تازہ ترین
کون، کب کتنی مدت تک بھارتی وزیراعظم رہا
خبراردو: بھارت کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے 11 اپریل سے 19 مئی 2019 تک ہونے والے انتخابات کی پولنگ کے آخری دن ہی یہ چہ مگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ اس بار بھی نریندر مودی اتحادیوں کی حمایت کے ساتھ ایک بار پھر بھارت کے وزیر اعظم بن جائیں گے اور یہ چہ مگوئیوں سچ ثابت ہوئیں۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق نریندر مودی کی جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تنہا 300 سے زائد نشستیں حاصل کیں جب کہ مجموعی طور پر بی جے پی کی سربراہی میں بننے والے سیاسی اتحاد نے 350 نشستیں حاصل کیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ بی جے پی کو اتنی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی اور ساتھ ہی 1952 کے بعد کانگریس کے علاوہ کوئی دوسری جماعت پہلی بار ریکارڈ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
اگر بی جے پی چاہے تو وہ تنہا بھی حکومت بنا سکتی ہے اور نریندر مودی کسی اتحادی سیاسی جماعت کے ووٹ کی حمایت کے بغیر ہی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بن جائیں گے، کیوں کہ انہیں وزیر اعظم بننے کے لیے 272 ووٹ درکار ہوں گے اور ان کی پارٹی کے ووٹ ہی 300 سے زائد ہیں۔
گزشتہ انتخابات میں بی جے پی نے اتحادیوں سمیت 336 نشستیں حاصل کی تھیں مگر اس بار یہ پارٹی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔
بی جے پی کی واضح برتری کے بعد نریندر مودی ہی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بنائے گئے، کیوں کہ بی جے پی نے کسی اور امیدوار کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان ہی نہیں کیا تھا۔
نریندر مودی مجموعی طور پر بھارت کے 15 ویں وزیر اعظم ہیں اور انہیں اب تک نہرو و گاندھی خاندان کے بعد سب سے طاقتور اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے وزارت عظمیٰ پر براجمان ہونے والے وزیر اعظم کا درجہ حاصل ہے۔
انگریزوں سے آزادی کے بعد بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں جہاں ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخابات 17 بار منعقد ہوچکے ہیں، وہیں اب تک بھارت پر 15 وزیر اعظم حکمرانی کر چکے ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ عرصے تک وزیر اعظم رہنے کا اعزاز پنڈت جواہر لال نہرو کے پاس ہے جو بھارت کے پہلے وزیر اعظم بھی تھے۔
بھارت کے اب تک ہونے والے 15 وزرائے اعظم میں سے پنڈت جواہر لال نہرو وہ واحد شخص تھے جو تین بار وزیر اعظم منتخب ہوئے اور ایک بار وہ انگریزوں کی جانب انتقال اقتدار کے تحت وزیر اعظم بنائے گئے اور یوں وہ سب سے زیادہ عرصے تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔
اگرچہ ان کی طرح اٹل بہاری واجپائی بھی تین بار وزیر اعظم منتخب ہوئے، تاہم ان کی وزارت عظمیٰ کی مدت 2 بار منتخب ہونے والے وزریر اعظم من موہن سنگھ سے بھی کم ہے۔
ان دونوں کے علاوہ بھارت کے 15 میں سے 5 وزیراعظم دو دو بار عہدے پر براجمان ہوئے۔
دو بار وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہونے والے دیگر وزرائے اعظم میں بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی، ان کے بیٹے راجیو گاندھی، گلزاری لال نندا، من موہن سنگھ اور نریندر مودی شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دو بار وزیر اعظم رہنے کے باوجود اقتدار میں سب سے کم عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم کا اعزاز گلزاری لال نندا کے پاس ہے۔
