تازہ ترین
محققین نے ظاہر کیا خوفناک اندیشہ
’کو۔انڈ۔19 اسٹڈی گروپ‘نے اپنی تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ ہندوستان میں اٹلی اور امریکہ کے طرزپر ہی کورونا اپنا اثر پھیلا رہا ہے اور اس طرح مئی کے دوسرے ہفتہ تک اس وائرس کی زد میں 13 لاکھ لوگ آ جائیں گے۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق ہندوستان میں اس وقت کورونا کی زد میں آنے والے مریضوں کی تعداد 600 کے قریب پہنچ چکی ہے، لیکن یہ تعداد آئندہ دنوں میں تیزی کے ساتھ بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں کورونا سے متعلق تحقیق کرنے والے’کو۔
انڈ۔19 اسٹڈی گروپ‘ میں شامل محققین نے موجودہ اعداد و شمار پر باریکی سے مطالعہ کرنے کے بعد یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ہندوستان میں اس وائرس کے پھیلنے کا پیٹرن اٹلی اور امریکہ کی طرح ہی ہے جہاں شروع میں کم مریض سامنے آئے تھے اور پھر اچانک مریضوں کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھنے لگی۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں اب تک اس وائرس کی زد میں آنے سے 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور کووِڈ۔19 انفیکشن یہاں دوسرے و تیسرے اسٹیج کے درمیان میں ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کو۔اِنڈ۔19 اسٹڈی گروپ کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ حالات اگر ایسے ہی رہے تو مئی کے دوسرے ہفتہ تک ہندوستان میں 13 لاکھ کورونا کے مریض ہو جائیں گے۔ ایسا اس لیے کیونکہ ہندوستان میں ٹیسٹنگ ریٹ بہت کم ہے۔
صرف18 مارچ کو ہی ملک میں کورونا ٹیسٹ کے لیے تقریباً11ہزار55 سیمپل ملے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جانچ کے لیے لوگ سامنے نہیں آ رہے ہیں۔ اسٹڈی گروپ کے ایک سائنسداں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ ابھی تک اس وائرس کا کوئی ویکسین یا دوا ایجاد نہیں ہوئی ہے اس لیے ہندوستان کے لیے فیز 2 اور فیز3 کے درمیان ہونا تباہی کی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ایسا اس لیے بھی کیونکہ ہندوستان کا ہیلتھ کیئر سسٹم پہلے سے ہی کافی دباؤ میں ہے۔اسٹڈی گروپ کا کہنا ہے کہ ’ہمارا موجودہ اندازہ ہندوستان میں شروعاتی مرحلہ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہے جو کہ کم ٹیسٹنگ کی وجہ سے ہے۔ اس وجہ سے آگے کی راہیں مشکل ہو سکتی ہیں‘۔ گروپ کا مزید کہنا ہے’ہندوستان میں کورونا انفیکشن امریکی طرز پر بڑھتا ہوا کچھ زیادہ نظر آ رہا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ 19 مارچ تک کووِڈ۔19 معاملوں میں اضافہ شرح تقریباً 13 دنوں کے فرق کے ساتھ امریکہ کے طرز پر ہی پھیل رہا ہے۔ اس وبا کی شروعات میں امریکہ اور اٹلی کے درمیان 11 دنوں کا فرق فالو ہو رہا تھا‘۔
بہر حال، ہندوستان میں حالات خراب ہونے کا اندازہ اس لیے بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ یہاں ہیلتھ سسٹم اس وبا سے لڑنے کا اہل نظر نہیں آ رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر 1000 افراد پر اسپتال کے بیڈ کی تعداد صرف0.7 ہے جب کہ فرانس میں یہ تعداد 6.5، جنوبی کوریا میں 11.5، چین میں 4.2، اٹلی میں 3.4، برطانیہ میں 2.9، امریکہ میں 2.8 اور ایران میں 1.5 ہے۔ کئی لوگ ملک میں ٹیسٹنگ کِٹ کی کمی کا تذکرہ کر رہے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہندوستان میں ٹیسٹنگ کی رفتار کافی کم ہے۔ ہندوستان میں 18 مارچ تک تقریباً 12 ہزار لوگوں کی ٹیسٹنگ ہوئی تھی جب کہ ہندوستان کے مقابلے میں بہت کم آبادی والے جنوبی کوریا میں 2 لاکھ 70 ہزار لوگوں کی جانچ ہو چکی ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
