پاکستان
’’ریاست ِمدینہ‘‘
سلیم صافی
موت سے مفر ممکن نہیں لیکن اگر مقتول کو فتویٰ لگا کر مجرم اور ظالم کے طور پر بھی پیش کیا جائے تو یہ قتل در قتل یا تہہ در تہہ ظلم بن جاتا ہے۔
معروف پشتو شاعر مطیع اللہ تراب اپنی ایک نظم میں دہشت گرد کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے مارنا ہے تو ضرور مار دیجئے لیکن اللہ کا واسطہ کہ قتل کے وقت میرے کاندھے پر کافر کا لفظ لکھ کرفتویٰ نہ لگائیے۔
گویا وہ موت کو گلے لگانے کیلئے تیار ہے لیکن کفر کا فتویٰ سہنے کو نہیں۔ مرحوم نقیب اللہ محسود کے ساتھ یہ تہہ در تہہ ظلم روا رکھا گیا۔ ایک طرف وہ دو اور ساتھیوں کے ساتھ بےگناہ قتل کئے گئے۔
دوسری طرف ان کے ماتھے پر دہشت گرد کا لیبل لگا دیا گیا اور تیسری طرف وہ کسی دہشت گرد کے ہاتھوں نہیں بلکہ ان باوردی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے جنہیں ان جیسے شہریوں کی جان، مال اور عزت کی رکھوالی کی تنخواہ ملتی ہے۔
رائو انوار اینڈ کمپنی کے ہاتھوں نقیب اللہ محسود کے ساتھ اس ظلم کے خلاف کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی تو یہ سیاست کا ایشو بن گیا۔ کراچی اور اسلام آباد میں دھرنے دئیے گئے۔
کوئی لیڈر اسلام آباد کے دھرنے میں گیا تو کوئی کراچی کے دھرنے میں لیکن پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان دونوں شہروں میں گئے اور وعدے کئے کہ وہ رائو انوار کو سزا دلوا کر نقیب اللہ محسود جیسے لوگوں کو انصاف دلوائیں گے۔ عوام اور میڈیا کے احتجاج کے پیشِ نظر سندھ پولیس نے انکوائری کمیٹی بنائی۔ انکوائری کرنے والے پولیس افسران نے رسک لے کر غیرت کا مظاہرہ کیا اور اپنی رپورٹ میں نقیب اللہ محسود کو بےگناہ جبکہ رائو انوار کو ذمہ دار قرار دیا۔
مقدمہ درج ہونے کے بعد رائو انوار غائب ہو گئے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اسلام آباد میں کسی مخصوص اور محفوظ مقام پر مہمان رہے۔ منت ترلوں کے بعد وہ بڑے طمطراق کے ساتھ جسٹس(ر) ثاقب نثار کی عدالت میں پیش ہوئے اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ کراچی منتقل کیا گیا۔ بدقسمتی سے سیاست چمکانے کا وقت گزر گیا تو سیاسی لیڈروں نے نقیب اللہ محسود کو بھلا دیا البتہ کراچی کے ایک نوجوان جبران ناصر آخری وقت تک ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ نقیب اللہ محسود کے بوڑھے والد دل میں نقیب اللہ کے بچھڑنے کا غم لئے اور کاندھوں پر ان کی بیوہ اور بچوں کا بوجھ اٹھائے کراچی کی عدالتوں کے چکر لگاتے رہے۔ کبھی عمران خان اور کبھی دیگر طاقتوروں سے التجائیں کرتے اور انصاف کی بھیک مانگتے رہے لیکن سزا دلوانا تو درکنار الٹا رائو انوار ضمانت پر رہا ہو گئے۔
افسوس کہ بیماری کی بنیاد پر نواز شریف کی ضمانت پر رہائی سے تڑپنے والے پی ٹی آئی کے کسی حکمران کو رائو انوار کی رہائی سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ نقیب اللہ محسود کے نام پر پہچان حاصل کرنے والے سیف الرحمان محسود نے قومی اسمبلی کا ممبر بننے کے بعد دوبارہ نقیب اللہ کا نام لیا اور نہ پی ٹی آئی کے کسی اور پختون ممبر اسمبلی نے۔
