تازہ ترین
کووڈ۔19وائرس میں مبتلاء مریض کی موت کا معاملہ
کووڈ۔19وائرس میں مبتلاء مریض کی سرکاری اسپتال میں موت کے محض ایک روز بعد یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ مریض کی موت مبینہ طور صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے ڈاکٹروں اور جے وی سی انتظامیہ کی لا پر واہی کی وجہ سے ہوئی۔کشمیر نیوز سروس نے اس معاملے پر تحقیقاتی رپورٹنگ کی،جس دوران یہ صاف ہوجاتا ہے کہ ایسے مریض کو جس’پروٹوکول‘ کے تحت علاج ومعالجہ ہونا چاہئے تھا،لیکن وہ ضوابط یا پروٹو کول جے وی سی کیساتھ ساتھ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ صورہ نے نہیں اپنا یا۔
21مارچ کو مرحوم محمد اشرف صبح8بجکر35منٹ پر جے وی سی اسپتال کا طبی معائینہ کرانے کی غرض سے جاتے ہیں اور مریض کے رجسٹریشن کارڈ جوکہ جے وی سی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے مریض نے اپنی دس روزہ ہسٹری مکمل طور پر ظاہر کی تھی۔ابتدائی مرحلے پر ایک جونیئر ڈاکٹر نے اُن کا طبی معائینہ کیا،جنہوں نے اپنے سینئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر سے بات کی اور بعد اُنہیں میڈیکل چیک اپ کی صلاح دی گئی۔ دستاویزات میں پتہ چلتا ہے کہ مریض کے کیس پر امراض چھاتی کے ماہر طب کیساتھ تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔مریض کی طبی حالت کو دیکھتے ہوئے اُن کا فوری طور پر کووڈ۔19کا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ لیا جاتا ہے۔اور اُنہیں مزید بہتر علاج ومعالجہ کی خاطر صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر منتقل کیا جاتا ہے۔جے وی سی کے ڈاکٹروں نے مریض کو ایمبولینس میں لیجانے کیلئے کہا تھا،تاہم مریض کے تیمادار جوکہ خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں،نے مریض کو ذاتی گاڑی میں ہی اسپتال لیا۔جے وی سی انتظامیہ کی پہلی لاپر واہی یہ ہے کہ انہوں نے مریض کو ذاتی کار میں لیجانے کی اجازت دی اور اس کا تعاقب نہیں کیا۔ایک اعلیٰ صحت افسر نے کے این ایس کو بتایا کہ اس او پی کے تحت ایسے مریضوں سے متعلق جانکاری فوری طور پر کارڈی نیٹر افسر،جسے اسپتال نے منتخب کیا ہوتا ہے، کو دینی ہوتی ہے،تاکہ وہ انتظامیہ اور پولیس کو الرٹ رہنے کے بارے میں اطلاع دیتے۔
یہ ایم ایس جے وی سی کی سب بڑی لاپر واہی قرار دی جارہی ہے۔مذکورہ افسر کا کہنا تھا کہ مریض کو ایسی صورت میں نہیں جانے دیا جانا چاہئے بلکہ خود علاج شروع کرنے کیساتھ ساتھ اُنہیں اعلیٰ طبی ماہرین سے مشورہ بھی کر لینا چاہئے۔بہر حال 21مارچ کے روز ہی مریض دوپہر 11بجکر59منٹ پر صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ پہنچا تا ہے،جہاں اس کا کووڈ۔19کے مشتبہ مریضوں کیلئے خصوصی کووڈ کلنک (شعبہ ایمر جنسی) قائم کیا گیا،میں اپنا طبی معائینہ کراتا ہے۔مریض کے رپورٹ کارڈ سے یہ سب کچھ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی ساری ٹرول ہسٹری (سفری تفصیلات) اندو مان نیکو بار سے سرینگر تک ظاہر کر تا ہے۔مریض نے یہ بتایا کہ سرینگر ائر پورٹ پر اُس کی اسکریننگ بھی ہوئی،یہ سرینگر ائر پورٹ پر اسکر یننگ پر بڑ ا سوالیہ ہے،جو حکومت کی جانب سے سرینگر ائر پورٹ پر مشکوک کووڈ۔19مریضوں کیلئے قائم کی گئی تھی۔مریض کے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے رپورٹ کارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مریض نے کسی پازیٹیو کوڈ مریض کو چھو ا ہے اور یہ نہ ہی اس نے اپنے ساتھی سفر کرنے والو ں کو چھوا،جن میں بخار اور کھانسی کی علامت تھی۔ مریض کو یہ صلاح دی گئی تھی کہ وہ گھر پر قرنطینہ میں رہیں اور اپنی صفائی کا خاص خیال رکھنے کیساتھ ساتھ سماجی اجتماع میں شرکت کرنے سے گریز کریں۔مریض کے رپورٹ کارڈ میں یہ بھی تحریر ہے کہ مریض کو مزید طبی معائینہ کیلئے ڈاکٹر اعجاز کول سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ایک سینئر ڈاکٹر نے کے این ایس کو بتا یا کہ کنسلٹنٹ نے مریض کو بتایا تھا کہ وہ کووڈ۔19مریض نہیں ہیں اور اگر وہ پھر بھی داخلے کیلئے اسرار کرتا ہے،تو اُسے جنرل میڈی سن وارڈمیں داخل کیا جائے یا وہ گھر میں قرنطینہ میں رہے۔سکمز کی لاپر واہی:کووڈ۔19کی علامات ہونے کے باوجود بھی مریض کو گھر جانے کی اجازت دی گئی۔
پروٹوکول یا ضوابط کے تحت ایسے مریض کو فوری طور پر اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں داخل کرنا تھا اور انتظامیہ کو الرٹ کر دینا تھا۔ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ہم اس کیس کی تمام کوتائیوں اور لاپر واہی کی سنجیدگی سے تحقیقات کررہے ہیں اور جس نے بھی غفلت شعاری برتی ہوگی،اُسے نہیں بخشا جائیگا،چاہئے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔مریض اسی روز شام کو چھاتی میں درد محسوس کرنے کے بعد دوبارہ جے وی سی کا دورہ کرتا ہے۔ڈاکٹروں نے اُسے اسپتال میں داخلہ ہونے کا مشورہ دیا کہ لیکن مریض کسی طرح دوبارہ اسپتال سے چلا جاتا ہے۔جے وی سی ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ لیزان افسر سے رابطہ کرنا چاہئے تھا اور پولیس کی مدد حاصل کرنے چاہئے،لیکن ایسا نہیں ہوا۔اگلے روز مریض اپنے ڈاکٹر تیمادار کے ہمراہ سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں طبی معائینہ کرانا کی غرض سے پہنچتا ہے اور طبی معائینہ کر نے کے بعد ڈاکٹرمریض کو اسپتال میں داخل کراتے ہیں۔صوبائی کمشنر کشمیر،نے کل جے وی سی اسپتال سرینگر کی انتظامیہ کی مبینہ لاپر واہی کے حوالے سے تحقیقات احکامات کے صادر کئے۔معلوم ہوا ہے کہ مریض کا کووڈ۔19رپورٹ مثبت آنے کے بعد مریض کا پروٹو کول کے مطابق علاج ومعالجہ نہیں کیا گیا۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
