تازہ ترین
پارلیمنٹ کے ایوان بالا(راجیہ سبھا) میں کشمیر کی صورتحال پر بحث:مکمل رپورٹ
خبراردو:
پارلیمنٹ کے ایوان بالا (راجیہ سبھا ) میں بدھ کو 5اگست کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر بحث ہوئی ۔بحث کے دوران اپوزیشن ارکان نے کئی سوالات اٹھائے اور سرکار سے وضاحت طلب کی ۔راجیہ سبھا میں بدھ کے روز کی کارروائی راجیہ سبھا ٹی وی اور دیگر نجی نیوز چینلز پر براہ راست نشر ہورہی تھی ۔راجیہ سبھا میں حزب اختلاف لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ 5اگست کے فیصلہ جات کے بعد کشمیر میں غیر یقینی صورتحال پائی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ ساڑھے 3ماہ کے دوران سرکاری اور نجی اسکولوں میں بچوں کی حاضری 0.5فیصد رہی جبکہ کالج اور یونیورسٹیوں میں کوئی درس وتدریس نہیں ہورہا ہے ۔غلام نبی آزاد نے 3سابق وزرائے اعلیٰ سمیت درجنوںمین اسٹریم لیڈران کی نظر بندی کیساتھ ساتھ انٹر نیٹ کی بندش پر سوالات اٹھائے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا خطہ نہیں جہاں مسلسل ساڑھے تین ماہ تک انٹر نیٹ کی بندش رہی ہو؟۔ایک اور اپوزیشن ممبر نے کہا ’سرکار کو کشمیر میں حالات مکمل طور بحال کرنے میں مزید کتنا وقت درکار ہے ؟۔ایک اورممبر نے کہا کہ5اگست کے پارلیمانی فیصلہ جات سے کشمیر میں دو اہم شعبے تعلیم اورصحت بری طرح سے متاثر ہوئے ،انکی بحالی کےلئے سرکار نے کون سے اقدامات اٹھائے ؟۔اس بحث کے دوران جب مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اپوزیشن ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دے رہے تھے ،تو ایوان میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں بار بار گرم گفتاری بھی ہورہی تھی جبکہ راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیائیڈا نائیڈو بار بار اپوزیشن کے ارکان کو یہ کہہ کر خاموش رہنے کی ہدایت دے رہے تھے کہ معاملہ قومی سلامتی اور جموں وکشمیر کے عوام کی جان ومال کا ہے ،لہٰذا اس پر کسی طرح کی کنٹر ورسی (تضاد) پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔
اپوزیشن ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف سوالات کے جوابات میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہاکہ 5اگست کے پارلیمانی فیصلہ جات کے دوران کشمیر میں بعض احتیاطی بندشیں عائد کی گئی تھیں ،جنہیں مکمل طور ہٹا یا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سبھی195پولیس تھانوں سے دفعہ144کے تحت عائد بندشیں ہٹائی گئیں جبکہ لینڈ لائن فون سروس مکمل طور بحال کردی گئی ہے اور59لاکھ موبائیل فون خدمات کو بحال کردیا گیا ۔جب راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے یہ سوال اٹھایا کہ ساڑھے تین ماہ ہوچکے ہیں اور وادی کشمیر میں انٹر نیٹ بندش برقرار ہے اور حکومت یہ کہہ رہی ہے پاکستانی عزائم کو ناکام بنانے کےلئے انٹر نیٹ بندش کی گئی ہے جبکہ پاکستان1947سے ہندوستان کا پڑوسی ہے اور اس پڑوسی ملک کیساتھ کئی جنگیں بھی ہوئیں ،ایسے میں انٹرنیٹ بندش کےلئے حکومت کی جانب یہ جوا زدینا باعث اطمینان نہیں ۔اس سوال کے جواب میں امیت شاہ نے کہا ’ بھارت میں1995میں موبائیل سروس کا آغاز کیا گہا جبکہ بھاجپا کی مرکزی سرکار میں ہی سال2003میں کشمیر میں یہ سروس بحال کردی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بعض سیکیورٹی وجوہات کے بناءپر انٹر نیٹ خدمات سال2002میں بحال کردی گئیں ۔وزیر داخلہ کا کہناتھا کہ کشمیر میں بعض اقدامات قومی سلامتی اور لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے اٹھائے گئے اور ایسے اقدامات ماضی کی حکومتوں نے بھی اٹھائے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لڑائی میں بعض احتیاطی اقدامات اٹھانا لازمی ہے ۔