نقیب کے والد محمد خان ”ریاستِ مدینہ“ میں زنجیرِ عدل ہلاتے ہلاتے کینسر کے مریض بن گئے اور کیس کی پیروی کے لئے کراچی جانے سے بھی قاصر ہو گئے۔ ابھی چند روز قبل جبران ناصر اس مشن پر اسلام آباد آئے تھے کہ ان کا وڈیو بیان لے جا کر کراچی کی عدالت میں پیش کردیں تاکہ وہ اور ان کے ساتھی بطور وکیل نقیب کے کیس کی پیروی کر سکیں۔
بہرحال محمد خان اپنے مقتول بیٹے کے لئے انصاف اور رائو انوار کے لئے سزا کی آرزو لئے اس دار فانی سے کوچ کرگئے جبکہ نقیب اللہ محسود سمیت چار سو سے زائد انسانوں کے قتل کے ملزم رائو انوار دندناتے پھررہے ہیں تاہم افسوس کہ ”ریاستِ مدینہ“ کے امیرالمومنین اپنے سب وعدے بھول گئے ہیں اور رائو انوار یا ان کے سرپرستوں سے ان کے خوف کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے محمد خان کے انتقال پر تعزیتی بیان جاری کرنے کی ہمت بھی نہیں کی۔
نقیب اللہ محسود کے قتل کا سانحہ تو چلیں ”ریاستِ مدینہ“ کے قیام سے پہلے رونما ہوا تھا لیکن ایس پی طاہر داوڑکا واقعہ تو ”ریاستِ مدینہ“ کے پایہ تخت اسلام آباد میں اس وقت سامنے آیا جب عمران خان ”امیرالمومنین“ بنے تھے اور بات بات پر اللہ کو جان دینے والے شہریار آفریدی وزیرداخلہ تھے۔
پشاور کے شہریوں کی جان ومال کی حفاظت پر مامور پولیس ایس پی طاہر داوڑ اسلام آباد سے اٹھا کر غائب کئے گئے۔ جس کے بعد طاہرداوڑ کی لاش افغانستان سے برآمدہوئی۔ شہریار آفریدی نے اسمبلی کے فلور پر گلا پھاڑ پھاڑ کر اور قسمیں اٹھا اٹھا کر طاہر داوڑ کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے دعوے کئے جبکہ ”امیرالمومنین“ نے مقتول کے بھائی اور بچوں کو وزیراعظم ہائوس بلا کر انصاف دلانے کے وعدے کئے لیکن آج تک برائے نام انکوائری رپورٹ بھی سامنے نہیں آئی۔
طاہرداوڑ محمود خان عرف بزدار پلس کی پولیس کے ایس پی تھے جو عمران خان کی سلطنت کے مرکز سے اٹھائے گئے تھے جبکہ انکوائری شہریار آفریدی نے کرنا تھی۔ سانحہ ساہیوال کو دیکھ لیجئے کہ جس کا زخم تو ابھی تازہ ہے جس میں بڑے آرام سے سب ملزمان بری ہوگئے جبکہ مقتولین کے اہل خانہ کو اتنا دبادیا گیا ہے کہ اب وہ پیروی کرنے کے بھی قابل نہیں رہے۔
افسوس صرف اس بات کا نہیں کہ انصاف کا حصول تحریک انصاف کی حکومت میں ناممکن بن گیا ہے بلکہ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ حکمران اتنے ڈھیٹ ہو گئے ہیں کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی ”ریاستِ مدینہ“ کا نام استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔
قابلِ صد احترام مولانا طارق جمیل صاحب کا فتویٰ درکار ہے کہ کیا ایسی حکومت کے لئے ”ریاستِ مدینہ“ کا پاک نام استعمال کرنا مناسب ہے؟ شہریار آفریدی اور علی محمد خان بتائیں کہ کیا نقیب اللہ محسود، طاہر داوڑ اور سانحہ ساہیوال کے مقتولین کے ورثا کی آہوں سے اب بھی عرش ہلتا ہے یا کہ نہیں؟
واضح اور یاد رہے کہ جان اللہ نے لینی ہے اور ایک دن ہم سب نے اسی طرح منوں مٹی تلے دفن ہونا ہے جس طرح نقیب اللہ محسود کے سادہ اور دکھی والد محمدخان دفن ہو گئے۔
اللہ کی عدالت میں زبان درازی سے کام چلے گا اور نہ جھوٹی قسموں سے۔ وہاں آر ٹی ایس سسٹم فیل ہوگا اور نہ ووٹوں کی گنتی کی طرح غلط گنتی ہوگی۔ یہاں تو یہ تکیہ کلام بن گیا ہے کہ جان اللہ کو دینی ہے لیکن یاد رکھیں کہ جان اللہ نے لینی ہے۔
(jang.com)
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