گلزاری لال نندا مجموعی طور پر دونوں مدتوں کے دوران محض 26 دن کے لیے بھارت کے وزیر اعظم بنے۔ وہ پہلی اور دوسری مدت کے دوران محض 13، 13 دن کے لیے وزیر اعظم بنے۔
بھارت کے وزرائے اعظم کی تاریخ بہت ہی دلچسپ ہے اور کچھ افراد اتفاقی طور پر وزیر اعظم بھی بنے۔
ایسے وزرائے اعظم میں اٹل بہاری واجپائی بھی ہیں جو پہلی بار 1996 میں وزیر اعظم بنے تو محض 16دن ہی عہدے پر براجمان رہ سکے اور وہ سیاسی اتحاد ہی بکھر گیا جس کے تحت وہ وزیر اعظم بنے تھے۔ علاوہ ازیں من موہن سنگھ کو بھی بھارت کا اتفاقی وزیر اعظم مانا جاتا ہے، کیوں کہ انہیں کانگریس نے مجبوری کے تحت وزیر اعظم بنایا۔
ان دونوں وزرائے اعظم کے علاوہ ایچ بی دیوے گوڑا کو بھی بھارت کا اتفاقی اور معجزاتی وزیر اعظم مانا جاتا ہے۔
پنڈت جواہر لال نہرو (16 سال 286 دن)

پنڈت جواہر لال نہرو نہ صرف آزاد بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے بلکہ وہ اس سے پہلے بھی ہندوستان کے مقبول سیاسی رہنما تھے اور انہیں موہن داس گاندھی کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔
وزیر اعظم بننے سے قبل ہی وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوگئے تھے اور پھر انگریزوں سے آزادی کے بعد وہ برٹش حکومت کی جانب سے انتقال اقتدار کے سیٹ اپ کے تحت 1947 میں بھارت کے پہلے وزیر اعظم بنے۔
نہرو پہلی مرتبہ کسی انتخابات کے بغیر ہی اقتدار کی منتقلی کے لیے انگریز سرکار کی جانب سے بنائے گئے سیٹ اپ کے تحت وزیر اعظم بنے تھے۔
بعد ازاں 1952 میں بھارت میں پہلے عام لوک سبھا انتخابات کرائے گئے جن میں ان کی پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور پہلی بار منتخب وزیر اعظم بنے۔
پنڈت جواہر لال نہرو جہاں بھارت کے پہلے اور دوسرے وزیر اعظم بھی بنے، وہیں وہ بیک وقت وزیر دفاع، وزیر خزانہ، وزیر خارجہ سمیت دیگر اہم وزارتوں کے سربراہ بھی تھے۔
پہلی منتخب حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھارت میں 1957 میں دوسرے انتخابات کرائے گئے اور ایک بار پھر کانگریس نے میدان مارلیا اور تیسری بار بھی جواہر لال نہرو وزیر اعظم بنے۔
لوک سبھا کے تیسرے انتخابات 5 سال بعد مئی اور اپریل 1962 میں ہوئے اور ایک مرتبہ پھر کانگریس کو فتح حاصل ہوئی اور جواہر لال نہرو وزیر اعظم بنے، مجموعی طور پر انہوں نے تقریبا 17 سال تک بطور وزیر اعظم خدمات سر انجام دیں۔
بھارت کے نئے آزاد ملک بننے اور اسے کئی طرح کے سیاسی، سماجی، معاشی و بنیادی ڈھانچے کے مسائل کو حل کرنے میں جواہر لال نہرو کو محنت کرنا پڑی اور ساتھ ہی ساتھ انہیں چین، پاکستان، امریکا اور روس جیسے ممالک سے معاملات کو بھی انتہائی ہوشیاری سے دیکھنا پڑا جس وجہ سے ان کی صحت خراب ہوتی گئی اور بالآخر وہ 27 مئی 1964 کو چل بسے۔
وہ مجموعی طور پر 16 سال 286 دن تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔
گلزاری لال نندا (26 دن)

بھارت کے پہلے اور طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے جوہر لال نہرو کے اچانک انتقال کے بعد اس وقت وفاقی وزیر کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے گلزاری لال نندا کو 27 مئی کو نگراں وزیر اعظم بنایا گیا۔
گلزاری لال نندا کو محض 13 دن کے لیے 27 مئی سے 9 جون تک وزیر اعظم بنایا گیا بعد ازاں کانگریس نے اپنی پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما لال بہادر شاستری کو وزیر اعظم منتخب کیا۔
تاہم بعد ازاں 1966 میں لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد ایک بار پھر گلزاری لال نندا کو 11 جنوری 1966 سے 24 جنوری 1966 تک دوسری بار نگراں وزیر اعظم بنایا گیا۔
گلزاری لال نندا لوک سبھا امیدواروں کے ووٹوں کے بغیر نگراں وزیر اعظم بنے اور وہ مجموعی طور پر 26 دن تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔
وہ بھارت کے پہلے نگراں وزیر اعظم بھی بنے۔
لال بہادر شاستری (ایک سال 216 دن)

لال بہادر شاستری کو بعض سیاسی ماہرین بھارت کا دوسرا وزیر اعظم تسلیم کرتے ہیں، کیوں کہ گلزاری لال نندا لوک سبھا امیدواروں کے ووٹوں کے بغیر ہی وزیر اعظم بنے تھے۔
لال بہادر شاستری 9 جون 1964 کو وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے اور ان ہی کے دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ 1965 میں شروع ہوئی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ کو بند کرنے کے لیے ازبکستان کے شہر تاشقند میں دونوں ممالک نے جنگی بندی کا معاہدہ کیا اور لال بہادری شاستری نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔
تاہم تاشقند معاہدے کے اگلے ہی دن یعنی 10 جنوری 1966 کو وہ تاشقند میں ہی مبینہ دل کا دور پڑنے سے چل بسے، ان کے اہل خانہ نے ان کی موت پر کئی سوالات اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ لال بہادری شاستری کو کبھی کسی طرح کا دل کا عارضہ نہیں رہا۔
لال بہادر شاستری بھارت کے واحد وزیر اعظم ہیں جن کی موت بیرون ملک ہوئی اور ساتھ ہی وہ دنیا کے ان چند وزرائے اعظم میں بھی شمار ہوتے ہیں جن کی موت بیرون ممالک میں اعلیٰ حکومتی و ریاستی اجلاس کے دنوں کے دوران ہوئی۔
وہ مجموعی طور پر ایک سال 216 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔
اندرا گاندھی (11 سال 59 دن)
بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی واحد بیٹی اندرا گاندھی ہندوستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں، پہلی بار وہ 1966 میں لال بہادر شاستری کی وفات کے بعد وزیر اعظم بنیں اور لوک سبھا کے 1967 میں ہونے والے انتخابات میں بھی ان کی پارٹی نے اکثریت حاصل کی اور وہ ہی وزیر اعظم برقرار رہیں۔
اندرا گاندھی نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران پاکستان کو دو لخت کرنے کی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور واضح طور پر انہوں نے مشرقی پاکستان میں مداخلت کی اور وہ دنیا کی پہلی حکمران تھیں جنہوں نے بنگلہ دیش کو سب سے پہلے تسلیم کیا۔
اندرا گاندھی کی جانب سے مشرقی پاکستان میں مداخلت کے بعد ان کی پارٹی میں ہی اختلافات سامنے آئے اور کئی رہنما ان سے روٹھ گئے، کیوں کہ وہ کانگریس کی پالیسی سے ہٹ کر کام کر رہی تھیں، سینیئر سیاستدانوں کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے نئی کانگریس پارٹی کا اعلان کیا اور کہا کہ ماضی کی کانگریس ضم ہوچکی۔
اندرا گاندھی کو والد پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد طویل عرصے تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور وہ مجموعی طور پر 2 مدتوں میں 11 سال سے زائد عرصے تک اپنے قتل تک وزیر اعظم رہیں۔
اندرا گاندھی دوسری مدت کے لیے 1980 میں وزیر اعظم بنیں اور دوسری بار وہ ایسے حالات میں وزیر اعظم بنیں جب ان کے خلاف بھارت بھر میں نفرت پھیلی ہوئی تھی، کیوں کہ انہوں نے پہلی بار وزارت عظمیٰ کے دوران 1975 میں ایمرجنسی نافذ کرکے کئی سیاسی مخالفوں کو سبق سکھانے سمیت عام سیاسی کارکنان اور جماعتوں کے خلاف بھی طاقت کا استعمال کیا تھا۔
اندرا گاندھی کو 31 اکتوبر 1984 میں اپنے محافظوں نے ہی گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔
وہ والد پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم بننے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں، وہ مجموعی طور پر 11 سال 59 دن تک بھارت کی وزیر اعظم رہیں۔
مرار جی ڈیسائی (2 سال 116 دن)
اندرا گاندھی کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد 1977 میں ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں کانگریس سے خفا ہوکر الگ ہونے والے رہنماؤں کی پارٹی جنتا دل نے اکثریت حاصل کی اور کانگریس کے خفا رہنما مرار جی ڈیسائی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
انہیں بھارت کے عمر رسیدہ ترین وزیر اعظم کا اعزاز بھی حاصل ہے جو 84 سال کی عمر کے بعد وزیر اعظم بنے اور انہیں یہ اعزاز بھی جاتا ہے کہ انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دیا۔
وہ اندرا گاندھی کے دور حکومت میں نائب وزیر اعظم بھی تھے، لیکن اصولی سیاست کی وجہ سے ان کے اندرا گاندھی سے اختلافات بھی ہوئے اور بعد ازاں انہیں اندرا گاندھی کے حکم پر جیل میں بھی ڈالا گیا۔
مرار جی ڈیسائی نے پرانی پارٹی کانگریس سے علیحدگی اختیار کرکے جنتا دل پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اسی کی ٹکٹ پر انتخابات جیتے اور وہ پہلے وزیر اعظم تھے جو کانگریس کے علاوہ کسی دوسری جماعت سے اس عہدے پر پہنچے تھے۔
وہ مجموعی طور پر ڈیڑھ برس سے بھی کم یعنی ایک سال 116 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔
چرن سنگھ (170 دن)
مرار جی ڈیسائی کی جانب سے عمر رسیدہ ہونے کے باعث وزارت عظمیٰ سمیت تمام سیاسی و حکومتی عہدوں سے استعفیٰ دیے جانے کے بعد جنتا پارٹی کے ہی چرن سگھ وزیر اعظم بنے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کانگریس اور اندرا گاندھی کی مدد سے وزیر اعظم بنے۔
جنتا پارٹی کے کئی رہنما پہلے کانگریس کا حصہ تھے، مگر پھر وہ اندرا گاندھی کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کیے جانے اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد پارٹی چھوڑ گئے تھے۔ رہنماؤں کے چھوڑ جانے کے بعد اندرا گاندھی کو بھی اپنی غلطیوں کا احساس ہوا اور انہوں نے سیاسی چال چلتے ہوئے چرن سنگھ کو وزیر اعظم منتخب کرانے میں کردار ادا کیا۔
لیکن آگے چل کر چرن سنگھ نے بھی عہدے سے استعفیٰ دیا اور ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ انہیں کانگریس اور اندرا گاندھی بلیک میل کرنا چاہتی تھیں اس لیے وہ مزید اس عہدے پر نہیں رہنا چاہتے وہ مجموعی طور پر 170 دن تک وزیر اعظم رہے۔
چرن سنگھ کی حکومت کے خاتمے کے بعد 1980 میں ہونے والے عام انتخابات میں ایک بار پھر کانگریس کامیاب ہوئی اور اندرا گاندھی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بنیں اور 4 سال بعد 1984 میں انہیں قتل کردیا گیا۔
وہ ایک سال سے بھی کم عرصے تک عہدے پر رہے، وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر 170 تک رہے۔
راجیو گاندھی (5 سال 35 دن)
اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس نے ان کے بیٹے راجیو گاندھی کو وزیر اعظم منتخب کیا وہ بھارت کے 7 ویں وزیر اعظم بنے اور اسی سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور وہ وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
راجیو گاندھی کو بھارت کے نوجوان ترین وزیر اعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے وہ 40 برس کی عمر میں وزیر اعظم بنے، انہیں بھی اپنی والدہ کی طرح کئی طرح کے سیاسی، حکومتی و سیکیورٹی مسائل سے نمٹنا پڑا اور ان ہی مسائل کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں بھی کمی ہوئی۔
راجیو گاندھی کی دور حکومت میں بھارت سری لنکا اور مالدیپ میں ہونے والی خانہ جنگیوں اور نسلی تصادم میں ملوث ہوا اور ایسے کام کرنے کی قیمت بھی اسے ادا کرنی پڑی۔
سیاسی بدعنوانیوں، غلط فیصلوں، دیگر ممالک میں ہونے والی دہشت گردی اور شدت پسندی میں مداخلت کرنے کی وجہ سے راجیو گاندھی کی شہرت میں نمایاں کمی ہوئی اور 1989 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
