تازہ ترین
افغانستان میں بیک وقت دو صدور، سرکاری امور ٹھپ
افغانستان میں بہ یک وقت دو حکومتوں کے قیام کے سبب نہ صرف سرکاری کاموں میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں، بلکہ عام آدمی کے لئے بھی جو جنگ و جدال سے تھک چکا ہے، زندگی اور مشکل ہوگئی ہے۔
اور، ایسا لگتا ہے کہ جو معاہدہ طالبان اور امریکہ کے درمیان طے پایا تھا، جس میں طالبان اور حکومت کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ بھی طے ہوا تھا، اس پر بھی عمل درآمد رکا ہوا ہے۔ ساتھ ہی، بین الافغان بات چیت کے لیے مقررہ ڈیڈلائن بھی گزر چکی ہے۔
تاہم، ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ امریکہ کے نمائندہ خصوصی، زلمے خلیل زاد سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے کوششوں کے سبب اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان مصالحت کا کوئی فارمولا طے ہو جائے اور 40-60 یا آدھے آدھے کی بنیاد پر شراکت اقتدار کے کسی فارمولے پر پہنچ جایا جائے۔
افغانستان کا آج سال نو ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اس موقعے پر افغانستان کے لوگوں کو مصالحت کی خبر دی جا سکے۔
اس حوالے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے، سینئر افغان صحافی میر ویس افغان نے لندن سے بتایا کہ اسوقت صورت حال یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی اپنی کابینہ کا اعلان نہیں کر سکا۔ دونوں کے حامی ایک دوسرے کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں اور خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان بھی اس صورت حال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اب ایسا لگتا ہے کہ زلمے خلیل زاد اور سینئر افغان سیاست دانوں کی کوششوں سے افغانستان کے سال نو کے موقع پر کوئی معاہدہ دونوں کے درمیان طے ہو جائے گا۔
ایک اور ممتاز افغان صحافی ڈاکٹر حسین یاسا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عبداللہ عبداللہ نے جو صدارت کا حلف اٹھایا وہ محض علامتی تھا۔ وہ احتجاج کرنا چاہتے تھے، کیونکہ انکا شروع سے موقف یہ تھا کہ انتخابات نہ کرائے جائیں۔ پرانی یونٹی حکومت کو چلنے دیا جائے اور اسوقت تک انتخاب کے لئے انتظار کیا جائے جب تک کہ معاہدے پر عمل درآمد اور بین الافغان بات چیت نہ ہو جائے۔
ڈاکٹر یاسا نے مزید کہا کہ عبداللہ عبداللہ ملک میں پارلیمانی نظام چاہتے ہیں جسے اشرف غنی قبول نہی کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہر چند کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ ایک دوسرے سے نہیں مل رہے، لیکن انکی ٹیمیں مل رہی ہیں اور امید ہے کہ افغانستان کا نیا سال اچھی خبریں لیکر آئے گا۔
اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں کی جانب سے ایک ہی وقت میں صدارت کا حلف اٹھائے جانے کے بعد صورت حال بہت پیچیدہ ہو گئی ہے اور بڑی مشکلوں کے بعد طالبان اور امریکہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا، اس پر عمل درآمد رکا ہوا ہے۔ نہ قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے اور نہ ہی انٹرا افغان بات چیت شروع ہو سکی ہے۔
ہندوستان
دفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
نئی دہلی، وزارت دفاع نے پیر کو تینوں افواج کے لیے تقریباً 2.12 لاکھ کروڑ روپے کی دفاعی خریداری کے منصوبوں کو اصولی منظوری دے دی۔ ان میں جدید توپ خانے کے نظام، ہلکے کثیرمقاصد ہیلی کاپٹر، فضائی دفاعی نظام اور نگرانی و حملے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرون سمیت کئی طرح کے آلات کی خریداری شامل ہے۔
مجوزہ خریداری کی مجموعی مالیت کا تقریباً 82 فیصد حصہ ہندوستانی صنعتوں سے حاصل کیا جائے گا۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقدہ دفاعی خرید کونسل (ڈی اے سی) کی میٹنگ میں ان خریداری منصوبوں کو منظوری دی گئی۔
ان منصوبوں میں فوج کے لیے زیادہ نقل و حرکت کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں، گن شاٹ رسپانس سسٹم، بغیر پائلٹ فضائی نظام کا مقابلہ کرنے والے نظام، طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ڈرون، مربوط نگرانی و حملہ نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے کامیکازی ڈرون نظام کی خریداری بھی شامل ہے۔
زیادہ نقل و حرکت کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیاں دشوار گزار علاقوں میں فوج کی نقل و حرکت اور رسد کے انتظام کو بہتر بنائیں گی۔ خودکار، خود حرکت کرنے والے ٹریک پر مبنی توپ خانے کے نظام سے میکانائزڈ فوجی دستوں کو ان کی ضروریات کے مطابق نقل و حرکت اور مار کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگی۔ گن شاٹ رسپانس سسٹم فوجیوں کو حقیقی وقت میں صورت حال کی معلومات فراہم کرنے میں مدد دے گا۔
ہلکے کثیرالمقاصد ہیلی کاپٹروں کو فوج اور فضائیہ جاسوسی، نگرانی، جنگی کارروائیوں، تلاش و بچاؤ اور انسانی امداد و آفات سے نمٹنے کے کاموں میں استعمال کریں گی۔ انتہائی کم فاصلے تک مار کرنے والا فضائی دفاعی نظام نئی نسل کے چھوٹے فضائی خطرات سے نمٹے گا، جبکہ بغیر پائلٹ فضائی نظاموں کا مقابلہ کرنے والا نظام جدید میدانِ جنگ میں ٹینکوں کی حفاظت کو مضبوط بنائے گا۔ نگرانی اور ڈرون نظاموں سے فوج کی نگرانی اور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
بحریہ کے لیے ایکٹو آف بورڈ ڈیکوائے سسٹم (اے او ڈی ایس) اور دیگر اہم بحری پلیٹ فارموں کی خریداری کو منظوری دی گئی۔ اے او ڈی ایس جہاز شکن میزائلوں کے خلاف میزائل دفاع کو مزید مضبوط بنائے گا۔
مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیے جانے والے اہم بحری پلیٹ فارم جدید جنگ کی ضروریات کے مطابق ہوں گے اور بحریہ کی جنگی صلاحیت میں اضافہ کریں گے۔
فضائیہ کے لیے ہیلی کاپٹروں، فضائی دفاعی نظام، ہتھیاروں اور موبائل ایکس بینڈ ڈوپلر موسمی ریڈار نظام کی خریداری کو منظوری دی گئی۔ خصوصی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر فضائیہ کی اہم فضائی نقل و حمل کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیں گے۔ وہیں، ایکس بینڈ ڈوپلر موسمی ریڈار نظام اگلے محاذ کے علاقوں میں مقامی موسم کی تفصیلی نگرانی فراہم کرے گا۔ ان خریداری منصوبوں کا مقصد دفاعی افواج کے فضائی دفاع اور جنگی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
دنیا
نیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
تل ابیب، اسرائیلی اپوزیشن لیڈر ایویگاڈور لیبرمین نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے خلاف غداری کے شبہ میں مجرمانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ منگل کے عام انتخابات میں شکست سے بچنے کے لیے اسرائیل کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر ‘کان’ کی رپورٹ کے مطابق، دائیں بازو کی جماعت ‘یسرائیل بیتینو’ کے رہنما لیبرمین نے اٹارنی جنرل گالی بہارو میارا کو ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی ہے۔
اپنے خط میں لیبرمین نے کہا کہ نیتن یاہو گزشتہ ایک ماہ سے سیکیورٹی کے اعلیٰ حکام پر ایسے اقدامات کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو ایران کے ساتھ فوجی تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔
لیبرمین نے لکھا کہ “گزشتہ ایک ماہ کے دوران، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سربراہان پر ایسے اقدامات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو ایران کے ساتھ کسی غلط فہمی یا غلط اندازے کا باعث بن سکتے ہیں۔”
انہوں نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ انتخابات میں ہارنے کے خوف سے اسرائیل کو ایک اور جنگ میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “انتخابات کے موقع پر ریاستِ اسرائیل کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش، اور محض انتخابی شکست کے خوف سے آئی ڈی ایف کے سپاہیوں کو قربان کرنے کی آمادگی، ریاست، اس کی سیکیورٹی اور آئی ڈی ایف کے جوانوں کے ساتھ غداری کے زمرے میں آتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ میں غداری کے شبہ میں نیتن یاہو کے خلاف فوری طور پر مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔”
اسرائیلی اخبار ‘معاریو’ کے مطابق، اس سے قبل پیر کو لیبرمین نے اسرائیلی ریڈیو اسٹیشن 103FM کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران بھی اسی طرح کے الزامات لگائے تھے۔
لیبرمین نے نیتن یاہو پر انتخابی شکست کے خوف سے فوجیوں کی جانیں قربان کرنے پر آمادگی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ “نیتن یاہو واضح طور پر ریاست کے ساتھ غداری کر رہے ہیں اور وہ ہمیں جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان اب تک کی بے مثال کشیدگی کا دعویٰ بھی کیا۔انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار ایران کے ساتھ تصادم کو ہوا دینے کی نیتن یاہو کی کوششوں کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ “فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان اس طرح کے کشیدہ تعلقات پہلے کبھی نہیں رہے جیسے آج ہیں۔
لیبرمین نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا فوجی اقدام جو ممکنہ طور پر جنگ یا بڑے پیمانے پر تصادم کا باعث بن سکتا ہو، اسرائیلی قانون کے تحت حکومتی غور و خوض اور منظوری کا تقاضا کرتا ہے۔
انہوں نے نیتن یاہو پر سینٹرل الیکشن کمیٹی اور انتخابی نتائج کے جواز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام بھی لگایا، اور خبردار کیا کہ ایسی کوششیں شدید اندرونی تصادم کو جنم دے سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، “ہم بیک وقت نیتن یاہو کی جانب سے سینٹرل الیکشن کمیٹی اور انتخابی نتائج کو غیر قانونی قرار دینے کی تیز تر کوششیں دیکھ رہے ہیں، چاہے اس کی قیمت شدید اندرونی تصادم، خانہ جنگی اور ریاست کی تباہی کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔”
لیبرمین نے مزید دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو انتخابات ہارنے کے امکان سے واقف ہیں اور اسی لیے وہ ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، “نیتن یاہو بھی جانتے ہیں کہ وہ ہارنے والے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی یہ تمام تر گھبراہٹ اور ہمیں جنگ میں دھکیلنے کی کوشش ہے۔