امیت شاہ نے کہا’کشمیر کی انتظامیہ کیساتھ انٹرنیٹ کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا جائیگا اور انٹر نیٹ کی بحالی کےلئے عنقریب حتمی فیصلہ بھی لیا جائیگا ‘۔امیت شاہ نے مزیدکہا’میں غلام نبی آزاد کے اس خیال سے اتفاق کرتا ہوں کی عصر حاضر میں ایجوکیشن کےلئے انٹر نیٹ بنیادی ضرورت ہے ،کشمیر میں اسکی بحالی کےلئے از سر نو جائز ہ لیا جائیگا‘۔امیت شاہ نے دیگر ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات میں کہا ’کشمیر میں ادویات کی کوئی قلت نہیں ،موبائیل ادویات دکان قائم کئے گئے ہیں ،سرکاری اسپتالوں کے دکان میں ادویات کا وافر اسٹاک موجود ہے ،مقامی انتظامات نے اس حوالے سے مﺅثر اور ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں ‘۔ایک سوال کے جواب میں امیت شاہ نے کہا’کشمیر میں 5اگست کے فیصلہ جات کے بعد حالات مکمل طور پر بحال ہوچکے ہیں ‘۔انہوں نے امن وقانون کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا’کشمیر میں 5اگست کے فیصلہ جات کے بعد پولیس کی فائرنگ سے ایک بھی جان نہیں گئی ‘۔
ان کا کہناتھا کہ گذشتہ برس اس عرصے کے دوران کشمیر میں802پتھراﺅ کے واقعات رونما ہوئے جبکہ رواں برس اس عرصے کے دوران544پتھراﺅ کے واقعات رونما ہوئے ،لیکن کوئی جان نہیں گئی ۔امیت شاہ نے کہا کہ کشمیر میں سبھی20ہزار تعلیمی ادارے کھول دیئے گئے ،جہاں طلبہ کی حاضری اطمینان بخش رہی ،جس پر غلام نبی آزاد نے کہا ’جناب کشمیر میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں 0.5فیصد حاضری رہی ،آپ کا یہ دعویٰ کیا کہ99فیصد طلبہ کی حاضری رہی بالکل غلط ہے ‘۔غلام نبی آزاد نے کہا ’ایک بھی نجی اسکول نے اپنی گاڑی بچوں کو لانے اور لیجانے کےلئے سڑکوں پر نہیں اتار ی ،سرکاری اسکولوں میں دفعہ144کی وجہ سے حاضری نہیں رہی ‘۔سوال وجواب کے اس سلسلے کے بیچ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ’11ویں جماعت کے سا لانہ امتحانات میں99.48فیصد طلبہ نے شرکت کی ،10ویں اور12ویں جماعتوں کے سالانہ امتحانات میں طلبہ کی شرکت99.7فیصد رہی ۔ان کا کہناتھا کہ کشمیر میں پیٹرول ،ڈیزل ،تیل خاکی کیساتھ ساتھ غذائی اجناس کی سپلائی متواتر بنیادوں پر کی گئی جبکہ یہاں اشیائے ضروریہ کا وافر اسٹاک موجود ہے ۔امیت شاہ نے کہا کہ کشمیر میں22.50 میٹرک ٹن سیبوں کی پیدا وار ہوئی اور وافر مقدار میں سیبوں کو بیرون منڈیوں تک پہنچایا گیا جبکہ سرکاری اسکیم کے تحت باغ مالکان سے6ہزار میٹر ک ٹن سیب خریدے گئے ۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ماہ بعد5اگست بلاک ڈیولپمنٹ (بی ڈی سی ) انتخابات منعقد ہوئے ۔امیت شاہ نے کشمیر میں دوپہر کو دکان بند رہنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’پوری وادی میں صبح وشام دکان کھلے رہتے ہیں ،دوپہر کو بند رہتے ہیں ،نجی وپبلک ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی جاری ہے ،مقامی اردو وانگریزی روزنامے برابر چھپ رہے ہیں ،ہر طرح کی میڈیا نشرعات جاری ہے ،ایک دن کےلئے نشرعات بند رہی ‘۔امیت شاہ نے کہا کہ سبھی10اضلاع میں سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں کام کام معمول کے مطابق ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا’کشمیر میں حالات بہتر نہیں ہورہے ہیں بلکہ مکمل طور نارمل ہیں ‘۔ان کا کہناتھا کہ ہائی کورٹ میں 5اگست کے فیصلہ جات کے بعد36152کیس آئے جن میں سے ہزاروں کیسوں کو نپٹا را ہوچکا ہے ۔
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