راجیو گاندھی کو 1991 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران خود کش حملے میں قتل کردیا گیا، وہ مجموعی طور پر 5 سال 32 تک وزیر اعظم رہے۔
وشوناتھ پرتاب سنگھ (343 دن)
وشوناتھ پرتاب سنگھ نے بھی سیاست کا آغاز کانگریس سے کیا تھا لیکن اندرا گاندھی کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے بعد وہ بھی پارٹی کو چھوڑ گئے تھے اور انہوں نے بھی نئی بننے والی پارٹی جنتا دل میں شمولیت اختیار کی تھی۔
جنتا دل کچھ ہی سال میں کمزور پڑ چکی تھی، جس وجہ سے 1989 کے لوک سبھا انتخابات نے اس نے نیشنل فرنٹ نامی بننے والے سیاسی اتحاد کے ساتھ انتخابات لڑے اور اس اتحاد نے کامیابی حاصل کی جس کے بعد وشوناتھ پرتاب سنگھ کو وزیر اعظم بنایا گیا۔
سیاسی اتحاد کے ذریعے بننے والے وشوناتھ پرتاب سنگھ بھارت کے وہ واحد وزیر اعظم ہیں جنہیں عدم اعتماد کا ووٹ نہ ملنے کے بعد 343 دن بعد عہدہ چھوڑنا پڑا اور حکومت وقت سے پہلے ختم ہوگئی اور بھارت میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا۔
لوک سبھا کے 1991 میں ہونے والے انتخابات کے دوران ہی راجیو گاندھی کو قتل کیا گیا۔
چندر شیکھر (223 دن)
راجیو گاندھی کے قتل کے باوجود لوک سبھا کے انتخابات کا عمل پورا کیا گیا اور اس بار جنتا دل پارٹی یا کانگریس کے بجائے ایک نئی پارٹی واضح برتری کے ساتھ سامنے آئے۔
لوک سبھا کے دسویں انتخابات میں سماج وادی پارٹی نے اکثریت حاصل کی لیکن وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی جس کے بعد کانگریس نے سماج وادی پارٹی کا ساتھ دیا اور چندر شیکھر بھارت کے نویں وزیر اعظم بنے لیکن ایک سال بعد کانگریس نے چندر شیکھر کا ساتھ چھوڑ دیا اور انہیں وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔
وہ مجموعی طور پر 223 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔
پی وی نرسمہاراؤ (4 سال 330 دن)
کانگریس کی جانب سے چندر شیکھر کا ساتھ چھوڑے جانے کے بعد کانگریس کے پی وی نرسمہا راؤ کو جون 1991 میں وزیر اعظم بنایا گیا اور وہ گاندھی خاندان کے بعد پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور وہ 1996 تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہے، ان کی دور حکومت میں بابری مسجد کو شہید کرنے کا سانحہ بھی پیش آیا۔
وہ پہلے غیر ہندی زبان بولنے والے بھارتی وزیر اعظم تھے، ان کا تعلق جنوبی بھارت سے تھا اور ان کی مقامی زبان تیلگو تھی وہ وزیر خارجہ و سائنس و ٹیکنالوجی سمیت دیگر وزارتوں کے قلمدان بھی سنبھال چکے تھے۔
انہوں نے مجموعی طور پر 4 سال 330 تک وزیر اعظم کی ذمہ داریاں نبھائیں۔
اٹل بہاری واجپائی (6 سال 80 دن)
لوک سبھا کے 11 ویں انتخابات 1996 میں ہوئے جن میں اگرچہ بھارتی جنتا پارٹی نے اکثریت حاصل کی، مگر وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی، اس لیے بی جے پی نے دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحادی حکومت بنائی اور اٹل بہاری واجپائی بھارت کے 11 ویں وزیر اعظم بنے۔
مگر محض 13 دن بعد ہی اتحادیوں نے اختلافات کی وجہ سے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیا اور اٹل بہاری واجپائی کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔
اٹل بہاری واجپائی کے بعد ان کے ساتھ اتحاد قائم کرنے والی جماعت جنتا دل پارٹی کے ایچ بھی دیوے گوڑا وزیر اعظم بنے اور وہ اپریل 1997 تک اس عہدے پر براجمان رہے۔
