تازہ ترین
23برس جیل میں کاٹنے کے بعد 3کشمیری نوجوان بالآخر رہا
خبراردو: جے پورکی عدالت عالیہ نے 1996میں پیش آچکے سملیتی سانحے میں مبینہ طور پرملوث 3کشمیری نوجوانوں کو 23برس کے بعد بے گناہ قرار دے کیس سے بری قراردیا۔
جے پور کی عدالت عالیہ نے 1996میں پیش آئے سملیتی سانحے دھماکے میں مبینہ طور پر ملوث 3کشمیری نوجوانوں کو 23برس جیل میں رکھنے کے بعد بے گناہ قرار دے کر کیس سے بری کردیا۔ معلوم ہوا کہ 23برس قبل ہوئے دھماکوں میں پولیس نے 5ملزمان کی گرفتار ی عمل میں لائی تھی جن میں 3کشمیر باشندے شامل تھے۔تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے تینوں نوجوانوں کو 23برس تک جیل میں رکھنے کے بعد ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت اکٹھا کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد جے پور کی عدالت عالیہ نے تینوں کشمیری نوجوانوں کو سوموار کے روز جیل سے رہا کردیا۔تحقیقاتی ایجنسیوں نے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث تینوں کشمیریوں کے تعلقات واقعے میں اہم کردار ادا کرنے والے شخص کیساتھ ثابت کرنے میں ناکام رہے۔معلوم ہوا کہ منگلوار کی شام کو 42سالہ لطیف احمد باجا، 48سالہ علی بٹ، 39سالہ مرزا نثار، 57سالہ عبدالغنی اور 56سالہ رئیس بیگ جے پور جیل سے باہر آگئے۔
ذرائع نے بتایا کہ رئیس احمد بیگ کو8جون 1997کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا جبکہ باقی دیگر افراد کو17جون1996سے27جولائی 1996تک گرفتار کرلیا تھا۔ معلوم ہوا کہ اس عرصے کے دوران تینوں کشمیری نوجوان دہلی اور احمد آباد کی جیلوں میں مقید رہے جس دوران انہیں کبھی بھی پے رول یا ضمانت پر رہا نہیں کیا گیا۔منگلوار کو رہائی کے فوراً بعد تینوں نوجوانوں نے کہا کہ ہم تینوں ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے اور ہم ایک دوسرے سے تب ہی واقف ہوئے جب کرائم برانچ نے ہمیں واقعے میں ملوث ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ رئیس احمد بیگ آگرہ شہر کا رہنے والا ہے جبکہ 57سالہ عبدالغنی ڈوڈہ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیگر افراد ضلع سرینگر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔رہا کئے گئے نوجوانوں کا کہنا تھا کہ گرفتاری سے قبل 48سالہ علی محمد بٹ کارپٹ کی تجارت سے وابستہ تھا جبکہ لطیف احمد باجا کشمیری دست کاری کا کاروبار نئی دہلی اور کاٹھ منڈو میں کیا کرتا تھا، اسی طرح نثار مرزا گرفتاری کے وقت نویں جماعت میں زیر تعلیم تھا اور عبدالغنی ایک اسکول چلارہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے سے بالکل ناآشنا ہے کہ ہم نے کس دنیا میں اب قدم رکھا ہے۔ جیل میں رہنے کے دوران ہم نے اپنے رشتہ داروں کو کھویا۔ عبدالغنی کا کہنا تھا کہ دوران اسیری میں نے اپنی ماں، اپنے باپ اور چچاؤں کو کھودیا۔ آج ہم رہا کردئے گئے لیکن ہماری زندگی کے یہ قیمتی لمحات ہمیں واپس کون لوٹائے گا۔
بیگ کاکہنا تھا کہ ایام اسیری کے دوران میری بہن کا نکاح بھی طے ہوا جبکہ آج کی تاریخ میں میری بھانجی بھی نکاح کی عمر کو پہنچ چکی ہے۔یاد رہے 22مئی 1996کو سملیتی گاؤں میں گاڑی کے اندر ایک زور دار دھماکہ ہوا جس میں 14افراد مارے گئے جبکہ دیگر 37افراد مضروب ہوئے تھے۔ مذکورہ گاڑی آگرہ سے بیکانئر کی جانب رواں دواں تھی۔ اس دھماکے سے ایک روز قبل نئی دہلی کے لاجپت نگر میں بھی زور دار دھماکہ ہوا تھا جس میں 13افراد از جان ہوئے تھے۔پولیس نے چارج شیٹ میں بتایا تھا کہ مذکورہ نوجوان جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس بات کا بھی دعویٰ کیا تھا کہ گرفتار کئے گئے نوجوانوں میں سے بعض جے پور شہر میں 1996میں سوائے من سنگھ اسٹیڈیم دھماکے میں بھی ملوث رہے ہیں۔اس کے علاوہ تینوں نوجوانوں کو مختلف کیسوں میں ملوث دکھایا گیا تھا تاہم جے پور کی عدالت عالیہ نے سبھی ملزمان کو جملہ کیسوں میں بے قصور قرار دے کر رہا کردیا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
