تازہ ترین
کیا جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں؟
خبراردو ڈیسک:
۱۹ جون ۲۰۱۸ وہ دن تھا جس دن جب سابقہ ریاست جموں کشمیر کی سابقہ وزیر اعلیٰ اور آج کی نظر بند لیڈر محبوبہ مفتی کی سربراہی والی سرکار میں اتحادی بھاجپا پارٹی کے لیڈران جنرل سیکرٹری رام مادھو کی سربراہی میںمحبوبہ مفتی کو بغیر پتہ دئے دلی پہنچ گئے اور وہا ں لیڈر شپ سے بات چیت کے بعد پی ڈی پی کے ساتھ میڈیا کے سامنے اتحا د توڑنے کا اعلان کر دیا ۔
اس دن سے آج تک ۱۸ ماہ اور کچھ گھنٹے ہو گئے ہیں ۔ اس دوران جموں کشمیر میں کئی طرح کے چناﺅ کرائے گئے ، پارلیمانی انتخابات بھی ہوئے ، خصوصی پوزیشن کو بھی واپس لیا گیا لیکن ا ن انتخابات کو ابھی تک نہیں کرایا گیا ۔
اب کچھ روز قبل جموں کشمیر یوٹی کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمونے کہا کہ جموں کشمیر میں سیاسی خلاءکو جلد پر کیا جائے گا اور وہا ں انتخابات کرائے جائیں گے ۔ اس سے پہلے مرمو نے ریاسی میں پولیس تقریب میں یہی بات کہی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ انتظامیہ نے اس عمل کےلئے پہلے ہی تیاریاں شروع کر دی ہیں ۔
جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات جو کہ عام چناﺅسے پہلے ہی کرائے جانے تھے لیکن پھر خبریں یہ چلیں کہ عام انتخابات کے ساتھ اسمبلی چناﺅ کو کرایا جائے گا ۔ لیکن جب عام چناﺅ آئے تو الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ وہ امیدواروں کو اتنی سیکورٹی فراہم نہیں کرا سکتے ہیں ۔
پھر اسکے بعد کہا گیا کہ یہا ں موزوں وقت نہیں ، اور موزوں وقت کی تلاش کےلئے تین نفری ٹیم بھی ای سی آئی کی جانب سے تشکیل دی گئی ۔آخر پر امرناتھ یاترا کے بعد ان تاخیر کے شکار ہوئے چناﺅ کو کرانے کا کہا گیا ۔ لیکن۵ اگست کے فیصلے نے ان چناﺅ کو پھر پیچھے دھکیل دیا ۔ جموں کشمیر میں اسمبلی چناﺅ کے انعقاد کےلئے مرکز اور مقامی انتظامیہ کو ایسے بہت سارے کام انجام دینے ہونگے جو ان چناﺅ کو منعقد کرانے کی راہ ہموارکر سکتے ہیں ۔
1. ۵ اگست کے فیصلے سے قبل جموں کشمیر کی عوام میں یہ افواہ اور چہ ماگوئیوں ہو رہی تھیں کہ شائد مرکز یہاں نئی حد بندی کرنے والی ہے ۔ نئی حد بندی کی مانگ جموں کی کافی عرصے سے چلی آ رہی ہے اور خاص طور پر وہاں کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے جن میں بھاجپا سرکردہ طور پر شامل ہے ۔ نئی حد بندی کے بعد جموں کشمیر میں موجودہ ۸۳ اسمبلی سیٹوں میں مزید ۷ سیٹوں کا اضافہ کیا جا ئے گا ۔
۱۵ ستمبر کو بھاجپا کے کار گزار صدر جگت پرکاش نڈا نے بھی کہا تھا کہ جموں کشمیر میں انتخابات صرف نئی حد بندی کے بعد ہی ہونگے۔
واضح رہے نئی حد بندی میں اب شیڈول ٹرائب طبقے (گجرو بکروال) کےلئے مخصوص سیٹیں رکھی جائیں گی ۔
2۔ دوسرا چلینج انتظامیہ کے سامنے ان انتخابات کو کرانے سے پہلے یہ ہو گا کہ آیا علاقائی جماعتوں کے نظر لیڈران جو ان جماعتوں کی قیادت بھی کر رہیں کو رہا کیا جائے یا نہیں ۔ دوسری بات یہ اہم ہو گی کہ کیا یہ لیڈران ان چناﺅ میں پھر حصہ بھی لیں گے یا نہیں ۔
۵ اگست سے پہلے جہاں یہی لیڈران قومی یا بین الاقوامی سطح پر بھارت کے حق میں بات کرتے دیکھے جاتے تھے ، جن میں خاص طور ڈاکٹر فاروق عبداللہ شامل ہیں اور اب ان لیڈران کے ان چناﺅ میں حصہ نہ لے کر اسکے خلاف بولنے سے عالمی سطح پر ایک منفی تاثر بھارت کے خلاف ضرور پیدا ہو گا ۔
ادھر رپورٹس کے مطابق پی ڈی پی مظفر حسین بیگ اور الطاف بخاری کے زریعے مرکز یہاں پر ایک نیا پولیٹکل پلیٹ فارم کھڑا کرنے جا رہی ہے ۔ جس کا اشارہ اس بات سے بھی ملتا ہے کہ حال ہی میں ۲۳ ممبران پر مشتمل وادی کے دورے پر آئے یورپی پارلیمان کے ایک وفد کے ساتھ وادی وارد ہونے سے قبل دلی میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سے بھی ملاقات ہوئی ۔ اس ملاقات میں ان کے ہمراہ بیگ اور بخاری بھی تھے ۔
۳۔ووٹنگ شرح
آج تک دلی میں موجود مرکزی سرکار کی جانب سے جموں کشمیر میں ہوئے انتخابات کو عالمی سطح پر ایک ریفرنڈم کی طرح ہی پیش کیا ہے ۔ وادی میں خاص طور پر اسمبلی چناﺅ کی عالمی میڈیا کے علاوہ بڑی عالمی طاقتوں کی بھی رہتی ہے ۔ اکتوبر میں ہوئے بلاک ترقیاتی کونسل میں ۹۹ فیصد سے زائد پنچوں اور سرپنچوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا اور اس چناﺅ میں پنچائت ممبران ہی ووٹ ڈالنے کے اہل تھے ۔ ۹۹ فیصد ووٹنگ کے بعد وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ ۵ اگست کے فیصلے کو عوام نے قبول کیا ہے ۔
لیکن وہیں لوک سبھا چناﺅ میں وادی میں محض دس فیصد ووٹنگ درج کی گئی ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