1998 میں ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر بھارتی جنتا پارٹی کو اکثریت ملی اور اٹل بہاری واجپائی ایک بار پھر وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 13 ماہ بعد 1999 میں ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر ان کی پارٹی کو کامیابی ملی اور اٹل بہاری واجپائی تیسری مدت کے لیے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 2004 تک اپنی مدت پوری کی۔
اٹل بہاری واجپائی کے دور میں بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کچھ بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہوئے اور انہوں نے پاکستان کا دورہ بھی کیا وہ امرتسر کے راستے واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان پہنچے۔
اٹل بہاری واجپائی کو رومانوی وزیر اعظم بھی مانا جاتاہے، کیوں کہ وہ شاعر بھی تھے اور ان کے چند گانے بولی وڈ فلموں کا حصہ بھی ہیں اور ان کے کئی اداکاروں خصوصی طور پر اس وقت کی مشہور اداکاراؤں سے اچھے تعلقات تھے اور وہ انہیں اکثر ملاقاتوں کے لیے مدعو کرتے رہتے تھے۔
وہ مجموعی طور پر تین ادوار میں 6 سال 80 تک عہدے پر براجمان رہے۔
ایچ بی دیوے گوڑا (324 دن)
اٹل بہاری واجپائی کو جون 1996 میں محض 13 دن کے بعد ہٹائے جانے کے بعد ایچ بھی دیوے گوڑا کو وزیر اعظم بنایا گیا، ان کا تعلق جنتا دل پارٹی سے تھا، ان کے وزیر اعظم بننے کو بھارتی سیاست میں معجزہ قرار دیا جاتاہے اور انہیں اتفاقی وزیر اعظم بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ دور دور تک ان کے وزیر اعظم بننے کے امکانات نہیں تھے۔
انہوں نے لوک سبھا کے انتخابات بھی نہیں لڑے تھے وہ اس وقت بھارت کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے رکن تھے اور اپنی پارٹی جنتا دل پارٹی کے سربراہ ہونے کی وجہ سے وہ وزیر اعظم بنے۔
وہ راجیہ سبھا سے وزیر اعظم بننے والے دوسرے شخص تھے، ان سے قبل اندرا گاندھی راجیہ سبھا کی رکن ہوتے ہوئے ایک بار وزیر اعظم منتخب ہوئی تھیں۔
ایچ بی دیوے گوڑا جون 1996 سے اپریل 1997 تک وزیر اعظم رہے، وہ مجموعی طور پر 324 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔
اندر کمار گجرال (آئی کے گجرال) (332 دن)
ایچ بی دیوے گوڑا کو ہٹائے جانے کے بعد جنتا دل پارٹی کے راجیہ سبھا کے رکن اندر کمار گجرال کو وزیر اعظم بنایا گیا، وہ بھی ایچ بی دیوے گوڑا کی طرح سیاسی اتحاد کے طور پر وزیر اعظم بنے۔
آئی کے گجرال راجیہ سبھا سے وزیر اعظم بننے والے تیسرے شخص تھے۔
ان کے دور حکومت میں اگرچہ بھارت میں کچھ معاشی بہتری آئی، تاہم ان کی حکومت متنازع سیاسی فیصلے کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہے، وہ سیاسی اتحاد کے ذریعے ایسے وقت میں وزیر اعظم بنے تھے جب ان کے اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے وفاقی وزرا، ریاستی وزرا اور ریاستی وزرائے اعلیٰ کے خلاف کرپشن کے کیسز چل رہے تھے اور ان پر کرپٹ سیاستدانوں کو تحفظ دینے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں ان کے دور حکومت میں بھارت کے ایک سے زائد ریاستوں میں گورنر راج بھی نافذ کیا گیا، وہ مجموعی طور پر 332 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔
من موہن سنگھ (10 سال 2 دن)
ڈاکٹر من موہن سنگھ کو بھی بھارت کا اتفاقی وزیر اعظم مانا جاتا ہے، کیوں کہ وہ بھی لوک سبھا سے نہیں بلکہ ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے وزیر اعظم بنائے گئے۔
من موہن سنگھ وزیر اعظم بننے سے قبل اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر تھے جب کہ وہ اس سے قبل کانگریس کی اتحادی حکومتوں کے دوران وزیر خزانہ سمیت کئی اعلیٰ وزارتوں پر براجمان رہ چکے تھے۔
من موہن سنگھ اپنی پوری سیاسی زندگی میں کبھی بھی لوک سبھا کے رکن نہیں رہے، تاہم وہ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرتے رہے اور پھر وہ راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوتے رہے۔
2004 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی قیادت میں بننے والے سیاسی اتحادی نے کامیابی حاصل کی تو کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے من موہن سنگھ کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا۔
من موہن سنگھ بھارت کے پہلے سکھ وزیر اعظم بھی بنے، ان کی دور حکومت میں بھارت نے ممبئی حملوں سمیت دیگر دہشت گردی کے حملوں کا سامنا کیا، علاوہ ازیں ان کی دور حکومت میں کرپشن کے کئی اسکینڈل بھی سامنے ائے۔
وہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے نہرو کے بعد اپنی پہلی اور دوسری مدت آئینی طور پر مکمل کی، وہ مجموعی طور پر 10 سال تک وزیر اعظم رہے اور 2014 تک انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، وہ مجموعی طور پر 10 سال 2 دن تک بھارت کے وزیر اعظم رہے۔
نریندر مودی (5 سال 3 دن اور دوسری مدت کے لیے موجودہ وزیر اعظم)
نریندر مودی 2014 میں بھارتی جنتا پارٹی کی سرپرستی میں بننے والے سیاسی اتحاد کی جیت کے بعد وزیر اعظم بنے، وہ پہلے وزیر اعظم تھے جو وزارت عظمیٰ پر براجمان ہونے سے قبل ملسلس ریاستی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔
وزیر اعظم بننے سے قبل وہ 2001 سے ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوتے آ رہے تھے اور ان کے دور وزارت اعلیٰ میں ہی گجرات میں 2002 میں مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات رونما ہوئے۔
نریندر مودی نے 2014 کے انتخابات کی مہم کے دوران واضح طور پر ہندو توا اور مسلمانوں سے نفرت کی مہم چلائی، کئی جارحانہ اور متنازع بیانات دیے، لیکن اس کے باوجود وہ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے۔
نریندر مودی اٹل بہاری واجپائی کے بعد بی جے پی کے دوسرے وزیر اعظم ہیں جو مسلسل دوسری مدت کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔
نریندر مودی کی پہلے دور حکومت میں بھارت میں انتہاپسندی، اقلیتوں کے خلاف تعصب پرستانہ رویوں اور تشدد سمیت وہاں دہشت گردی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
نریندر مودی کی دور حکومت میں بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں بھی بھارتی فوج کی جانب سے تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا، علاوہ ازیں بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس پر عالمی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔
نریندر مودی کے پہلے دور حکومت میں جہاں بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی، تشدد اور ہندو انتہاپسندی میں اضافہ ہوا، وہیں انہوں نے معیشت کو بہتر بنانے کے دعوے کے ساتھ کرنسی کے نوٹ بھی اچانک بند کردیے جس وجہ وہاں کئی معاشی مسائل بھی سامنے آئے۔
مجموعی طور پر جہاں نریندر مودی کا پہلا دور حکومت متنازع رہا، وہیں کروڑوں عوام نے نریندر مودی کی سخت پالیسیوں کی تعریف بھی کی اور اسی وجہ سے ہی انہیں اور ان کی پارٹی کو 2019 کے انتخابات میں شاندار کامیابی ملی۔
نریندر مودی دوسری مدت کے لیے جون 2019 سے اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کریں گے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ دوسری مدت بھی پوری کرلیں گے۔
نریندر مودی کو پنڈت جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کے بعد بھارت کا اب تک کا طاقتور ترین وزیر اعظم بھی مانا جاتا ہے، انہوں نے پہلی مدت کے دوران 5 سال تین دن تک بطور وزیر اعظم ذمہ داریاں سنبھالیں جب کہ وہ دوسری مدت کے لیے 30 مئی 2019 کو وزیر اعظم بنے۔
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
