تازہ ترین
جدوجہد کرنے والے نوجوان گاندھی جی کے عدم تشدد کے پیغام کو ہمیشہ یاد رکھیں: صدر جمہوریہ کا قوم کو پیغام
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند (President Ramnath Kovind) نے71ویں یوم جمہوریہ (Republic day) سےقبل کی شام ہفتہ کوقوم کےنام پیغام میں کہا کہ کسی مقصد کےلئے جدوجہد کرنے والے، خاص طورپرنوجوانوں کو مہاتما گاندھی (Gandhi Ji) کے عدم تشدد کے منترکو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے، جو انسانیت کو ان کا بیش قیمتی تحفہ ہے۔
نئی دہلی: صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند (President Ramnath Kovind) نے جمہوریت کےلئے حکمراں اور اپوزیشن دونوں فریقوں کو اہم قرار دیتے ہوئے عوام خاص طورپر نوجوانوں کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے ‘منتر’ کو ہمیشہ یاد رکھنےکی تلقین کی۔ صدر جمہوریہ (Republic day) رام ناتھ کووند نے71ویں یوم جمہوریہ سے قبل کی شام سنیچرکو قوم کے نام پیغام میں کہا کہ کسی مقصد کےلئے جدوجہد کرنے والے، خاص طورپرنوجوانوں کو مہاتما گاندھی (Mahatma Gandhi) کے عدم تشدد کے منتر کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے، جو انسانیت کو ان کا بیش قیمتی تحفہ ہے۔ کوئی بھی کام مناسب ہے یا نامناسب یہ طےکرنےکےلئےگاندھی جی کی انسانی فلاح و بہبود کی کسوٹی جمہوریت پر بھی نافذ ہوتی ہے۔
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نےکہا کہ قوم کی تعمیر کےلئےگاندھی جی کے نظریات آج بھی پوری طرح اہمیت کے حامل ہیں۔ گاندھی جی کے سچ اور عدم تشدد کے پیغام پر غور و فکر ہمارے روز مرہ کے کاموں کا حصہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ آئین نے شہریوں کو کچھ حقوق دیئے ہیں، لیکن اس کے تحت ہم سب نے یہ ذمہ داری لی ہے کہ ہم انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارہ کے اصل جمہوری اقدار کے تئیں ہمیشہ عہد بند رہیں۔ ملک کی مسلسل ترقی اور بھائی چارہ کےلئے یہی سب سے بہترین راستہ ہے۔
رام ناتھ کووند نے جمہوریت میں حکمراں اور اپوزیشن دونوں فریقوں کو اہم قرار دیتے ہوئےکہا کہ سیاسی نظریات اور اظہار رائےکی آزادی کے ساتھ ساتھ ملک کی مجمو عی ترقی اور عوام کی فلاح وبہود کےلئے دونوں کو مل جل کر آگے بڑھنا چاہئے۔
انہوں نےکہاکہ ہم 21ویں صدی کی تیسری دہائی میں داخل ہوچکے ہیں، جو نئے ہندوستان کی تعمیر اور نئی نسل کے ابھرنے کی دہائی ہونےجارہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ملک کے مجاہد آزادی آہستہ آہستہ بچھڑتے جارہے ہیں، لیکن تحریک آزادی کے نصب العین مسلسل موجود رہیں گے۔ ٹکنالوجی میں ہوئی ترقی کی وجہ سے نوجوانوں کو وسیع معلومات حاصل ہے اور ان میں خود اعتمادی بھی زیادہ ہے۔ ان نوجوانوں میں ابھرتے ہوئے نئے ہندوستان کی جھلک نظر آتی ہے۔
صدر جمہوریہ نے ترقیاتی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ ‘سوچھ بھارت ابھیان’ نے بہت ہی کم وقت میں متاثرکن کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ‘پردھان منتری اجولا یوجنا’ کی حصولیابیاں فخر کرنےکے قابل ہیں، جس سے 8 کروڑ لوگ فیض یاب ہو چکے ہیں۔ ‘سوبھاگیہ یوجنا’ سے عوام کی زندگی میں نئی روشنی آئی ہے اور ‘وزیراعظم کسان سمان ندھی’ کے ذریعہ تقریباََ 14کروڑکسان ہر برس 6 ہزار روپئے کی آمدنی کے حقدار بنے ہیں۔
انہوں نے اعتماد ظاہرکیا کہ جل جیون مشن بھی سوچھ بھارت ابھیان کی طرح ایک عوامی تحریک بنےگا۔ انہوں نے ملک کے ٹیکس نظام کا ذکرکرتے ہوئےکہا کہ اشیاء اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) نافذ ہونے سے ملک کے ایک ٹیکس ایک بازار کے تصورکو عملی شکل دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ای۔نام یوجنا سے ایک ملک کےلئے ایک بازار بنانے کا عمل مضبوط ہوا ہے۔
رام ناتھ کووند نے تعلیم کے شعبہ کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ اس شعبہ کی کئی کامیابیاں قابل ذکر ہیں۔ ملک کا کوئی بچہ یا نوجوان تعلیم کی سہولت سے محروم نہ رہے، یہ کوشش کی جارہی ہے۔ تعلیمی نظام کو عالمی سطح کا بنانے کے لئے مسلسل کوششیں کرتے رہنا ہوگا۔ انہوں نے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کی کامیابیوں کا ذکرکرتے ہوئےکہا کہ ملک کے عوام کو اس پر فخر ہے۔
اسرو کی ٹیم اپنے مشن ’گگن یان‘ کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ملک کے شہری اس برس ہندوستانی انسانی خلائی پروگرام کے تیز رفتار سے بڑھنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ملک کی افواج، نیم فوجی دستوں اور داخلی سلامتی دستوں کی کھل کرتعریف کرتے ہوئےکہا کہ ملک کے اتحاد، یکجہتی اور سیکورٹی کو قائم رکھنے میں ان کی قربانی، بے مثال ہمت اور نظم و ضبط کی لازوال داستانیں موجود ہیں۔ کسان، ڈاکٹر، نرس، اساتذہ، سائنسداں، انجینئر، مزدور، کارباری، فنکار، پروفیشنلس اور ہونہار بیٹیاں ملک کا فخر ہیں۔ انہوں نےکہا کہ ملک کی ترقی کےلئے مضبوط داخلی سیکورٹی نظام کا ہونا ضروری ہے۔
اس لئے حکومت نے داخلی سلامتی کو مضبوط بنانے کے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔ صدر جمہوریہ نے اسی برس ٹوکیو میں ہونے والے اولمپک کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹوں کی نئی نسل نے حالیہ برسوں میں کئی اسپورٹس ٹورنامنٹوں میں ملک کا نام بلند کیا ہے۔ اولمپک 2020 کے اسپورٹس ٹورنامنٹس میں ہندستانی دستہ کے ساتھ ملک کے کروڑوں شہریوں کی نیک خواہشات اور حمایت کی طاقت موجود رہے گی۔(نیوز 18 اردو)
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
دنیا
تبت میں شدید زلزلہ، کم از کم 16 افراد ہلاک
بیجنگ، چین کے خود مختار علاقے تبت میں 7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسیوں اے ایف پی، اے پی اور رائٹرز کے مطابق، شمالی تبت کے ایک دور افتادہ علاقے میں جمعرات کی رات 10 بج کر 33 منٹ پر زلزلہ آیا۔ جمعہ کو بھی متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری رہیں۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق، متاثرہ علاقے میں زلزلے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردعمل کی سطح دوم نافذ کردی گئی ہے۔ زلزلے کے باعث بجلی اور مواصلات کا نظام متاثر ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، کم آبادی والے بلند پہاڑی شہر ناگچو کے حکام نے بتایا کہ زلزلے میں 65 افراد تک زخمی ہوئے ہیں، تاہم بعض دیگر رپورٹوں میں زخمیوں کی تعداد اس سے کچھ کم بتائی گئی ہے۔
یہ جنوری 2024 کے بعد چین میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ ہے۔ حکام کے مطابق، کم از کم 339 مکانات اور مویشیوں کے 20 باڑے منہدم ہوگئے ہیں۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری ویڈیوز میں لوگوں کو اپنے مکانات سے باہر نکلتے اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں یا کھلی جگہوں پر پناہ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، زلزلے کا مرکز ایک پہاڑی علاقے میں تھا، جو ناگچو سے تقریباً 190 کلومیٹر مشرق شمال مشرق اور تبت کے دارالحکومت لہاسا سے تقریباً 390 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
الجزیرہ کی نامہ نگار کترینا یو نے بیجنگ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ چینی حکومت نے امدادی کارروائیوں کے لیے 1,600 اہلکار تعینات کیے ہیں۔ تاہم، تقریباً 4,800 میٹر کی بلندی پر واقع متاثرہ علاقے تک پہنچنا مشکل ہے، کیونکہ متعدد سڑکیں بند ہیں یا چٹانیں کھسکنے سے متاثر ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند گھنٹوں اور دنوں میں برف باری کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
کترینا یو کے مطابق، یہ خطہ زلزلوں کے لیے نیا نہیں ہے، کیونکہ یہ ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کے اتصال کے علاقے میں واقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے کی آبادی کم ہونے کی وجہ سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
