اداریہ
بھارت میں لگاتارجنسی زیادتی کا شکار ہورہی ہیں خواتین
اداریہ:
بھارت میں معصوم بچیاں ، عورتیں ، خواتین اور لڑکیاں ، محفوظ نہیں . اللہ تعالیٰ نے ایک طرف جہا ں مرد کو ایک الگ جسمانی ساخت دی ہے وہیں عورت کو اس کے برعکس۔ اس میں کوئی دہرائے نہیں کہ صرف بھارت میں ہی خواتین محفوظ نہیں یا یہی پر انہیں مختلف مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بلکہ دنیا کے ہر ایک ملک میں خواتین زیادتی یا تشدد کا نشانہ بنائی جاتی ہیں ۔
لیکن بھارت میں جن بھیانک مظالم کا سامنا خواتین کو کرنا پڑتا ہے شائد ہی کسی ملک میں ایسا ہوتا ہو ، اور وہ بھی یہاں مسلسل ہوتا جا رہا ہے ۔
قومی جرائم اعدادوشمار کے بیورو کے مطابق بھارت میں ۲۰۱۷ میں بتیس ہزار سے زائد عصمت دری کے واقعات درج کئے گئے تھے۔ تعداد اس سے زیادہ ہو گی کیوں کہ یہ صرف وہ واقعات ہیں جو درج کئے گئے تھے ، بلکہ اس کے علاوہ دیہات میں خصوصاََ ایسے کئی نہ در ج ہونے والے عصمت در ی کے واقعات جن میں متاثرہ خواتین یا لڑکیوں شرم ،خوف یا ڈر کی وجہ سے شیئر کرنے سے کتراتی ہیں ۔
ان میں سے کچھ ایسے بھیا نک اور رونگٹے کھڑے کرنے والے واقعات پر میڈیا کی آنکھ ٹک جاتی ہے اور پھر عوام کا ردعمل ”پھانسی دو “ جیسی مانگوں سے کیا جاتاہے.
۲۰۱۲ میں نربھیا عصمت دری کیس میں ایسا ہی ہوا ۔سات سال اس کیس کو ہوگئے لیکن آج تک متاثرین انصاف کے منتظر ہیں ۔جس ملک میں ایک لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کے بعد قتل کیا جائے اور اس گھنونے عمل کو انجام دینے والے جانور ۷ سال بعد بھی تختہ دار پر لٹکائے نہ جائیں تو یہاں موجود ایسے عمل کو دہرانے والے جانور وں کا حوصلہ کتنا بلند ہوا ۔
اور ایسا ہی ہوا حیدر آباد میں ایک ویٹنری ڈاکٹر خاتون کے ساتھ چار جانور وں نے یہی عمل دہرایا پھر اس پر تیل چھڑک کر زندہ جلا دیا تاکہ انہیں کوئی تنگ نہ کرے ۔
اس واقع کے کچھ روز بعدہی کچھ جانوروں پر ایک خاتون نے عصمت دری کا الزام عائد کیا تھا اناو مٰیں جب وہ کچھ روز قبل ضمانت پر رہا کئے گئے تھے ، اور اور انہوں نے جب حیدر آباد کے واقع کے بارے میں سنا تو یہی عمل اس خاتون پر بھی دہرایا اور اسے آگ کے حوالے کر دیا جو کچھ روز قبل دلی کے اسپتال میں زندگی کی جنگ ہار گئی ۔
بھارت میں ایسے واقعات کے سننے کے بارے میں مسلسل ہرروز لوگ اس قدر عادی ہوگئے ہیں کہ ریپ تو ریپ اب یہ یکھا جا تا ہے کہ کیا لڑکی زندہ ہے یا اسے بھی مار دیا گیا ہے ۔ اور صرف لڑکی کے قتل جانے پر احتجاج زیادہ ہوتے ہیں اور ریپ پر کم.
بھارت میں خواتین اس قدر غیر محفوظ ہیں کہ ٹی وی میں خریں دیکھو، سو میں سے بیس عصمت دری کے بارے میں ہونگی ۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی اس وقت دنیا کا خطر ناک ترین شہر خواتین کےلئے قرار دیا گیا ہے.
بھارت میں قانون تو ہیں لیکن انہیں عملانے کی ضرورت ہے اور صرف متاثرین کو معاوضے دینے سے یہ واقعات نہیں رکے گے .
ممبر پارلیمنٹ جیا بچن کے بقول جب تک ان درندہ صفت انسانوں کو سب کے سامنے بطور عبرت لنچ نہیں کیا جاتا تب تک ایسے واقعات میں کمی آنے کے اثرات نظر نہیں آتے.
