تازہ ترین
”دفعہ 35Aکیساتھ چھیڑ چھاڑ بارود کو ہاتھ لگانے کے مترادف“: محبوبہ مفتی
خبراردو: پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے مرکزی سرکار کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 35Aکیساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا بارود کو ہاتھ لگانے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جو ہاتھ دفعہ 35Aکیساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کیلئے اُٹھیں گے، وہ ہاتھ ہی نہیں بلکہ پورا جسم جل کر راکھ ہوجائیگا۔
پارٹی کی 20ویں یوم تاسیس کے موقعے پر شیر کشمیر پارک سرینگر میں پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے دفعہ35Aپر جاری قیاس آرائیوں کے بیچ مرکزی سرکار کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 35Aکیساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا بارود کو ہاتھ لگانے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی پوزیشن کیساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ خوانی سے یہاں طوفان بپا ہوسکتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری مرکزی سرکار پر عائد ہوگی۔محبوبہ مفتی نے تاسیسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ بڑی لڑائی کیلئے تیار رہیں۔ پارٹی کارکنان ذہنی طورپر خصوصی پوزیشن والی دفعہ 35Aکی حفاظت کیلئے تیار رہیں۔
ہمیں اب بہت بڑی لڑائی لڑنی ہوگی جس کیلئے ہمیں خود کو تیارکرنا ہوگا۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ جو ہاتھ دفعہ 35Aکیساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کیلئے اُٹھیں گے، وہ ہاتھ ہی نہیں بلکہ پورا جسم جل کر راکھ ہوجائیگا۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہم ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کے دفاع کیلئے آخری دم تک لڑنے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی خصوصی شناخت کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے خاموش تماشائی کا رول ادا نہیں کریگی بلکہ اس کیلئے آخری دم تک لڑے گی۔ محبوبہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پی ڈی پی اور اس سے وابستہ افراد کو ہر ممکنہ ذرائع سے ڈرایا اور دھمکایا جائیگا لیکن ہم خاموش بیٹھنے والے نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی اس بات کا ادراک بخوبی حاصل ہے کہ پی ڈی پی ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو خصوصی پوزیشن کے دفاع کیلئے قلعے کی مانند کھڑی ہے۔مرکزی سرکار جانتی ہے کہ پی ڈی پی سچائی اور اصولوں پر مبنی جماعت ہے جو عوامی خواہشات کا سودا نہیں کرسکتی۔پی ڈی پی دوغلی پالیسی پر یقین نہیں رکھتی بلکہ جو بات کشمیر میں کرتی ہے، وہی جموں اور نئی دہلی میں بھی کی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حال ہی میں مرکزی سرکار کو صلاح دی کہ دفعہ 35Aسے متعلق دھمکیوں کے بجائے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے، تاہم میں (محبوبہ مفتی) یہاں یہ بات واضح کردینا چاہتی ہے کہ جموں وکشمیر کا کوئی بھی باشندہ خصوصی پوزیشن کی منسوخی سے متعلق نہ مرکزی سرکار اور نہ ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں فی الوقت حالات ٹھیک نہیں ہے، ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول قائم ہے۔ جموں وکشمیر بنک کی سالمیت پر بھی کاری ضرب لگائی گئی، آہستہ آہستہ کوششیں کی جارہی ہے کہ کشمیری ہر محاذ پر کمزور ہونا چاہیے۔مرکزی سرکار چاہتی ہے کہ کشمیر سیاسی طور پر بھی اور اقتصادی طور پر بھی کمزور ہوجائے۔ اس کیخلاف اُٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے اور پی ڈی پی کے بغیر اور کسی پارٹی میں دم خم موجود نہیں جو مرکزی سرکارکی کشمیر دشمن پالیسیوں کا مقابلہ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار ہمیں مختلف طریقوں سے ڈرادھمکا سکتی ہے، ہم پر کرپشن کے الزامات لگائے جاسکتے ہیں لیکن ہم ڈرنے والوں میں سے نہیں ہے۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے بتایا کہ مجھ پر شکنجہ کسنا آسان کام نہیں ہے لہٰذا مرکزی سرکار نے تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعے سابق وزیر نعیم اختر کو نشانہ بنایا، اس کے متعلق عوام میں بدظنی پیدا کی گئی۔
میں یہاں پر یہ کہنا چاہتی ہے کہ نعیم اختر کیساتھ اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن وہ کرپٹ نہیں ہے۔ ہمارے شوپیان کے اعجاز میر کو بھی پوچھ تاچھ کے دائرے میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر جنگجوؤں نے مختلف رہائشی مکانات سے سرکاری اہلکاروں سے ہتھیار چھین لئے، اعجاز میر کے رہائشی کوارٹر سے بھی بندوق چرائے گئے لیکن اس مسئلے میں مرکزی سرکار نے این آئی اے کو طلب کرتے ہوئے اعجاز میر کے ارد گرد شکنجہ کسنا شروع کیا۔انہوں نے بتایا کہ میں آپ کو بتادینا چاہتی ہوں کہ جو لڑائی ہم مرکزی سرکار کیساتھ لڑرہے ہیں، اُس میں محبوبہ مفتی کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جاسکتا ہے۔اس موقعے پر جلسے میں موجود پارٹی کارکنان نے جوش و جذبے کیساتھ ”محبوبہ صاحبہ قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں“ کے زور دار نعرے لگائے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoپیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول
