تازہ ترین
انٹر نیٹ:2۔جی رفتار،مشروط بحالی،محدود رسائی ’درد ِسر اور مذاق کے سوا کچھ نہیں‘
فیصلہ اقوام عالم کو گمراہ کر نے کا اقدام،عوام اورعدالت ِعظمیٰ کو مطمئن کرنے کی کوشش:صارفین
شوکت ساحل
سرینگر:جموں وکشمیر کے سبھی22اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات کی 2۔جی رفتار کیساتھ مشروط بحالی اور محدود رسائی کے حکومتی فیصلے پرصارفین نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اِس اقدام کو درد سر اور مذاق سے تعبیر کیا۔
طلبہ،تاجروں اور صحافیوں نے حکومتی فیصلے اور حکمنانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام عالم کو گمراہ کرنے کا اقدام اور عوام وسپریم کورٹ آف انڈیا کو مطمئن کرنے کی کوشش ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق سنیچر کی سہ پہر سے جموں وکشمیر کے سبھی22اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات 2۔جی رفتار اور مشروط بنیادوں پر بحال کی گئی،تاہم صارفین محدود طور ہی انٹر نیٹ کا استعمال کرسکتے ہیں۔
سوشل میڈیا تک رسائی پر مکمل پابندی عائد ہے جبکہ حکومت کی جانب سے سفید فہرست میں شامل کی گئیں 301ویب سائٹس تک صارفین کی رسائی ہوگی۔اس حوالے سے جموں وکشمیر کے محکمہ داخلہ نے جمعہ کی شب 10صفحات پر مشتمل ایک حکمنامہ بھی جاری کیا۔یہ فیصلہ قریب قریب چھ ماہ تک جاری رہنے والے’انٹر نیٹ کرفیو‘ کے بعدلیا گیا۔
اتوار کو 26جنوری کے پیش نظر سہ پہر تک پوری وادی میں دوبارہ مکمل طور پر مواصلاتی بریک ڈاؤن کیا گیا۔حکومتی فیصلے پر عوامی ردِ عمل:
حکومتی فیصلے،دعوے اور حکمنامے پر سماج کے مختلف طبقہ ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے تیز رفتار دور میں کشمیر، حکومتی اقدام کی وجہ سے پتھر کے زمانے میں واپس لوٹ چکا ہے۔ایک نجی کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر محبوب جیلانی کہتے ہیں:’مجھے حکومتی فیصلے پر حیرانی ہے،حکومت ہند ڈیجٹل انڈیا کے منصوبہ کو عملانے کا بڑا دعویٰ کررہی ہے،لیکن دوسری طرف کشمیر گذشتہ چھ ماہ سے انٹر نیٹ کی سہولیت سے محروم ہے‘۔
بی ایس سی سیکنڈ ائر کی طالبہ،رابعیہ نور کہتی ہیں:’2۔جی رفتار کیساتھ آپ ای۔میل بھی نہیں دیکھ سکتے ہیں،مطالعہ کر نا دور کی بات ہے،اُس پر ستم ظریفی یہ کہ وائٹ لسٹ ویب سائٹس تک ہی رسائی ہے،یہ اقدام درد سر اور مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے‘۔
ایک راہ گیر نور محمد کہتے ہیں:’انٹر نیٹ کی مشروط اور محدود بحالی کا فیصلہ اقوام عالم کو گمراہ کرنے کا اقدام ہے‘۔
ای۔کامرس اور آئی ٹی سیکٹر:ایک نوجوان انٹر پرینور نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:’میں نے سال2018میں اپنا اسٹارٹپ،ای ڈی آئی کی وساطت سے شروع کیا،لیکن میرے خواب چکنا چور ہوئے،میں جموں وکشمیر سے باہر ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں 65ہزار ماہانہ تنخواہ پر ملازمت کرتا تھا،لیکن سوچا تھا کشمیر واپس آکر خود روزگار منصو بے کے تحت اپنے لئے اور دوسروں کیلئے روزگار کے وسائل پیدا کروں گا،اب افسوس ہی ہورہا ہے،میں لوٹ کر کیوں واپس آیا،سب کچھ تباہ ہوگیا‘۔ایک محتاط اندازے کے مطابق کشمیر میں ای۔ کامرس اور آئی ٹی سیکٹر سے 50سے زیادہ افراد بلواسطہ یا بلا واسطہ وابستہ ہیں،سب بے روزگار ہوگئے ہیں،کیونکہ یہ دونوں سیکٹر زمین بوس ہوگئے جبکہ کئی افراد نے ذریعہ آمدنی کیلئے متبادل ڈھونڈ نے کی تلاش بھی شروع کردی۔
سمارٹ فون تجارت بھی متاثر:برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر میں تقریباً 6 مہینے سے انٹرنیٹ پر پابندی نے تقریباً 500 کروڑ روپے کی سمارٹ فون کی تجارتی صنعت کو خاتمے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایسا سمجھیں کہ جیسے کشمیر میں مہنگے سمارٹ فونز اب سمارٹ نہیں رہے۔رپورٹ میں سرینگر کے لال چوک میں سمارٹ فون سٹور کے مالک مْنیر احمد قریشی حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ’کشمیر میں ہر ماہ 40ہزار فونز فروخت ہوتے تھے، لیکن اب مشکل سے 2ہزار فون بکتے ہیں، اس تجارت سے جْڑے لوگوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔‘موبائل سٹور میں کام کرنے والے وسیم احمد کہتے ہیں ’میرے کئی ساتھیوں کو نوکری سے نکالا گیا، اور جس ڈسٹری بیوٹر کے پاس میں ہوں وہاں بھی ہماری نوکری ختم کرنے کی بات ہورہی ہے۔ کئی سال سے میں یہ کام کررہا تھا، اب سمجھ نہیں آتا کہ میں کیا کروں۔‘
تجارت پر منفی اثرات:انٹرنیٹ پر تاریخ کی طویل ترین پابندی کے اثرات کا یہ محض ایک پہلو ہے، چھ مہینے سے جاری غیر یقینی کی صورتحال کے باعث کشمیر کی مجموعی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔کشمیر چیمبر آف کامرس کے ایک تازہ سروے کے مطابق کشمیر کی زرعی اور غیرزرعی تجارت کو کل ملاکر 18ہزار کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پانچ لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔
میڈیا سہولیاتی مرکز کا وجود برقرار:گذشتہ چھ ماہ سے وادی کشمیر میں صحافت محکمہ اطلاعات وعوامی رابطہ عامہ کی سرکاری عمارت کے ایک چھوٹے سے کمرے تک محدود ہے۔
کشمیر میں میڈیا ادارے بھی انٹر نیٹ سروس سے مسلسل محروم ہیں۔ میڈیا اداروں میں انٹر نیٹ کی بحالی کو’حلف نامہ‘سے مشروط کردیا گیا ہے۔ نوجوان صحافی الطاف وانی کہتے ہیں:’حکومتی فیصلہ زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے،چھ ماہ کے بعد انٹر نیٹ کی مشروط اور محدود بحالی تذلیل ہے،5۔جی اور ڈیجٹل ایج میں 2۔جی کی رفتار بے معنیٰ ہے،اس فیصلے کا سپریم کورٹ آف انڈیا کو نوٹس لینا چاہئے، کیوں کہ اقدام سپریم کوٹ کو مطمئن کرنے کی کوشش بھی ہے،میں سمجھتا ہوں کہ صحافی پرندے کی مانند ہوتا ہے،لیکن انٹر نیٹ سے محروم کرکے ہمارے’پَر‘ ہی کاٹ دیئے گئے‘۔
روزنامہ ایشین میل کے مدیر اور سینئر صحافی رشید راہل کہتے ہیں ’سرکار کا یہ فیصلہ بہت ہی غلط ہے،یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں کے میڈیاادارے تحریر طور ضمانت دیں کہ کوئی اُنکے انٹر نیٹ کنیکشن کو ہیک نہیں کرسکتا ہے،انٹر نیٹ کی مشروط بحالی نہیں ہونی چاہئے بلکہ میڈیا اداروں میں انٹر نیٹ خدمات بحال ہونے چاہئے،چھ ماہ ہو رہے ہیں،صحافی مشکلات اور مسائل سے دوچار ہیں،2۔جی رفتار کا آج کے دور میں کوئی خریدار ہی نہیں ہے‘۔
محکمہ داخلہ کا حکمنامہ:موبائیل انٹر نیٹ کی رفتار2۔جی تک محدود کردی گئی،سوشل میڈیا تک کوئی رسائی نہیں ہوگی،صرف سفید فہرست والی 301ویب سائٹس کا ہی صارفین استعمال کر سکتے ہیں۔
سکیورٹی ایجنسیوں کوخدشہ:سیکیورٹی ایجنسیوں نے انٹر نیٹ کی بحالی پر خد شات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن مخالف عناصر وادی میں انٹر نیٹ کا استعمال غلط کاموں خاص طور ملی۔ٹینسی سے متعلق پروگنڈا مواد کو پھیلانے کیلئے کرسکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ:۔ حالیہ سماعت کے دوران جسٹس این وی رامانا، آر سبھاش ریڈی اور بی آر گوائی پر مشتمل عدالتی بینچ نے جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو خطے میں انٹرنیٹ سروس پر عائد پابندیوں پر نظرثانی کا حکم دیاتھا۔جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں 3ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’انٹرنیٹ کی عارضی معطلی اور شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو کم کرنا صوابدیدی نہیں ہونا چاہیے اور یہ معاملہ عدالتی جائزے کے لیے کھلا ہے۔‘
عدالت نے جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو انٹرنیٹ کی بندش کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی آرٹیکل 19 (1) (اے) کے تحت آزادانہ تقریر کا ایک بنیادی حق ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعے تجارت کو آرٹیکل 19 (1) (جی) کے تحت محفوظ کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’کسی خاص مدت کے بغیر اور غیر معینہ مدت‘ تک انٹرنیٹ کی معطلی ٹیلی کام قوانین کی خلاف ورزی ہے۔عدالتی بینچ نے ریمارکس دیے کہ ’ہماری محدود تشویش لوگوں کی آزادی اور سیکیورٹی سے متعلق توازن تلاش کرنا ہے، ہم شہریوں کو حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے یہاں موجود ہیں، ہم ان احکامات کے پیچھے موجود سیاسی خواہشات تلاش نہیں کریں گے‘۔
مرکزی حکومت نے 5 اگست 2019 کو آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت کشمیر کی محدودخصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔ دوسری جانب خطے میں سخت کرفیو نافذ کرکے انٹرنیٹ اور ذرائع مواصلات کو بند کردیا گیا تھا۔(کے این ایس)
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
