کر رہے ہیں۔ ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کو غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایک ایک بوتھ سے 500-500 افراد کے نام بھی حذف کر دیے جائیں تو اس سے بہت بڑا فرق پڑتا ہے۔ اب ان ناموں کو دوبارہ شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ اپنے لوگوں کے نام ووٹر فہرست میں برقرار رکھ رہے ہیں، جبکہ غریبوں کو اپنے نام شامل کرانے کے لیے وقت اور پیسہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت غیر قانونی انتخابات کرانے پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے انتخابی عمل پر قبضہ کرنے کے لیے وزیر اعظم ایسا قانون لائے ہیں جو ملک کی جمہوریت کو برباد کرنے والا ہے۔ اس قانون کو لانے سے پہلے الیکشن کمیشن کی تقرری کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی۔ اس عمل میں وزیر اعظم، اپوزیشن کے رہنما اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوتے تھے اور وہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے عمل میں شریک رہتے تھے۔ مودی حکومت نے اس طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے کمیٹی سے چیف جسٹس کو ہٹا کر ایک وزیر کو شامل کر دیا ہے۔ مودی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے لیے نیا طریقہ کار وضع کیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر غلط کام بھی کرتے ہیں تو انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور جب تک وہ زندہ ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس انتظام کی وجہ سے من مانی ہو رہی ہے اور دو دیگر الیکشن کمشنروں کی جانب سے اعتراض درج کرائے جانے کے باوجود ان کی بات نہیں سنی جا رہی ہے۔ ایک اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد کانگریس نے اس معاملے کو اٹھایا، جس کے بعد ماحول بنا اور اب پورے ملک میں احتجاجی تحریکیں چل رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا6 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس عشائیے میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی اپیل
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
-
دنیا5 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
ہندوستان1 week agoڈاکٹر منموہن سنگھ کے یوم پیدائش پر کھرگے اور پرینکا کا خراج عقیدت
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے اونچی 20 چوٹیوں پر لہرایا گیا ترنگا
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ کوئی خیرات نہیں: سجاد لون نے جموں و کشمیر کی قرارداد کا دفاع کیا، 1947 کے وعدوں کا حوالہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoمودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
-
دنیا1 week agoعراقچی نے ایرانیوں کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کو چھپانے پر امریکہ اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا
