تازہ ترین
اینٹی کرپشن بیورو میں سرینگر ڈپٹی میئر اورجے کے بینک حکام کیخلاف کیس درج
خبراردو: انٹی کورپشن بیورو نے سرینگر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئرشیخ عمران، جموں وکشمیر بنک کے کئی افسران سمیت انتظامیہ میں شامل کئی افسران کےخلاف مبینہ خردبرد کے معاملات کے تحت کیس درج کیا۔
انٹی کورپشن بیورو نے سنیچر کو سرینگر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر شیخ عمران، جموں وکشمیر بنک کے کئی افسران سمیت انتظامیہ میں شامل کئی افسران کےخلاف مبینہ خردبرد معاملے کے تحت کیس درج کرلیا ہے۔انٹی کورپشن بیورو کے مطابق ڈپٹی میئر شیخ عمران نے لاسی پورہ پلوامہ میں تجارتی یونٹ کو قائم کرنے کےلئے رقومات کا خاکہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ عمران نے غیر قانونی طور پر سرکار سے بھاری سبسڈی حاصل کرنے کی غرض سے غلط تخمینہ پیش کیا تھا۔
انٹی کورپشن بیورو کا کہنا ہے کہ ڈپٹی میئر نے بڑے پیمانے پر سبسڈی حاصل کرنے کی خاطر غلط تخمینہ سرکار کو پیش کیا تھا جس کے بعد انہوں نے بنک سے بڑے پیمانے پر قرضے حاصل کرکے خزانہ عامرہ کو چونا لگایا۔بیورو کے مطابق اس سلسلے میں ایک انٹی کورپشن بیورو نے ڈائریکٹر مسرز قہوہ اسکائر پراﺅیٹ لمیٹڈ بہوری کدل سرینگر، جموں وکشمیر بنک کے متعدد افسران کےساتھ ساتھ انتظامیہ میں شامل چند افسران کےخلاف پولیس تھانہ اننت ناگ میں کیس زیر نمبر3/2019زیر دفعہ 5(1)(d)پی سی ایکٹ سموات2006 لائق سزا زیر دفعہ 5(2)آف 420اور 120-Bآر پی سی درج کیا گیا ہے۔بیورو کے بقول تینوں شراکت داروں نے لاسی پورہ پلوامہ میں سٹوریج یونٹ کو قائم کرنے میں بڑے پیمانے پر مالی خرد برد کیا ہے۔بیورو کے مطابق کیس کی تحقیقات کے دوران اس بات کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ ڈپٹی میئر شیخ عمران نے لاسی پورہ دپلوامہ میں سٹوریج یونٹ کو قائم کرنے کے حوالے سے جو تخمینہ جموں وکشمیر بنک کے پاس جمع کرایا اُس میں کئی گنا زیادہ رقم تجارتی یونٹ کے قیام کےلئے دکھائی گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹر مسرز قہوہ اسکائر پراﺅیٹ لمیٹڈ شیخ عمران نے کئی گنا سبسڈی کے حصول کی خاطر بنک کو پیش کئے گئے تخمینے میں یونٹ کے قیام سے متعلق رقم کو کئی گنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔بیورو کا کہنا تھا کہ باغبانی کے فروغ سے متعلق مشن سے متعلق قواعد و ضوابط کے تحت ایک مشترکہ ٹیم جس میں باغبانی شعبے سے متعلق ماہرین اور سرکاری افسران شامل تھے نے شیخ عمران کے ہمراہ لاسی پورہ پلوامہ جاکر یہاں جائے واقعے کا آن سپاٹ جائزہ لیا جس کے بعد 33کروڑ لاگت کے پروجیکٹ جس میں سبسڈی رقم شامل تھی کو قواعد و ضوابط کے تحت خودمختار جائزہ کمیٹی گورنمنٹ آف انڈیا کو ہری جھنڈی کےلئے روانہ کیا گیا۔اس کے بعد ریاستی سرکار نے بھی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جنہوں نے فی نفسہ لاسی پورہ پلوامہ جاکر یہاں افراسٹرکچر کاجائزہ لیا۔بیورو کے مطابق ریاستی سرکار دمیں شامل چند افسران نے اس موقعے پر لاسی پورہ میں یونٹ کا جائزہ لینے کے بعد بغیر کسی کمی یا بیشی کے، سبسڈی رقم کو واگذار کرنےکی سفارش کی۔بیورو کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آگئی کہ مسرز قہوہ گروپ کے مزید 6تجارتی یونٹس قائم ہیں جس کےلئے شیخ عمران نے مذکورہ یونٹوں کو فروغ دینے کےلئے بڑے پیمانے پر مالی خرد برد کیا ہے۔بیورو کے بقول شیخ عمران کے کھاتے میں اس وقت138کروڑ بطور قرضہ ہے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات واضح ہوگئی کہ قہوہ گروپ اور اسی طرح کے دیگر تجارتی یونٹس ”نان پرفارمنگ اسٹس“ ہیں جس کے بعد شیخ عمران نے قرضے سے متعلق بنک کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد بنک نے شیخ عمران کے 33کروڑ قرضے کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا۔اس سلسلے میں بنک کے ساتھ قرضے سے متعلق معاملات کو ایک ہی چٹکی میں حل کرنے کے حوالے سے جموں وکشمیر بنک نے مسرز قہوہ گروپ کو 105کروڑ روپے دو قسطوں میں ادا کرنے کو کہا جس کے لیے 50کروڑ روپے کو 25مارچ 2017کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق انٹی کورپشن بیورو کی جانب سے انکوائری میں اس بات کا خلاصہ کیا گیا ہے کہ شیخ عمران نے باغبانی محکمے اور جموں وکشمیر بنک کے افسران کے تعاون سے باغبانی شعبے کو فروغ دینے کی خاطربڑے مقدار میں سبسڈی رقم کو ہڑپنے کی کوشش کی ہے۔
انکوائری میں بتایا گیا ہے کہ قہوہ گروپ کے مالک شیخ عمران اور اُن کے شریک داروں نے سبسڈی رقم کو ہڑپنے کی خاطر اپنے تجارتی یونٹوں کو ”نان پرفارمنگ اسیٹس“ کے طور پر دکھایا جبکہ اس دوران انہوں نے قرضے سے متعلق ایک بھی قسط بنک کو واپس نہیں کی۔انکوائری کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈپٹی میئر شیخ عمران اور اُن کے شریک داروں کی طرف سے مجرمانہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں جموں وکشمیر بنک کے کئی افسران شامل ہیں۔انٹی کورپشن بیورو کے بقول معاملے سے متعلق تحقیقات کو آگے بڑھانے کےلئے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور آنے والے وقت میں ملوث عناصر کےخلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔
ہندوستان
چین کے معاملے پر مودی ملک اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے چین کی سرحد پر کشیدگی اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر گمراہ کرنے کے بجائے انہیں پارلیمنٹ اور ملک کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو کہا کہ اروناچل پردیش میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان مسلسل آمنے سامنے کی صورتِ حال برقرار رہنے کی خبریں ہیں، جو انتہائی تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد ایک اور سنگین تصادم کی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ اگست میں توانگ علاقے کے قریب تاکسنگ میں چینی دراندازی کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم کی صورتِ حال کیوں برقرار ہے؟ اروناچل پردیش کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہونے کی خبریں ہیں اور حکومت کو اس معاملے میں صورتِ حال واضح کرنی چاہیے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی قربانی کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے ہندوستان کی درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن بھی یہ تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت چینی سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی کر رہی ہے اور چین سے وابستہ اہل کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’ کا مطلب ‘چین سے درآمدات’ رہ گیا ہے؟
مسٹر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتوں اور بات چیت، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت والے خصوصی نمائندوں کے 25 ادوار اور ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ ان ملاقاتوں اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس سربراہ اجلاسوں میں شرکت سے ہندوستان کو کیا ٹھوس نتائج حاصل ہوئے ہیں؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا مئی 2020 سے پہلے ہندوستانی فوج کی گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟
کانگریس صدر نے کہا کہ ملک کو مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسٹر مودی کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنی چاہیے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