لیبرمین کے الزامات پر نیتن یاہو کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
برکس کے مشترکہ عہد و پیمان کو ٹھوس نتائج میں بدلنے کی ضرورت: اوم برلا
نئی دہلی، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے برکس ممالک سے عالمی جنوب کے ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مضبوط بنانے اور ان کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر برکس کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس لیے اس کے مشترکہ عہد و پیمان کو ٹھوس نتائج میں بدلنے اور پارلیمانوں کو زیادہ مؤثر اور عوام پر مرکوز بنانے کی ضرورت ہے۔
مسٹر برلا نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں واقع سمودھان سدن کے مرکزی ہال میں 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے پارلیمانی وفود کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں ان وفود کی موجودگی اور جمہوری اقدار کے تئیں ان کا مشترکہ عزم خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ برکس کے قیام کے 20 سال مکمل ہونا اس کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برکس ممالک دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور دنیا کے تقریباً ایک تہائی رقبے پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کی توسیع کے ساتھ عالمی حالات اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہونے کی اس کی صلاحیت بھی بڑھ رہی ہے۔
مسٹر برلا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ برکس سربراہ اجلاس میں مشترکہ اعلامیے کو اتفاق رائے سے منظور کیے جانے کو ایک اہم کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اب ان مشترکہ عہد و پیمان کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی تنازعات، اقتصادی عدم استحکام، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجوں کا حل مکالمے، سفارت کاری اور پارلیمانی تعاون کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستان کو مادرِ جمہوریت قرار دیتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی مکالمے، نظریاتی تنوع اور اتفاق و اختلاف کے درمیان باہمی احترام میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس کی اصل طاقت تنوع کو مشترکہ مقصد میں تبدیل کرنے میں ہے اور رکن ممالک کو مشترکہ امنگوں کو ٹھوس پالیسیوں اور عملی تعاون میں بدلنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘عوام پر مرکوز ترقی کے لیے پارلیمانوں کو مضبوط بنانا’ کے موضوع پر منعقدہ اس دو روزہ کانفرنس میں لچک، اختراع، تعاون اور پائیدار ترقی کے معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔ مسٹر برلا نے کہا کہ پارلیمانوں کو اختراع، شفافیت، جواب دہی اور عوامی شراکت داری کے ذریعے زیادہ مؤثر بنایا جانا چاہیے، تاکہ وہ لوگوں کی ضروریات اور امنگوں کو بہتر طریقے سے پورا کر سکیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی امنگوں کو ترجیح دینے، ان کی صلاحیتوں کو ملک کی تعمیر سے جوڑنے اور ترقی و ماحولیات کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ برکس ممالک کے درمیان پارلیمانی تعاون سے امن، خوش حالی اور پائیدار ترقی کو فروغ ملے گا۔
برکس پارلیمانی فورم کی یہ کانفرنس 26 اور 27 اکتوبر کو یہاں منعقد کی جا رہی ہے۔ اس میں برکس کے 11 رکن ممالک اور 10 شراکت دار ممالک کے پارلیمانی وفود شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں مختلف اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے، انسان مرکوز اختراع کو فروغ دینے اور زیادہ نمائندہ عالمی نظامِ حکمرانی کو یقینی بنانے میں پارلیمانوں کے کردار پر تبادلۂ خیال ہو رہا ہے۔ اخلاقی مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، عالمی نظامِ حکمرانی میں اصلاحات اور پائیدار ترقی جیسے موضوعات پر بھی ماہرین کے ساتھ غور و خوض کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس کے دوران برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کی پارلیمانوں کی بین الاقوامی امور کی کمیٹیوں کے سربراہان کا خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، مختلف اجلاسوں میں ماہرین اپنے خیالات پیش کریں گے اور رکن ممالک کے نمائندوں کے درمیان دو طرفہ بات چیت بھی ہوگی۔
یواین آئی۔ ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے انٹرنیٹ تک رسائی کو بچوں سمیت سب کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے سی- سم کو ایڈریس کرنے کے لیے ڈیٹا بیس بنانے…
-
دنیا7 days agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
ہندوستان6 days agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا6 days agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
-
دنیا6 days agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week ago“نتن یاہو، جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو جنگ میں دھکیل رہا ہے: عراقچی
-
پاکستان1 week agoحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