تجزیہ
دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین
یہ سوال آج ناگزیر ہے کہ جن خاندانوں کو دہشت گردی نے سب سے پہلے نشانہ بنایا، انہیں انصاف سب سے آخر میں کیوں ملا۔ کشمیر میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر دہشت گردی کے متاثرہ خاندان خاموشی، خوف اور نظراندازی کے اندھیروں میں جیتے رہے۔ جن گھروں کے چراغ دہشت گردی نے بجھا دیے، ان کے لیے نہ فوری انصاف تھا، نہ روزگار، نہ بحالی، نہ عزت۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان خاندانوں کو وہ سہولتیں اور حقوق دہائیوں بعد ملے، جو ریاست کو ترجیحی بنیادوں پر فوراً فراہم کرنے چاہیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں دیا گیا؟ کیوں دہشت گردی کے اصل متاثرین کو برسوں انتظار کرنا پڑا؟ باپ مارا گیا، ماں بیوہ ہوئی، بچے یتیم ہوئے، مگر نظام خاموش رہا۔ فائلیں دبتی رہیں، درخواستیں گرد میں دفن ہو گئیں، اور متاثرین کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا یا پھر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
کئی خاندانوں نے اپنی کہانی سنانے کی ہمت بھی اس خوف سے نہ کی کہ کہیں انہیں ہی نشانہ نہ بنا دیا جائے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے متاثرین کو وہ عزت نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے، جبکہ اسی دوران دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام سے جڑے عناصر کو مواقع، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری تحفظ بھی حاصل رہا۔ ایک طرف اصل متاثرین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، دوسری طرف نظام نے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ یہ سوال صرف انصاف میں تاخیر کا نہیں، بلکہ انصاف سے انکار کا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے، تو کم از کم انہیں فوری انصاف، بازآبادکاری اور وقار تو دینا چاہیے۔ مگر یہاں دہائیوں تک ایسا نہیں ہوا۔
آج اگر کچھ خاندانوں کو روزگار، بحالی اور پہچان ملی ہے، تو یہ خوش آئند ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی کھڑا ہے کہ اتنی دیر کیوں؟ کیا ان خاندانوں کا درد کم تھا؟ کیا ان کی قربانیاں کم تھیں؟ یا نظام نے انہیں کبھی اپنی ترجیح سمجھا ہی نہیں؟ انصاف اگر دہائیوں بعد ملے، تو وہ انصاف نہیں، ایک تاخیری اعتراف ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے متاثرین خیرات نہیں مانگ رہے تھے، وہ اپنا حق مانگ رہے تھے—وہ حق جو ریاست کو بہت پہلے ادا کرنا چاہیے تھا۔ یہ وقت صرف اقدامات کا نہیں، بلکہ احتساب کا بھی ہے۔ یہ پوچھنے کا وقت ہے کہ ماضی میں کن فیصلوں، کن غفلتوں اور کن ترجیحات نے دہشت گردی کے متاثرین کو اتنے طویل عرصے تک انصاف سے محروم رکھا۔ اگر واقعی ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی بات کی جاتی ہے، تو دہشت گردی کے متاثرین کو آخری نہیں، بلکہ پہلی ترجیح بنانا ہوگا—ورنہ تاریخ یہ سوال بار بار دہراتی رہے گی: انصاف اتنا دیر سے کیوں؟
اداریہ
ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار
نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے تقریباً تین دہائیوں کی تلاش کے بعد 1993 کے ممبئی سیریل بلاسٹ کے کلیدی ملزم ابوبکر عبدالغفور شیخ کو گرفتار کر لیا ہے۔
ابوبکر 1993 کے حملے کے ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی اور دھماکوں کا اہم سازشی ہے۔ 12 مارچ 1993 کو ہونے والے ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ ممبئی میں 12 مختلف مقامات پر ہوئے سلسلہ وار دھماکوں نے ممبئی (تب بمبئی) کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ ہندوستان میں سب سے بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ابو بکر پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی تربیت دینے، دبئی میں داؤد ابراہیم کی رہائش گاہ پر دھماکوں کی سازش رچنے اور منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
ممبئی دھماکوں کو داؤد ابراہیم کی جانب سے کوآرڈینیٹ کیا گیا تھا۔ یہ دھماکے ٹائیگر میمن اور یعقوب میمن کے ذریعے انجام دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کاروبار میں دلچسپی رکھنے والا ابوبکرعبد الغفور شیخ، خلیجی ممالک سے ممبئی میں سونے اور الیکٹرانکس کے سامان کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسے ہندستان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی فوری کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
اداریہ
یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ
لندن 04 فروری (یو این آئی/ اسپوتنک) برطانیہ کے وزیر خارجہ لِز نے پینٹاگن کے اس بات کو’حیران کُن‘ قرار دیا ہے جس میں اس نے جعلی ویڈیو کے ذریعے روس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
پینٹاگن کے ترجمان جان کِربے نے جمعرات کو کہا کہ روس یوکرین کی فوج پر حملہ کرنے کے فراق میں ہے اور مشرقی یوکرین میں روس کے لوگ غیر قانونی طور پر دراندازی کر رہے ہیں۔
پینٹاگن کا ماننا ہے کہ روس تصویری نشر و اشاعت کے لیے ویڈیو بنانے جا رہا ہے جس میں مردہ افراد اور اداکار شامل ہوں گے جو ماتم اور برباد کیے گئے مقامات اور فوجی آلات کی تصویر سازی کریں گے۔
غور طلب ہے کہ یورپی یونین میں روس کے نمائندے ولادیمیر چیژوف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ انھوں نے جمعرات کی دیر رات یہ واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کے لیے روس مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ممالک کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز قابل قبول نہیں۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ سے روس نے یوکرین کی سرحد پر فوجیوں کا ہجوم لگا رہا ہے مغرب اور یوکرین نے روس پر حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔ روس مسلسل اس الزام کی تردید کر رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
